affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Tuesday, 3 March 2026

Rizwan Raju ke naam Ghazal by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

دعائیہ غزل: رضوان راجو کے نام

 

 

رب کرے ہر قدم ہو تیرا کامیابِ سنہرا

رضوان بھاٸی! تیرے نصیب کا چمکے سہرا

 

دیارِ غیر میں بھی تُو رہے محفوظ و مطمئن

تیری ہر سانس پہ ہو لطفِ خدا کا پہرہ

 

میرا رب تیرے رزق میں وسعتیں، قسمت میں اجالا لکھ دے

تیری محنت کا صلہ ملے تجھے تیری محنت سے بڑھ کر بہتر

 

کوئی دکھ تیرے قریب آنے نہ پائے ہرگز

تیرے آنگن میں سدا خوشیوں کا ہو پہرا

 

ماں کی دعاؤں کا سایہ رہے تیرے سر پر قائم

ہر بلا ٹلتی رہے اور دور رہے ہر اندھیرا

 

تیرا کردار ہو خوشبو کی طرح پھیلا ہوا

لوگ نام لیں عزت سے ہمیشہ تمہارا

 

سجدوں کی روشنی چمکے تیری پیشانی پر

تیرا دل ذکرِ الٰہی سے رہے ہمیشہ ہی نکھرا

 

تنہائیاں بھی تجھے ہمت کا سبق دے جائیں

تیرا حوصلہ بنے ہر غم سے بھی گہرا

 

جب بھی لوٹے تو تیرے ہاتھ ہوں کامیابی سے بھرے

تیری ہر ہار بھی بنے جیت کا چمکتا چہرہ

 

رب کرے نازؔ کی ہر اک دعا قبول ہو جائے

میرے بھائی کا مقدر ہو ستاروں سے بھی سنہرا

 

(آمین آمین آمین آمین آمین)

**************

Arslan shani ke naam Ghazal by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

دعائیہ غزل: ارسلان شانی کے نام

 

 

رب کرے تیرا ہر اک خواب و خیال حقیقت ہو جائے

اے میرے بھاٸی ارسلان! تیری دنیا بھی جنت ہو جائے

 

تو رہے دیسِ حرم میں بھی امانوں کے حصار میں

تیری ہر سانس پہ رحمتِ ربّی کی عنایت ہو جائے

 

رزق میں برکتیں، محنت میں ثمر ملتا رہے

تیری کوشش تیری تقدیر کی زینت ہو جائے

 

غم کی پرچھائیں کبھی پاس نہ آنے پائے

تیری ہر صبح نئی خوشیوں کی دعوت ہو جائے

 

ماں کی دعاؤں کا سایہ تیرے سر پر یوں رہے

کہ ہر بلا ٹلتی رہے، ہر گھڑی راحت ہو جائے

 

تیری پیشانی پہ سجدوں کا نور سجا رہے

تیرا کردار ہی تیری پہچانِ دیانت ہو جائے

 

سعودی سرزمین پہ بھی تو سلامت ہی رہے

تیری تنہائی بھی یادوں کی رفاقت ہو جائے

 

دوست مخلص ملیں، دشمن بھی دعاگو ٹھہریں

تیری نیکی ہی تیری پہچان کی شہرت ہو جائے

 

گھر کی دہلیز پہ جب لوٹے تو سرخرو لوٹے

تیری ہر ہار بھی اک جیت کی صورت ہو جائے

 

رب کرے نازؔ کی ہر ایک دعا رنگ لائے

میرے بھائی کی ہر اک راہ ہدایت ہو جائے.....!!!!!

