You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Showing posts with label Nazam. Show all posts
Showing posts with label Nazam. Show all posts
Wednesday, 14 February 2018
Sunday, 11 February 2018
Thursday, 23 November 2017
Nazam by Noreen Muskan Sarwar
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟
جو میری ذات بے اماں کی
کرچی کرچی سمیٹ لیتا
مجھے مقدس حیا کی دیوی
سمجھ کے نظریں جھکا کے چلتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟
یہاں کسی کے پاس اتنا
وقت نہیں ہے کہ آتے جاتے
کسی مدد کے مستحق پر
تسلی کی اک نگاہ اٹھا دے
کوئی لگی آگ کو بجھا دے
کسی کی کوئی راہگزر سجا دے
کسی پیاسے کی تشنگی کو
دے کے قطرہ اسے بجھا دے
پھر بھلا کوئی مجھ کو کیسے
غم کی دلدل سے نکال لیتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟
کسی کی آہوں کی نہ فکر ہے
کسی کے رونے کا کیا سبب ہے؟
کیوں متورم ہوئی ہیں آنکھیں؟
سخن وری کیوں غم زدہ ہے؟
ہر طرف دھول ہے ،دھواں ہے
اور آبرو بھی بے اماں ہے
نہیں کسی کو فکر کسی کی
تو میری عزت کی فکر کس کو
میری حرمت کا کون وارث ؟
جو غموں کو سمیٹ لیتا
جومیرے خوابوں کی تعبیر ہوتا
جو معتبر مجھ کو کرتا
جو میری حسرتیں ساری گن کر
یاس کی دھوپ سے بچا کر
خواہشوں کو رنگ دے کر
ساری خوشیوں کا حساب دیتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟
جو مجھ کو خوشیاں نصیب کرتا
جومجھ کو دل کے قریب کرتا
جسے میری ذات کے چمن میں
گلوں کی از حد خوشی ستاتی
جسے میری چاہتوں کے نغمے
جا کے باد صبا سناتی
کوئی جو مجھ کو نام دے دے
عزت کا سنہری لباس دےدے
کوئی جو در وبام دے دے
جو گمنام کو نامور بنا دے
کوئی تو عزت کا انعام دیتا
جو دیتا مسکان مجھے تسلی
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟؟؟
Monday, 31 July 2017
چَل آ اِک ایسی نظم کہوں۔۔!
چَل آ اِک ایسی نظم کہوں۔۔!
جو لفظ کہوں وہ ہو جائے۔۔
جو لفظ کہوں وہ ہو جائے۔۔
بس’’ اشک‘‘ کہوں تو،
اِک آنسو ترے گورے گال کو دھو جائے۔۔
مَیں’’ آ‘‘ لکھوں،
تُو آ جائے۔۔
میں ’’بیٹھ‘‘ لکھوں،
تُو آ بیٹھے۔۔
مرے شانے پر سر رکھے تو،
مَیں’’نِیند‘‘ کہوں،
تُو سو جائے۔۔
میں کاغذ پر’’تِرے ہونٹ‘‘ لکھوں،
تِرے ہونٹوں پر مُسکان آئے۔۔
میں’’ دِل‘‘ لکھوں،
تُو دِل تھامے۔۔
میں’’ گُم‘‘ لکھوں،
وہ کھو جائے۔۔
تِرے ہاتھ بناؤں پینسِل سے،
پھر ہاتھ پہ تیرے ہاتھ رکھوں۔۔
کُچھ’’ اُلٹا سِیدھا‘‘فرض کروں،
کُچھ’’ سِیدھا اُلٹا ‘‘ہو جائے۔۔
میں’’ آہ ‘‘لِکھوں،
تُو "ہائے" کرے۔۔
’’بے چین‘‘ لکھوں،
بے چین ہو تُو۔۔
پھر میں بے چین کا ’’ب ‘‘کاٹوں،
تُجھے چین زرا سا ہو جائے۔۔
ابھی’’ ع‘‘ لکھوں،
تُو سوچے مجھے۔۔!
پھر’’ش‘‘ لکھوں،
تِری نیند اُڑے۔۔!
جب’’ ق‘‘ لکھوں،
تُجھے کُچھ کُچھ ہو۔۔
مَیں’’ عِشق ‘‘لِکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تُجھے ہو جائے..
