affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Thursday, 19 March 2026

Shan e fazeelat Naat by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ:  تسلیم شہزادی نازؔ

شانِ فضیلت:  درودِ پاکﷺ

(سکونِ قلب کو لازم ہے بندگی آپﷺ کی، مقامِ عشق کو لیکن درود لازم ہے)

 

 

اسی درود کی خوشبو سے دل مہکتے ہیں,

اسی کے نور سے اجڑے نگر بھی سجتے ہیں,

یہی صدا ہے جو سینوں کو نور بخشتی ہے,

یہی صلہ ہے جو قسمت کے در بھی کھولتے ہیں,

 

سکونِ قلب کو لازم ہے بندگی آپﷺ کی,

مقامِ عشق کو لیکن درود لازم ہے...

 

🌹🌹🌹🌹

 

یہی درود ہے جو روح کو جِلا دیتا,

یہی درود ہے جو غم کو بھلا دیتا ہے,

یہی چراغ ہے تاریک رات کی خاطر,

یہی کرن ہے جو دل کو خدا ملا دیتا ہے,

 

مدینے والے، تیرے نام کی یہ برکت ہے,

کہ تیری یاد میں ہر سانس اک عبادت ہے,

جہاں میں جتنی بھی خوشبو ہے سب تیری نسبت,

تیری نگاہِ کرم ہی تو اصل دولت ہے،

 

سکونِ قلب کو لازم ہے بندگی آپﷺ کی،

مقامِ عشق کو لیکن درود لازم ہے...

 

🌹🌹🌹🌹

 

درود پڑھتے رہو تو سکون ملتا ہے,

یہ دل کے زخموں کو آہستہ آہستہ سلتا ہے,

یہی صدا ہے جو محشر میں کام آئے گی,

یہی ندا ہے جو قسمت کا رخ بدلتا ہے,

 

جب اسمِ پاکِ محمدﷺ لبوں پہ آتا ہے تو,

دل میں نور کا اک سلسلہ سا چھاتا ہے,

گناہگار بھی جھک کر دعا میں رو پڑتا ہے,

کرم کا در بھی اسی نام سے کھل جاتا ہے,

 

سکونِ قلب کو لازم ہے بندگی آپﷺ کی,

مقامِ عشق کو لیکن درود لازم ہے...

 

🌹🌹🌹🌹

 

یہی درود ہے ایمان کی حرارت بھی,

یہی درود ہے دل کی سچی محبت بھی,

یہی درود ہے بخشش کی ایک صورت بھی,

یہی درود ہے جنت کی خوب بشارت بھی,

 

خدا کی رحمتیں اس پر ہمیشہ برستی ہیں,

جو اپنے لب پہ درودِ نبی سجاتا ہے,

یہی وہ تاج ہے جو سر کو عزتیں دے دے,

یہی وہ نور ہے جو دل کو جگمگاتا ہے,

 

سکونِ قلب کو لازم ہے بندگی آپﷺ کی,

مقامِ عشق کو لیکن درود لازم ہے...

 

🌹🌹🌹🌹

 

مدینے کی وہ فضائیں بھی کتنی پیاری ہیں,

جہاں درود کی خوشبو سدا ہماری ہے,

وہاں کی خاک بھی آنکھوں کا نور بنتی ہے,

وہاں کی یاد بھی دل کی قرارگاہی ہے,

 

خدا کرے کہ نصیبوں میں وہ گھڑی آئے,

مدینے جا کے یہی درود و نعت دل سے دہرائیں,

حضورﷺ  کے روضۂ اقدس کے سامنے کھڑے ہو کر,

درود پڑھتے ہوئے آنسوؤں میں بھیگ جائیں,

 

سکونِ قلب کو لازم ہے بندگی آپﷺ کی,

مقامِ عشق کو لیکن درود لازم ہے...

