شاعرہ:
تسلیم شہزادی نازؔ
غزل:
جدائی
دل
پہ پھر آج تری یاد کا پہرہ نکلا
چاند
تنہا تھا مگر آنکھ سے دریا نکلا
تو
جو بچھڑا تو میرے شہر کے رنگ اُڑ سے گئے
خواہشات
کا دریا ہر رات میرے ہاتھ سے پھسلا نکلا
تیری
آواز کی خوشبو تھی میرے کمرے میں
در
کھلا تو فقط اک سرد سا سناٹا نکلا
ہم
نے چاہا تھا جسے جان سے بڑھ کر ہر دم
وہی
تقدیر کے کاغذ پہ اجنبی سا نکلا
کوئی
امید، کوئی وصل کا لمحہ نہ ملا
ہر
تسلی کا نتیجہ بھی ادھورا نکلا
نازؔ
دل نے تری چاہت کو عبادت جانا
پر
مقدر کا ورق ہم سے ہی خفا نکلا.....!!!!
*************
No comments:
Post a Comment