اِک آنسو ترے گورے گال کو دھو جائے۔۔
مَیں’’ آ‘‘ لکھوں،
تُو آ جائے۔۔
میں ’’بیٹھ‘‘ لکھوں،
تُو آ بیٹھے۔۔
مرے شانے پر سر رکھے تو،
مَیں’’نِیند‘‘ کہوں،
تُو سو جائے۔۔
میں کاغذ پر’’تِرے ہونٹ‘‘ لکھوں،
تِرے ہونٹوں پر مُسکان آئے۔۔
میں’’ دِل‘‘ لکھوں،
تُو دِل تھامے۔۔
میں’’ گُم‘‘ لکھوں،
وہ کھو جائے۔۔
تِرے ہاتھ بناؤں پینسِل سے،
پھر ہاتھ پہ تیرے ہاتھ رکھوں۔۔
کُچھ’’ اُلٹا سِیدھا‘‘فرض کروں،
کُچھ’’ سِیدھا اُلٹا ‘‘ہو جائے۔۔
میں’’ آہ ‘‘لِکھوں،
تُو "ہائے" کرے۔۔
’’بے چین‘‘ لکھوں،
بے چین ہو تُو۔۔
پھر میں بے چین کا ’’ب ‘‘کاٹوں،
تُجھے چین زرا سا ہو جائے۔۔
ابھی’’ ع‘‘ لکھوں،
تُو سوچے مجھے۔۔!
پھر’’ش‘‘ لکھوں،
تِری نیند اُڑے۔۔!
جب’’ ق‘‘ لکھوں،
تُجھے کُچھ کُچھ ہو۔۔
مَیں’’ عِشق ‘‘لِکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تُجھے ہو جائے..
Friday, 27 January 2017
ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ
ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺮ ﺭﺍﮦ ﻣﻠﮯ
ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﻠﺘﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭﮞ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﮔﺮﺩﺷﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ
ﺍﺳﯽ ﺍﮎ ﻟﻤﺤﮯ ﭘﮧ ﺭﮐﯽ ﺭﮨﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺗﮑﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺬﺏ ﺳﮯ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻋﺸﻖ ﺳﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺣﺼﺎﺭ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ
ﻧﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﮯ ، ﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﻮﮞ
ﺗﻮ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﻮﮞ
ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ﻧﺎ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﻮ ﺟﻮ ﻧﺎ ﻣﻠﮯ
ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﻠﺘﺎ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭﮞ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﮧ
ﺗﯿﺮﯼ ﺩﻭﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﺎﺭ ﺩﻭﮞ
ﺗﻮ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﻮﻥ
ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ، ﻧﺎ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ
Tuesday, 24 January 2017
ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ
ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ،
ﯾﮧ ﻓﺮﺍﻕ ﻟﻤﺤﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺷﺖِ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮐﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺤﺎﺏ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ،
ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ
ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮨﻢ ﺳﯽ،
ﺗﯿﺮﮮ ﻟﻔﻆ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺭﻭﭖ ﮨﮯ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ!
ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻠﺴﻠﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺴﺒﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮔﻼﺏ ﺳﮯ
ﺍﺳﮯ ﺟﯿﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﻨﺸﯿﮟ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺎﻡ ﻟﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﻻ ﮐﮯ ﺟﺒﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ،
ﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮩﺮ ﺗﮩﮧِ ﺁﺏ ﺳﮯ
ﻭﮨﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ،
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺣﺎﺻﻞِ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺑﺎﺏ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭼﺮﺍ ﻟﯿﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﮯ
Sunday, 4 December 2016
Chlo kuch baat kerty hain
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
خاموشی کا سحر ٹوٹے۔۔۔
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
وفاوں کی۔۔۔ جفاوں کی۔۔۔
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
بکھرنے کی۔۔۔ بچھڑنے کی
بکھر کر پھر سمٹنے کی۔۔۔
بچھڑ کر پھر سے ملنے کی۔۔۔
میں تم سے دور ہو جاوں۔۔۔
تمہیں جب بھی طلب ہو مجھ سے ملنے کی۔۔۔
کسی ویران ساحل پر کھڑے ہو کر۔۔۔
مجھے آواز دے دینا۔۔
تیری پلکوں کی چوکھٹ پر جو دستک دے۔۔۔
سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں۔
Friday, 18 November 2016
Aitraf ,Khawish ,Aurat
میری محبت کے اظہار نے
مجھے بے حد ارزاں کر دیاہے
مگر اسے یہ کون سمجھائے
جزبے، چاہت،اوروفا
کب کسی کے اختیار کی بات ہے
محبت تو محبت ہے
پہل میں کروں یاتو
مگر یہاں پر عورت کے اظہار کو
اسکےکمزور کردار سےملا دیا جاتا ہے
ایسا ہے تو کیوں ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
وہ بھی ایسا ہی شخص ہے
جو میری محبت کو خطا سمجھا
دل چاہتا ہے کہ کبھی اس سے کہوں
محبت تو محبت ہے
حقیقت پسندی سے سوچو
ایسی نادان عمرمیں
ایسی غلطیاں ہو ہی جاتی ھیں
میری چھوٹی سی غلطی کو وجہ بنا کر
میری محبت کو بےتوقیر مت کرو
میری زات کابھرم رکھ لو
مجھے سرخرو کر دو
Friday, 28 October 2016
Farz kro
فرض کرو
تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا
کسی دن فرض کرو
کہ تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے
ایک پل، ایک دن یا ایک مہینہ بھی فرض کیا جا سکتا ہے لیکن احتیاطاً
ایک سال ہی سہی
فرض کر لو تو کسی عام آدمی کا بھیس بدل کر
اپنے گھر یا اپنے شہر جاؤ
اور لوگوں میں بیٹھ کر اپنا ذکر کرو
اور دیکھو
کہ تم جو ایک مشہور آدمی تھے اور کافی لوگوں میں مقبول بھی
تمہاری موت کے بعد
لوگ جو تمہیں بمشکل یاد رکھے ہوئے ہیں
تمہارے بارے میں گفتگو کرنے میں ذرا بھی دلچسپی محسوس نہیں کرتے
جو جو شخص
تم سے پیار کرتا تھا اتنا
کہ پل بھر کی جدائی بھی اسے عذاب لگتی تھی
اور اس وقت تک کھڑا رہتا تھا
جب تک تم اپنی نشست پر بیٹھ نہیں جاتے تھے
اور کبھی تمہاری آواز سے
اپنی آواز بلند نہیں ہونے دیتا تھا
اب اس کے پاس اتنا وقت نہیں
کہ کہیں بیٹھ کے چند گھڑیاں تمہارے ساتھ بیتے ہوئے لمحات یاد کر سکے
پھر وہاں سے آگے چلو
اور کسی ایسے آدمی کو تلاش کرو
جو تمہاری شاعری پہ دل و جان سے فدا ہو
اور تمہارا اتنا معتقد ہو
کہ ہمہ وقت ہاتھوں میں تمہاری کتابیں اٹھائے
اور ہونٹوں پر تمہارے شعر سجائے پھرتا ہو
لوگوں کو
دن رات تمہاری نظمیں سناتا تھکتا نہ ہو
تم اس سے ملو
اور اس سے گزارش کرو
کہ وہ تمہیں تمہاری نظمیں سنائے
اور تمہارے بارے میں اپنے خیالات اور اپنی معلومات کا اظہار کرے
وہ تمہاری بات سنتے ہی تمہیں اپنے پاس بڑے احترام سے بٹھا لے گا
اور بڑی خوشی اور گہری دلچسپی سے تمہیں تمہاری ساری شاعری سنا ڈالے گا
اور کہے گا
"فرحت شاہ ایک عظیم شاعر تھا
اس کی شاعری پڑھ کے ہوں لگتا ہے
جیسے اس نے لوگوں کے دلوں اور روحوں کے اندر اتر کے شاعری کی ہو
مجھے تو اس کی شاعری سے عشق ہے
یوں لگتا ہے جیسے اس نے سارا کچھ خود میرے متعلق ہی لکھ ڈالا ہے
میرے دل کا عالم اور حالات زندگی
بالکل ایسے ہی ہیں جیسے اس نے لکھا ہے
اس کی ایک ایک سطر پڑھتے ہوئے
مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ بات تو میں خود کہنا چاہتا ہوں"
وہ شخص تمہیں بتاتا جائے گا ایسی ہزاروں باتیں
جن میں تمہارا کم اور اس کا اپنا حوالہ زیادہ ہو گا
ہاں صرف ایک سال بعد
تم جس کسی سے بھی ملو گے
جس سے بھی اپنے بارے پوچھو گے
صورت حال مختلف نہیں ہو گی
گویا تمام باتیں کسی زندہ آدمی کے لیے جاننا تقریباً ناممکن ہے
لیکن پھر بھی
کسی دن تم فرض تو کرو
کہ تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے
اے میرے گمنام اور اجنبی فرحت شاہ
فرحت عباس شاہ
Thursday, 27 October 2016
Bohat Mumkin tha
بہت ممکن تھا
میرے پاؤں ،میرے زیست کے
کانٹے نکل جاتے
بہت ممکن تھا
میری راہ کے پتھّر پگھل جاتے
جو دیواریں میرے رستے میں حائل تھیں
میرے آگے سے ہٹ جاتیں
اگر تم آنکھ اٹھا کر دیکھ لیتے
کوہساروں کی طرف اک پل
چٹانیں اک تمہاری جنبش ابرو سے کٹ جاتیں
بہت ممکن تھا
انگاروں بھری اس زندگانی میں
تمہارے پاؤں کے اجلے کنول کھِلتے
رفاقت کی سنہری جھیل میں
دونوں کے عکس ضوفشاں بنتے
بس اک خواب مسلسل کی فضا رہتی
ہماری روح کب ہم سے
خفا رہتی
یہ سب کچھ عین ممکن تھا
اگر تم مجھ کو مل جاتے
کانٹے نکل جاتے
بہت ممکن تھا
میری راہ کے پتھّر پگھل جاتے
جو دیواریں میرے رستے میں حائل تھیں
میرے آگے سے ہٹ جاتیں
اگر تم آنکھ اٹھا کر دیکھ لیتے
کوہساروں کی طرف اک پل
چٹانیں اک تمہاری جنبش ابرو سے کٹ جاتیں
بہت ممکن تھا
انگاروں بھری اس زندگانی میں
تمہارے پاؤں کے اجلے کنول کھِلتے
رفاقت کی سنہری جھیل میں
دونوں کے عکس ضوفشاں بنتے
بس اک خواب مسلسل کی فضا رہتی
ہماری روح کب ہم سے
خفا رہتی
یہ سب کچھ عین ممکن تھا
اگر تم مجھ کو مل جاتے
(اعتبار ساجد)
Sunday, 16 October 2016
Tuesday, 6 September 2016
Agr ye keh do baghir mery ni guzara ..tu mein tumhara
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ، تو میں تمہارا
یا اس پہ مبنی کوئی تاثر کوئی اشارا، تو میں تمہارا
غرور پرور، انا کا مالک، کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکارا ، تو میں تمہارا
تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو، میں جیسے چاہوں لگاؤں بازی
اگر میں جیتا تو تم ہو میرے، اگر میں ہارا ، تو میں تمہارا
تمہارا عاشق، تمہارا مخلص، تمہارا ساتھی، تمہارا اپنا
رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمہارا ، تو میں تمہارا
تمہارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں
اگر مقدر کا کوئی ٹوٹاکبھی ستارا تو میں تمہارا
یہ کس پہ تعویز کر رہے ہو؟یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے؟
تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ ، تو میں تمہارا
عامر امیرؔ
Sunday, 28 August 2016
Suno jin se muhabbat ho Unhen azad kerty hain
ﺳﻨﻮ
ﺟﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺗﮯﮨﯿﮟ
ﻗﻔﺲ ﺳﮯ، ﺁﺭﺯﻭﺋﮯ ﻃﻠﺐ ﺳﮯ. ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ
ﻭﮦ ﺟﮕﻨﻮ ﮨﻮﮞ،ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﮨﻮﮞ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻣﭩﮭﯿﻮﮞ ﺳﮯ ،ﺍﻭﺭ ﻗﻔﺲ ﺳﮯ
ﺁﺭﺯﻭﺋﮯ ﻃﻠﺐ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻗﯿﺪﯼ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣﻘﯿﺪ ﮐﺮﺗﮯﮨﯿﮟ
ﻣﺤﺒﺖ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﺵ ﺳﮯ ﺭﮨﺎﮨﻮﻧﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻗﻔﺲ ﺳﮯ ﺁﺭﺯﻭ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﺩﻭ
ﺍﻭﺭ ﻣﭩﮭﯽ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮﻧﻨﮭﮯ ﺳﮯ ﺟﮕﻨﻮﮐﻮﺍﮌﺍﮈﺍﻟﻮ
ﺭﮨﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥﻭﮦ ﺑﮯﭼﺎﺭﮦ
ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻗﯿﺪﯼ ﮨﮯ
ﮐﺮﺏ ﮐﺎ،ﺭﻧﺞ ﻭ ﺍﻟﻢ ﮐﺎ، ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽﮐﺎ،ﺍﻭﺭﺟﺒﺮ ﮐﺎ،
