دل
ہوتا ہے کیوں ویراں جب یہ دوست بچھڑتے ہیں
تنہائی
کیوں ملتی ہے جب یہ دوست بچھڑتے ہیں
یادوں
کے تسلسل میں ماضی کی
ان
یادوں میں
مسکان
ہونٹوں پہ آتی ہے جب یہ دوست ملتے ہیں
سُنا
ہے بھول جاتے ہیں لوگ اپنے عزیزوں کو
جب
وہ زندگی کے میداں میں نئ راہوں پہ چلتے ہیں
میں
مر کر بھی نہ بھولوں گی اٌ ن حسیں گزرے لمحوں کو
میرے
دوست تو ہر دم میرے دل میں رہتے ہیں
بچھڑ
کر بھی نہ بچھڑیں گے ایسا یقین ہے مجھ کو
میرے
دوست میرے دل میں الگ ہی مقام رکھتے ہیں
از
قلم ـ
زہرا بتول
************
No comments:
Post a Comment