affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Saturday, 20 June 2026

Shahadat e Imam Hussain (A.S) kalam by Tasleem Shahzadi Naz

کلام گو:   تسلیم شہزادی نازؔ

کلام:  شہادتِ امام حسینؑ

 

مدینے کی گلیوں سے اک قافلہ روانہ ہوا،

حق کا عَلَم اُٹھائے حسینؑ کا گھرانہ ہوا،

نہ تخت کی طلب تھی، نہ دنیا کی آرزو،

بس دینِ مصطفیٰﷺ کی حفاظت کا جذبہ تھا روبرو،

 

جب ظلم کی ہوا نے یزیدیت کا روپ دھارا،

تو حق کے پاسبان نے انکار کا عَلَم اُبھارا،

کہا کہ سر تو جھک سکتا ہے ربِّ کریم کے آگے،

مگر باطل کے در پر یہ پیشانی نہیں جھکے گی،

 

مکہ سے کربلا تک سفر آزمائشوں کا تھا،

ہر قدم پہ صبر، ہر سانس میں ذکرِ خدا تھا،

ننھے بچے، جوان، بوڑھے، خواتینِ باوفا،

سب کے دلوں میں روشن تھا یقینِ ربِّ کبریا،

 

پھر کربلا کی ریت پہ خیمے سجا دیے گئے،

فرات کے کنارے بھی پانی کے راستے بند کیے گئے،

پیاس نے لب سکھا دیے، مگر حوصلے نہ ٹوٹے،

حق کے یہ قافلے کبھی باطل کے آگے نہ جھکے،

 

علی اکبرؑ کی جوانی نے وفا کا رنگ دکھایا،

قاسمؑ نے عشقِ حق میں اپنا لہو بہایا،

عباسؑ عَلمدار نے دریا تک رسائی چاہی،

مگر مشکیزے سمیت راہِ وفا میں جان لٹائی،

 

معصوم علی اصغرؑ نے بھی پیاس کی شدت سہی،

چھ ماہ کے تھے مگر آزمائش تھی بڑی سہی،

ظالم نے تیر چلا کر معصومیت کو زخمی کیا،

عرش بھی رو پڑا جب یہ دردناک منظر ہوا،

 

ایک ایک کر کے سارے ساتھی جدا ہوتے گئے،

صبر کے پھول مگر حسینؑ کے دل میں کھلتے گئے،

پھر وہ گھڑی بھی آئی جب تنہا امامؑ رہ گئے،

میدانِ کربلا میں حق کے چراغ رہ گئے،

 

سجدے میں سر جھکایا تو تاریخ جگمگا اٹھی،

خونِ حسینؑ سے دینِ محمّدﷺ کی شمع جل اُٹھی،

سر کٹ گیا مگر نہ کبھی حق کا پرچم جھک سکا،

باطل کا غرور آخرکار خاک میں مل چُکا،

 

آج بھی کربلا ہمیں یہی پیغام دیتی ہے،

حق کی خاطر قربانی ایمان کو جِلا دیتی ہے،

جو نامِ حسینؑ لیتا ہے، وہ یہ سبق پاتا ہے،

ظلم کے سامنے ڈٹ جانا ہی مومن کو بھاتا ہے،

 

سلام اُس شہنشاہِ وفا پر، سلام اُس قربانی پر،

سلام اُس صبر، اُس ایثار، اُس عظیم کہانی پر،

رہے گا نامِ حسینؑ تاابد دلوں میں روشن نازؔ،

کہ کربلا کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا.....!!!!!

*******************

Thursday, 18 June 2026

Zeest ki talkhi Poetry by Hina Masood

کچھ خاص تو ہے ان آنکھوں میں

کوئی بات تو ھے ان باتوں میں

 

ہجر سے مجھ کو پھر کیا غرض

وہ تو رہتے ہیں میری نگاہوں میں

 

ان زلفوں کی تاب کیوں کر لاۓ

یہ سیاہی جو ہے کالی راتوں میں

 

مسکراہٹ ہے ان کی گل جیسی

خوب ہے یہ لاکھوں نظام روں میں

 

بھڑ میں بھی وہ ھم کو مل جاتے ہیں

وہ تو چاند ہیں فلک کے ستاروں میں

لکھتے ہیں غزلیں ہم انھی کے لیے

تبھی تو نا م ہمارا ہے شاعروں میں

 

ختم شد

**************

زیست کی تلخی  سےقلب پکارے  یا خدا

صبرِ ایوب دے ، دے پھر مثل انعامِ ایوب

****

By hina masood

Ghazal by Zahra Batool

دل ہوتا ہے کیوں ویراں جب یہ دوست بچھڑتے ہیں

تنہائی کیوں ملتی ہے جب یہ دوست بچھڑتے ہیں

 

