affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Dil si gehrai Poetry by Maryam

Friday, 27 February 2026

Dil si gehrai Poetry by Maryam

دل سی گہرائی از قلم مریم

اُنھوں نے کہا کہ وہ اخلاص نبھا رہے ہیں کسی سے

وہ فقط بتارہے تھے_

ہم نے سمجھا نبھا رہے ہونگے_

 

وہ کسی سے مخلص ہو نہیں سکتے مریم

جو ہرنظر کو نظر کھول کے دیکھے،

ایک تم ہی دیوانے  تھے کہ،

سر جُھکا کہ چلتے تھے_

 

ہم بھی اُنھی میں سے ہے،جو افسانوں کے دنیا میں رہتے ہے،

جو ہمشہ ہنستےرہتے ہیں_

اُن سے بھی محبت کرتے رہے،

اپنی دنیا میں اُنھیں اپنا حاصل بناتے رہے_

زندگی نےکیااچھاستم کیاکہ،

جو پردہ گِرا آنکھوں سےافسانوں کا،

پھر آنکھ کھولا تو،

وہ لاحاصل ہی بہتر تھے_

 

میرے رب نے کہا کہ میں تجھے بہترین دوں گا تو ملال نہ کر،

نہ رو اپنا وقت زوال نہ کر،

نکل اُس نامحرم کے خیال سے دنیا تباہ نہ کر،

تُو تو مجھ سے اُمید رکھتا ہے_

یوں کسی کےلیے نااُمید نہ ہوا کر،

تُو تو بس مجھے اپنی کہانی سُنایا کرتا تھا_

اُنھیں نہ سُنایا کر،

تیری آنکھوں کو دیکھنے کے لیے کتنے ترستے ہے یہ مجھ سے پوچھا کر،

یوں کسی کےلیے خود کو بدصورت نہ کہا کر_

تمہارے لیے تو میں نے بہت اچھا سوچا ہے،

تُو اُس کےلیے اپنی دنیا برباد نہ کر_

اور تھوڑا صبر کر اے اُم مریم

میں تجھے اتنا دوں گا ،

تو ابھی سے غم نہ کھایا کر_

 

برسات کا موسم سب کے لیے آتاجاتا ہے،

میرے لیے تو صدیوں کے بعد آتا ہے_

وہ سُنھری شامیں اب بھی یاد آتی ہے،

وہ بارش چلاجاتا ہے،تو سارا جہاں بےتابی سے لال ہوجاتا ہے_

سورج نااُمید ہوکر ڈوب جاتی ہے،

اور ہم وہی اُمید باندھ کر بیٹھ جاتے ہیں_

گرمیوں میں ایک دن سُہانی یہ بھی آتی ہےکہ،

سارا جہاں اپنا غم دھولیتا ہے،

اور ہم رولیتے ہے_

بارش تو میرا پردہ ہے،

میرے آنسوؤں کو حجابوں میں رکھتاہے_

پھر ملتے ہے ہم اپنوں سے حجابوں میں،

اور بارش ہنستا ہے ،ہم پر

پھر برستا ہے ہم پر،

ہم شوق سے بھیگتے ہے،

وہ شوق سے بھیگاتے ہے_

اُن کو پتہ ہےہم اتنے مہینوں سے ،

اُن کا انتظار کرتے ہے،

وہ پھر اِسی خوشی سے ہنستے ہے،

اور ہم اِسی خوشی میں ہنساتے ہے_

 

وہ جو جھولا ہے میرے گھر کے پیچھے،

وہ اب تنہا ہوتا ہے ،اکثر بارشوں میں_

جب وہاں کے بادل ہمیں نہ دیکھتے ہے،

تو دُکھ کے مارے رو لیتے ہے_

یہاں تو وہ بادل آتے ہی نہیں،

یہاں کے بادل کہاں پردہ رکھتے ہے_

یہاں کہاں وہ تنہا جھولا ہوتا ہے،

جو ہمیں سہارا دیتا ہے،

اور نہ ہم اُن کو سہارا دیتے ہیں_

 

ستم گر تیرا بھی ستم خوب ہے،

آپ سے بات نہیں کرتے ،

اور آپ کے سِوا کسی کی بھی بات نہیں کرتے _

 

