affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Thursday, 12 February 2026

Lamenting of the heart in the darkness of night Poetry by Farheen Shahzad

*Lamenting of the heart in the darkness of night*

(By: Farheen Shahzad)

shahzadfarheen2@gmail.com

 

Tears fall like autumn rain

As I lament the love in vain

Memories of what could never be

Haunt me, a bittersweet melody

 

In sorrow's dark and endless night

I search for stars that shone so bright

But like fallen leaves, they're lost from sight

Leaving only sorrow's bitter light

 

The wind whispers secrets in my ear

Of what could've been, of what I'll never hear

A gentle breeze that brings me pain

Reminding me of love's sweet refrain

 

I lament the past, the present too

For all the moments I'll never renew

But in the silence, I'll hold on tight

To memories that shine like stars in night.

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Killing smile Poetry by Farheen Shahzad

*Poetry by:*

Farheen Shahzad

shahzadfarheen2@gmail.com

*Killing smile*

 

Your smile 🙂 captivates my heart.

Your eyes 🤩 sparkle like shining stars from the start.

The way you laugh 🥰 is music to my ears.

The way you talk 💬 is sweet and calming, dispelling all my fears.

The way you walk 🫴🏻 is a gentle, soothing stride.

I could stare at you forever 😍, lost in your lovely, loving pride.

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Self-Esteem Poetry by Farheen Shahzad

*By:*

*Farheen Shahzad*

shahzadfarheen2@gmail.com

*Poem:*

*Self-Esteem*

I love myself, flaws and all,

Imperfections make me uniquely tall,

I celebrate the love that makes me whole.

 

I love my heart, with all it's scars,

The battles I've fought, the lessons I've learned from Mars,

I've risen strong, I've found my way,

And learned to love myself, come what may.

 

I love myself, in every way,

 

I'm worthy of love, of happiness too,

And I choose to love myself, anew 🌷

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Kharaj e aqeedat aye safeer e taban Sufi klaam by Shaneela Zahidi

خراجِ عقیدت اے سفیرِ تاباں

تکلمِ مرشدِ کامل، نوائے سرمدی ٹھہرا

لبوں سے نور برستا ہے، پیامِ زندگی ہو کر

 

بناتِ زاہدِ دوراں، اسی گلشن کی کلیاں ہیں

وقارِ جاں نکھرتا ہے، عطاۓ ایزدی ہو کر

 

جبیں پہ عکسِ ازہرؔ ہے، درخشاں طور کی صورت

تجلی مسکراتی ہے، جمالِ کبریا ہو کر

 

وہ لہجہ مہر و الفت کا، وہ پدران

ہ سی شفقتیں

دلِ سنگیں پگھلتے ہیں، رِقّتِ سرمدی ہو کر

 

پکارا جب "شنیلہ بیٹی"، تو روحِ جاں مصفٰی ٹھہری

حجابِ ذات اٹھتے ہیں، فنا کی آگہی ہو کر

 

فنا ہونا تری نسبت میں، معراجِ بندگی ٹھہرا

مقدر جاگ اٹھتا ہے، خاکِ منزلی ہو کر

 

ازقلم: شنیلہ زاہدی (بارسلونا، سپین)

Sunday, 18 January 2026

Aankhen Poetry by Hafiza Shabana Nawaz Amber

انھیں تو پوچھو

یہ آنکھیں کیسے

الجھ رہی ہیں

سلجھنا چاہیں ،

یہ خوابیدہ ،سنہری آنکھیں

یہ کتنے لفظوں

کے سب طوفانوں میں

پڑ رہی ہیں

یہ اب سنجیدہ ،دلیری آنکھیں

انھیں میسر ہیں ،

ہیں سب سوالوں کے

سب جوابوں کے

سارے دیدہ ،عظیم منظر

ہیں پیاری آنکھیں

انھیں یوں سمجھو

حقیقتوں کے ہیں

جادو منتر ،

بسائے امید کے جو  جگنو

یہ ہوگئیں ہیں

سیراب اندر

عظیم آنکھیں

حسین آنکھیں

حسیں خوابوں کے ہیں سمیٹے ،

حسین منظر

یہ پیاری آنکھیں

 

