affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Thursday, 5 March 2026

Mrs Arsalan ke naam salgirah ke din nazam by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

نظم: مسز ارسلان کے نام, سالگرہ کی دن🎂🎉🎂

 

آج کا دن ہے روشن، خوشیوں کا جہاں,

مسز ارسلان کی سالگرہ کا ہے سماں,

ہر لمحہ آپ کی زندگی میں ہو خوشی کا نشاں,

ہر دن آپ کے لیے لائے پیار، سکون اور بہار کا سماں...

 

آپ کی مسکراہٹ میں چھپی ہے روشنی کی کہانی,

آپ کی ہر بات میں ہے محبت کی جانانی,

اللہ کرے آپ کی زندگی ہو خوشیوں کی رانی,

ہر دن آپ کے لیے ہو کامیابی اور کامیابی کی کہانی...

 

آپ کی ہر ادا میں ہے حسنِ جادوٸی,

ہر قدم پر برکتیں ہوں، ہر خواب ہو سچ کا تمناٸی،

اللہ کرے آپ کی عمر ہو لمبی اور خوشیوں کی رونماٸی،

ہر دن آپ کے لیے ہو خوشی، امن اور محبتِ جادوٸی...

 

آپ کی زندگی میں ہمیشہ رہیں خوشبوؤں کے میلے,

ہر لمحہ ہی آپکا کامیابی کے کھیل کھیلے,

اللہ کرے آپ کی دعاؤں میں شامل ہوں سب سچے جھمیلے,

ہر دن آپ کا خوشی اور ہر رات آپ کے گرد ہوں سکون کے  ریلے...

 

سالگرہ کے اس پیارے دن پر کریں ہم دعا,

اللہ آپ کی زندگی کو بنائے ہمیشہ روشن اور وفا,

ہر خواب سچّا ہو، ہر لمحہ ہو خوشیوں بھرا نازؔ,

مسز ارسلان! آپ کو سالگرہ کی بہت بہت مبارک ہو سدا.....!!!!!!

🎂💖🎂💖🎂

٭٭*******٭٭

Rah e gunah se rah e islam tak Nazam by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

(نظم: راہِ گناہ سے راہِ اسلام تک)

 

میں بھٹکتی ہوئی راہوں کا مسافر تھا کبھی،

نفس کے شور میں ڈوبا ہوا اک گھر تھا کبھی،

چمکتی خواہشوں کے جال میں اُلجھا ہوا دل،

اپنی ہی ذات کے اندھیرے میں بے خبر تھا کبھی...

 

خطاؤں کی دُھند نے آنکھوں کو ڈھانپ رکھا تھا،

ہر اک گناہ نے سینے میں زخمِ خنجر گھونپ رکھا تھا،

ضمیر چیختا اور سسکتا رہتا تھا رات کی تنہائی میں،

مگر میں نے اسے گناہوں کی دھن میں خاموش ہی کر رکھا تھا...

 

یہ دنیا خواب کی صورت لبھاتی رہتی تھی،

ہواۓ نفس مجھے روز بہکاتی رہتی تھی،

میں وقت کے دریا میں بہتا ہی چلا جاتا،

کوئی صدا تھی جو اندر سے بلاتی رہتی تھی...

 

پھر ایک رات دل پہ عجب کیفیت اُتری،

نگاہِ شوق سے آنسو کی ایک بوند بکھری،

میں سجدے میں گرا تو یوں لگا مجھ کو،

کہ رحمتوں کی گھٹا چار سو سے آن اُتری...

 

میں نے کہا:

"اے ربِّ کریم! میں خطاکار سہی،

تیری دہلیز پہ آیا ہوں گنہگار سہی،

تو غفور ہے، تو رحیم ہے، تو ستّار ہے،

میرے دامن میں گناہوں کا انبار سہی"

 

وہ لمحہ میری حیاتِ نو کا آغاز بنا،

دلِ شکستہ ہی میرا اصل اعزاز بنا،

جو آنسو بہہ گئے توبہ کی ساعتوں میں،

وہی تو میری نجاتوں کا راز بنا...

 

نماز نے دل کو سکونِ جاوداں بخشا،

قُرآنِ پاک نے روح کو نیا آسماں بخشا،

درود کی خوشبو سے مہکا میرا ہر ایک دن،

یقین نے مجھ کو عجب سکون و اطمینان بخشا...

