affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Yaad Poetry
Showing posts with label Yaad Poetry. Show all posts
Showing posts with label Yaad Poetry. Show all posts

Monday, 8 August 2016

Bohat Ujra Hua Hai Dil Magr Apna Aqeeda Hai

Yadden

Bohat Ujra Hua Hai Dil Magr Apna Aqeeda Hai

Jhan Makhen Teri Yadden Wo Sehra Ho Nahi Sakta 

بہت اجڑا ہوا ہے دل مگر اپنا عقیدہ ہے

جہاں مہکیں تیری یا دیں وہ صحرا ہو نہیں سکتا.




Sunday, 7 August 2016

Zra Yaad Kar

ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﮈﺭﺍ ﮈﺭﺍ ﺳﺎ ﺟﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﺷﻮﺥ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻝ ﺗﮭﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ...
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﮔﭩﮭﯽ ﮔﭩﮭﯽ ﺳﯽ ﻧﻮﺍﮰ ﺩﻝ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﮦ _ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺳﺎﺯ ﺗﮭﯽ
ﺟﻮ ﭘﮍﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﻧﮯ ﭨﻮﭦ ﮐﮯ
ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﮭﯽ
ﺟﺴﮯ ﺭﻭ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ ﺫﺭﺍ ﺫﺭﺍ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﺎ ﻓﺸﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﺍ ﻏﻢ ﺗﻮ ﮬﮯ ﻏﻢ _ ﻣﺒﺘﻼ
ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﯿﺮﺍ ﻏﻢ ﮬﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺪﺍﻣﺘﯿﮟ
ﺗﻮ ﺟﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺗﻮ ﻣﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﺠﮭﮯ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺟﺮﻡ ﺟﺮﻡ _ ﻓﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ..
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ

Thursday, 4 August 2016

Chalta tha kabhi mera hath tham key jis par

چلتا تھا کبھی ہاتھ میرا تھام کے جس پر
کرتا ہے بہت یاد وہ رستہ اسے کہنا


امید نہ رکھے وہ کسی اور سے فراز
ہر شخص محبت میں نہیں " ہم " سا اسے کہنا

Tuesday, 31 May 2016

مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔۔

مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔۔
بہت زیادہ نہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
خوشی میں اور غم میں
بارشوں میں بھیگتے اور سردیوں کی دھوپ میں بیٹھے
پرانی ڈائری کے حاشیوں میں ،
تمہارے کھلکھلاہٹ سے بھرے
جملوں کو پڑھ کر مسکراتے
اور تمہارے کارڈز کو
ہر بار اک نئی ترتیب سے رکھتے
جنم دن پر
ہر اک تہوار پر
سچ میں ۔۔۔
مجھے تم یاد آتے ہو
بہت زیادہ نہیں لیکن
مری ہر سوچ میں دھڑکن میں
سانسوں کے تسلسل میں
مجھے بھولے ہوئے ساتھی
مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔۔۔۔

عاطف سعید

Saturday, 28 May 2016

اداسی اوڑھ لیتی ہیں

 

 

گلابی شام کےبڑھتے ہوئےمخمور سائے میں
تھکے ہارے پرندے بھی
گھروں کو لوٹ آتے ہیں
مگرتم ہی نہیں آتے
یہ میری منتظر آنکھیں
افق کے پار تکتی ہیں
میری ان نیم وا آنکھوں کے گوشےبھیگ جاتے ہیں
میری شامیں میری راتیں
اداسی اوڑھ لیتی ہیں

Monday, 2 May 2016

اب کے تو اسطرح سے یاد آیا

اب کے تو اسطرح سے یاد آیا
جس طرح دشت میں گھنے سائے


جیسے دھندلے سے آئینے کے نقوش
جیسے صدیوں کی بات یاد آئے

محسن نقوی


.

