affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Thursday, 4 June 2026

Amaal Ghazal by Tasleem Shahzadi Naz

اعمال

 

پُل صراط اک روز سبھی کو پار کرنا ہے

اعمال کے سہارے ہی اُس راہ سے گزرنا ہے

 

وہ پُل ہے باریک تلوار کی دھار سے بھی بڑھ کر

جہاں نہ مال چلے گا، نہ کوئی ساتھ لشکر

نہ دوست کام آئیں گے، نہ دنیا کی حکومت

وہاں فقط رہے گی بندۂ مومن کی عبادت

جس نے جھکایا سر رب کے حضور دنیا میں

اُسے ہی آسانی سے اُس پُل کے پار اُترنا ہے

 

پُل صراط اک روز سبھی کو پار کرنا ہے

اعمال کے سہارے ہی اُس راہ سے گزرنا ہے

 

کسی کے پاؤں بجلی کی طرح دوڑ جائیں گے

کسی کے جسم خوفِ گناہ سے کانپ جائیں گے

کسی کو نورِ ایماں روشنی دیتا رہے گا

کسی کو اپنے اعمال کا اندھیرا ڈستا رہے گا

وہ دن ہوگا حقیقت میں بہت ہی سخت بندے پر

جہاں ہر شخص نے اپنے عمل سے سنورنا ہے

 

پُل صراط اک روز سبھی کو پار کرنا ہے

اعمال کے سہارے ہی اُس راہ سے گزرنا ہے

 

نمازیں ساتھ ہوں گی تو سہارا مل ہی جائے گا

تلاوت کا دیا بھی روشنی دیتا ہی جائے گا

اگر ماں باپ کی خدمت دل سے کی ہوگی کبھی تُو نے

تو رب کا فضل بھی شامل تیرے ہر اک قدم میں ہو گا

مگر جو ظلم میں ڈوبا رہا دنیا کی خواہش میں

اُسے حسرت کے صحرا میں اکیلا ہی بکھرنا ہے

 

پُل صراط اک روز سبھی کو پار کرنا ہے

اعمال کے سہارے ہی اُس راہ سے گزرنا ہے

 

خدایا! ہم گنہگاروں پہ اپنا رحم فرما دے

نبیﷺ کے صدقے بخشش کی کوئی صورت عطا کر دے

ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیاں بڑھا دے تُو

ہمارے دل کو عشقِ مصطفیٰﷺ  سے پھر سجا دے تُو

نازؔ جب اُس پل پر کھڑے ہم لرزتے خوف کے مارے ہونگے

تو رب کے فضلِ کرم سے آقاﷺ  کے دامن میں ٹھہرنا ہے

 

پُل صراط اک روز سبھی کو پار کرنا ہے

اعمال کے سہارے ہی اُس راہ سے گزرنا ہے

 

(شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ)

****************

Mohabbat naam ha jis ka Ghazal by Tasleem Shahzadi Naz

*نظم:  محبت نام ہے جس کا*

 *شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ*

 

 

محبت نام ہے جس کا، وہ اک جادو کی بستی ہے

جہاں ہر شے سے بڑھ کر بس، کسی کی یاد بستی ہے

نہ پوچھو فلسفہ اس کا، نہ دیکھو تم کوئی منطق

یہ وہ سودا ہے جس میں ہر خسارے میں بھی مستی ہے

 

زمانے بھر کی دیواریں بھلے رستے میں حائل ہوں

نگاہیں منتظر ہوں اور قدم منزل کے سائل ہوں

مخالف رخ پہ چلتی ہوں اگرچہ وقت کی لہریں

مگر یہ دل وہ کشتی ہے کہ جس کے تم ہی ساحل ہو

 

عجب اصرار ہے اس کا، عجب ہے اس کی نادانی

نہ دیکھے مرتبے کوئی، نہ دیکھے حسنِ لافانی

جسے چاہا، اسے پوجا، اسے جاں کی جگہ بخشی

جہاں جذبے سچے ہوں، وہاں جھکتی ہے سلطانی

 

یہ سودا ہے جنوں والوں کا، دنیا سے الگ ہٹ کر

یہاں تو جیت ملتی ہے، خود اپنی ذات سے کٹ کر

بڑی گہرائی ہے اس میں، بڑی وسعت ہے الفت میں

ملے گی روشنی تم کو، اندھیروں سے جو ٹکرا کر

 

سنا ہے لوگ کہتے ہیں کہ دل کمزور ہوتا ہے

مگر جب ٹھان لے کچھ یہ، تو پھر یہ پُرزور ہوتا ہے

جسے یہ منتخب کر لے، اسے خوش بخت کر دے یہ

اسی کے نام کا پھر چار سو اک شور ہوتا ہے

 

