ثمرہ گلزار ۔۔۔۔۔۔
وہ جو کھو جائے ایک بار ثمرہ
وہ مخلص بار بار نہیں ملتے
You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
ارے! تم مجھ سے پیار نہیں کرتی
پھر کیوں اظہار نہیں کرتی
میرے علاؤہ کسی اور پہ اعتبار
کہہ دو نا یار نہیں کرتی
مانا کہ میں تھوڑی دیر سے آتا ہوں
پر تم بھی تو میرا انتظار نہیں کرتی
اچھا چلو اتنا ہی برا لگتا ہوں تو
کیوں کھل کے انکار نہیں کرتی
میرے لیے تو تم سراپا محبت ہو
تمہاری کونسی ادا دل پہ وار نہیں کرتی
سنو! تم تو خوشبو ہو اور خوشبو
بکھرنے کے سوا کوئی رنگ اختیار نہیں کرتی
By: Tayyaba Imran
نظم:
وہ دفنائی جاتی ہے
تحریر کردہ:عائشہ ارشاد
وہ بیٹی ہے جو دفنائی جاتی ہے
وہ دُھتکاری جاتی ہے
وہ پِیسی جاتی ہے
کبھی سسرال میں تو
کبھی مائیکے میں
وہ بیٹی ہے جو دفنائی جاتی ہے
وہ باغی کہلائی جاتی ہے
وہ آزاد خیال کہلائی جاتی ہے
وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے حق میں اواز اٹھاتی ہے
وہ بیٹی ہے جو دفنائی جاتی ہے
اس کی غلطی پر سزا مقرر کی جاتی ہے
بیٹے کے گناہ پر ہار پہنائے جاتے ہیں
وجہ ۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیٹی ہے جو دفنائی جاتی ہے
وہ جنم لیتی ہے،جنم دیتی ہے
کبھی عورت کو،کبھی مرد کو
تو کبھی نا مرد کو
پھر اُسی نامرد کے ہاتھوں
خود کی ذات کو اس کے ہاتھ کی قینچی سے
کٹواتی ہے
وہ رولائی جاتی ہے
وہ بیوی ہے جو دفنائی جاتی ہے
اپنے سنگِ مرمر جیسے بدن کو
کٹواتی ہے سِلواتی ہے
اولاد جَنتی ہے
پھر اسی اولاد سے دھتکاری جاتی ہے
وہ ماں ہے جو دفنائی جاتی ہے
چولہے کی گرمی
شوہر کے دماغ کی گرمی
وہ برداشت کرتی ہے
پھر بھی "لعان "کا لقب
وہ حاصل کرتی ہے
وہ بیوی ہے جو دفنائی جاتی ہے
وہ بس دفنائی جاتی ہے
کبھی ماں بن کر،کبھی بیوی بن کر
تو کبھی بیٹی بن کر
وہ
بس دفنائی جاتی ہے
*************
*حاصل مگر لا حاصل*
*شاعرہ : حفصہ عمر*
ساتھ
جس کا میں نے ہر مشکل میں دیا
وہ
میری مشکل میں مجھے چھوڑ گیا
میں
نے جب بھی کسی پر بھروسہ کیا
وہ
شخص میرا بھروسہ توڑ گیا
کبھی
تو شانہ بشانہ پھرتے تھے ہم
وہ
اج مجھے دیکھ کے راستہ مڑ گیا
بناتی
رہی اسے جب وہ ناراض ہوتا تھا
اج
میں روٹھی تو ناطہ توڑ گیا
دن
گزرتے گئے اور میں سہتی رہی
وہ
جاتے ہوئے مجھے مضبوط بنا گیا
سہ
لیتی ہوں ہر بات کرتی ہوں حوصلہ
اس
شخص کا دھوکہ مجھے ہمت دے گیا
اس
دن کے بعد رب سے ناطہ جوڑ لیا
وہ
شخص مجھے رب کے قریب کر گیا
کسی
پر بھروسہ نہیں کرتی اب
وہ
شخص مجھے اتنا حوصلہ دے گیا
زندگی
بھر ساتھ نبھانے کا کہہ کر
وہ
شخص مجھے اندھیروں میں جھونک گیا
میں
جی لوں گی اب نڈر ہو کر
میرا
دل اس بات کی گواہی دے گیا
جسے
تم سمجھ رہے ہو محبت
وہ
کسی جرم کی سزا تو نہیں ہے؟
یہ
جو تیرے دل میں ہے تڑپ،،
وہ
کسی ٹوٹے دل کی آہ تو نہیں ہے؟
مریضِ
عشق پھرتا ہے مارا مارا سنو!
اس
کا ہوتا کوئ مسیحا نہیں ہے،،
کر
کے چھوٹے دعوے توڑ جانے والے،،
یاد
رکھو چھوڑ جانے والے،،
دردِجدائ
کی اس جہاں میں کوئ دوا نہیں ہے،،
ہو سکے تو خود کو روک لینا،،
کرو
جو فریب تو سوچ لینا،،،
بےوفا
کا حق پھر ہوتی وفا تو نہیں ہے،،
کبھی
اُس کی یاد کو دل سے مت بھولانا،،
ہو
اگر محبت کسی سے تو دور اس سے مت جانا،،
کیوں
کہ درد بہت ہوتا ہے،،مگر"
اس درد کی کسی دوا میں شفاء تو
نہیں ہے،،
ہم
نے کیا تھا اعتبار کب مگر"
آس
اک لگا بیٹھے،،
ٹوٹا
بھروسہ پیاس وہ جب آپنی بجھا بیٹھے،،
ان
کے اس ظلم کا گلہ کبھی ہم نے کیا تو نہیں،،
تم کھاو قسمیں یا پھر کرو وعدے،،
مگر"اب
ہمیں رہا یقینِ وفا تو نہیں ہے،،
"K.