Saturday, 30 April 2016

محبت آزماتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو


محبت آزماتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
جدائی اب ستاتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو

 

محبت کے سنہرے باغ میں بے چین سی کوئل
کوئی جب گیت گاتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو

 

اذیت ہوکہ راحت ہو کوئی کیسی بھی منزل ہو
تمہاری یاد آتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

 

کوئی تسکیں شدہ چہرہ نہیں بھاتا، نگاہ لیکن
تمہیں رو کر بلاتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

 

نہیں جب تم یہاں ہوتے، اداسی ظلم کرتی ہے
مجھے اتنا رلاتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

 

مجھے لوری سناتی ہیں مری تنہائیاں شب بھر
اداسی گنگناتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

 

کسی معصوم حسرت پر کوئی روتی ہوئی بچی،
کبھی جب مسکراتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

 

زین شکیل

Thursday, 14 April 2016

یاد



یاد تو ھوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی , لیکن
شیلف میں رکھی ھوئی کتابوں کیطرح
"پروین شاکر"

Wednesday, 13 April 2016

کیا تم اس کے سبب سے واقف ہو؟

کیا تم اس کے سبب سے واقف ہو؟
دل میرا آج تک نہیں بدلا
اتنا مصروف آج رہتا ہوں
اتنی چاہت تو دل میں اب بهی ہے
جتنی اس وقت میرے دل میں تهی
شعر ویسے ہی اب کہتا ہوں
جیسے اس وقت بهی میں کہتا تها
یاد سے دل کے رابطے نے ابهی
اک نئی سمت بهی نہیں اوڑهی
مرکز دید جو بهی منظر تها
وہ ہی منظر ہے اب بهی آنکهوں میں
گذرے لمحوں کے نقش پا دل پر
میں نے اب تک سنبهال رکهے ہیں
جن سے لپٹے ہوئے تهے خواب میرے
میں وہ آنکهیں ابهی نہیں بهولا
جن سے جینے کا ڈهنگ سیکها تها
میں وہ باتیں ابهی نہیں بهولا
کوئی یادیں ابهی نہیں بهولا
تم مجهے بهول گئی ہو شاید
دل سے یہ واہم نہیں جاتا
تم ہی اس کے سبب سے واقف ہو
میں تمہیں یاد کیوں نہیں آتا...؟؟
عاطف سعید

Saturday, 2 April 2016

کبھی ناراض مت ہونا

کبھی ناراض مت ہونا 

کبھی ناراض مت ہونا 
گلے چاہے بہت کرنا
رلانا اور بہت لڑنا

سنو ناراض مت ہونا
کبھی ایسا جو ہو جائے
کے تیری یاد سے غافل کسی ! لمحے جو ہو جاؤں
بنا دیکھے تیری صورت
کسی شب میں جو سو جاؤں
تو سپنوں میں چلے آنا
مجھے احساس دلا جانا

" سنو ناراض مت ہونا "
کبھی ایسا جو ہو جائے
جنہیں کہنا ضروری ہو
وہ مجھ سے لفظ کھو جائیں
انا کو بیچ مت لانا
میری آواز بن جانا
" کبھی ناراض مت ہونا

Friday, 1 April 2016

پُھول تھے رنگ تھے ،لمحوں کی صباحت ہم تھے


پُھول تھے رنگ تھے ،لمحوں کی صباحت ہم تھے
ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے

سب خِرَد مند بنے پھرتے تھے
بس تِرے شہر میں اِک صاحبِ وحشت ہم تھے

نام بخشا ہے تجھے کِس کے وفُورِ غم نے
گر کوئی تھا تو تِرے مُجرمِ شُہرت ہم تھے

رَتجگوں میں تِری یاد آئی تو احساس ہُوا
اِک زمانے میں تِری نیند کی راحت ہم تھے

اب تو خود کو بھی ضرُورت نہیں باقی اپنی
وہ بھی دِن تھے کہ رہے تیری ضرورت ہم تھے

دھُوپ کے دشت میں کتنا وہ ہمَیں ڈھونڈتا تھا
اعتبار اُس کے لئے ابْر کی صُورت ہم تھے

اعتبارساجد ​

یاد رکھتا ہوں



میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں
میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں

سر محفل نگاہیں مجھ پے جن لوگوں کی پڑتی ہیں
نگاہوں کے معنی سے وہ چہرے یاد رکھتا ہوں

ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے
کے جن پہ بوجھ میں ڈالوں ، وہ کندھے یاد رکھتا ہوں

میں یوں تو بھول جاتا ہوں ، خراشیں تلخ باتوں کی
مگر جو زخم گہرے دیں ، رویے یاد رکھتا ہوں.

ﺍﮮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﮬﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﻨﻮ



ﺍﮮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﮬﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﻨﻮ
 
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ
 
ﻣﻦ ﻣﯿﺖ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻢ
 
ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺎﻝ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﺗﻢ
 
ﻣﯿﮟ ﮬﺮ ﺷﺐ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﮬﻮﮞ
 
ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﺗﮯ ﻭﻗﺖ
 
ﮐﭽﮫ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ......؟؟
 
ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﻧﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ
 
ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮬﮯ.......؟؟
 
ﺍﮮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﮬﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ کہ
 
ﯾﺎﺩ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺁﺗﯽ ﮬﮯ
،
ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﮎ ﭘﻞﭼﯿﻦ نہیں
 
ﮐﯿﻮﮞ ﭘﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮬﻦ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﺗﮭﮯ......؟؟
 
ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺱ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺗﮭﻤﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ......؟؟
 
ﻭﮦ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﻭﻋﺪﮮ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ......؟؟
 
ﮐﯿﻮﮞ ﺳﺎﺟﻦ ﮬﻢ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﮫ ﮔﺌﮯ......؟؟
 
ﮬﻢ ﺗﻢ ﺑﻦ ﺟﯽ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯿﻨﮕﮯ
 
ﯾﮧ ﺭﺷﺘﮯ ﺗﻮﮌ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯿﻨﮕﮯ
 
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﻢ
 
ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﺷﮏ ﺑﮩﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ
 
ﯾﮧ ﮬﺠﺮ ﮬﺮﺍﺳﺎﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ
 
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﮦ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺗﮑﺘﯽ ﮬﻮﮞ
 
ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮐﻞ ﺑﮯﮐﻞ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﮬﻮﮞ
 
ﮬﺮ ﮬﺮ ﺩﻥ ﺟﯿﺘﯽ ﻣﺮﺗﯽ ﮬﻮﮞ
 
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﺟﺐ ﻟﻮﭦ ﮐﮯ ﺁﻧﺎ ﺗﻢ
 
ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮ ﮮ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺁﻧﺎ ﺗﻢ.

Tuesday, 29 March 2016

مرے ہمدم، مرے ساتھی

  •  

    مرے ہمدم، مرے ساتھی

    تمہیں تو یاد ہی ہو گا
    وہ دن کیا خاص تھا جب تم مرے جیون میں آئی تھیں
    مری بے رنگ دنیا کو
    تمہاری مسکراہٹ نے ہزاروں رنگ بخشے تھے
    اسے کیسے سجایا تھا 
    تمہیں تو یاد ہی ہو گا
    تمہیں میں نے بتایا تھا
    کہ میں خوابوں میں رہتا ہوں مگر تم اک حقیقت ہو
    محبت ہی محبت ہو
    پھر اس کے بعد جیون کے سبھی موسم، سبھی منظر تمہاری آنکھ سے دیکھے
    تمہارے ساتھ جو گذرے، وہی پل زندگی ٹھہرے
    تمہیں تو یاد ہی ہو گا، مجھے کب یاد رہتا تھا
    مجھے کیا کام کرنے ہیں
    مجھے کس کس سے ملنا ہے
    کہاں جانا ضروری ہے
    خفا کوئی ہے کیوں مجھ سے
    کسے جا کر منانا ہے
    مجھے کب یاد رہتا تھا
    مرا معمول تو تم تھیں
    تمہی سب یاد رکھتی تھیں
    میں اپنے دل کی سب باتیں فقط تم سے ہی کرتا تھا
    تمہاری بھی یہ عادت تھی
    تمہیں تو یاد ہی ہو گا، میں اکثر تم سے کہتا تھا
    ابھی اس زندگی کے ساتھ کتنے روگ لپٹے ہیں
    مجھے تم سے محبت کی ذرا فرصت نہیں ملتی
    ذرا وہ وقت آنے دو، ذرا فرصت ملے مجھ کو
    بٹھا کر سامنے تم کو، تمہیں جی بھر کے دیکھوں گا
    بتاؤں گا مجھے تم سے محبت سی محبت ہے
    مجھے اس دم ملی فرصت
    کہ جب یہ بات سننے کو نہیں تم سامنے میرے
    مری جاں تم وہاں پر ہو، 
    جہاں سے لوٹ کر واپس کبھی کوئی نہیں آتا
    تمہیں کیوں اتنی جلدی تھی؟
    مرا اقرار سن لیتیں، مرا اظہار سن لیتیں
    کہ اب فرصت ہی فرصت ہے
    کہ اب معمول میں میرے، فقط تم سے محبت ہے
    مگر یہ بھی حقیقت ہے
    کہ میں تاخیر سے پہنچا،
    تمہیں جانے کی جلدی تھی.