 

🌹🌹🌹🌹

 

یہی درود ہماری وفا کی پہچان ہے,

یہی درود ہماری دعا کی جان ہے,

جو اس درود کی سینے میں روشنی کر لے نازؔ,

اس کے نصیب میں قربِ نبیﷺ کا سامان ہے,

 

سکونِ قلب کو لازم ہے بندگی آپﷺ کی,

مقامِ عشق کو لیکن درود لازم ہے.....!!!!!

 

🌹🌹🌹🌹

************************

Thursday, 5 March 2026

Mrs Arsalan ke naam salgirah ke din nazam by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

نظم: مسز ارسلان کے نام, سالگرہ کی دن🎂🎉🎂

 

آج کا دن ہے روشن، خوشیوں کا جہاں,

مسز ارسلان کی سالگرہ کا ہے سماں,

ہر لمحہ آپ کی زندگی میں ہو خوشی کا نشاں,

ہر دن آپ کے لیے لائے پیار، سکون اور بہار کا سماں...

 

آپ کی مسکراہٹ میں چھپی ہے روشنی کی کہانی,

آپ کی ہر بات میں ہے محبت کی جانانی,

اللہ کرے آپ کی زندگی ہو خوشیوں کی رانی,

ہر دن آپ کے لیے ہو کامیابی اور کامیابی کی کہانی...

 

آپ کی ہر ادا میں ہے حسنِ جادوٸی,

ہر قدم پر برکتیں ہوں، ہر خواب ہو سچ کا تمناٸی،

اللہ کرے آپ کی عمر ہو لمبی اور خوشیوں کی رونماٸی،

ہر دن آپ کے لیے ہو خوشی، امن اور محبتِ جادوٸی...

 

آپ کی زندگی میں ہمیشہ رہیں خوشبوؤں کے میلے,

ہر لمحہ ہی آپکا کامیابی کے کھیل کھیلے,

اللہ کرے آپ کی دعاؤں میں شامل ہوں سب سچے جھمیلے,

ہر دن آپ کا خوشی اور ہر رات آپ کے گرد ہوں سکون کے  ریلے...

 

سالگرہ کے اس پیارے دن پر کریں ہم دعا,

اللہ آپ کی زندگی کو بنائے ہمیشہ روشن اور وفا,

ہر خواب سچّا ہو، ہر لمحہ ہو خوشیوں بھرا نازؔ,

مسز ارسلان! آپ کو سالگرہ کی بہت بہت مبارک ہو سدا.....!!!!!!

🎂💖🎂💖🎂

٭٭*******٭٭

Rah e gunah se rah e islam tak Nazam by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

(نظم: راہِ گناہ سے راہِ اسلام تک)

 

میں بھٹکتی ہوئی راہوں کا مسافر تھا کبھی،

نفس کے شور میں ڈوبا ہوا اک گھر تھا کبھی،

چمکتی خواہشوں کے جال میں اُلجھا ہوا دل،

اپنی ہی ذات کے اندھیرے میں بے خبر تھا کبھی...

 

خطاؤں کی دُھند نے آنکھوں کو ڈھانپ رکھا تھا،

ہر اک گناہ نے سینے میں زخمِ خنجر گھونپ رکھا تھا،

ضمیر چیختا اور سسکتا رہتا تھا رات کی تنہائی میں،

مگر میں نے اسے گناہوں کی دھن میں خاموش ہی کر رکھا تھا...

 

یہ دنیا خواب کی صورت لبھاتی رہتی تھی،

ہواۓ نفس مجھے روز بہکاتی رہتی تھی،

میں وقت کے دریا میں بہتا ہی چلا جاتا،

کوئی صدا تھی جو اندر سے بلاتی رہتی تھی...

 

پھر ایک رات دل پہ عجب کیفیت اُتری،

نگاہِ شوق سے آنسو کی ایک بوند بکھری،

میں سجدے میں گرا تو یوں لگا مجھ کو،

کہ رحمتوں کی گھٹا چار سو سے آن اُتری...