وفا کے دشت میں چلنا کوئی آساں نہیں ہوتا

جہاں ہر موڑ پر بکھرا ہوا ارماں نہیں ہوتا

مگر ہمت وہی پائے جو منزل کو سمجھ لے اب

بغیرِ عشق بھی جینا، کوئی آساں نہیں ہوتا

 

 *نازؔ* اس بات پر اب تو ہمیں فخرِ محبت ہے

کسی کے واسطے جینا، خدا کی ایک نعمت ہے

جسے ہم نے چنا دل سے، وہی کل کائنات ہے اپنی

اسی کی یاد میں رہنا، ہمارے دل کی راحت ہے....!!!!

*****************

Eid al azha Poetry by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ

نظم:  عیدُالضحٰی مبارک

 

 

عیدِ قرباں کی یہ سجی ہوئی ساعتیں

خوشیوں کے رنگ، دعاؤں کی سوغاتیں

 

ماں باپ کے قدموں میں سکونِ جہاں ہو

اُن کی دعاؤں میں ہوں جنت کی برکتیں

 

بھائیوں کی ہنسی، بہن کی مسکان

گھر کی فضا میں ہو عید کی راحتیں

 

شوہر کے ساتھ وفا کا چراغ روشن

محبت میں لپٹی رہیں ساری ساعتیں

 

سہیلیوں کی محفل میں چہکاریں ہوں

دوستی میں مہکیں وفاؤں کی راحتیں

 

کزنز، رشتے داروں کا پیار سلامت رہے

رشتوں میں رہیں ہمیشہ نرمی کی عادتیں

 

کولیگز کے ساتھ بھی خوشیوں کا سفر ہو

کام کی تھکن میں ملیں کچھ راحتیں

 

اور اُمّتِ مُسلمہ کے ہر دل میں یاربِّ ذُوالجلال

امن و اخوّت کی برسیں رحمتیں اور برکتیں

 

قربانی کا جذبہ، ایثار کا پیغام

ہر دل میں جگائے نئی صداقتیں

 

یہ عیدِ مبارک سب کے نام ہو جائے نازؔ

اللّہ دے سب کو خوشیوں کی دولتیں...!!!

 

(سب کو عیدُالاضحیٰ مبارک)

****************

Thursday, 21 May 2026

Ghazals by Tasleem Shahzadi Naz

نظم:

  محرمِ جاں (نئی کیفیت)

شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ

 

محرمِ جاں وہ ہے...

جو دل کی دیوار پر دستک نہیں دیتا،

صرف قربت سے بتا دیتا ہے کہ وہ آ چکا ہے...

 

وہ جو تمہاری لہجے میں

اونچ نیچ نہ ڈھونڈے،

بس ایک خاموش لمس سے

تسلی رکھ دے کہ "میں ہوں، گھبرانا نہیں"...

 

محرمِ جاں وہ ہوتا ہے

جو تمہاری ہنسی کے پیچھے چھپے

بےآواز دکھوں کو بھی سن لیتا ہے...

 

وہ جو تمہاری نم پلکوں کو

کسی سوال کے بغیر

اپنی ہتھیلی میں چھپا لے...

 

وہ جو قدموں میں بکھرے

تمہارے ٹوٹے خوابوں کو

اٹھا کر آنکھوں میں بسا کر عزت دے،

اور پھر آہستہ سے کہے:

"چلو، ہم انہیں دوبارہ جوڑیں گے"...

 

محرمِ جاں وہ ہے

جس کے ساتھ چلتے ہوئے

فاصلوں کا حساب بدل جاتا ہے،

ایک ہاتھ پکڑنے سے

دنیا کے شہر چھوٹے پڑ جاتے ہیں...

 

وہ جو تمہارے دل کے راز

اپنی روح میں رکھ لے،

ایسے کہ تم بھی بھول جاؤ

کہ کبھی کچھ چھپا تھا...

 

محرمِ جاں وہ ہوتا ہے نازؔ…

جو صرف محبت نہیں دیتا

بلکہ

خود محبت بن جاتا ہے.....!!!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نظم: 

 محرمِ جاں

(میرے شوہر غلام قدیر کے نام)

شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ

 

محرمِ جاں…

وہ جو دل کی دراڑوں میں اتر کر

زخموں کو جانتا بھی ہے

اور چھپاتا بھی ہے...

وہ جسے نظر کے اشارے سے

دل کا بھید سمجھ آجائے،

جسے لفظوں کی گواہی درکار نہ ہو...

