مل
کر بچھڑنے میں دیر کتنی لگتی ہے
وقت
کے گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
لہجے
بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
زخموں
کے رسنے میں دیر کتنی لگتی ہے
زباں
سے لفظ نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
روح
چھلنی ہونے میں دیر کتنی لگتی ہے
خواب
تو بہت دیکھے جاگتی ان آنکھوں سے
پر
خواب ٹوٹ جانے میں دیر کتنی لگتی ہے
قہقہوں
میں چھپے غم کو بس چھپا ہی رہنے دو
کہ
آنکھوں کے برسنے میں دیر کتنی لگتی ہے
ہم
خاموش ہیں تو ہمیں خاموش رہنے دو
آئینہ
دکھانے میں دیر کتنی لگتی ہے
یہ
کہنا تو بہت آسان ہے، عمر بھر ساتھ چلنا ہے
پر
راستہ بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
کسی
کے وعدوں کا اب کیا کریں اعتبار
کہ
وعدے سے مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
بھروسہ
نہیں ہے اک پل کا، نفرتوں سے کیا حاصل؟
کہ
جسم سے روح نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
✍🏻
راحة
No comments:
Post a Comment