affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Thursday, 21 May 2026

Ghazals by Tasleem Shahzadi Naz

نظم:

  محرمِ جاں (نئی کیفیت)

شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ

 

محرمِ جاں وہ ہے...

جو دل کی دیوار پر دستک نہیں دیتا،

صرف قربت سے بتا دیتا ہے کہ وہ آ چکا ہے...

 

وہ جو تمہاری لہجے میں

اونچ نیچ نہ ڈھونڈے،

بس ایک خاموش لمس سے

تسلی رکھ دے کہ "میں ہوں، گھبرانا نہیں"...

 

محرمِ جاں وہ ہوتا ہے

جو تمہاری ہنسی کے پیچھے چھپے

بےآواز دکھوں کو بھی سن لیتا ہے...

 

وہ جو تمہاری نم پلکوں کو

کسی سوال کے بغیر

اپنی ہتھیلی میں چھپا لے...

 

وہ جو قدموں میں بکھرے

تمہارے ٹوٹے خوابوں کو

اٹھا کر آنکھوں میں بسا کر عزت دے،

اور پھر آہستہ سے کہے:

"چلو، ہم انہیں دوبارہ جوڑیں گے"...

 

محرمِ جاں وہ ہے

جس کے ساتھ چلتے ہوئے

فاصلوں کا حساب بدل جاتا ہے،

ایک ہاتھ پکڑنے سے

دنیا کے شہر چھوٹے پڑ جاتے ہیں...

 

وہ جو تمہارے دل کے راز

اپنی روح میں رکھ لے،

ایسے کہ تم بھی بھول جاؤ

کہ کبھی کچھ چھپا تھا...

 

محرمِ جاں وہ ہوتا ہے نازؔ…

جو صرف محبت نہیں دیتا

بلکہ

خود محبت بن جاتا ہے.....!!!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نظم: 

 محرمِ جاں

(میرے شوہر غلام قدیر کے نام)

شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ

 

محرمِ جاں…

وہ جو دل کی دراڑوں میں اتر کر

زخموں کو جانتا بھی ہے

اور چھپاتا بھی ہے...

وہ جسے نظر کے اشارے سے

دل کا بھید سمجھ آجائے،

جسے لفظوں کی گواہی درکار نہ ہو...

محرمِ جاں وہ ہے،

جو تھکن سے بوجھل پلکوں کو

اپنی دعا سے سہارا دے،

جس کی آہٹ سے روح میں چین اترے...

وہ جس کے سامنے

دل اپنا لباسِ ہچکچاہٹ اتار دے،

اور ننگے خوف بھی محفوظ رہیں...

محرمِ جاں…

وہ جو تمہاری خاموشیوں کو

اپنے سینے میں تھام لے،

اور ہر دکھ کو مسکراہٹ کی

نرم چادر اوڑھا دے...

وہ جو تمہیں تم سے زیادہ جان لے،

جس کے قریب آ کر

دل کا شور بھی عبادت بن جائے...

وہ جس کی محبت

لمحوں کی بھوک نہیں،

عمروں کی سچائی ہوتی ہے...

محرمِ جاں…

وہ جس کا ہاتھ چھوٹ جائے

تو دنیا رہتی ہے،

مگر زندگی نہیں رہتی...

اور اگر ایسا کوئی مل جائے نازؔ ،

تو سمجھ لو رب نے تمہیں

بہترین نعمت سے نواز دیا ہے...!!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

شاعرہ: 

تسلیم شہزادی نازؔ

نظم:

 قُربتِ لمس

 

قُربتِ لمس… یہ کوئی لمحہ نہیں، ایک کائنات ہے.

جہاں لفظوں کی ضرورت نہیں پڑتی،

جہاں سانسیں ہی بات کرتی ہیں،

جہاں خاموشی بھی دھڑکنوں کی زبان سمجھتی ہے...

 

جب تم نے پہلی بار میرا ہاتھ تھاما تھا،

میرے اندر کوئی گہرا سمندر جاگ اٹھا تھا،

جیسے لہریں دل کے کناروں کو چومتی چلی جائیں...

 

تُمہارے چھو لینے سے

میری جِلد پر نہیں،

میری رُوح پر نقش بن گئے تھے...

 

قُربتِ لمس نے وہ سب کہہ دیا

جو میں برسوں سے کہنا چاہتی تھی

مگر ہمت نہ کر پائی تھی...

 

تمہارے ہاتھ کی حرارت

میرے تنہا موسموں کو

اک خوبصورت بہار کا تحفہ دے گئی...

 

تمہارے بازوؤں کی پناہ میں

دنیا چھوٹی لگنے لگی،

اور وقت رک سا گیا

جیسے لمحہ خود میری مرضی کا ہو گیا ہو...

 

قُربتِ لمس نے میری سانسوں میں

پھول کھلا دیے،

میرے لفظوں میں شبنم بھر دی،

میری سوچوں میں نرمی اُتار دی...

 

جب تم قریب ہوتے ہو

تو فاصلوں کی دنیا مر جاتی ہے،

صرف تم رہتے ہو

اور میری دھڑکن...

 

قُربتِ لمس…

یہ وہ مقام ہے

جہاں دو وجود نہیں رہتے

بلکہ

دو روحیں ایک دوسرے میں سمٹ جاتی ہیں...

 

بس ایک لمس نازؔ…

اور دل پوری کہانی لکھ دیتا ہے.....!!!!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شاعرہ:

 تسلیم شہزادی نازؔ

نظم:  ہم ساتھ ہوتے اگر

 

 

ہم ساتھ ہوتے اگر

تو شامیں یوں اداس نہ ہوتیں

ہوا بھی تیرے نام کی خوشبو لیے پھرتی

اور چاند رات بھر

ہماری باتیں سنتا رہتا...