 

(آمین آمین آمین آمین آمین)

************

Saturday, 28 February 2026

Naat by Tasleem Shahzadi Naz

*نعتِ رسولِ مقبولﷺ*

 

تسکینِ دل، آرامِ جاں آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

قلبِ سکوں، عزیزِ جاں آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

لب پہ درودوں کی مہک، روح کی راحت بنے

سارے جہاں کی دلکشی آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

نورِ ہدایت کا چراغ، ظلمتوں کا انت ہیں

راہِ وفا کی روشنی آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

بخشے سکونِ قلب جو، ایسا کوئی نام نہیں

درد کی ہر اک دوا آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

ذکر سے جس کے کھلے بند نصیبوں کے در

رحمتوں کی انتہا آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

حشر میں سایہ ملے نازؔ کو آپ کے پرچم تلے

میرے لیے آسرا آپ ہی ہیں میرے حضورﷺ

 

*نعت گو:  تسلیم شہزادی نازؔ*

***************

Judai Ghazal by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

غزل:

جدائی

 

دل پہ پھر آج تری یاد کا پہرہ نکلا

چاند تنہا تھا مگر آنکھ سے دریا نکلا

 

تو جو بچھڑا تو میرے شہر کے رنگ اُڑ سے گئے

خواہشات کا دریا ہر رات میرے ہاتھ سے پھسلا نکلا

 

تیری آواز کی خوشبو تھی میرے کمرے میں

در کھلا تو فقط اک سرد سا سناٹا نکلا

 

ہم نے چاہا تھا جسے جان سے بڑھ کر ہر دم

وہی تقدیر کے کاغذ پہ اجنبی سا نکلا

 

کوئی امید، کوئی وصل کا لمحہ نہ ملا

ہر تسلی کا نتیجہ بھی ادھورا نکلا

 

نازؔ دل نے تری چاہت کو عبادت جانا

پر مقدر کا ورق ہم سے ہی خفا نکلا.....!!!!

*************

Tum se mil ker (Ghulam Qadeer ke naam) Poetry by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

نظم: تم سے مل کر (غلام قدیر کے نام)

 

 

تم سے مل کر

یوں لگا

کہ

جیسے

مجھے اک نٸی زندگی مل گئی ہو…

 

جیسے صدیوں سے بُجھا ہوا کوئی چراغ

اچانک ہوا کے دوش پر روشن ہو گیا ہو،

جیسے بے نام سی شام کے دامن میں

اک نرم سا سویرا اُتر آیا ہو...

 

تم سے مل کر

یوں لگا

کہ

جیسے

دل کو اس کا مداوا مل گیا،

جیسے بکھری ہوئی دعاؤں کو

اپنا قبلہ مل گیا...

 

ویران راستوں پر چلتے چلتے

جب قدم تھکنے لگے تھے،

جب خواب آنکھوں کی دہلیز پر

آ کر بھی لوٹنے لگے تھے،

تب تمہاری ایک مسکراہٹ نے

میرے اندر کے موسم بدل دیے...

 

تم سے مل کر

یوں لگا

کہ

جیسے

برسوں کی پیاس کو

پہلا قطرہ نصیب ہو گیا،

جیسے خشک شاخ پر

پہلا سبز پتّا اُگ آیا ہو...

 

میری خاموشیوں کو لفظ مل گئے،

میری الجھنوں کو راستہ،

میرے اندھیروں کو روشنی،

میرے دل کو ٹھکانا،

تمہاری آنکھوں میں جھانکا تو

اپنا ہی عکس نظر آیا،

ایسا لگا جیسے تقدیر نے

میرے نام کے ساتھ

تمہارا نام بھی لکھ رکھا تھا...

 

تم سے مل کر

یوں لگا

کہ

جیسے

ادھوری کہانی کو

آخری سطر مل گئی،

جیسے بے سُری دُھن کو

مکمل ساز مل گیا...

 

اب جب بھی ہوا چلتی ہے

تمہاری خوشبو لے آتی ہے،

چاند نکلتا ہے تو

تمہارا چہرہ یاد آتا ہے

اور

میں مسکرا کر سوچتی ہوں...