  • عاطفؔ سعید

Monday, 28 March 2016

وقت کے الجھے الجھے دھاگے

وقت کے الجھے الجھے دھاگے
 جب دل توڑ کے چل دیں گے
پگڈنڈی پر پیلے پتے تم کو تنہا دیکھیں گے
پیڑوں کے سینے پر لکھے، نام بھی ہو جائیں تحلیل،
اور ہوا بھی سمت کو اپنی کر جائے تبدیل
بھینی بھینی خوشبو ہم کو، ہر اک گام پکارے گی،
کرکے یخ بستہ جب ہم کو، برف اس پار سدھارے گی
دھوپ صداؤں کے سکے،
جب کانوں میں کھنکائے گی،
بارش، مسکانوں کے موتی،
 پتھر پر جب پھوڑے گی
اور برستی بوندوں کے دھاروں پر دھارے جوڑے گی
گرم گرم، انگاروں جیسے، آنسو آنکھ سے ابلیں گے،
دل کے ارماں، اک مدت کے بعد تڑپ کر نکلیں گے
جب احساس کی دنیا میں پھر، اور نہ گھنگھرو چھنکیں گے
صرف خموشی گونجے گی تب؟
آنے والے موسم کی،
کھڑکی پر دستک بھی نہ ہوگی،
کوئی سریلی رم جھم کی
شام کے سناٹے میں بدن پر،
عکس تمہارا جھولے گا
یادوں کا لمس ٹٹولے گا،
گھور اداسی چُھو لے گا
اونچی اونچی باتوں سے تم، 
خاموشی میں شور کرو گے
گیت پرانے سن کر،
 ٹھنڈی سانسیں بھر کر، بور کرو گے
اس پل شب کی تنہائی میں۔۔۔
اپنے دل کو شاد کرو گے
بولو۔۔۔
مجھ کو یاد کرو گے؟؟؟

Sunday, 27 March 2016

تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم



تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں

کوئی بھی فیصلہ ہم سوچ کر نہیں کرتے
تمہارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں

تمہارے بعد یہ عادت سی ہو گئی اپنی
بکھرتے سوکھتے پتے سنبھال رکھتے ہیں

خوشی سی ملتی ہے خود کو اذیتیں دے کر
سو جان بوجھ کے دل کو نڈھال رکھتے ہیں

کبھی کبھی وہ مجھے ہنس کے دیکھ لیتے ہیں
کبھی کبھی مرا بے حد خیال رکھتے ہیں

تمہارے ہجر میں یہ حال ہو گیا اپنا
کسی کا خط ہو اسے بھی سنبھال رکھتے ہیں

خوشی ملے تو ترے بعد خوش نہیں ہوتے
ہم اپنی آنکھ میں ہر دم ملال رکھتے ہیں

زمانے بھر سے چھپا کر وہ اپنے آنچل میں
مرے وجود کے ٹکڑے سنبھال رکھتے ہیں

کچھ اس لئے بھی تو بے حال ہو گئے ہم لوگ
تمہاری یاد کا بے حد خیال رکھتے ہیں...

