affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Ahmed Faraz
Showing posts with label Ahmed Faraz. Show all posts
Showing posts with label Ahmed Faraz. Show all posts

Thursday, 4 August 2016

Chalta tha kabhi mera hath tham key jis par

چلتا تھا کبھی ہاتھ میرا تھام کے جس پر
کرتا ہے بہت یاد وہ رستہ اسے کہنا


امید نہ رکھے وہ کسی اور سے فراز
ہر شخص محبت میں نہیں " ہم " سا اسے کہنا

Wednesday, 3 August 2016

Itny tu wo bhi khafa nahi thy


اتنے بھی تو وہ خفا نہیں تھے


جیسے کبھی آشنا نہیں تھے


مانا کہ ہم کہاں تھے ایسے


پر یوں بھی جدا جدا نہیں تھے


تھی جتنی بساط،کی پرستش


تم بھی تو کوئی خدا نہیں تھے


حد ہوتی ہے طنز کی بھی آخر


ہم ترے نہیں تھے، جا نہیں تھے


کس کس سے نباہتے رفاقت


ہم لوگ کہ بے وفا نہیں تھے


رخصت ہوا، وہ تو میں نے دیکھا


پھول اتنے بھی خوشنما نہیں تھے


تھے یوں تو ہم اس کی انجمن میں


کوئی ہمیں دیکھتا، نہیں تھے


جب اس کو تھا مان خود پہ کیا کیا


تب ہم بھی فرازؔ کیا نہیں تھے


احمد فرازؔ


Wednesday, 22 June 2016

عکس


دیده و دل میں , تیرے عکس کی تشکیل سے ھم

دُھول سے پُھول ھُوئے ، رنگ سے تصویر ھُوئے

 

احمد فرّاز

Saturday, 11 June 2016

خود سے روٹھوں تو کئی روز نہ خود سے بولوں

خود سے روٹھوں تو کئی روز نہ خود سے بولوں
پھر کسی درد کی دیوار سے لگ کر رو لوں

 

تو سمندر ہے تو پھر اپنی سخاوت بھی دکھا
کیا ضروری ہے کہ میں پیاس کا دامن کھولوں

 

میں کہ اک صبر کا صحرا نظر آتا ہوں تجھے
تُو جو چاہے تو ترے واسطے دریا رو لوں

 

اور معیار رفاقت کے ہیں ایسا بھی نہیں
جو محبت سے ملے ساتھ اسی کے ہولوں

 

خود کو عمروں سے مقفل کئے بیٹھا ہوں فراز
وہ کبھی آئے تو خلوت کدۂ جاں کھولوں

Saturday, 28 May 2016

اِس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری


اِس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری
وہ قیامت ہی غنیمت تھی جو یکجا گزری

آ گلے تجھ کو لگا لوں میرے پیارے دشمن
اک مری بات نہیں تجھ پہ بھی کیا کیا گزری

میں تو صحرا کی تپش، تشنہ لبی بھول گیا
جو مرے ہم نفسوں پر لب ِدریا گزری

آج کیا دیکھ کے بھر آئی ہیں تیری آنکھیں
ہم پہ اے دوست یہ ساعت تو ہمیشہ گزری

میری تنہا سفری میرا مقدر تھی فراز
ورنہ اس شہر ِتمنا سے تو دنیا گزری

Wednesday, 25 May 2016

نظر کی دھوپ میں سائے گھلے ہیں شب کی طرح

نظر کی دھوپ میں سائے گھلے ہیں شب کی طرح

میں کب اداس نہیں تھا مگر نہ اب کی طرح


پھر آج شہرِ تمنا کی رہگزاروں سے

گز ر رہے ہیں کئی لوگ روز و شب کی طرح


تجھے تو میں نے بڑی آرزو سے چاہا تھا

یہ کیا کہ چھوڑ چلا تو بھی اور سب کی طرح ؟


فسردگی ہے مگر وجہِ غم نہیں معلوم

کہ دل پہ بھی بوجھ سا ہے رنجِ بے سبب کی طرح


کِھلے تو اب کے بھی گلشن میں پھول ہیں لیکن

نہ میرے زخم کی صورت نہ تیرے لب کی طرح


احمد فراز

Tuesday, 24 May 2016

اپنا حصہ شمار کرتا تھا

اپنا حصہ شمار کرتا تھا
مجھ سے اتنا وہ پیار کرتا تھا


وہ بناتا تھا میری تصویریں
ان سے باتیں ہزار کرتا تھا


میرا دکھ بھی خلوص نیت سے
اپنا دکھ ہی شمار کرتا تھا


سچ سمجھتا تھا جھوٹ بھی میرا
یوں میرا اعتبار کرتا تھا


پہلے رکھتا تھا پھول رستے میں
پھر میرا انتظار کرتا تھا


آج پہلو میں وہ نہیں فراز
جو مجھ پہ جان نثار کرتا تھا

Tuesday, 17 May 2016

دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے

دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے

تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے

 

اب کے جانے کا نہیں موسمِ گر یہ شاید

مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے

 

عشق عمروں کی مسافت ہے کسے کیا معلوم؟

کب تلک ہم سفری ہم قدمی رہتی ہے

 

کچھ جزیروں میں کبھی کھلتے نہیں چاہت کے گلاب

کچھ جزیروں پہ سدا دھند جمی رہتی ہے

 

تم بھی پاگل ہو کہ اُس شخص پہ مرتے ہو فراز

ایک دنیا کی نظر جس پہ جمی رہتی ہے

 

احمد فراز

Wednesday, 27 April 2016

وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا

وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا
اب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھا

 

 اترا ہے رگ و پے میں تو دل کٹ سا گیا ہے
یہ زہرِ جدائی کہ گوارا بھی کبھی تھا

 

ہر دوست جہاں ابرِ گریزاں کی طرح ہے
یہ شہر کبھی شہر ہمارا بھی کبھی تھا

 

تتلی کے تعاقب میں کوئی پھول سا بچہ
ایسا ہی کوئی خواب ہمارا بھی کبھی تھا

 

اب اگلے زمانے کے ملیں لوگ تو پوچھیں
جو حال ہمارا ہے تمہارا بھی کبھی تھا

 

ہر بزم میں ہم نے اسے افسردہ ہی دیکھا
کہتے ہیں فرازؔ انجمن آرا بھی کبھی تھا

 

احمد فرازؔ

Saturday, 23 April 2016

اور بھی دکھ تھے

مجھے تیرے درد کے علاوہ بھی.

