شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ
(نظم: راہِ گناہ سے راہِ اسلام تک)
میں بھٹکتی ہوئی راہوں کا مسافر تھا کبھی،
نفس کے شور میں ڈوبا ہوا اک گھر تھا کبھی،
چمکتی خواہشوں کے جال میں اُلجھا ہوا دل،
اپنی ہی ذات کے اندھیرے میں بے خبر تھا کبھی...
خطاؤں کی دُھند نے آنکھوں کو ڈھانپ رکھا تھا،
ہر اک گناہ نے سینے میں زخمِ خنجر گھونپ رکھا تھا،
ضمیر چیختا اور سسکتا رہتا تھا رات کی تنہائی میں،
مگر میں نے اسے گناہوں کی دھن میں خاموش ہی کر رکھا تھا...
یہ دنیا خواب کی صورت لبھاتی رہتی تھی،
ہواۓ نفس مجھے روز بہکاتی رہتی تھی،
میں وقت کے دریا میں بہتا ہی چلا جاتا،
کوئی صدا تھی جو اندر سے بلاتی رہتی تھی...
پھر ایک رات دل پہ عجب کیفیت اُتری،
نگاہِ شوق سے آنسو کی ایک بوند بکھری،
میں سجدے میں گرا تو یوں لگا مجھ کو،
کہ رحمتوں کی گھٹا چار سو سے آن اُتری...
میں نے کہا:
"اے ربِّ کریم! میں خطاکار سہی،
تیری دہلیز پہ آیا ہوں گنہگار سہی،
تو غفور ہے، تو رحیم ہے، تو ستّار ہے،
میرے دامن میں گناہوں کا انبار سہی"
وہ لمحہ میری حیاتِ نو کا آغاز بنا،
دلِ شکستہ ہی میرا اصل اعزاز بنا،
جو آنسو بہہ گئے توبہ کی ساعتوں میں،
وہی تو میری نجاتوں کا راز بنا...
نماز نے دل کو سکونِ جاوداں بخشا،
قُرآنِ پاک نے روح کو نیا آسماں بخشا،
درود کی خوشبو سے مہکا میرا ہر ایک دن،
یقین نے مجھ کو عجب سکون و اطمینان بخشا...
میں نے اب حجابِ حیا کا وقار پہچان لیا،
نبیﷺ کی سنتوں کو اپنا شعار مان لیا،
جو راستہ تھا کبھی مجھ کو تنگ سا لگتا،
اسی کو اب میں نے راہِ بہار جان لیا...
اب گناہوں کی وہ محفل نہیں لبھاتی مجھے،
نہ نفس کی کوئی سازش ہی بہکاتی مجھے،
ہر ایک قدم پہ ہے رب کی عطا کا سایہ اب،
یہی حقیقت زندگی کا اصل سکھاتی مجھے...
میں گِر بھی جاؤں تو مایوس اب نہیں ہوتا،
کہ اب میرا ربِّ کریم کبھی ناراض نہیں ہوتا،
وہ توبہ و استغفار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے،
یہ جانا تو میرا دل بےقرار و بےاطمینان نہیں ہوتا...
اندھیری رات سے اُجلی سحر کا رشتہ ہے،
گناہگار کے دل میں بھی نور کا رستہ ہے،
جو لوٹ آئے سچے دل سے اپنے رب کی طرف،
اسی کے واسطے جنت کا ہر در کھلا ہے...
یہ سفر ختم نہیں، یہ تو ابتدا ہے ابھی،
ہر اک قدم پہ میری آزمائش کھڑی ہے ابھی،
مگر یقین ہے مجھ کو کرم پہ اُس کے،
کہ ساتھ میرے وہی ہے، جو تھا، جو ہے ابھی...
اے راہِ حق کے مسافر! تُو ہار مت جانا،
کسی گناہ کے ہاتھوں تُو خود کو مت ہارنا،
وہ رب قریب ہے، بس اک صدا کی دیر ہے یہ،
تُو لوٹ آ، تُو سنور جا، تُو دیر مت کرنا...
گناہ سے توبہ تک، توبہ سے عشق تک کا سفر،
یہی ہے اصل میں انسان کی قدر کا سفر،
جو راہِ اسلام پہ چل پڑا اخلاص کے ساتھ نازؔ،
وہی ہے کامیابی، وہی ہے فخر کا سفر...
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