خراجِ عقیدت اے سفیرِ تاباں
تکلمِ مرشدِ کامل، نوائے سرمدی ٹھہرا
لبوں سے نور برستا ہے، پیامِ زندگی ہو کر
بناتِ زاہدِ دوراں، اسی گلشن کی کلیاں ہیں
وقارِ جاں نکھرتا ہے، عطاۓ ایزدی ہو کر
جبیں پہ عکسِ ازہرؔ ہے، درخشاں طور کی صورت
تجلی مسکراتی ہے، جمالِ کبریا ہو کر
وہ لہجہ مہر و الفت کا، وہ پدران
ہ سی شفقتیں
دلِ سنگیں پگھلتے ہیں، رِقّتِ سرمدی ہو کر
پکارا جب "شنیلہ بیٹی"، تو روحِ جاں مصفٰی ٹھہری
حجابِ ذات اٹھتے ہیں، فنا کی آگہی ہو کر
فنا ہونا تری نسبت میں، معراجِ بندگی ٹھہرا
مقدر جاگ اٹھتا ہے، خاکِ منزلی ہو کر
ازقلم: شنیلہ زاہدی (بارسلونا، سپین)
No comments:
Post a Comment