affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Amjad Islam Amjad
Showing posts with label Amjad Islam Amjad. Show all posts
Showing posts with label Amjad Islam Amjad. Show all posts

Monday, 17 October 2016

Un jheel se ghari ankhon m ik khawab khen abad tu ho


اُن جھیل سی گہری آنکھوں میں اک شام کہیں آباد تو ہو

اُس جھیل کنارے پل دو پل

اک خواب کا نیلا پھول کھلے

وہ پھول بہا دیں لہروں میں

اک روز کبھی ہم شام ڈھلے

اُس پھول کے بہتے رنگوں میں

جس وقت لرزتا چاند چلے

اُس وقت کہیں ان آنکھوں میں اُس بسرے پل کی یاد تو ہو

اُن جھیل سی گہری آنکھوں میں اک شام کہیں آباد تو ہو

پھر چاہے عُمر سمندر کی

ہر موج پریشاں ہو جائے

ہر خواب گریزاں ہو جائے

پھر چاہے پھول کے چہرے کا

ہر درد نمایاں ہو جائے

اُس جھیل کنارے پل دو پل وہ رُوپ نگر ایجاد تو ہو

دن رات کے اس آئینے سے وہ عکس کبھی آزاد تو ہو

اُن جھیل سی گہری آنکھوں میں اک شام کہیں آباد تو ہو


امجد اسلام امجد

Tuesday, 26 July 2016

Mery Humsafar

میرے ہمسفر

تمہارا نام کچھہ ایسے میرے ہونٹوں پہ کِھلتا ہے
اندھیری رات میں جیسے
اچانک چاند بادل کے کسی کونے سے باہر جھانکتا ہے
اور سارے منظروں میں روشنی سی پھیل جاتی ہے
کلی جیسے، لرزتی اوس کے قطرے پہن کر مُسکراتی ہے
بدلتی رُت، کسی مانوس سی ڈالی کی آہٹ لے کے چلتی ہے
تو خوشبو باغ کی دیوار سے روکے نہیں رُکتی
اسی خوشبو کے دھاگے سے میرا ہر چاک سلتا ہے
تمہارے نام کا تارا میری سانسوں میں کِھلتا ہے
تمہیں میں دیکھتا ہوں جب سفر کی شام سے پہلے
!کسی اُلجھی ہوئی گُمنام سی چِنتا کے جادو میں
!کسی سوچے ہوئے بے نام سے لمحے کی خوشبو میں
!کسی موسم کے دامن میں، کسی خواہش کے پہلو میں
تو اس خوش رنگ منظر میں تمہاری یاد کا رشتہ
نجانے کس طرف سے پھوٹتا ہے
اور ایسے میری ہر راہ کے ہم راہ چلتا ہے
کہ آنکھوں میں ستاروں کی گزرگاہیں سی بنتی ہیں
دھنک کی کہکشائیں سی
تمہارے نام کے ان خوشنما حرفوں میں ڈھلتی ہیں
کہ جن کے لمس سے ہونٹوں پہ جگنو رقص کرتے ہیں
تمہارے خواب کا رشتہ میری نیندوں سے ملتا ہے
تو دل آباد ہوتا ہے
میرا ہر چاک سلتا ہے
تمہارے نام کا تارا میری راتوں میں کِھلتا ہے

امجد اسلام امجد

Tuesday, 3 May 2016

اگر کبھی میری یاد آئے


اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخل فلک سے اڑ کر تمہارے قدموں میں آ گرے تو
یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کا
اگر نہ آئے------
مگر یہ ممکن ھی کس طرح ھے تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ھستی نہ بھول جائے
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ھوا کی لہروں پہ ھاتھ رکھنا
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گا
اگر ستاروں میں اوس قطروں میں خوشبوؤں میں
نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
میں گرد ھوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا
کہیں پہ روشن چراغ دیکھو تو سوچ لینا
کہ ھر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ھوں
تم اپنے ھاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا
میں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا
کسی نہ دیکھے ھوئے جزیرے پہ رک کے تم کو
صدائیں دوں گا
سمندروں کے سفر پہ نکلو تو
اس جزیرے پہ بھی اترنا................ !