یادوں کے تسلسل میں ماضی کی

ان یادوں میں

مسکان ہونٹوں پہ آتی ہے جب یہ دوست ملتے ہیں

 

سُنا ہے بھول جاتے ہیں لوگ اپنے عزیزوں کو

جب وہ زندگی کے میداں میں نئ راہوں پہ چلتے ہیں

 

میں مر کر بھی نہ بھولوں گی اٌ ن حسیں گزرے لمحوں کو

میرے دوست تو ہر دم میرے دل میں رہتے ہیں

 

بچھڑ کر بھی نہ بچھڑیں گے ایسا یقین ہے مجھ کو

میرے دوست میرے دل میں الگ ہی مقام رکھتے ہیں

 

از قلم ـ زہرا بتول

************

Tuesday, 16 June 2026

Poetry by Sauleha Asif

۱-انکھیں تو برس پڑتی ہے ہر ایک بات پر

میں نے سیکھا ہے بچھڑے ہوؤں کو مسکرا کر یاد کرنا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٢-مجھ سے پوچھتے ہو قصے میری کامیابی کے

کیا تم نے دیکھا ہے کبھی کوئلے سے ہیرا بننا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٣-ہوئے تیری وجہ سے برباد جو ہم،

اپنی خاطر اباد بھی نہ ہو سکے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٤-فقط چاہا تھا  جسے دل سے ہم  نے

نہ کی خواہش کہ وہ مل جائے کبھی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٥-کچھ یوں ہیں نشاں تمہارے

دیکھ میری زندگانی پر

بدلہ زمانہ بدلے تم

بدلہ گر کوئی نہ بدلے ہم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تیرا ساتھ لگے کچھ نیا مجھ کو

اب تک جو پایا ہے جدا اس سے

نہیں وہ الفاظ پاس میرے

بتا پائیں جو اہمیت تیری

تیرا ساتھ لگے بہت اپنا مجھ کو

ہمراز تو وہ خواہش تھا میری

جو مانگی انجانے میں میں نے

ہیں تو دوست بہت میرے لیکن

تیرا ساتھ لگے دلکش افسانہ مجھ کو

Sauleha Asif

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Thursday, 4 June 2026

Amaal Ghazal by Tasleem Shahzadi Naz

اعمال

 

پُل صراط اک روز سبھی کو پار کرنا ہے

اعمال کے سہارے ہی اُس راہ سے گزرنا ہے

 

وہ پُل ہے باریک تلوار کی دھار سے بھی بڑھ کر

جہاں نہ مال چلے گا، نہ کوئی ساتھ لشکر

نہ دوست کام آئیں گے، نہ دنیا کی حکومت

وہاں فقط رہے گی بندۂ مومن کی عبادت

جس نے جھکایا سر رب کے حضور دنیا میں

اُسے ہی آسانی سے اُس پُل کے پار اُترنا ہے

 

پُل صراط اک روز سبھی کو پار کرنا ہے

اعمال کے سہارے ہی اُس راہ سے گزرنا ہے

 

کسی کے پاؤں بجلی کی طرح دوڑ جائیں گے

کسی کے جسم خوفِ گناہ سے کانپ جائیں گے

کسی کو نورِ ایماں روشنی دیتا رہے گا

کسی کو اپنے اعمال کا اندھیرا ڈستا رہے گا

وہ دن ہوگا حقیقت میں بہت ہی سخت بندے پر

جہاں ہر شخص نے اپنے عمل سے سنورنا ہے

 

پُل صراط اک روز سبھی کو پار کرنا ہے

اعمال کے سہارے ہی اُس راہ سے گزرنا ہے

 

نمازیں ساتھ ہوں گی تو سہارا مل ہی جائے گا

تلاوت کا دیا بھی روشنی دیتا ہی جائے گا

اگر ماں باپ کی خدمت دل سے کی ہوگی کبھی تُو نے

تو رب کا فضل بھی شامل تیرے ہر اک قدم میں ہو گا

مگر جو ظلم میں ڈوبا رہا دنیا کی خواہش میں

اُسے حسرت کے صحرا میں اکیلا ہی بکھرنا ہے

 

پُل صراط اک روز سبھی کو پار کرنا ہے

اعمال کے سہارے ہی اُس راہ سے گزرنا ہے

 