 

میں نے اب حجابِ حیا کا وقار پہچان لیا،

نبیﷺ کی سنتوں کو اپنا شعار مان لیا،

جو راستہ تھا کبھی مجھ کو تنگ سا لگتا،

اسی کو اب میں نے راہِ بہار جان لیا...

 

اب گناہوں کی وہ محفل نہیں لبھاتی مجھے،

نہ نفس کی کوئی سازش ہی بہکاتی مجھے،

ہر ایک قدم پہ ہے رب کی عطا کا سایہ اب،

یہی حقیقت زندگی کا اصل سکھاتی مجھے...

 

میں گِر بھی جاؤں تو مایوس اب نہیں ہوتا،

کہ اب میرا ربِّ کریم کبھی ناراض نہیں ہوتا،

وہ توبہ و استغفار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے،

یہ جانا تو میرا دل بےقرار و بےاطمینان نہیں ہوتا...

 

اندھیری رات سے اُجلی سحر کا رشتہ ہے،

گناہگار کے دل میں بھی نور کا رستہ ہے،

جو لوٹ آئے سچے دل سے اپنے رب کی طرف،

اسی کے واسطے جنت کا ہر در کھلا ہے...

 

یہ سفر ختم نہیں، یہ تو ابتدا ہے ابھی،

ہر اک قدم پہ میری آزمائش کھڑی ہے ابھی،

مگر یقین ہے مجھ کو کرم پہ اُس کے،

کہ ساتھ میرے وہی ہے، جو تھا، جو ہے ابھی...

 

اے راہِ حق کے مسافر! تُو ہار مت جانا،

کسی گناہ کے ہاتھوں تُو خود کو مت ہارنا،

وہ رب قریب ہے، بس اک صدا کی دیر ہے یہ،

تُو لوٹ آ، تُو سنور جا، تُو دیر مت کرنا...

 

گناہ سے توبہ تک، توبہ سے عشق تک کا سفر،

یہی ہے اصل میں انسان کی قدر کا سفر،

جو راہِ اسلام پہ چل پڑا اخلاص کے ساتھ نازؔ،

وہی ہے کامیابی، وہی ہے فخر کا سفر...

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Naat by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

 

ارسلان و رضوان گئے ہیں مدینے کی گلیوں میں آج

ان کی قسمت پہ رشک آئے کہ پہنچے درِ رسولﷺ پہ آج

 

روزۂ اقدس پہ کھڑے ہوں گے ادب سے سر جھکائے

لب پہ درود ہوگا، آنکھوں میں عقیدت کے سائے

 

نصیب والے ہیں کہ پہنچے حبیبِ کبریاﷺ کے در پر

ملتا ہے سکونِ دل فقط احمدِ مجتبیٰﷺ کے در پر

 

میرا بھی سلام عرض کرنا سرکارِ دو جہاںﷺ کو

کہنا شفا عطا کریں اپنے اس ادنٰی سے غلام کو

 

اللہ کرے اُن کی یہ حاضری قبول ہو جائے

دامن میں رحمتِ مصطفیٰﷺ کی خوشبو بھر جائے

 

ارسلان و رضوان پہ سدا رحمتوں کا سایہ رہے

دل میں نبیﷺ کی محبت کا چراغ ہمیشہ جلے

 

نازؔ دعاگو ہے رہے ان کی یہ نسبت ہمیشہ قائم

مدینے کی یادوں سے روشن رہے ان کا دل دائم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Tuesday, 3 March 2026

Rizwan Raju ke naam Ghazal by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

دعائیہ غزل: رضوان راجو کے نام

 

 

رب کرے ہر قدم ہو تیرا کامیابِ سنہرا

رضوان بھاٸی! تیرے نصیب کا چمکے سہرا

 

دیارِ غیر میں بھی تُو رہے محفوظ و مطمئن

تیری ہر سانس پہ ہو لطفِ خدا کا پہرہ

 

میرا رب تیرے رزق میں وسعتیں، قسمت میں اجالا لکھ دے

تیری محنت کا صلہ ملے تجھے تیری محنت سے بڑھ کر بہتر

 

کوئی دکھ تیرے قریب آنے نہ پائے ہرگز

تیرے آنگن میں سدا خوشیوں کا ہو پہرا

 

ماں کی دعاؤں کا سایہ رہے تیرے سر پر قائم

ہر بلا ٹلتی رہے اور دور رہے ہر اندھیرا

 

تیرا کردار ہو خوشبو کی طرح پھیلا ہوا

لوگ نام لیں عزت سے ہمیشہ تمہارا

 