امجد اسلام امجد

Friday, 29 April 2016

تیرا کیا بنے گا اے دل

کسی خواب سے فروزاں کسی یاد میں سمٹ کر

کسی حُسن سے درخشاں کسی نام سے لپٹ کر

 

وہ جو منزلیں وفا کی مرے راستوں میں آئیں

وہ جو لذتیں طلب کی مرے شوق نے اُٹھائیں


اُنہیں اب میں جمع کر کے کبھی دھیان میں جو لاؤں

تو ہجومِ رنگ و بو میں کوئی راستہ نہ پاؤں


کہیں خوشبوؤں کی جھلمل کہیں خواہشوں کے ریلے

کہیں تتلیوں کے جمگھٹ کہیں جگنوؤں کے میلے


پہ یہ دلفریب منظر کہیں ٹھہرتا نہیں ہے

کوئی عکس بھی مسلسل سرِ آئینہ نہیں ہے


یہی چند ثانیے ہیں مری ہرخوشی کا حاصل

انہیں کس طرح سمیٹوں کہ سمے کا تیز دھارا

سرِ موجِ زندگانی ہے فنا کا استعارا


نہ کھُلے گرہ بھنور کی نہ ملے نشانِ ساحل

ترا کیا بنے گا اے دل! ترا کیا بنے گا اے دل

 

 

Sunday, 24 April 2016

ہے محبت کا سِلسلہ کچھ اور


ہے محبت کا سِلسلہ کچھ اور
درد کُچھ اور ہے دَوا کُچھ اور
غم کا صحرا عجیب صحرا ہے
جتنا کاٹا یہ بڑھ گیا کُچھ اور
بھیڑ میں آنسوؤں کی سُن نہ سکا
تم نے شاید کہا تو تھا کچھ اور
کم نہیں وصل سے فراق ترا
اِس زیاں میں ہے فائدہ کُچھ اور
دل کِسی شے پہ مُطمئن ہی نہیں
مانگتا ہے یہ اژدہا، کُچھ اور
تیرے غم میں حسابِ عُمر رواں
جتنا جوڑا، بِکھر گیا کُچھ اور
وصل کی رات کاٹنے والے
ہے شبِ غم کا ذائقہ کُچھ اور
ہر طرف بھیڑ تھی طبیبوں کی
روگ بڑھتا چلا گیا کُچھ اور
کٹ گئے دھار پہ زمانے کی
ہم سے امجد نہ ہوسکا کُچھ اور

Thursday, 21 April 2016

کبھی برسات میں شاداب بیلیں سوکھ جاتی ہیں

کبھی برسات میں شاداب بیلیں سوکھ جاتی ہیں
ہرے پیڑوں کے گرنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا


بہت سے لوگ دل کو اس طرح محفوظ رکھتے ہیں
کوئی بارش ہو یہ کاغذ ذرا بھی نم نہیں ہوتا

امجد اسلام امجد

Tuesday, 19 April 2016

کوئی خوشبو بکھرتی ہے


کوئی خوشبو بکھرتی ہے
زمیں اور آسماں کے درمیاں پھیلے مناظر میں
بہت آہستگی سے جب کوئی خوشبو بکھرتی ہے
تو آنکھوں میں ستاروں کا عجب میلہ سا لگتا ہے
ہوا سرگوشیاں پہنے دریچوں سے گذرتی ہیں
کوئی خوشبو بکھرتی ہے
درختوں سے جدا ہوتے ہوئے بے خانماں پتے
سفر آغاز کرتے ہیں
تو سپنوں پر حقیقت کا کوئی پرتو سا پڑتا ہے
صبا۔ قوسِ قزح کی راہ میں زینے بناتی ہے
اور اک بے نام سی آہٹ دبے پاؤں اُترتی ہے
کوئی خوشبو بکھرتی ہے
نیا موسم پرانے موسموں کی دھول سے
چہرہ اُٹھاتا ہے
تو شبنم کاسۂ گل میں کئی سکے گراتی ہے
زمیں پہلو بدلتی ہے
کوئی خوشبو بکھرتی
بہت آہستگی سے پھر تیری خوشبو بکھرتی ہے