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺟﯿﻠﻮﮞ ،
ﮐﺌﯽﻗﻔﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﯿﺪﯼ ﮨﮯ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻗﯿﺪ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﺮ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎﮞﺟﺎﺋﮯ؟
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮎ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
ﮐﮭﻞ ﺗﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ
ﭼﻠﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﮩﯽ
ﺗﺎﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﻣﻞ ﺗﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ
ﺳﻨﻮ ﺟﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺗﮯﮨﯿﮟ
ﻗﻔﺲ ﺳﮯ، ﺁﺭﺯﻭﺋﮯ ﻃﻠﺐ ﺳﮯ.
Monday, 8 August 2016
Muhabbat ik barish hai
"ﻣﺤﺒﺖ"ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﻣُﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔۔
ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﻣُﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ
"ﻣﺤﺒﺖ"ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ
ﺳﺒﮭﯽ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ﭘِﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺳﺒﮭﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﯾﮑﺴﺎﮞ ۔۔۔۔۔
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺭﺍﺣﺖ ۔۔۔۔۔
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺯﺣﻤﺖ ۔۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺏ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻭﮦ ﻣُﺠﮫ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔۔۔۔۔
"ﻣﺤﺒﺖ"ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔
ﺳﺒﮭﯽ ﭘﮧ ﺟﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣُﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺳﯽ ﺗﮭﯽ،
ﻣﮕﺮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﺭﺵ
ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺑﻦ ﺳﮑﯽ ﺭﺣﻤﺖ ۔۔۔۔۔۔۔
ﯾﮧ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ ۔۔۔۔؟؟
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮﮞ ﺗﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﯾﮧ ﺩِﻝ، ﺩﯾﺘﺎ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﮯ ﻣﮑﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ۔۔۔۔۔۔۔
ﺑﺎﺭﺵ ﺭﺍﺱ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
Sunday, 7 August 2016
Zra Yaad Kar
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﮈﺭﺍ ﮈﺭﺍ ﺳﺎ ﺟﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﺷﻮﺥ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻝ ﺗﮭﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ...
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﮔﭩﮭﯽ ﮔﭩﮭﯽ ﺳﯽ ﻧﻮﺍﮰ ﺩﻝ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﮦ _ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺳﺎﺯ ﺗﮭﯽ
ﺟﻮ ﭘﮍﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﻧﮯ ﭨﻮﭦ ﮐﮯ
ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﮭﯽ
ﺟﺴﮯ ﺭﻭ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ ﺫﺭﺍ ﺫﺭﺍ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﺎ ﻓﺸﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﺍ ﻏﻢ ﺗﻮ ﮬﮯ ﻏﻢ _ ﻣﺒﺘﻼ
ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﯿﺮﺍ ﻏﻢ ﮬﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺪﺍﻣﺘﯿﮟ
ﺗﻮ ﺟﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺗﻮ ﻣﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﺠﮭﮯ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺟﺮﻡ ﺟﺮﻡ _ ﻓﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ..