حافظہ شبانہ نواز عنبر

******************

Tuesday, 6 January 2026

Poetry by Kinza Afzal

آزمانا  اگر  شرط  ہو"

تو پچھتانا  لازم  ہے"

کسی کو پرکھنے کی ضد ہو"

تو بچھڑ جانا لازم  ہے"

بتاو گے جو رازِدل کسی کو"

زمانے کا ستانا لازم ہے"

K.A

**

مقام بنتِ ہوا"

سہارے ساے ہیں عارضی

سہارا ہمیشہ ایک خدا کا ہے

سارے  قانون جفا  کے  ہیں

بتاو کہاں قانون وفا کا ہے

ہے  سوال  اک  چھوٹا  سا

قانون  کے  رکھوالوں  سے

کہاں محفوظ ہے زات عورت

کون سا مقام بنتِ ہوا کا ہے

میں پوچھوں سارے وکیلوں سے

دنیا میں بنے آپنے کفیلوں  سے

کیوں کھیلونا ہمیں لوگ بناتے ہیں

کیوں جزبات سے کھیل جاتے ہیں

قصور ہمارا ہے کیا دنیا میں آنے کا

تجھے آپنا سرپرست مان جانے کا

ہمیں بھی بنایا ہے تمہارے ہی ربّ نے

صنفِ نازک کو بنانے کا فیصلہ خدا کا ہے

زخم پہ زخم ہمیں  دیتے جائیں

امتحاں ہم سے ایسے لیتۓ جائیں

یہ کیسا ہے تیرا انصاف ابنِ آدم

بتاو مجھے یہ قانون کہاں کا ہے

"Kinza Afzal"

**

سوچ اۓ ابنِ آدم

بہک تو آدم بھی گیا تھا اۓ ابنِ آدم

کیا سزا اس کی جانتے ہو عرش

سے فرش پر پھینک دیا تھا ربّ نے

"K.A"

***

غزل

اِدھر سے اُدھر میں بھٹکتی رہی

نہ اِدھر کی رہی نہ اُدھر کی رہی

زرہ سا  پھسلا جو  پاوں میرا

تو بلندی سےآ کےپستی میں گری

چوٹ  لگی پھر  ایسی  مجھے

میں تڑپتی رہی میں سسکتی رہی

میں بتاوں کسے جو ہے حال میرا

نامیں مر سکی نامیری زندگی رہی

اِدھر سے اُدھر میں بھٹکتی رہی

نا ادھر کی رہی نا ادھر کی رہی

"Kinza Afzal"

****

کنزا افضل گوندل"

سمجھتے ہیں لوگ بھٹک جائیں گی

کیا ہمارا کوئ ایمان نہیں

درندوں کی طرح نوچ کھانے کو ہیں تیار

جیسے ہم ان کا چار ہوں کوئ انسان نہیں

تیری لفظوں کی آڑ میں چھپے تیرے مقاصد

سمجھ کر میں بنی رہی انجان

خود کو خود ہی دیتی رہی تسلی

کہ ٹوٹ نا جاۓ تجھ پہ جو مان ۔

•••••••••••••••••••••••••••••

غرور نا کر آپنی ذات پہ اۓ بن آدم

مَرد کو مُردہ ہونے کے لیۓ لمحہ اک درکار ہوتا ہے

**************************

کچھ لوگ بدلتے ہیں موسم کی طرح

دیکھنے میں لگتے ہیں پھولوں کی طرح

جلاتے ہیں دہکتے انگاروں  کی طرح

زخم  لگاتے  ہیں پتھر  کی  طرح

زندگی میں لگے بہاروں کی طرح

جب کریں وار تو جگر چیر دیتے ہیں

ان  کے  میٹھے  لفظ  دل میں

لگے  تلواروں  کی  طرح

نا پناہ لے تو غیر محرم کی

اۓ بنت ہوا یہ رسوا کر دیتے ہیں

مصر میں سجے بازاروں کی طرح

"Kinza Afzal"