امجد اسلام امجد

دل کیسے ڈوبا


لوگ کہتے ہیں پانی میں لکڑی نہیں ڈوبتی

اور وجہ یہ بتاتے ہیں

لکڑی کا اپنا حجم

چونکہ پانی کی اتنی ہی مقدار کے

بالمقابل زیادہ نہیں

اس لئے وہ سدا

سطح آبِ رواں پہ رہے گی مگر

ڈوبنے کا عمل اس پہ ہو گا نہیں

ازل سے یہ قدرت کا قانون ہے

اور قانون قدرت بدلتا نہیں

پہ میں سوچتا ہوں

اگر یہ حقیقت میں قانون ہے

تو تیرے غم کے دریا میں

دل کیسے ڈوبا؟

 

امجد اسلام امجد

Monday, 18 April 2016

" بارش

 

 


" بارش میں بھیگتے ہوئے جھونکے ہوا کے تھے
وہ چند بے گمان سے لمحے، بلا کے تھے "

(امجد اسلام امجد)

Thursday, 14 April 2016

تیرے اِرد گِرد وہ شور تھا ، میری بات بیچ میں رہ گئی

تیرے اِرد گِرد وہ شور تھا ، میری بات بیچ میں رہ گئی
نہ میں کہ سکا نہ تُو سُن سکا ، مِیری بات بیچ میں رہ گئی

میرے دل کو درد سے بھر گیا ، مجھے بے یقین سا کرگیا
تیرا بات بات پہ ٹوکنا ، میری بات بیچ میں رہ گئی

تیرے شہر میں میرے ھم سفر، وہ دُکھوں کا جمِّ غفیر تھا
مجھے راستہ نہیں مل سکا ، میری بات بیچ میں رہ گئی

وہ جو خواب تھے میرے سامنے، جو سراب تھے میرے سامنے
میں اُنہی میں ایسے اُلجھ گیا ، میری بات بیچ میں رہ گئی

عجب ایک چُپ سی لگی مجھے، اسی ایک پَل کے حِصار میں
ھُوا جس گھڑی تیرا سامنا، میری بات بیچ میں رہ گئی

کہیں بے کنار تھی خواھشیں، کہیں بے شمار تھی اُلجھنیں
کہیں آنسوؤں کا ھجوم تھا ، میری بات بیچ میں رہ گئی

تھا جو شور میری صداؤں کا، مِری نیم شب کی دعاؤں کا
ہُوا مُلتفت جو میرا خدا ، میری بات بیچ میں رہ گئی

تیری کھڑکیوں پہ جُھکے ھوئے، کئی پھول تھے ھمیں دیکھتے
تیری چھت پہ چاند ٹھہر گیا ، میری بات بیچ میں رہ گئی

میری زندگی میں جو لوگ تھے، مِرے آس پاس سے اُٹھ گئے
میں تو رہ گیا اُنہیں روکتا ، مِری بات بیچ میں رہ گئی

ِِتِری بے رخی کے حِصار میں، غم زندگی کے فشار میں
میرا سارا وقت نکل گیا، مِری بات بیچ میں رہ گئی

مجھے وھم تھا ترے سامنے، نہیں کھل سکے گی زباں میری
سو حقیقتاً بھی وھی ھُوا، میری بات بیچ میں رہ گئی

__امجد اسلام امجد

Tuesday, 29 March 2016

یہ جو ریگِ دشتِ فراق ہے

 