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
Wednesday, 3 August 2016
Itny tu wo bhi khafa nahi thy
اتنے بھی تو وہ خفا نہیں تھے
جیسے کبھی آشنا نہیں تھے
مانا کہ ہم کہاں تھے ایسے
پر یوں بھی جدا جدا نہیں تھے
تھی جتنی بساط،کی پرستش
تم بھی تو کوئی خدا نہیں تھے
حد ہوتی ہے طنز کی بھی آخر
ہم ترے نہیں تھے، جا نہیں تھے
کس کس سے نباہتے رفاقت
ہم لوگ کہ بے وفا نہیں تھے
رخصت ہوا، وہ تو میں نے دیکھا
پھول اتنے بھی خوشنما نہیں تھے
تھے یوں تو ہم اس کی انجمن میں
کوئی ہمیں دیکھتا، نہیں تھے
جب اس کو تھا مان خود پہ کیا کیا
تب ہم بھی فرازؔ کیا نہیں تھے
احمد فرازؔ
Tuesday, 26 July 2016
Mery Humsafar
میرے ہمسفر
تمہارا نام کچھہ ایسے میرے ہونٹوں پہ کِھلتا ہے
اندھیری رات میں جیسے
اچانک چاند بادل کے کسی کونے سے باہر جھانکتا ہے
اور سارے منظروں میں روشنی سی پھیل جاتی ہے
کلی جیسے، لرزتی اوس کے قطرے پہن کر مُسکراتی ہے
بدلتی رُت، کسی مانوس سی ڈالی کی آہٹ لے کے چلتی ہے
تو خوشبو باغ کی دیوار سے روکے نہیں رُکتی
اسی خوشبو کے دھاگے سے میرا ہر چاک سلتا ہے
تمہارے نام کا تارا میری سانسوں میں کِھلتا ہے
تمہیں میں دیکھتا ہوں جب سفر کی شام سے پہلے
!کسی اُلجھی ہوئی گُمنام سی چِنتا کے جادو میں
!کسی سوچے ہوئے بے نام سے لمحے کی خوشبو میں
!کسی موسم کے دامن میں، کسی خواہش کے پہلو میں
تو اس خوش رنگ منظر میں تمہاری یاد کا رشتہ
نجانے کس طرف سے پھوٹتا ہے
اور ایسے میری ہر راہ کے ہم راہ چلتا ہے
کہ آنکھوں میں ستاروں کی گزرگاہیں سی بنتی ہیں
دھنک کی کہکشائیں سی
تمہارے نام کے ان خوشنما حرفوں میں ڈھلتی ہیں
کہ جن کے لمس سے ہونٹوں پہ جگنو رقص کرتے ہیں
تمہارے خواب کا رشتہ میری نیندوں سے ملتا ہے
تو دل آباد ہوتا ہے
میرا ہر چاک سلتا ہے
تمہارے نام کا تارا میری راتوں میں کِھلتا ہے
امجد اسلام امجد
Monday, 25 July 2016
Aey dil e nadan
اے دل ناداں
اے دل ناداں آرزو کیا ہے
جستجو کیا ہے
ہم بھٹکتے ہیں
کیوں بھٹکتے ہیں
اے دل ناداں آرزو کیا ہے
جستجو کیا ہے
ہم بھٹکتے ہیں
کیوں بھٹکتے ہیں
دشت و صحرا میں
ایسا لگتا ہے موج پیاسی ہے
اپنے دریا میں
کیسی الجھن ہے
کیوں یہ الجھن ہے
ایک سایہ سا روبرو کیا ہے
کیا قیامت ہے
کیا مصیبت ہے
کہہ نہیں سکتے
کِس کا ارماں ہے
زندگی جیسے کھوئی کھوئی ہے
حیراں حیراں ہے
یہ زمیں چپ ہے
آسماں چپ ہے
پھر یہ دھڑکن سی چارسو کیا ہے
ایسا لگتا ہے موج پیاسی ہے
اپنے دریا میں
کیسی الجھن ہے
کیوں یہ الجھن ہے
ایک سایہ سا روبرو کیا ہے
کیا قیامت ہے
کیا مصیبت ہے
کہہ نہیں سکتے
کِس کا ارماں ہے
زندگی جیسے کھوئی کھوئی ہے
حیراں حیراں ہے
یہ زمیں چپ ہے
آسماں چپ ہے
پھر یہ دھڑکن سی چارسو کیا ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)


