A"
**************
"اۓ ابنِ عادم"
تو
ہی ظالم تو ہی ہے محافظ،،
تو
ہے آپنا تو ہی پرایا،،
مجھے
بتااے ابن ِعادم،،
کیا
بنتِ ہوا کو یے اس لیۓخدا
نے بنایا،،
تیری
بےباک نظر کو سکوں بخشے،،
تیری
حوس پہ کرے خود کو قرباں،،
تو
بجھاۓ
پیاس آپنی،،
پھر
لےبے دردیدی سے میری جاں،،
میں
بنوں تیری دردندگی کا نشاں،،
میری
ماں پہ آۓ
یہ امتحاں،،
کوئ
دیکھےحقارت سے،،
کوئ
بناۓ مجھے ہی مجرم یہاں،،
مجھے
ہے خوف تیری ذات سے،،
میں
خود کو تجھ سے چھپاؤں کہاں،،
مجھے
چاہۓ تیرا ہی سایہ جاؤں
جدھر
بھی جہاں جہاں،،
تو
ہی ہے ظالم توہی محافظ،،
تو
ہی آپنا توہی پرایا،،
تو
ہی دنیا میں میرا سہارا،،
تو
ہی بھائ تو ہے باپ،،
تجھے
ہے ربّ نے محرم بنایا،،
"Kinza Afzal"
**************
سنو لوگو"
میرا کفن دفن
کرنے کے بعد،،
مجھے
یاد نہ کرے کوئ مرنے کے بعد،،
میری
قبر پر نا لکھوانا نام میرا،،
مٹ
جاۓ گا جب نام و نشان میرا،،
فناءہو
جانے دے جسم و جاں میری،،
ختم
ہو جاۓ
دنیا سے سلسلہِ کلام میرا،،
یوں
قصہ ہو جاۓ
گا تمام میرا،،
اس
جہاں میں ہوگا کیا کام میرا،،
رخصت
اس دنیا سے کرنے کے بعد،،
مجھے
یاد نا کرے کوئ مرنے کے بعد،،
پھر
مُردوں میں ہوگا شمار میرا،،
میرے
کس کام ہوگا پیار تیرا،،
میری
قبر آ کر پھول مت چڑھانا،،
مجھے
مٹی میں جب تنہا دفنا آنا،،
پھر
میٹھی نیند تم سوجانا،،
نہ
جھوٹھے آنسو تم بہانا،،نہ رونا نہ چلانا،،
مجھے
سپردِ خدا کرنے کے بعد،،
مجھے
یاد نہ کرے کوئ مرنے کے بعد،،
یہ
میٹھی دنیا مجھے راس نا آئ،،
بھرے
دریاوں نے بھی نا پیاس بھجائ،،
ایک
امید تھی ایک آس تھی،،
کتنی
تڑپ تھی کتنی پیاس تھی،،
میں
کیسے بتاوں تلخی کی موت مرنےکے بعد،،
میری
قبر پر آنسوں کی بارش نہ کوئ برساۓ،،
تمہیں
یاد بہت کرتے ہیں نہ یقین مجھے دلاۓ،،
میرا
کفن دفن کرنے کے بعد،،
مجھے
یاد نہ کرے کوئ مرنے کے بعد،،
قبرستان
کی ویرانیوں میں،،
میرے
ارد گرد کی بیابانیوں میں،،
نہ
تم روز چلے آنا نہ خود کو تم تھکانہ،،
نہ
خیال تمہیں پھر میرا ستاۓ،،
نہ
خوابوں میں مجھے تم بسانا،،
رخصت
اس دنیا سے کرنے کے بعد،،
مجھے
یاد نہ کرے کوئ مرنے کے بعد،،
"Kinza $ Afzal"
یہ
سلسلہ ہے ربّ نے بنایا"
عورت
کی ہے عورت سے دشمنی،،
مرد
کی مرد سے ہے جنگ،،
مرد
کو عورت سے ہے نفرت،،
عورت
ہے مرد سے تنگ،،
یہ
جو نظامِ زندگی خدا نے چلایا ہے،،
یہ
جو گھیل دنیا کا ربّ نے بنایا ہے،،
یہ
سلسلہ کیسے چل پاۓ
گا،،
اگر
ہر طرف مقابل انا پرست آ جاۓ
گا،،
سنو"بت
آنا کا گراو،،
سلسلہِ
زندگی کو سکوں سے چلاو،،
مرد
کا رتبہ ہے اگر اعلیٰ،،
عورت
کی زمداریوں کو ہے مرد کے کاندھے پہ ڈالا،،
نا
رتبہ محرم کا بھول جاو،،
نہ
عورت کو پاوں کی جوتی بناو،،
نا عورت سے عورت دشمنی لگاۓ،،
نا
مرد سے مرد جنگ حسد کی چلاۓ،،
یہ
رشتے سب ہے خدا نے بناۓ،،
یہ
جو سلسلے ہیں دنیا کے چلاۓ،،
انہیں
ایمانداری سے نبھاو،،
نہ
دشمنی تم آپس میں لگاو،،
نہ
نفرت حسد دل میں ہو،،
نہ
طنز کے تیر تم برساو،،
نظامِ
زندگی خدا ہی چلاۓ
گا،،
جو
نصیب میں ہے مل ہی جاۓ
گا،،
نہ
حق کسی کا تم کھاو،،
نہ
دل یونہی کسی تم جلاو،،
یہ
سلسلے ہیں ربّ نے بناۓ
سارے،،
ہیں
یہ رشتے ناتے سبھی پیارے،،
"Kinza Afzal"
***************