نام نہ پوچھو اُسکا،

وہ مجھ میں یوں سمایا ہوا ہے_

میں اُسکے رگ رگ سے واقف نہیں،

اور وہ میرے رگ رگ میں سمایا ہوا ہے_

وہ بےنام سا یوں سکوت ہے مجھ میں،

کہ خون کی طرح دل کی دھڑکنوں میں سمایا ہوا ہے_

نہ بولتا وہ ہے،نہ میں کلام کرتی ہوں،

لیکن دل میں وہ ہمکلام کی طرح سمایا ہواہے_

وہ نہ جانتا ہےمجھےنہ پہچانتا ہے،

میں اُسکا لمحہ بھی نہیں،

وہ میرے ہر ایک لمحہ میں سمایا ہوا ہے_

جِسے میں لمحہ یا نہیں،

اُسکی گفتگو میں،میں کھبی شامل ہی نہیں تھی،

اور وہ میرے ہر موضوع میں سمایا ہوا ہے_

 

وہ ہم سے محبت نہیں کرتے ،

اور ہم اقرار کرچلے_

وہ کسی اور سے پیار کرتے ہے،

ہم اعتبار کرچلے_

نہ مانگ عزت ابنِ آدم سے ،

ہم نے عزت کی ،

وہ بےعزت کرچلے_

اُنہی سے محبت تھی،اُنہی سے پیار ہے،اُنہی سے عشق ہوگا،

وہ ہمارے نہیں توکیا،کھبی تو ہونگے

اور ہم انتظار کرچلے_

کھبی تو دُعا قبول ہوگی،کھبی تو وہ ہمارے ہمنشیں ہونگے،

وہ نہیں تو کوںٔی نہیں سہی،

اسی بات کو ہم انا کرچلے_

اُنھوں نے بھی کی ہوگی کسی سے محبت مریم،

ہر کوںٔی دیوانہ تمہارا تھوڑی ہوگا،

ہم دل پتھر کا کرچلے_

لیکن یہ دل پتھر تھوڑی تھا،

ٹوٹا ہمارا ،ٹوٹا ہی سہی،

یہی خوش فہمی کو ہم یقین کرچلے_

 

کہاں ملیں گے تجھے جانثار کرنے والے،

کہاں ملیں گے تجھے خود سے زیادہ چاہنے والے،

ملیں گے تجھے چاہنے والے،پیار کرنے والے،محبت کرنےوالے،

کہاں ڈھونڈو گے،لیکن عشق کرنے والے_

تیرے نصیب میں ہم ہوتے اگر تم بھی محبت کرتے،

نہ تھا شاید تقدیر میں جُڑنا،

پر خوابوں میں تم ہی تھے میرے چاہنے والے_

تیری نظروں میں جو دیکھتا ہے وہ شاید کہیں نہیں،

کہاں ڈھونڈو گے تیرے آنکھوں کے اندر جہان کو چاہنے والے_

شاید یہ نا پیار تھا،نا محبت ،نہ تھی کوںٔی دل لگی،

یہ عشق تھی صاحب اور ہم تھےتیرے عشق میں تیری قید میں چاہنے والے_

 

محبت نہ کی تھی،عشق کیا تھا شاید

اور سزا ایسی ملی کہ گناہ کیا تھا شاید

 

سنسان وادیوں سے اب وحشت نہیں ہوتی،

گھر کے دریچوں سے اب وحشت نہیں ہوتی،

خاموش ہوا سے اب ہم کلام ہونے لگے_

کالی گھٹاہوں سے اب وحشت نہیں ہوتی،

اب پیار آتا ہے ،اِن کالی گھٹاہوں سے،

اب طوفان کے خدشہ سے وحشت نہیں ہوتی_

 

میرے محبوب میری ایک ہی غلطی تھی کہ،

میں نے تجھے خالص ہو کر چاہا تھا_

 

میری مثل سونے جیسی ہے،

نا چمکدار،نا دغادار ہے،

وفادار بہت،دلکش نہیں،

خالص بہت،مگر خیانتدار نہیں_

یہ جو چمکدار سونے کی مثل تمہیں دیتے ہے،

ٹھیک دیتے ہیں،

چمکدار بہت ،وفادار نہیں،

ملاوٹ بہت ہے تم میں،دلکش بھی بہت ہو،

ہر نقص سے مگر بھرے پڑے ہو تم،

دغا بہت کروگے ،

پسند بھی بہت کرینگے تجھے،

وفا نہ کرسکو گے،

منزل نہ پاسکو گے_

 