***

غزل:

کچھ زخم مٹانے کے لیۓ

نۓ درد جگانے ہوتے ہیں

بناوجہ کے یہ رابطے

تنہائ مٹانے کے بہانے ہوتے ہیں

کچھ لوگ کانٹوں کی طرح

کچھ لوگ قیمتی خزانے ہوتے ہیں

سجا کہ کبھی لبوں پہ مسکراہٹ

کچھ آنسو چھپانے ہوتے ہیں

کچھ کرتے ہیں دل لگی یوں ہی

کچھ محبت کے دیوانے ہوتے ہیں

کچھ خواب دیکھ کے جاگتی آنکھوں سے

کچھ خیال دل میں سجانے ہوتے ہیں

کچھ کھیل کے کسی کی زات سے

خوشی جیت کی  پھر  مناتے ہیں

کچھ ہار کہ کسی کی جیت کے لیۓ

پھر زبان پہ وفا کے ترانے ہوتے ہیں

کبھی رات کی تنہائوں میں

کبھی دن کی ویرانیوں میں

یادیں بیچھڑے ہوۓ لوگو کی

دل میں بسانی ہوتی ہیں

کبھی رو کر راتوں کو دیر تک

پھر دن میں سرخیاں آنکھوں کی

لوگو سے چھپانی ہوتی ہیں

کچھ زخم مٹانے کے لیۓ

نیۓ درد جگانے ہوتے ہیں

بنا وجہ کہ یہ رابطے

تنہائ مٹانے کے بہانے ہوتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"کنزا افضل گوندل"

**

شیشے کی طرح توڑ کر پھر پاؤں سے مسلتے ہیں

لوگ"

یہ سوچے بنا کہ ٹکڑۓ آپنے ہی پاؤں میں چبھتے ہیں

K.A

***

میرے قتل کیا ہے اس نے سماں

میں جو بچ جاوں تو نصیب میرا

میری زات سے لگائ جان کی بازی

میں جو جیت جاوں تو نصیب میرا

راتوں میں وہ سکون سے سوتا ہے

میرے دن کا چین اوڑا کر

مجھے جو آۓ سکون کسی پل تو نصیب میرا

ایسی لگائ ہے ٹھوکر  اس نے

جو تھا مجھے جان سے پیارا

کبھی میں سمٹ جاوں تو نصیب میرا

ہوۓ رابطے سبھی منقطع اس سے

میں جو سہہ جاوں غمِ جدائ تو نصیب میرا

"Kinza Afzal"

*

غزل"

یاد ہے تجھے کیا کیا غضب ڈھاۓ تھے

وہ مزاق تھا محض میری زات سے

تو کیوں خدا کو بیچ میں لاۓ تھے

کیوں کھائ تھی قسمیں کیوں دیتے تھے واسطے

ہماری منزلیں الگ تھی الگ تھے راستے

سوچا ہے جب محشر میں جاوگے

تو اس ربّ کو کیا منہ دیکھاوگے

اس ذات پاک کی قسمیں کھاتے تھے

پھر ہر بات مذاق میں بدل جاتے تھے

کر کے وعدہ پھر چھوڑ گۓ تھے

کھیل کے دل سے دل توڑ گۓ تھے

سنو!

دل کسی کا کھیلونا نہیں تیرا

یہ خدا کا گھر ہے اس میں ربّ

بستا ہے تیرا اور میرا

یہ زندگی خدا کی امانت ہے

نا اس پہ حق ہے میرا نا تیرا

"Kinza Afzal"

**

*