محرمِ جاں وہ ہے،

جو تھکن سے بوجھل پلکوں کو

اپنی دعا سے سہارا دے،

جس کی آہٹ سے روح میں چین اترے...

وہ جس کے سامنے

دل اپنا لباسِ ہچکچاہٹ اتار دے،

اور ننگے خوف بھی محفوظ رہیں...

محرمِ جاں…

وہ جو تمہاری خاموشیوں کو

اپنے سینے میں تھام لے،

اور ہر دکھ کو مسکراہٹ کی

نرم چادر اوڑھا دے...

وہ جو تمہیں تم سے زیادہ جان لے،

جس کے قریب آ کر

دل کا شور بھی عبادت بن جائے...

وہ جس کی محبت

لمحوں کی بھوک نہیں،

عمروں کی سچائی ہوتی ہے...

محرمِ جاں…

وہ جس کا ہاتھ چھوٹ جائے

تو دنیا رہتی ہے،

مگر زندگی نہیں رہتی...

اور اگر ایسا کوئی مل جائے نازؔ ،

تو سمجھ لو رب نے تمہیں

بہترین نعمت سے نواز دیا ہے...!!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

شاعرہ: 

تسلیم شہزادی نازؔ

نظم:

 قُربتِ لمس

 

قُربتِ لمس… یہ کوئی لمحہ نہیں، ایک کائنات ہے.

جہاں لفظوں کی ضرورت نہیں پڑتی،

جہاں سانسیں ہی بات کرتی ہیں،

جہاں خاموشی بھی دھڑکنوں کی زبان سمجھتی ہے...

 

جب تم نے پہلی بار میرا ہاتھ تھاما تھا،

میرے اندر کوئی گہرا سمندر جاگ اٹھا تھا،

جیسے لہریں دل کے کناروں کو چومتی چلی جائیں...

 

تُمہارے چھو لینے سے

میری جِلد پر نہیں،

میری رُوح پر نقش بن گئے تھے...

 

قُربتِ لمس نے وہ سب کہہ دیا

جو میں برسوں سے کہنا چاہتی تھی

مگر ہمت نہ کر پائی تھی...

 

تمہارے ہاتھ کی حرارت

میرے تنہا موسموں کو

اک خوبصورت بہار کا تحفہ دے گئی...

 

تمہارے بازوؤں کی پناہ میں

دنیا چھوٹی لگنے لگی،

اور وقت رک سا گیا

جیسے لمحہ خود میری مرضی کا ہو گیا ہو...

 

قُربتِ لمس نے میری سانسوں میں

پھول کھلا دیے،

میرے لفظوں میں شبنم بھر دی،

میری سوچوں میں نرمی اُتار دی...

 

جب تم قریب ہوتے ہو

تو فاصلوں کی دنیا مر جاتی ہے،

صرف تم رہتے ہو

اور میری دھڑکن...

 

قُربتِ لمس…

یہ وہ مقام ہے

جہاں دو وجود نہیں رہتے

بلکہ

دو روحیں ایک دوسرے میں سمٹ جاتی ہیں...

 

بس ایک لمس نازؔ…

اور دل پوری کہانی لکھ دیتا ہے.....!!!!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شاعرہ:

 تسلیم شہزادی نازؔ

نظم:  ہم ساتھ ہوتے اگر

 

 

ہم ساتھ ہوتے اگر

تو شامیں یوں اداس نہ ہوتیں

ہوا بھی تیرے نام کی خوشبو لیے پھرتی

اور چاند رات بھر

ہماری باتیں سنتا رہتا...

 

ہم ساتھ ہوتے اگر

تو بارشیں فقط پانی نہ ہوتیں

ہر بوند میں ایک خواب اترتا

ہر راستہ محبت سے بھر جاتا

اور دل کو کسی دعا کی کمی نہ رہتی...

 

ہم ساتھ ہوتے اگر

تو میں تیرے دکھ اپنی ہنسی میں چھپا لیتی

تو میری خاموشی کو بھی پڑھ لیتا

ہم دونوں لفظوں سے نہیں

احساس سے بات کیا کرتے...

 

ہم ساتھ ہوتے اگر

تو وقت بھی ٹھہرنے کی ضد کرتا

دن تیرے لمس کی روشنی میں گزرتے

رات تیری یاد میں نہیں

بلکہ

تیری موجودگی میں ڈھلتی...

 

اے نازؔ! ہم ساتھ ہوتے اگر

تو شاید دنیا ویسی نہ رہتی

ایک چھوٹا سا گھر ہوتا

چند خواب ہوتے

اور ان خوابوں میں

صرف تم اور میں ہوتے.....!!!!!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