اور بھی دکھ تھے یہ مانتا ہوں.

ہزار غم تھے جو زندگی کی .

تلاش میں تھے یہ جانتا ہوں .

مجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میں.

درد کی ریت چھانتا ہوں .

مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر.

یہ ریت رنگ حنا بنی ہے.

یہ زخم گلزار بن گئے ہیں .

یہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہے.

یہ درد موج صبا ہوا ہے .

یہ آگ دل کی سادہ بنی ہے .

اور اب یہ سری متاع ہستی .

یہ پھول یہ زخم سب تیرے ہیں

یہ دکھ کے نوحے ،یہ سنک کے نغمے .

جو کل مرے تھے اب وو تیرے ہیں .

جو تیری قربت تیری جدائی .

میں کٹ گئے روز و شب کی طرح ہیں .

وہ تیرا شاعر تیرا مغنی .

وو جس کی باتیں عجب سی تھیں .

وہ جس کے انداز خسروانہ تھے .

اور ادیں غریب سی تھیں.

وہ جس کی جینے کی خواہشیں بھی .

خود اس کے نصیب سے تھیں.

نہ پوچھ اس کا کہ وہ دیوانہ .

بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے.

وہ کوہکن تو نہیں تھا لیکن.

کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے .

وہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہ .

اس کے سینے میں گر چکا ہے .


احمد فراز

Thursday, 31 March 2016

تمام عمر اسی کے رہے یہ کیا کم ہے



تمام عمر اسی کے رہے یہ کیا کم ہے
بلا سے عشق حقیقی نہ تھا مجازی تھا

نہ دوست یار، نہ ناصح، نہ نامہ بر، نہ رقیب
بلا کشان ِمحبّت سے کون راضی تھا


یہ گل شدہ سی جو شمعیں دکھائی دیتی ہیں
ہنر ان آنکھوں کا آگے ستارہ سازی تھا


احمد فراز

Monday, 28 March 2016

جب تیرا درد میرے ساتھ وفا کرتا ہے

  
جب تیرا درد میرے ساتھ وفا کرتا ہے
ایک سمندر میری آنکھوں سے بہا کرتا ہے

اس کی باتیں مجھے خوشبو کی طرح لگتی ہیں
پھول جیسے کوئی صحرا میں کھلا کرتا ہے

میرے دوست کی پہچان یہی کافی ہے
وہ ہر شخص کو دانستہ خفا کرتا ہے

اور تو سبب اس کی محبت کا نہیں
بات اتنی ہے وہ مجھ سے جفا کرتا ہے 
 
جب خزاں آئی تو لوٹ آئے گا وہ بھی فراز 
 وہ بہاروں میں ذرا کم ہی ملا کرتا ہے

Saturday, 19 March 2016

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮔﻠﮧ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ



زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
توبہت دیرسے ملا ہے مجھے

تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے

دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے

ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں
اِک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فراز
سب میں اِک شخص ہی ملا ہے مجھے

Sunday, 25 October 2015

سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے

عشق 
سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
 جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے
 ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن 
مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے
 دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
 جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے
 یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
 میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے

Saturday, 9 May 2015

Ye Muhabbat Bhi Kya Roag Hai Faraz


Ye Muhabbat Bhi Kya Roag Hai Faraz

Jisko Bholen Wo Sda Yaad Aaey 

 یہ محبت بھی کیا روگ ہے فراز
جسکو بھولیں وہ سدا یاد آئے

Friday, 8 May 2015

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا


برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا 

اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا 
ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی 
باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا 
الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے 
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا 
خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی 
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا 
پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں 
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا 
اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں 
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا 
کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے 
کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا 
پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے 
پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا 
اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی 
بن جائے گا قيامت اک واقعہ  ذرا سا 
تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے 
وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا 
ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت 
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا 
ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا 
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا




Wednesday, 26 February 2014

Is se pehle ke bewafa ho jaeyn

Is se pehle ke bewafa ho jaeyn 
Kyon na aiy dost hum juda ha jayin 
Tu bhi heeray se ban gaya pathar 
Hum bhi kal jane kya se kya ho jayin 
Tu k yakta tha beshumar howa 
Hum bhi tootain to jabaja ho jayin 
Hum bhi majboriyoon ka uzer karin 
Phir kahin or mubtala ho jayin 
Hum agar manzilein na ban payin 
Manzilon tak ka rasta ho jayin 
Dair se sooch main hain parwane 
Raakh ho jayin, hawa ho jayin 
Ishq bhi khel hai naseebon ka 
Khak ho jayin, chemia ho jayin 
ab k agar tu mile to hum tujh se 
aise liptin teri quba ho jayin 
bandagi hum ne chor di hai FARAZ 
kya karien log jab khuda ho jayin