affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Tum se mil ker (Ghulam Qadeer ke naam) Poetry by Tasleem Shahzadi Naz

Saturday, 28 February 2026

Tum se mil ker (Ghulam Qadeer ke naam) Poetry by Tasleem Shahzadi Naz

شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ

نظم: تم سے مل کر (غلام قدیر کے نام)

 

 

تم سے مل کر

یوں لگا

کہ

جیسے

مجھے اک نٸی زندگی مل گئی ہو…

 

جیسے صدیوں سے بُجھا ہوا کوئی چراغ

اچانک ہوا کے دوش پر روشن ہو گیا ہو،

جیسے بے نام سی شام کے دامن میں

اک نرم سا سویرا اُتر آیا ہو...

 

تم سے مل کر

یوں لگا

کہ

جیسے

دل کو اس کا مداوا مل گیا،

جیسے بکھری ہوئی دعاؤں کو

اپنا قبلہ مل گیا...

 

ویران راستوں پر چلتے چلتے

جب قدم تھکنے لگے تھے،

جب خواب آنکھوں کی دہلیز پر

آ کر بھی لوٹنے لگے تھے،

تب تمہاری ایک مسکراہٹ نے

میرے اندر کے موسم بدل دیے...

 

تم سے مل کر

یوں لگا

کہ

جیسے

برسوں کی پیاس کو

پہلا قطرہ نصیب ہو گیا،

جیسے خشک شاخ پر

پہلا سبز پتّا اُگ آیا ہو...

 

میری خاموشیوں کو لفظ مل گئے،

میری الجھنوں کو راستہ،

میرے اندھیروں کو روشنی،

میرے دل کو ٹھکانا،

تمہاری آنکھوں میں جھانکا تو

اپنا ہی عکس نظر آیا،

ایسا لگا جیسے تقدیر نے

میرے نام کے ساتھ

تمہارا نام بھی لکھ رکھا تھا...

 

تم سے مل کر

یوں لگا

کہ

جیسے

ادھوری کہانی کو

آخری سطر مل گئی،

جیسے بے سُری دُھن کو

مکمل ساز مل گیا...

 

اب جب بھی ہوا چلتی ہے

تمہاری خوشبو لے آتی ہے،

چاند نکلتا ہے تو

تمہارا چہرہ یاد آتا ہے

اور

میں مسکرا کر سوچتی ہوں...

 

شاید محبت یہی ہوتی ہے،

جب کسی کی موجودگی

سانسوں میں اتر جائے،

اور

زندگی

محض زندگی نہ رہے،

بلکہ

ایک حسین دعا بن جائے...

 

تم سے مل کر

واقعی ہی

یوں لگا

کہ

جیسے

نازؔ کو اک نئی زندگی مل گئی ہو.....!!!!!!

*************

No comments:

Post a Comment