برستی بارش میں مٹی کی خوشبو ہو
زمانہ
چاہےتجھ کو مجھ سے چھیننامگر تم میری سانسوں میں بسی ہو
بارش
میں بجلی کے چمکنے سے تیری ٹھوڑی کا تل یاد
آیا
جیسے
اندھیری رات میں
چھودھویں
کا چاند ہو
لہلہاتے
پیٹروں سے اس کی زلفوں کا تذکره چھڑ گیا
جیسے
سنگ مرمر پہ ریشم کا پھسلنا ہو
تارے
چھپے تھے اور چاند بھی شرما گیا
کیا
غضب ہو کہ اتفاقا ہی سہی، اس سے بس ایک ملاقات ہو
ہم
نے برسات کا یہ موسم تیرے تصور میں گزاردیا
پھر
حسرت ہوئی کہ کاش ہم ایک ساتھ ہوں
اور
صرف تم ،میں، اور برسات ہو
(ر مشا قریشی)
***************
نظم:
تم کون ہو ؟
---
*"اس
نے استفہامیہ انداز میں دریافت کیا، ہم آپ کے لیے کون ہیں اور کیا ہیں؟*
*میں نے دل کی کَسی ہوئی ڈور سے خود کو آزاد کیا اور جذبات کو سر عام
اظہار کی اجازت دی
---
*تم قوسِ قزح کی تعریف ہو،
تیری
آنکھوں کی جھلمل میرا ذریعہ جام ہے*
*تم دور کہیں طلوع سحر کی شبنم ہو
تم
بارش برسنے کے بعد مٹی کی بھینی خوشبو ہو*
*تم ٹمٹماتے تاروں کی مرکوز نظر ہو
، تم دشت ہو، تم صحرا ہو،
تم
سا حل ہو* تم بحرالکاہل ہو
*تم میری زندگی کی مہک ہو،.
تم
پربتوں پر دفن كوه پیماؤں کی یاد میں گنگناتی نظم ہو*
*تم میرے لیے راحت ہو، تم میری چاہت ہو
*
*تم جاپان میں گرتے چیری بلاسم جیسی نازک ہو
*
*تمہاری آواز میں شہد سے زیادہ مٹھاس ہے
، تمہارے الفاظ میں پتوں سے زیادہ سرسراہٹ ہے*
*تم جاءے نماز پر بیٹھی میری پہلی اور آخری دعا ہو
*
*تم وضو کرتے ہوئے میری سماعت و بصارت میں ہو
*
*تم جنت روڈ پر گرتے خزاں کے پتوں کی یاد ہو
*
*تم پیرس میں ایفل ٹاور میں بکھری میری خوشبو ہو
*
*تم مجھ پر فرض ہو، تم میری عرض ہو
*
*تم مجھے بہت پیاری ہو، تمہی
میری ہستی ہو
*
*تم میرے دل میں بستی ہو
*
*تمہارے ہوتے ہوئے مجھے کسی شمع کی ضرورت نہیں پڑتی
*
*تم کون ہو ؟
*
*تم مجھے حفظ ہو
اور
مجھے تم سے بے انتہا محبت ہے۔*
(رمشا قر یشی)
*
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
غزل:
داستان محویت
--
*سرد
اندھیری رات میں وہ مر کوز نظر رہی دیر تک*
*فاصلوں کی گرد میں کسی افسانے میں الجھی*
*ستاروں کے جھرمٹ میں کسی کو پکارتی رہی دیر تک*
*وہ صنف نازک برف سے گھرے پر بتوں پر*
*خود سے ہم کلام رہی بہت دیر تک*
*کاجل بھری آنکھوں سے آنسو مچلنے کو بیتاب ہوئے*
*پھر دردِ دل بیاں کرتے رہے بہت دیر تک*
*زندگی ہے زخموں کی داستان*
*اس داستان کو سلجھانے کی الجھن میں مرکوز نظر رہی دیر تک*
وہ
میرے تصور سے کبھی دھندلاتی ہی نہیں
اسی
لئے اس کی سوچ میں محو رہی دیر تک
---
* رمشا قریشی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نظم:
میرے موضوع سخن
---
*میری تحریر کے موضوع سخن*
*میں تم کو لکھنا چاہتی ہوں
*کہ تمہاری آواز ہمارے دل کا ساز ہے*
*تم نہیں ہو تو جیسے ہر پل اداس ہے
*
*تمہاری آنکھوں کی جھلک ہم کو سونے نہیں دیتی*
*ہم تمہارے واسطے تو پوری دنیا سے لڑ جائیں گے*
*کہ یہ دنیا تو ہم کو تمہارا ہونے نہیں دیتی*
*کہ وہ راتوں کی سسکياں کاش تو سن پائے
*کہ یہ سُسکیاں ہی تو ہم کو سونے نہیں دیتی
*
*ہم تمہاری دید کے ہی تو منتظر ہیں
*
*کہ تمہاری دید ہی ہمارا روزِ عید ہوگا
*
*برستی بارش میں تم جو گنگناتے ہو
*
*ہم تو پھر تجھ میں ہی کھو جاتے ہیں
*
* کا ش کہ تو جان پائے ہم تم کو کتنا چاہتے ہیں*
*
*
* ہائے کہ تم کو پانے کے لیے خود کو بھول جاتے ہیں *
(رمشا قریشی)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