وہ
کہتا تھا کہ میرا نام اس کی تسبیح ہے
گرے
ملے ہیں چند دانے اور دھاگا ایک
نماز
فرض میں شامل میں ہوا کرتی تھی
تہجدوں
کا حاصل میں ہوا کرتی تھی
بدلہ
کب ذوق سخن دل کا چمن مرتد من
ٹوٹا
ہے سب کچھ پھر بھی نہ آئی آواز چھن
٭٭٭
تم
سمجھ کیوں نہیں پاتے میرے اندر کی رائیگانی
کوئی
آ کے مجھے بچاؤ میں راکھ ہو کہ بھی جل رہا ہوں
٭٭٭
جو
بس میں ہے ہی نہیں وہ بھی کر جاؤ گے
میری
محبت میں تم ہر حد سے گزر جاؤ گے
وقت
آنے پر یوں منہ پہ مکر جاؤ
مجھ
کو معلوم تھا تم مجھ سے بچھڑ جاؤ گے
٭٭٭
بھٹکتی
پھرتی ہوں میں کسی بدروح کی طرح
یہ
میرا دل کہیں چین کیوں نہیں پاتا
وہ
جس کی یادیں بُلاوا دیتی ہیں
وہ
حقیقت میں کیوں نہیں آتا
تیرے
ہجر کا چاند کیوں نہ ڈھلے
بیٹھی
پہروں رہوں کالے امبر تلے
کیوں
ہے یہ گھٹن میرا گھونٹے گلا
بن
کہے مجھ کو کوئی کیوں نہ سمجھے بھلا
٭٭٭
میں
اپنے آپ کو اس لیے بھی مجبور کرتی ہوں
سفر
دشوار جتنا ہو محتاجی خوار کرتی ہے
٭٭٭
تمہاری
یاد فقط ایک بار آتی ہے
ہزار
بار ہم آئینے میں دیکھتے ہیں
٭٭٭٭
By
Akira
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment