affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Nazam
Showing posts with label Nazam. Show all posts
Showing posts with label Nazam. Show all posts

Thursday, 23 November 2017

Nazam by Noreen Muskan Sarwar

بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟

جو میری ذات بے اماں کی

کرچی کرچی سمیٹ لیتا
مجھے مقدس حیا کی دیوی
سمجھ کے نظریں جھکا کے چلتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟
یہاں کسی کے پاس اتنا
وقت نہیں ہے کہ آتے جاتے
کسی مدد کے مستحق پر
تسلی کی اک نگاہ اٹھا دے
کوئی لگی آگ  کو بجھا دے
کسی کی کوئی راہگزر سجا دے
کسی پیاسے کی تشنگی کو
دے کے قطرہ اسے بجھا دے
پھر بھلا کوئی  مجھ کو کیسے
غم کی دلدل سے نکال لیتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟
کسی کی آہوں کی نہ فکر ہے
کسی کے رونے کا کیا سبب ہے؟
کیوں متورم ہوئی ہیں آنکھیں؟
سخن وری کیوں غم زدہ ہے؟
ہر طرف دھول ہے ،دھواں ہے
اور آبرو بھی بے اماں ہے
نہیں کسی کو فکر کسی کی
تو میری عزت کی فکر کس کو
میری حرمت کا کون وارث ؟
جو غموں کو سمیٹ لیتا
جومیرے خوابوں کی تعبیر ہوتا
جو معتبر مجھ کو کرتا
جو میری حسرتیں ساری گن کر
یاس کی دھوپ سے بچا کر
خواہشوں کو رنگ دے کر
ساری خوشیوں کا حساب دیتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟
جو مجھ کو خوشیاں نصیب کرتا
جومجھ کو دل کے قریب کرتا
جسے میری ذات کے چمن میں
گلوں کی از حد خوشی ستاتی
جسے میری چاہتوں کے نغمے
جا کے باد صبا سناتی
کوئی جو مجھ کو نام دے دے
عزت کا  سنہری لباس دےدے
کوئی جو در وبام دے دے
جو گمنام کو نامور بنا دے
کوئی تو عزت کا انعام دیتا
جو دیتا مسکان مجھے تسلی
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟؟؟


Monday, 31 July 2017

چَل آ اِک ایسی نظم کہوں۔۔!


چَل آ اِک ایسی نظم کہوں۔۔!
جو لفظ کہوں وہ ہو جائے۔۔
بس’’ اشک‘‘ کہوں تو،
اِک آنسو ترے گورے گال کو دھو جائے۔۔
مَیں’’ آ‘‘ لکھوں،
تُو آ جائے۔۔
میں ’’بیٹھ‘‘ لکھوں،
تُو آ بیٹھے۔۔
مرے شانے پر سر رکھے تو،
مَیں’’نِیند‘‘ کہوں،
تُو سو جائے۔۔
میں کاغذ پر’’تِرے ہونٹ‘‘ لکھوں،
تِرے ہونٹوں پر مُسکان آئے۔۔
میں’’ دِل‘‘ لکھوں،
تُو دِل تھامے۔۔
میں’’ گُم‘‘ لکھوں،
وہ کھو جائے۔۔
تِرے ہاتھ بناؤں پینسِل سے،
پھر ہاتھ پہ تیرے ہاتھ رکھوں۔۔
کُچھ’’ اُلٹا سِیدھا‘‘فرض کروں،
کُچھ’’ سِیدھا اُلٹا ‘‘ہو جائے۔۔
میں’’ آہ ‘‘لِکھوں،
تُو "ہائے" کرے۔۔
’’بے چین‘‘ لکھوں،
بے چین ہو تُو۔۔
پھر میں بے چین کا ’’ب ‘‘کاٹوں،
تُجھے چین زرا سا ہو جائے۔۔
ابھی’’ ع‘‘ لکھوں،
تُو سوچے مجھے۔۔!
پھر’’ش‘‘ لکھوں،
تِری نیند اُڑے۔۔!
جب’’ ق‘‘ لکھوں،
تُجھے کُچھ کُچھ ہو۔۔
مَیں’’ عِشق ‘‘لِکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تُجھے ہو جائے..

Friday, 27 January 2017

ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ

  ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ

ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺮ ﺭﺍﮦ ﻣﻠﮯ

ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﻠﺘﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭﮞ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﮔﺮﺩﺷﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ

ﺍﺳﯽ ﺍﮎ ﻟﻤﺤﮯ ﭘﮧ ﺭﮐﯽ ﺭﮨﯿﮟ

ﻣﯿﮟ ﺗﮑﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺬﺏ ﺳﮯ

ﯾﻮﻧﮩﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻋﺸﻖ ﺳﮯ

ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﻮﮞ

ﻣﯿﮟ ﺣﺼﺎﺭ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ

ﻧﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﮯ ، ﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﻮﮞ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﻮﮞ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ﻧﺎ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ

ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ

ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﻮ ﺟﻮ ﻧﺎ ﻣﻠﮯ

ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﻠﺘﺎ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭﮞ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﮧ

ﺗﯿﺮﯼ ﺩﻭﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﺎﺭ ﺩﻭﮞ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﻮﻥ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ، ﻧﺎ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ

Tuesday, 24 January 2017

ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ


ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ،
ﯾﮧ ﻓﺮﺍﻕ ﻟﻤﺤﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺷﺖِ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮐﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺤﺎﺏ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ،
ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ
ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮨﻢ ﺳﯽ،
ﺗﯿﺮﮮ ﻟﻔﻆ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺭﻭﭖ ﮨﮯ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ!
ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻠﺴﻠﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺴﺒﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮔﻼﺏ ﺳﮯ
ﺍﺳﮯ ﺟﯿﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﻨﺸﯿﮟ

 ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺎﻡ ﻟﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﻻ ﮐﮯ ﺟﺒﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ،
ﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮩﺮ ﺗﮩﮧِ ﺁﺏ ﺳﮯ
ﻭﮨﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ،
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺣﺎﺻﻞِ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺑﺎﺏ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭼﺮﺍ ﻟﯿﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﮯ

Sunday, 4 December 2016

Chlo kuch baat kerty hain


چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
خاموشی کا سحر ٹوٹے۔۔۔
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
وفاوں کی۔۔۔ جفاوں کی۔۔۔
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
بکھرنے کی۔۔۔ بچھڑنے کی
بکھر کر پھر سمٹنے کی۔۔۔
بچھڑ کر پھر سے ملنے کی۔۔۔
میں تم سے دور ہو جاوں۔۔۔
تمہیں جب بھی طلب ہو مجھ سے ملنے کی۔۔۔
کسی ویران ساحل پر کھڑے ہو کر۔۔۔
مجھے آواز دے دینا۔۔
تیری پلکوں کی چوکھٹ پر جو دستک دے۔۔۔
سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں۔



Friday, 18 November 2016

Aitraf ,Khawish ,Aurat


میری محبت کے اظہار نے

مجھے بے حد ارزاں کر دیاہے

مگر اسے یہ کون سمجھائے

جزبے، چاہت،اوروفا

کب کسی کے اختیار کی بات ہے

محبت تو محبت ہے

پہل میں کروں یاتو

مگر یہاں پر عورت کے اظہار کو

اسکےکمزور کردار سےملا دیا جاتا ہے

ایسا ہے تو کیوں ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

وہ بھی ایسا ہی شخص ہے

جو میری محبت کو خطا سمجھا

دل چاہتا ہے کہ کبھی اس سے کہوں

محبت تو محبت ہے

حقیقت پسندی سے سوچو

ایسی نادان عمرمیں

ایسی غلطیاں ہو ہی جاتی ھیں

میری چھوٹی سی غلطی کو وجہ بنا کر

میری محبت کو بےتوقیر مت کرو

میری زات کابھرم رکھ لو

مجھے سرخرو کر دو


Friday, 28 October 2016

Farz kro


فرض کرو

 تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا
کسی دن فرض کرو
کہ تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے
ایک پل، ایک دن یا ایک مہینہ بھی فرض کیا جا سکتا ہے لیکن احتیاطاً
ایک سال ہی سہی
فرض کر لو تو کسی عام آدمی کا بھیس بدل کر
اپنے گھر یا اپنے شہر جاؤ
اور لوگوں میں بیٹھ کر اپنا ذکر کرو
اور دیکھو
کہ تم جو ایک مشہور آدمی تھے اور کافی لوگوں میں مقبول بھی
تمہاری موت کے بعد
لوگ جو تمہیں بمشکل یاد رکھے ہوئے ہیں
تمہارے بارے میں گفتگو کرنے میں ذرا بھی دلچسپی محسوس نہیں کرتے
جو جو شخص
تم سے پیار کرتا تھا اتنا
کہ پل بھر کی جدائی بھی اسے عذاب لگتی تھی
اور اس وقت تک کھڑا رہتا تھا
جب تک تم اپنی نشست پر بیٹھ نہیں جاتے تھے
اور کبھی تمہاری آواز سے
اپنی آواز بلند نہیں ہونے دیتا تھا
اب اس کے پاس اتنا وقت نہیں
کہ کہیں بیٹھ کے چند گھڑیاں تمہارے ساتھ بیتے ہوئے لمحات یاد کر سکے
پھر وہاں سے آگے چلو
اور کسی ایسے آدمی کو تلاش کرو
جو تمہاری شاعری پہ دل و جان سے فدا ہو
اور تمہارا اتنا معتقد ہو
کہ ہمہ وقت ہاتھوں میں تمہاری کتابیں اٹھائے
اور ہونٹوں پر تمہارے شعر سجائے پھرتا ہو
لوگوں کو
دن رات تمہاری نظمیں سناتا تھکتا نہ ہو
تم اس سے ملو
اور اس سے گزارش کرو
کہ وہ تمہیں تمہاری نظمیں سنائے
اور تمہارے بارے میں اپنے خیالات اور اپنی معلومات کا اظہار کرے
وہ تمہاری بات سنتے ہی تمہیں اپنے پاس بڑے احترام سے بٹھا لے گا
اور بڑی خوشی اور گہری دلچسپی سے تمہیں تمہاری ساری شاعری سنا ڈالے گا
اور کہے گا
"فرحت شاہ ایک عظیم شاعر تھا
اس کی شاعری پڑھ کے ہوں لگتا ہے
جیسے اس نے لوگوں کے دلوں اور روحوں کے اندر اتر کے شاعری کی ہو
مجھے تو اس کی شاعری سے عشق ہے
یوں لگتا ہے جیسے اس نے سارا کچھ خود میرے متعلق ہی لکھ ڈالا ہے
میرے دل کا عالم اور حالات زندگی
بالکل ایسے ہی ہیں جیسے اس نے لکھا ہے
اس کی ایک ایک سطر پڑھتے ہوئے
مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ بات تو میں خود کہنا چاہتا ہوں"
وہ شخص تمہیں بتاتا جائے گا ایسی ہزاروں باتیں
جن میں تمہارا کم اور اس کا اپنا حوالہ زیادہ ہو گا
ہاں صرف ایک سال بعد
تم جس کسی سے بھی ملو گے
جس سے بھی اپنے بارے پوچھو گے
صورت حال مختلف نہیں ہو گی
گویا تمام باتیں کسی زندہ آدمی کے لیے جاننا تقریباً ناممکن ہے
لیکن پھر بھی
کسی دن تم فرض تو کرو
کہ تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے
اے میرے گمنام اور اجنبی فرحت شاہ

فرحت عباس شاہ

Thursday, 27 October 2016

Ik qisa urtay paton ka


ﺍﮎ ﻗﺼﮧ ﺍﮌﺗﮯ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﺎ .
ﺟﻮ ﺳﺒﺰ ﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﮎ ﻫﻮﮮ

ﺍﮎ ﻧﻮﺣﮧ ﺷﮩﺪ ﮐﮯ ﭼﮭﺘﻮﮞ ﮐﺎ
ﺟﻮ ﻓﺼﻞ ﮔﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﮐﮫ ﮨﻮﺋﮯ

ﮐﭽﮫ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ

ﺟﻮ ﺑﯿﭻ ﻧﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﮯ

ﮐﭽﮫ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﯽ
ﺟﻮ ﺑﯿﭻ ﺑﻬﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭦ ﮔﺌﮯ

ﺗﻢ ﺩﺷﺖِ ﻃﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﭨﻬﺮﮔﺌﮯ
ﮨﻢ ﻗﺮﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﮔﺌﮯ

ﯾﮧ ﺑﺎﺯﯼ ﺟﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺯﯼ ﮨﮯ
ﺗﻢ ﺟﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﮨﻢ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﮯ ۔۔۔
۔

Bohat Mumkin tha


بہت ممکن تھا
میرے پاؤں ،میرے زیست کے
کانٹے نکل جاتے
بہت ممکن تھا
میری راہ کے پتھّر پگھل جاتے
جو دیواریں میرے رستے میں حائل تھیں
میرے آگے سے ہٹ جاتیں
اگر تم آنکھ اٹھا کر دیکھ لیتے
کوہساروں کی طرف اک پل
چٹانیں اک تمہاری جنبش ابرو سے کٹ جاتیں
بہت ممکن تھا
انگاروں بھری اس زندگانی میں
تمہارے پاؤں کے اجلے کنول کھِلتے
رفاقت کی سنہری جھیل میں
دونوں کے عکس ضوفشاں بنتے
بس اک خواب مسلسل کی فضا رہتی
ہماری روح کب ہم سے
خفا رہتی
یہ سب کچھ عین ممکن تھا
اگر تم مجھ کو مل جاتے

(اعتبار ساجد)

Sunday, 16 October 2016

Koe nahi hai

کوئی نہیں ہے

جو اس کو جا کر یقین دلائے

 کہ اب بھی اس کے گماں میں اکثر

ذرا سی آہٹ پہ چونکتے ہیں

جو اس کی قامت کے شک میں ڈالے

ہم اس کو مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں

Tuesday, 6 September 2016

Agr ye keh do baghir mery ni guzara ..tu mein tumhara

اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ، تو میں تمہارا
یا اس پہ مبنی کوئی تاثر کوئی اشارا، تو میں تمہارا

 
غرور پرور، انا کا مالک، کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکارا ، تو میں تمہارا

 
تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو، میں جیسے چاہوں لگاؤں بازی
اگر میں جیتا تو تم ہو میرے، اگر میں ہارا ، تو میں تمہارا

 
تمہارا عاشق، تمہارا مخلص، تمہارا ساتھی، تمہارا اپنا
رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمہارا ، تو میں تمہارا

 
تمہارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں
اگر مقدر کا کوئی ٹوٹاکبھی ستارا تو میں تمہارا

 
یہ کس پہ تعویز کر رہے ہو؟یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے؟
تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ ، تو میں تمہارا

 
عامر امیرؔ


Sunday, 28 August 2016

Suno jin se muhabbat ho Unhen azad kerty hain

ﺳﻨﻮ

 ﺟﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺗﮯﮨﯿﮟ


ﻗﻔﺲ ﺳﮯ، ﺁﺭﺯﻭﺋﮯ ﻃﻠﺐ ﺳﮯ. ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ


ﻭﮦ ﺟﮕﻨﻮ ﮨﻮﮞ،ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﮨﻮﮞ


ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻣﭩﮭﯿﻮﮞ ﺳﮯ ،ﺍﻭﺭ ﻗﻔﺲ ﺳﮯ


ﺁﺭﺯﻭﺋﮯ ﻃﻠﺐ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ


ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﯿﺪﯼ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣﻘﯿﺪ ﮐﺮﺗﮯﮨﯿﮟ


ﻣﺤﺒﺖ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﺵ ﺳﮯ ﺭﮨﺎﮨﻮﻧﺎ


ﻣﺤﺒﺖ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻗﻔﺲ ﺳﮯ ﺁﺭﺯﻭ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ


ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﺩﻭ


ﺍﻭﺭ ﻣﭩﮭﯽ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮﻧﻨﮭﮯ ﺳﮯ ﺟﮕﻨﻮﮐﻮﺍﮌﺍﮈﺍﻟﻮ


ﺭﮨﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥﻭﮦ ﺑﮯﭼﺎﺭﮦ


ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻗﯿﺪﯼ ﮨﮯ


ﮐﺮﺏ ﮐﺎ،ﺭﻧﺞ ﻭ ﺍﻟﻢ ﮐﺎ، ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽﮐﺎ،ﺍﻭﺭﺟﺒﺮ ﮐﺎ،


ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺟﯿﻠﻮﮞ ،


ﮐﺌﯽﻗﻔﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﯿﺪﯼ ﮨﮯ


ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻗﯿﺪ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﺮ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎﮞﺟﺎﺋﮯ؟


ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮎ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ


ﮐﮭﻞ ﺗﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ


ﭼﻠﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﮩﯽ


ﺗﺎﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﻣﻞ ﺗﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ


ﺳﻨﻮ ﺟﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺗﮯﮨﯿﮟ


ﻗﻔﺲ ﺳﮯ، ﺁﺭﺯﻭﺋﮯ ﻃﻠﺐ ﺳﮯ.

 

Monday, 8 August 2016

Muhabbat ik barish hai


"ﻣﺤﺒﺖ"ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ 

 ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﻣُﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔۔
ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﻣُﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ
"ﻣﺤﺒﺖ"ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ
ﺳﺒﮭﯽ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ 

 ﻣﮕﺮ ﭘِﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺳﺒﮭﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﯾﮑﺴﺎﮞ ۔۔۔۔۔ 

 ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺭﺍﺣﺖ ۔۔۔۔۔
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺯﺣﻤﺖ ۔۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺏ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻭﮦ ﻣُﺠﮫ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔۔۔۔۔
"ﻣﺤﺒﺖ"ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔
ﺳﺒﮭﯽ ﭘﮧ ﺟﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣُﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺳﯽ ﺗﮭﯽ،
ﻣﮕﺮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﺭﺵ
ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺑﻦ ﺳﮑﯽ ﺭﺣﻤﺖ ۔۔۔۔۔۔۔
ﯾﮧ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ ۔۔۔۔؟؟
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮﮞ ﺗﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﯾﮧ ﺩِﻝ، ﺩﯾﺘﺎ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﮯ ﻣﮑﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ۔۔۔۔۔۔۔
ﺑﺎﺭﺵ ﺭﺍﺱ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟

Sunday, 7 August 2016

Zra Yaad Kar

ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﮈﺭﺍ ﮈﺭﺍ ﺳﺎ ﺟﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﺷﻮﺥ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻝ ﺗﮭﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ...
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﮔﭩﮭﯽ ﮔﭩﮭﯽ ﺳﯽ ﻧﻮﺍﮰ ﺩﻝ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﮦ _ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺳﺎﺯ ﺗﮭﯽ
ﺟﻮ ﭘﮍﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﻧﮯ ﭨﻮﭦ ﮐﮯ
ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﮭﯽ
ﺟﺴﮯ ﺭﻭ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ ﺫﺭﺍ ﺫﺭﺍ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﺎ ﻓﺸﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﺍ ﻏﻢ ﺗﻮ ﮬﮯ ﻏﻢ _ ﻣﺒﺘﻼ
ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﯿﺮﺍ ﻏﻢ ﮬﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺪﺍﻣﺘﯿﮟ
ﺗﻮ ﺟﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺗﻮ ﻣﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﺠﮭﮯ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺟﺮﻡ ﺟﺮﻡ _ ﻓﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ..
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ

Wednesday, 3 August 2016

Itny tu wo bhi khafa nahi thy


اتنے بھی تو وہ خفا نہیں تھے


جیسے کبھی آشنا نہیں تھے


مانا کہ ہم کہاں تھے ایسے


پر یوں بھی جدا جدا نہیں تھے


تھی جتنی بساط،کی پرستش


تم بھی تو کوئی خدا نہیں تھے


حد ہوتی ہے طنز کی بھی آخر


ہم ترے نہیں تھے، جا نہیں تھے


کس کس سے نباہتے رفاقت


ہم لوگ کہ بے وفا نہیں تھے


رخصت ہوا، وہ تو میں نے دیکھا


پھول اتنے بھی خوشنما نہیں تھے


تھے یوں تو ہم اس کی انجمن میں


کوئی ہمیں دیکھتا، نہیں تھے


جب اس کو تھا مان خود پہ کیا کیا


تب ہم بھی فرازؔ کیا نہیں تھے


احمد فرازؔ


Tuesday, 26 July 2016

Mery Humsafar

میرے ہمسفر

تمہارا نام کچھہ ایسے میرے ہونٹوں پہ کِھلتا ہے
اندھیری رات میں جیسے
اچانک چاند بادل کے کسی کونے سے باہر جھانکتا ہے
اور سارے منظروں میں روشنی سی پھیل جاتی ہے
کلی جیسے، لرزتی اوس کے قطرے پہن کر مُسکراتی ہے
بدلتی رُت، کسی مانوس سی ڈالی کی آہٹ لے کے چلتی ہے
تو خوشبو باغ کی دیوار سے روکے نہیں رُکتی
اسی خوشبو کے دھاگے سے میرا ہر چاک سلتا ہے
تمہارے نام کا تارا میری سانسوں میں کِھلتا ہے
تمہیں میں دیکھتا ہوں جب سفر کی شام سے پہلے
!کسی اُلجھی ہوئی گُمنام سی چِنتا کے جادو میں
!کسی سوچے ہوئے بے نام سے لمحے کی خوشبو میں
!کسی موسم کے دامن میں، کسی خواہش کے پہلو میں
تو اس خوش رنگ منظر میں تمہاری یاد کا رشتہ
نجانے کس طرف سے پھوٹتا ہے
اور ایسے میری ہر راہ کے ہم راہ چلتا ہے
کہ آنکھوں میں ستاروں کی گزرگاہیں سی بنتی ہیں
دھنک کی کہکشائیں سی
تمہارے نام کے ان خوشنما حرفوں میں ڈھلتی ہیں
کہ جن کے لمس سے ہونٹوں پہ جگنو رقص کرتے ہیں
تمہارے خواب کا رشتہ میری نیندوں سے ملتا ہے
تو دل آباد ہوتا ہے
میرا ہر چاک سلتا ہے
تمہارے نام کا تارا میری راتوں میں کِھلتا ہے

امجد اسلام امجد

Khul gaey hain bhar k rasty



کُھل گئے ہیں بہار کے رستے

ایک دِلکش دیار کے رستے


ہم بھی پہنچے کسی حقیقت تک

اِک مُسلسل خُمار کے رستے


منزلِ عِشق کی حدوں پر ہیں

دائمی اِنتظار کے رستے


اُس کے ہونے سے یہ سفر بھی ہے

سارے رستے ہیں یار کے رستے


جانے کِس شہر کو مُنؔیر گئے

اپنی بستی کے پار کے رستے


مُنؔیر نیازی

Monday, 25 July 2016

Aey dil e nadan

اے دل ناداں
اے دل ناداں آرزو کیا ہے
جستجو کیا ہے
ہم بھٹکتے ہیں
کیوں بھٹکتے ہیں
دشت و صحرا میں
ایسا لگتا ہے موج پیاسی ہے
اپنے دریا میں
کیسی الجھن ہے
کیوں یہ الجھن ہے
ایک سایہ سا روبرو کیا ہے
کیا قیامت ہے
کیا مصیبت ہے
کہہ نہیں سکتے
کِس کا ارماں ہے
زندگی جیسے کھوئی کھوئی ہے
حیراں حیراں ہے
یہ زمیں چپ ہے
آسماں چپ ہے
پھر یہ دھڑکن سی چارسو کیا ہے