سجدوں کی روشنی چمکے تیری پیشانی پر

تیرا دل ذکرِ الٰہی سے رہے ہمیشہ ہی نکھرا

 

تنہائیاں بھی تجھے ہمت کا سبق دے جائیں

تیرا حوصلہ بنے ہر غم سے بھی گہرا

 

جب بھی لوٹے تو تیرے ہاتھ ہوں کامیابی سے بھرے

تیری ہر ہار بھی بنے جیت کا چمکتا چہرہ

 

رب کرے نازؔ کی ہر اک دعا قبول ہو جائے

میرے بھائی کا مقدر ہو ستاروں سے بھی سنہرا

 

(آمین آمین آمین آمین آمین)

**************

Arslan shani ke naam Ghazal by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

دعائیہ غزل: ارسلان شانی کے نام

 

 

رب کرے تیرا ہر اک خواب و خیال حقیقت ہو جائے

اے میرے بھاٸی ارسلان! تیری دنیا بھی جنت ہو جائے

 

تو رہے دیسِ حرم میں بھی امانوں کے حصار میں

تیری ہر سانس پہ رحمتِ ربّی کی عنایت ہو جائے

 

رزق میں برکتیں، محنت میں ثمر ملتا رہے

تیری کوشش تیری تقدیر کی زینت ہو جائے

 

غم کی پرچھائیں کبھی پاس نہ آنے پائے

تیری ہر صبح نئی خوشیوں کی دعوت ہو جائے

 

ماں کی دعاؤں کا سایہ تیرے سر پر یوں رہے

کہ ہر بلا ٹلتی رہے، ہر گھڑی راحت ہو جائے

 

تیری پیشانی پہ سجدوں کا نور سجا رہے

تیرا کردار ہی تیری پہچانِ دیانت ہو جائے

 

سعودی سرزمین پہ بھی تو سلامت ہی رہے

تیری تنہائی بھی یادوں کی رفاقت ہو جائے

 

دوست مخلص ملیں، دشمن بھی دعاگو ٹھہریں

تیری نیکی ہی تیری پہچان کی شہرت ہو جائے

 

گھر کی دہلیز پہ جب لوٹے تو سرخرو لوٹے

تیری ہر ہار بھی اک جیت کی صورت ہو جائے

 

رب کرے نازؔ کی ہر ایک دعا رنگ لائے

میرے بھائی کی ہر اک راہ ہدایت ہو جائے.....!!!!!

 

(آمین آمین آمین آمین آمین)

************

Saturday, 28 February 2026

Naat by Tasleem Shahzadi Naz

*نعتِ رسولِ مقبولﷺ*

 

تسکینِ دل، آرامِ جاں آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

قلبِ سکوں، عزیزِ جاں آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

لب پہ درودوں کی مہک، روح کی راحت بنے

سارے جہاں کی دلکشی آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

نورِ ہدایت کا چراغ، ظلمتوں کا انت ہیں

راہِ وفا کی روشنی آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

بخشے سکونِ قلب جو، ایسا کوئی نام نہیں

درد کی ہر اک دوا آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

ذکر سے جس کے کھلے بند نصیبوں کے در

رحمتوں کی انتہا آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

حشر میں سایہ ملے نازؔ کو آپ کے پرچم تلے

میرے لیے آسرا آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

*نعت گو:  تسلیم شہزادی نازؔ*

***************

Judai Ghazal by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

غزل:

جدائی

 

دل پہ پھر آج تری یاد کا پہرہ نکلا

چاند تنہا تھا مگر آنکھ سے دریا نکلا

 

تو جو بچھڑا تو میرے شہر کے رنگ اُڑ سے گئے

خواہشات کا دریا ہر رات میرے ہاتھ سے پھسلا نکلا

 

تیری آواز کی خوشبو تھی میرے کمرے میں

در کھلا تو فقط اک سرد سا سناٹا نکلا

 

ہم نے چاہا تھا جسے جان سے بڑھ کر ہر دم

وہی تقدیر کے کاغذ پہ اجنبی سا نکلا

 

کوئی امید، کوئی وصل کا لمحہ نہ ملا

ہر تسلی کا نتیجہ بھی ادھورا نکلا

 

نازؔ دل نے تری چاہت کو عبادت جانا

پر مقدر کا ورق ہم سے ہی خفا نکلا.....!!!!

*************