شاعرہ:
تسلیم شہزادی نازؔ
نظم:
انتُ الحیات (غلام قدیر کے نام)
اَنتَ
الحَیات…
میرے
لبوں کی خاموش دعا کا جواب تم،
میری
ویران شاموں کا مہتاب تم...
اَنتَ
الحَیات…
میرے
دل کی ہر دھڑکن کی صدا تم،
میری
روح کی ہر پیاس کی وفا تم...
جب
اندھیری راتوں نے گھیر لیا مجھے،
تم
امید بن کر اترے میرے خوابوں میں،
جیسے
سحر کی پہلی کرن
چُھو
لے تھکے ہوئے آسمان کو...
اَنتَ
الحَیات…
میرے
آنسوؤں کی مسکراہٹ تم،
میری
تنہائی کی رفاقت تم...
میں
جب بھی لفظوں میں تمہیں سمیٹنا چاہوں،
الفاظ
کم پڑ جاتے ہیں،
کیونکہ
تم
صرف محبت نہیں,
بلکہ
میری
ہر سانس کا سبب ہو...
تم
ہو تو موسموں میں رنگ ہیں،
تم
ہو تو دعاؤں میں اثر ہے،
تم
ہو تو دل کو قرار ہے،
ورنہ
سب کچھ بے نام و بے اثر ہے...
اَنتَ
الحَیات…
میری
دنیا کا مرکز تم،
میری
چاہت کی حد تم،
میری
ابتدا بھی تم،
سچ
تو یہ ہے
کہ
نازؔ
کی انتہا بھی تم....!!!!
**********************
No comments:
Post a Comment