یہ جو ریگِ دشتِ فراق ہے 

یہ رکے اگر

یہ رکے اگر، تو نشاں ملے
کہ جو فاصلوں کی صلیب ہے
یہ گڑی ہوئی ہے کہاں کہاں؟
مرے آسماں سے کدھر گئی ؟ ترے التفات کی کہکشاں
مرے بے خبر، مرے بے نشاں
یہ رکے اگر تو پتا چلے
میں تھا کس نگر تو رہا کہاں
کہ زماں و مکاں کی وسعتیں
تجھے دیکھنے کو ترس گئیں
وہ میرے نصیب کی بارشیں
کسی اور چھت پر برس گئیں
مرے چار سوہے غبار جاں ، وہ فشار جاں
کہ خبر نہیں مرے ہاتھ کو مرے ہاتھ کی
مرے خواب سے تیرے بام تک
تری رہگزر کا تو ذکر کیا
نہیں ضوفشاں تیرا نام تک !۔
ہیں دھواں دھواں مرے استخواں
مرے آنسوؤں میں بجھے ہوئے ، مرے استخواں
مرے نقش گر مرےنقش جاں
اسی ریگ دشت فراق میں ، رہے منتظر ، ترے منتظر
مرے خواب جن کے فشار میں
رہی مرے حال سے بے خبر
تری رہگزر
تری رہگزر کہ جو نقش ہے مرے ہاتھ پر
مگر اس بلا کی ہے تیرگی
کہ خبر نہیں مرے ہاتھ کومرے ہاتھ کی
وہ جو چشم شعبدہ ساز تھی وہ اٹھے اگر
میرے استخواں میں ہو روشنی
اسی ایک لمحہ دید میں تری رہگزر
میری تیرہ جاں سے چمک اٹھے
مرے خواب سے ترے بام تک
سبھی منظروں میں دمک اٹھے
اسی ایک پل میں ہو جاوداں
مری آرزو کہ ہے بے کراں
مری زندگی کہ ہے مختصر
جو ریگ دشت فراق ہے یہ ، رکے اگر
یہ رکے اگر۔۔۔

امجد اسلام امجد

Friday, 8 May 2015

اگر کبھی میری یاد آئے



اگر کبھی میری یاد آئے


تو چاند راتوں کی نرم دل گیر روشنی میں 
کسی ستارے کو دیکھ لینا 
اگر وہ نخلِ فلک سے اُڑ کر تمہارے قدموں میں آگرے تو 
یہ جان لینا، وہ استعارہ تھا میرے دل کا، 
اگر نہ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو 
تو اُس کی دیوارِ جاں نہ ٹوٹے 
وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے 
اگر کبھی میری یاد آئے 
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا 
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا 
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا 
میں اوس قطروں کے آئنوں میں تمہیں ملوں گا 
اگر ستاروں میں،اوس قطروں میں، خوشبوؤں میں نہ پاؤ مجھ کو 
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا 
میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا 
کہیں پہ روشن چراغ دیکھوں تو جان لینا 
کہ ہر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ہوں 
تم اپنے ہاتھوں سے اُن پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا 
میں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا 
کسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہ رُک کے تم کو صدائیں دوں گا 
سمندروں کے سفر پہ نکلو تو اُس جزیرے پہ بھی اُترنا

Monday, 17 February 2014

Shama-E-Ghazal Ki Lao Ban Jaye Aisa Misra Ho To Kaho شمعِ غزل کی لَو بن جائے‘ ایسا مصرعہ ہو تو کہو

شمعِ غزل کی لَو بن جائے‘ ایسا مصرعہ ہو تو کہو
!اِک اِک حرف میں سوچ کی خوشبو‘ دل کا اُجالا ہو تو کہو

رازِ محبت کہنے والے لوگ تو لاکھوں ملتے ہیں
!رازِ محبت رکھنے والا‘ ہم سا دیکھا ہو تو کہو

کون گواہی دے گا اُٹھ کر جھوٹوں کی اس بستی میں
!سچ کی قیمت دے سکنے کا تم میں یارا ہو تو کہو

ویسے تو ہر شخص کے دل میں ایک کہانی ہوتی ہے
!ہجر کا لاوا‘ غم کا سلیقہ‘ درد کا لہجہ ہو تو کہو

امجد صاحب آپ نے بھی تو دُنیا گھوم کے دیکھی ہے
!ایسی آنکھیں ہیں تو بتاﺅ! ایسا چہرا ہو تو کہو

Shama-E-Ghazal Ki Lao Ban Jaye Aisa Misra Ho To Kaho,
Ek Ek Harf Mein Soch Ki Khushbo Dil Ka Ujala Ho To Kaho,

Raz-E-Mohabbat Kehne Wale Log To Lakhon Milte Hain,
Raz-E-Mohabbat Rakhne Wala Hum Sa Dekha Ho To Kaho,

Kon Gawahi De Ga Uth Kar Jhooton Ki Is Basti Mein,
Sach Ki Qeemat De Sakne Ka Tum Mein Yara Ho To Kaho,

Waise To Har Shakhs K Dil Mein Aik Kahani Hoti Hai,
HIJAR Ka Lawa Gham Ka Saleeqa Dard Ka Lehja Ho To Kaho,

AMJID Sahib Aap Ne Bhi To Dunia Ghoom K Dekhi Hai,
Aisi Aankhein Hain To Batao Aisa Chehra Ho To Kaho...................!

Thursday, 6 February 2014

Pair Ko Deemak Lag Jaye Ya Aadam Zaad Ko Gham

Pair Ko Deemak Lag Jaye Ya Aadam Zaad Ko Gham,

Dono Hi Ko Amjid Hum Ne Bachte Dekha Kam,

Tareeki K Hath Pe Baiat Karne Walon Ka,

Soraj Ki Bas Aik Kiran Se Ghutt Jata Hai Dam,

Rango Ko Kalion Mein Jeena Kon Sekhata Hai,

Shabnam Kaise Rukna Seekhi Titli Kaise Ram,

Aankhon Mein Ye Palne Wale Khawab Na Bujhne Pain,

Dil K Chand Charagh Ki Dekho Lao Na Ho Madham,

Hans Parta Hai Bahut Ziada Gham Mein Bhi Insan,

Bahut Khushi Se Bhi To Aankhain Ho Jati Hain Nam ...

Saturday, 21 December 2013

Itnay khawab kahan rakhun ga....?

Itnay khawab kahan rakhun ga....?

Aankhon kay bazaar main tu

ab till dharnay ki jaga nahe hay...

Main itnay khawb kahan rakhun ga....?

Palkon ki chahat pe kharay hain...

Bantay mit'tay 

Kiya kiya manzar...

Kitni ummeedon kay chehray...!

Kitnay imkaanon kay paikar...!

Hathon mein phoolon kay gajray...

Pairon main khushbu ki jhanjar...

Lafzon kay raishon main 

Uljhay qos-e-qaza se wadday hain kuch....

Jin ki lakhon girhen teri ik

Nazar se khul jati hain...

Aur qatarain baandh kay ati

Kuch yaadain hain...

Jinki gard main 

Lipti raahen aik

Khabar se dhul

Jate hain...

Jeevan aik tarazu jis kay ik 

Palray main 

Teray wasl ka

Khawb rakhain tu

Duniya bhar ki 

Khushian tull jati hain......!!!!

Wednesday, 11 December 2013

Mohabbat aur zid mein than gai hai محبت اور ضد میں ٹھن گئی ہے

محبت اور ضد میں ٹھن گئی ہے

مقابل اک جہاں ہے اور میں ہوں

Mohabbat aur zid mein than gai hai

Muqabil ek jahan hai aur mein hon

Yeh Dasht-e-Hijr,Ye Wehshat,Ye Sham Ke Saey یہ دشتِ ہجر، یہ وحشت، یہ شام کے سائے

یہ دشتِ ہجر، یہ وحشت، یہ شام کے سائے
خدا یہ وقت تری آنکھ کو نہ دِکھلائے

اُسی کے نام سے لفظوں میں چاند اُترے ہیں
وہ ایک شخص کہ دیکھوں تو آنکھ بھر آئے

جو کھو چکے ہیں اُنہیں ڈھونڈنا تو ممکن ہے
جو جا چکے ہیں اُنہیں کوئی کس طرح لائے!