 

شاید محبت یہی ہوتی ہے،

جب کسی کی موجودگی

سانسوں میں اتر جائے،

اور

زندگی

محض زندگی نہ رہے،

بلکہ

ایک حسین دعا بن جائے...

 

تم سے مل کر

واقعی ہی

یوں لگا

کہ

جیسے

نازؔ کو اک نئی زندگی مل گئی ہو.....!!!!!!

*************

Antul Hayat (Ghulam Qadeer ke naam) Poetry by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

نظم: انتُ الحیات (غلام قدیر کے نام)

 

 

اَنتَ الحَیات…

میرے لبوں کی خاموش دعا کا جواب تم،

میری ویران شاموں کا مہتاب تم...

 

اَنتَ الحَیات…

میرے دل کی ہر دھڑکن کی صدا تم،

میری روح کی ہر پیاس کی وفا تم...

 

جب اندھیری راتوں نے گھیر لیا مجھے،

تم امید بن کر اترے میرے خوابوں میں،

جیسے سحر کی پہلی کرن

چُھو لے تھکے ہوئے آسمان کو...

 

اَنتَ الحَیات…

میرے آنسوؤں کی مسکراہٹ تم،

میری تنہائی کی رفاقت تم...

 

میں جب بھی لفظوں میں تمہیں سمیٹنا چاہوں،

الفاظ کم پڑ جاتے ہیں،

کیونکہ

تم صرف محبت نہیں,

بلکہ

میری ہر سانس کا سبب ہو...

 

تم ہو تو موسموں میں رنگ ہیں،

تم ہو تو دعاؤں میں اثر ہے،

تم ہو تو دل کو قرار ہے،

ورنہ سب کچھ بے نام و بے اثر ہے...

 

اَنتَ الحَیات…

میری دنیا کا مرکز تم،

میری چاہت کی حد تم،

میری ابتدا بھی تم،

سچ تو یہ ہے

کہ

نازؔ کی انتہا بھی تم....!!!!

**********************

Friday, 27 February 2026

Poetry by Akira

وہ کہتا تھا کہ میرا نام اس کی تسبیح ہے

گرے ملے ہیں چند دانے اور دھاگا ایک

نماز فرض میں شامل میں ہوا کرتی تھی

تہجدوں کا حاصل میں ہوا کرتی تھی

بدلہ کب ذوق سخن دل کا چمن مرتد من

ٹوٹا ہے سب کچھ پھر بھی نہ آئی آواز چھن

٭٭٭

تم سمجھ کیوں نہیں پاتے میرے اندر کی رائیگانی

کوئی آ کے مجھے بچاؤ میں راکھ ہو کہ بھی جل رہا ہوں

٭٭٭

جو بس میں ہے ہی نہیں وہ بھی کر جاؤ گے

میری محبت میں تم ہر حد سے گزر جاؤ گے

وقت آنے پر یوں منہ پہ مکر جاؤ

مجھ کو معلوم تھا تم مجھ سے بچھڑ جاؤ گے

٭٭٭

بھٹکتی پھرتی ہوں میں کسی بدروح کی طرح

یہ میرا دل کہیں چین کیوں نہیں پاتا

وہ جس کی یادیں بُلاوا دیتی ہیں

وہ حقیقت میں کیوں نہیں آتا

تیرے ہجر کا چاند کیوں نہ ڈھلے

بیٹھی پہروں رہوں کالے امبر تلے

کیوں ہے یہ گھٹن میرا گھونٹے گلا

بن کہے مجھ کو کوئی کیوں نہ سمجھے بھلا

٭٭٭

میں اپنے آپ کو اس لیے بھی مجبور کرتی ہوں

سفر دشوار جتنا ہو محتاجی خوار کرتی ہے

٭٭٭

تمہاری یاد فقط ایک بار آتی ہے

ہزار بار ہم آئینے میں دیکھتے ہیں

٭٭٭٭

By Akira

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