خدایا! ہم گنہگاروں پہ اپنا رحم فرما دے

نبیﷺ کے صدقے بخشش کی کوئی صورت عطا کر دے

ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیاں بڑھا دے تُو

ہمارے دل کو عشقِ مصطفیٰﷺ  سے پھر سجا دے تُو

نازؔ جب اُس پل پر کھڑے ہم لرزتے خوف کے مارے ہونگے

تو رب کے فضلِ کرم سے آقاﷺ  کے دامن میں ٹھہرنا ہے

 

پُل صراط اک روز سبھی کو پار کرنا ہے

اعمال کے سہارے ہی اُس راہ سے گزرنا ہے

 

(شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ)

****************

Mohabbat naam ha jis ka Ghazal by Tasleem Shahzadi Naz

*نظم:  محبت نام ہے جس کا*

 *شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ*

 

 

محبت نام ہے جس کا، وہ اک جادو کی بستی ہے

جہاں ہر شے سے بڑھ کر بس، کسی کی یاد بستی ہے

نہ پوچھو فلسفہ اس کا، نہ دیکھو تم کوئی منطق

یہ وہ سودا ہے جس میں ہر خسارے میں بھی مستی ہے

 

زمانے بھر کی دیواریں بھلے رستے میں حائل ہوں

نگاہیں منتظر ہوں اور قدم منزل کے سائل ہوں

مخالف رخ پہ چلتی ہوں اگرچہ وقت کی لہریں

مگر یہ دل وہ کشتی ہے کہ جس کے تم ہی ساحل ہو

 

عجب اصرار ہے اس کا، عجب ہے اس کی نادانی

نہ دیکھے مرتبے کوئی، نہ دیکھے حسنِ لافانی

جسے چاہا، اسے پوجا، اسے جاں کی جگہ بخشی

جہاں جذبے سچے ہوں، وہاں جھکتی ہے سلطانی

 

یہ سودا ہے جنوں والوں کا، دنیا سے الگ ہٹ کر

یہاں تو جیت ملتی ہے، خود اپنی ذات سے کٹ کر

بڑی گہرائی ہے اس میں، بڑی وسعت ہے الفت میں

ملے گی روشنی تم کو، اندھیروں سے جو ٹکرا کر

 

سنا ہے لوگ کہتے ہیں کہ دل کمزور ہوتا ہے

مگر جب ٹھان لے کچھ یہ، تو پھر یہ پُرزور ہوتا ہے

جسے یہ منتخب کر لے، اسے خوش بخت کر دے یہ

اسی کے نام کا پھر چار سو اک شور ہوتا ہے

 

وفا کے دشت میں چلنا کوئی آساں نہیں ہوتا

جہاں ہر موڑ پر بکھرا ہوا ارماں نہیں ہوتا

مگر ہمت وہی پائے جو منزل کو سمجھ لے اب

بغیرِ عشق بھی جینا، کوئی آساں نہیں ہوتا

 

 *نازؔ* اس بات پر اب تو ہمیں فخرِ محبت ہے

کسی کے واسطے جینا، خدا کی ایک نعمت ہے

جسے ہم نے چنا دل سے، وہی کل کائنات ہے اپنی

اسی کی یاد میں رہنا، ہمارے دل کی راحت ہے....!!!!

*****************

Eid al azha Poetry by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ

نظم:  عیدُالضحٰی مبارک

 

 

عیدِ قرباں کی یہ سجی ہوئی ساعتیں

خوشیوں کے رنگ، دعاؤں کی سوغاتیں

 

ماں باپ کے قدموں میں سکونِ جہاں ہو

اُن کی دعاؤں میں ہوں جنت کی برکتیں

 

بھائیوں کی ہنسی، بہن کی مسکان

گھر کی فضا میں ہو عید کی راحتیں

 

شوہر کے ساتھ وفا کا چراغ روشن

محبت میں لپٹی رہیں ساری ساعتیں

 

سہیلیوں کی محفل میں چہکاریں ہوں

دوستی میں مہکیں وفاؤں کی راحتیں

 

کزنز، رشتے داروں کا پیار سلامت رہے

رشتوں میں رہیں ہمیشہ نرمی کی عادتیں

 

کولیگز کے ساتھ بھی خوشیوں کا سفر ہو

کام کی تھکن میں ملیں کچھ راحتیں

 

اور اُمّتِ مُسلمہ کے ہر دل میں یاربِّ ذُوالجلال

امن و اخوّت کی برسیں رحمتیں اور برکتیں

 

قربانی کا جذبہ، ایثار کا پیغام

ہر دل میں جگائے نئی صداقتیں

 

یہ عیدِ مبارک سب کے نام ہو جائے نازؔ

اللّہ دے سب کو خوشیوں کی دولتیں...!!!

 

(سب کو عیدُالاضحیٰ مبارک)

****************