 

میں نے کہا:

"اے ربِّ کریم! میں خطاکار سہی،

تیری دہلیز پہ آیا ہوں گنہگار سہی،

تو غفور ہے، تو رحیم ہے، تو ستّار ہے،

میرے دامن میں گناہوں کا انبار سہی"

 

وہ لمحہ میری حیاتِ نو کا آغاز بنا،

دلِ شکستہ ہی میرا اصل اعزاز بنا،

جو آنسو بہہ گئے توبہ کی ساعتوں میں،

وہی تو میری نجاتوں کا راز بنا...

 

نماز نے دل کو سکونِ جاوداں بخشا،

قُرآنِ پاک نے روح کو نیا آسماں بخشا،

درود کی خوشبو سے مہکا میرا ہر ایک دن،

یقین نے مجھ کو عجب سکون و اطمینان بخشا...

 

میں نے اب حجابِ حیا کا وقار پہچان لیا،

نبیﷺ کی سنتوں کو اپنا شعار مان لیا،

جو راستہ تھا کبھی مجھ کو تنگ سا لگتا،

اسی کو اب میں نے راہِ بہار جان لیا...

 

اب گناہوں کی وہ محفل نہیں لبھاتی مجھے،

نہ نفس کی کوئی سازش ہی بہکاتی مجھے،

ہر ایک قدم پہ ہے رب کی عطا کا سایہ اب،

یہی حقیقت زندگی کا اصل سکھاتی مجھے...

 

میں گِر بھی جاؤں تو مایوس اب نہیں ہوتا،

کہ اب میرا ربِّ کریم کبھی ناراض نہیں ہوتا،

وہ توبہ و استغفار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے،

یہ جانا تو میرا دل بےقرار و بےاطمینان نہیں ہوتا...

 

اندھیری رات سے اُجلی سحر کا رشتہ ہے،

گناہگار کے دل میں بھی نور کا رستہ ہے،

جو لوٹ آئے سچے دل سے اپنے رب کی طرف،

اسی کے واسطے جنت کا ہر در کھلا ہے...

 

یہ سفر ختم نہیں، یہ تو ابتدا ہے ابھی،

ہر اک قدم پہ میری آزمائش کھڑی ہے ابھی،

مگر یقین ہے مجھ کو کرم پہ اُس کے،

کہ ساتھ میرے وہی ہے، جو تھا، جو ہے ابھی...

 

اے راہِ حق کے مسافر! تُو ہار مت جانا،

کسی گناہ کے ہاتھوں تُو خود کو مت ہارنا،

وہ رب قریب ہے، بس اک صدا کی دیر ہے یہ،

تُو لوٹ آ، تُو سنور جا، تُو دیر مت کرنا...

 

گناہ سے توبہ تک، توبہ سے عشق تک کا سفر،

یہی ہے اصل میں انسان کی قدر کا سفر،

جو راہِ اسلام پہ چل پڑا اخلاص کے ساتھ نازؔ،

وہی ہے کامیابی، وہی ہے فخر کا سفر...

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Naat by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

 

ارسلان و رضوان گئے ہیں مدینے کی گلیوں میں آج

ان کی قسمت پہ رشک آئے کہ پہنچے درِ رسولﷺ پہ آج

 

روزۂ اقدس پہ کھڑے ہوں گے ادب سے سر جھکائے

لب پہ درود ہوگا، آنکھوں میں عقیدت کے سائے

 

نصیب والے ہیں کہ پہنچے حبیبِ کبریاﷺ کے در پر

ملتا ہے سکونِ دل فقط احمدِ مجتبیٰﷺ کے در پر

 

میرا بھی سلام عرض کرنا سرکارِ دو جہاںﷺ کو

کہنا شفا عطا کریں اپنے اس ادنٰی سے غلام کو

 

اللہ کرے اُن کی یہ حاضری قبول ہو جائے

دامن میں رحمتِ مصطفیٰﷺ کی خوشبو بھر جائے

 

ارسلان و رضوان پہ سدا رحمتوں کا سایہ رہے

دل میں نبیﷺ کی محبت کا چراغ ہمیشہ جلے

 

نازؔ دعاگو ہے رہے ان کی یہ نسبت ہمیشہ قائم

مدینے کی یادوں سے روشن رہے ان کا دل دائم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