 

ہم ساتھ ہوتے اگر

تو بارشیں فقط پانی نہ ہوتیں

ہر بوند میں ایک خواب اترتا

ہر راستہ محبت سے بھر جاتا

اور دل کو کسی دعا کی کمی نہ رہتی...

 

ہم ساتھ ہوتے اگر

تو میں تیرے دکھ اپنی ہنسی میں چھپا لیتی

تو میری خاموشی کو بھی پڑھ لیتا

ہم دونوں لفظوں سے نہیں

احساس سے بات کیا کرتے...

 

ہم ساتھ ہوتے اگر

تو وقت بھی ٹھہرنے کی ضد کرتا

دن تیرے لمس کی روشنی میں گزرتے

رات تیری یاد میں نہیں

بلکہ

تیری موجودگی میں ڈھلتی...

 

اے نازؔ! ہم ساتھ ہوتے اگر

تو شاید دنیا ویسی نہ رہتی

ایک چھوٹا سا گھر ہوتا

چند خواب ہوتے

اور ان خوابوں میں

صرف تم اور میں ہوتے.....!!!!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Monday, 11 May 2026

Teri deed by mano

تا حشر تیری دید کو ترسیں گی میری آنکھیں  
تجھ سے بچھڑنا تو میرے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا 
Mano

Saturday, 9 May 2026

Heer de bhuliky Ghazal by Rimsha Sabir

غزل:

ہیر دے بھلیکے

وے میں خود نوں، تیرے عشق وچ بھلی پا بیٹھی

جاگدے، سوندے تیرے عشق دا سحر سجا بیٹھی

 

وے کملیا میں تیرے لئ ساری دنیا نال لڑ لیساں

میں تیرے واسطے حریفاں نال وی دشمنی پال بیٹھی

 

تو ساڈے جذبات دی قدر کر، نہ کر

کہ اک ہیر تیرے نال جیون دے خواب سجا بیٹھی

 

تو ساڈے پیار نوں انج پیراں وچ رول تا نہ سہی

کہ زلیخہ اپنے یوسف لئ سب بھلا بیٹھی

 

میں مندی ہاں اے ملنا، وچھڑناں تاں قسمت دے چکر نے

فر ،وی میں دنیا دی نظراں تو تیرے لئی خود نوبچا بیٹھی

 

جے تو ناں مليا تاں فر، وی تیری بن کے راساں

دنیا وی یاد کریسی اک ہیر رانجھے لئی خلقت توں پرے جا بیٹھی

 

اے یاد رکھیں رامش، که تینوں سجد یاں وچ رورو منگساں

ہائےۓ کہ اک بے نمازی تیرے لئی سجد یاں وچ رورو رب نوں پا بیٹھی

رمشا صابر....

*****************

Friday, 8 May 2026

Poetry by Rimsha Sabir

غزل:

 انا کے مریض

---

 

*وہ اپنی انا کے مریض تھے،  ہم اپنی انا کے*

 

*اگر اسی انا میں ہم مارے گئے، تو کیا کرو گے*

 

*کوئی پوچھے ہم سے کہ کیا کرتے ہو، اس سے محبت*

 

*ہم اگر اسی سے ہی قلم ہوگئے تو کیا کرو گے

*

*ہم کیوں مانگیں محبت کی بھیک تم سے

*

*اگر تم نے ہی توڑ دیا قاصہ عشق تو کیا کرو گے*

 

*تم جو ہماری مسکراہٹ پر ہی الجھ بیٹھے ہو*

 

*ہماری آنکھیں اگر ہو جائیں اشک بار تو کیا کرو گے

*

*اس مطلب کی دنیا میں یار*

*ہم کسی بھیڑ میں کھو گئے تو کیا کرو گے*

 

*دیکھ لو، پھر کہہ رہے ہیں نہیں ملیں گے*

 

*اگر ہم  دنیا سے ہی رخصت ہو گئے تو کیا کرو گے*

 

*پھر مت بنانا آنسو میری قبر پر

*

*تجھے خود سے قریب آنے ہی نہ دیا تو کیا کرو گے*

 

*زندگی ایک باری ملتی ہے کر لو قدر*

 

*پھر ہم نے ہی اگر کی بے قدری تو کیا کرو گے*

-

رمشا صابر

٭٭٭٭٭٭٭٭

غزل:

رخ یار کے واسطے

---

 

*اس دلنشیں کے تبسم کے واسطے میں خود کو ہار دوں*

 

*ان آنکھوں کے ذریعے اپنا پیام دوں

*

*اس کی آنکھوں کی جھلملاہٹ، جیسے سبزے پہ شبنم

*

*اس کے مغرور  پن کو آخر میں کیا نام دوں

*

* پس پردہ اس کے آنچل کا لہرانا

* *

*ان زلفوں کے واسطے میں اپنی عمریں وار دوں

*

*لب یا راں کی نزاکت، جیسے گلاب کی پتیاں

*

*دل چاہتا ہے اسے ع - ش - ق سے آشنا کرا دوں

*

*وہ میری چاہت کے چ سے بھی کہاں واقف ہے

*

*اسے نام سے پکاروں یا اپنے دل کا نام دوں

*

*کہیں وہ میرے رخ قلب کی کرچیاں ہی نہ دے

*

*ارے کوئی تو بتا دے کیسے اس کی ناکو ہاں میں بدل دوں

 

رمشا صابر

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