- وصی شاہ

ہم جو پہنچے سرِ مقتل تو یہ منظر دیکھا

ہم جو پہنچے سرِ مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سرِ نوکِ سناں پر دیکھا

ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آ کر دیکھا

پیاس یادوں کو اب اس موڑ پہ لے آئی ہے
ریت چمکی تو یہ سمجھے کہ سمندر دیکھا

ایسے لپٹے ہیں دروبام سے اب کے جیسے
حادثوں نے بڑی مدت میں میرا گھر دیکھا

زندگی بھر نہ ہوا ختم قیامت کا عذاب
ہم نے ہر سانس میں برپا نیا محشر دیکھا

اتنا بے حس کہ پگھلتا ہی نہ تھا باتوں سے
آدمی تھا کہ تراشا ہوا پتھا دیکھا

دکھ ہی تھا ایسا کہ رویا تیرا محسن ورنہ
غم چھپا کر اسے ہنستے ہوئے اکثر دیکھا...

- محسن نقوی

محبت کس کو کہتے ہیں


  آؤ ہم تمکو بتائیں
محبت کس کو کہتے ہیں
کسی کو دیکھتے ہی دھڑکنوں میں سر بکھر جائیں
چمک آنکھوں کی بڑھ جائے
کسی کی یاد میں شام و سحر کا فرق مٹ جائے
سلگتے رات کٹ جائے
تصور سے کسی کے چاندنی راتیں مہک اٹھیں
کسی کا ایک جملہ قوت گویائی بن جائے
کسی کی اک نگاہ شوخ ہی بینائی بن جائے
کسی کے بن جب اپنا آپ اور سب کچھ ادھورا ہو
نہ سورج میں تپش باقی رہے نہ چاند پورا ہو
کسی کو دیکھ کے اکثر دھڑکنا بھول جائے دل
ٹھر جائے جو اس رخ پہ پلٹنا بھول جائے دل
کسی کی دید کی خاطر جبیں سجدے میں جھک جائے
نظر وہ آئے تو بے ساختہ کہہ دے زباں
" اے کاش .... مولا وقت رک جائے "
کوئی خوشبو ہو گل ہو یا کوئی رنگ حنا ہو تو
کڑکتی دھوپ میں کوئی ابر یا سایہ گھنا ہو تو
کسی کی آواز میں روح بھی محو دعا ہو تو
کسی کا ساتھ اپنی ابتداء اور انتہا ہو تو
کوئی خود درد ہو ، ہمدرد ہو اور خود دوا بھی ہو
کسی کا ہاتھ جب اپنے لیے دست شفا بھی ہو
پھر ایسے میں
یہ سب احساس ، ساری کیفیتیں اور سلسلے مل کر
انوکھی شے بناتے ہیں
جسے کہتے بھی ہیں
سنتے بھی ہیں
اور سب سناتے ہیں
محبت
جس کو کہتے ہیں

Saturday, 26 March 2016

زندگی کی کتاب


میری زندگی کی کتاب میں
میرے روز و شب کے حساب میں
تیرا نام جتنے صفحوں پہ ہے
تیری یاد جتنی شبوں میں ہے
وہی چند صفحے ہیں متاعِ جان
اُنہی رتجگوں کا شمار ہے

کبھی جورتجگے برتو



کبھی جورتجگے برتو
کبھی جوکروٹیں بدلو
کبھی جوکروٹوں کہ درمیاں تم جھنجھلاؤ یا
یونہی بےساختہ آنکھیں تمہاری ڈبڈبا جائیں
جو آنکھیں ڈبڈبا جائیں جو تکیہ بھیگ جائے تو
یا سانسیں اپنے سینے میں تمہیں نشتر لگیں دیکھو
تو جاناں مجھکو ایسے میں ذرا بھی یاد مت کرنا
کہ یادیں ایسے لمحوں میں بہت جاںکن سی ہوتی ہیں
مجھے معلوم ہے کیونکہ
میں بهی ہر شب ایسے مرتا ہوں
میں بهی ہر شب ایسے جیتا ہوں