کلی سے میں نے گلِ تر جسے بنایا تھا
رُتیں بدلتی ہیں کیسے، مجھے ہی سمجھائے

جو بے چراغ گھروں کو چراغ دیتا ہے
اُسے کہو کہ مِرے شہر کی طرف آئے

یہ اضطرابِ مسلسل عذاب ہے امجد
مِرا نہیں تو کسی اور ہی کا ہو جائے

Yeh Dasht-e-Hijr,Ye Wehshat,Ye Sham Ke Saey..
Khuda Ye Waqt Teri Aankh Ko Na Dikhlaye..

Usei Ke Naam Se Lafzon Me Chand Utre Hain..
Woh ek Shakhs Jo Dekhon To Aankh Bhar Aaey..

Jo koh Chukay Hain Unhe Dhondna To Mumkin He..
Jo Ja Chukay Hain Unhe Koi Kis Tarha Laey..


Kali Se Maine Jissey Gul Tar Jissey Banaya Tha
Ruttein Badalti Hain Kesy, Mujhey He Samjhaey..

Jo BayChiragh Gharon Ko Chiragh Deta He..
Usey Kaho Ke Mere Shehar Ki Tarf Aaey..

Yeh Izterab Musalsal Azaab He 'DOST'..
Wo Mera Nahi To Kisi Or Hi Ka Ho Jaey..

Friday, 9 August 2013

Wo Larki Wo Chanchal Albeli Larki

Wo Larki Wo Chanchal Albeli Larki,
Mari Nazmain Youn Parhti Hai Jaise,
In Nazmon Ka Mehvar Us Ki Apni Zat Nahi Hai,
Yani Itni Sundar Larki Aur Koi Bhi Ho Skti Hai,
Us Larki K Naam Se Jo Kuch Main Ne Apne Naam Likha Hai,
Us Se Hi Mansoob Howa,
Shaid Mera Veham Ho Lakin Main Ne Ye Mehsoos Kia Hai,
Jab Main Nazam Sunata Hon,
Wo Aankhain Churane Lagti Hai,
Mujh Se Nazrain Mil Jain To Wo Aankhain Sharmane Lagti Hai,
Kuch Lamhe Wo Chanchal Larki Gum Sum Ho Jati Hai,
Lakin Thori Der Mein Phir Se Pthar Ki Ho Jati Hai.........!

Monday, 8 April 2013

Mohabbat Ke Mosam

Mohabbat Ke Mosam

Zamaane Ke Sab Mosamon Se Niraaley

Bahar-O-Khizaan In Ki Sab Se Judaa

Alag In Ka Sookha, Alag Hai Ghataa

Mohabbat Ke Khitte Ki Aab-O-Hawa

Mawra, In Anasir Se Jo

Mosamon Ke Taghaiyur Ki Bunyaad Hain

Yeh Zaman-O-Makaan Ke Kam-O-Besh Se

Aese Aazad Hain

Jese Subh-E-Azal

Jese Shaam-E-Fanaa

Shab-O-Roz-E-Aalam Ke Ahkaam Ko

Yeh Mohabbat Ke Mosam Nahi Maante!

Zindagi Ki Musafat Ke Anjaam Ko

Yeh Mohabbat Ke Mosam Nahi Maante!

Rifaaqat Ki Khushboo Se Khali Ho Jo

Yeh Koi Aesa Manzar Nahi Dekhte,

Wafa Ke Alawa Kisi Kaam Ko

Yeh Mohabbat Ke Mosam Nahi Maante!

 

(Amjad Islam Amjad)

 

Mohabbat aisa dariya hai

Mohabbat Aesa Dariya Hai

Ke Barish Rooth Bhi Jaye

To Paani Kam Nahi Hota

 

(Amjad Islam Amjad)