جب بھی پُرانی کتابوں کو کھولتی ہوں،

کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں،

ایک شخص بہت یاد آتا ہے،

ایک اپنا بہت یاد آیا ہے،

یہ جو پُرانے لمحے ہوتے ہیں،یہ زہر کی طرح ہوتے ہیں_

 

آج وہ میرے خوابوں میں نہیں آںٔے ،

شاید،

کسی اور کے خوابوں میں چلے گںٔے ہونگے_

 

عمر گنوا دی ہم نے تجھ سے پیار کرتے کرتے،

تو پھر بھی مل نا سکا ،مجھے برباد کرتےکرتے_

 

اِس جہان میں ،میں کیا ڈھونڈو،

اِن کتابوں میں دنیا بنالی_

اِن لوگوں کو کہاں ڈھونڈو،

کہ کتابوں میں دنیا بنالی_

خوشیوں کو اِس جہان میں کہاں ڈھونڈو ،

کہ کتابوں میں بنالی_

سکون کو اِس جہان میں کہاں ڈھونڈو ،

کہ کتابوں میں بنالی_

کبھی کبھار کتابیں بھی بڑا ظلم کرتی ہے،

اس جہان میں درد کو کہاں ڈھونڈو ،

کہ کتابوں میں بنالی_

 

اِن کتابوں کے بڑے احسان ہے مجھ پے،

کہ مرے ہوںٔے کو زندہ کرکے رکھتے ہے_

اِن کتابوں کے بڑے کرامات ہے مجھ پے،

کہ خوش کرکے رکھتے ہے_

اِن کتابوں کے بڑے ظلم ہے مجھ پے،

کہ دنیا میں پاگل بنا کر ،

خود میں عقلمند کرکرے رکھتے ہے_

 

یہ بے رُخی آںٔندہ نہ کیجیے گا،

قتل کرلیجیے،مگر نظر انداز نہ کیجیے گا_

 

آج تھا جنم دن میرا...

کوںٔی نہ آیا،

شاید دل بھر گںٔے ہونگے ،

جو میرے بغیر خالی رہتے تھے_

شاید اب چشم ہم سے بےزار ہوگںٔے ہونگے،

کبھی جو ہمیں دیکھ کر اُچل جاتے تھے_

مگر میرا دل کیوں نہیں بھرتا،

حقیقت یہی ہے،جو چشم بے چین تھے،

دیکھنے کے لیے،

وہ حاصل ہونے پر بےزار ہوتے ہیں_

جو دل غیرموجودگی میں خالی ہوتے ہے،

وہ حاصل ہونے پر بھر جاتے ہیں_

یہی ہے دنیا،حقیقت بھی یہی ہے،

او! آج تھا جنم دن میرا...

 

اِس دشتِ تنہاںٔی میں ،میں کہاں ڈھونڈو تجھے،

کہ ابھی تک تیرے ہجر کا غم نہیں بُھلایا جاتا_

راتیں میری یوں طویل ہوتی جارہی ہے،

کہ ان راتوں میں ،میں کہاں ڈھونڈو تجھے_

تہجد میں اُٹھ خدا سے بھی نہ مانگوں تجھے،

تیرے وصال کہ خوشی کو میں کیسے بتاؤں تجھے_

ایک آسیب زدہ میرا من ہوگیا،

کیسے میں اسیر ہوگںٔی،یہ کیسے بتاؤں تجھے_

آج کل غمِ دنیا،غمِ دل نے ہمیں کمزور کردیا،

ورنہ تو کیسے میرا ہوا،یہ میں بتاتی تجھے_

بنتِ حوا ضرور ہوں،اگرخوفِ خدا نہ ہوتا،

تو میں بتاتی کہ کیسے تو مکمل لگا مجھے_

 

کبھی دل کرتا ہے کہ پیچھے مُڑ کے اُن ماہ و سال کو دیکھوں،

کبھی سوچتی ہوں مگر کہ کیا بچا ہے اُن راہوں میں،

کیا کروگے تم جاکے اُن راہوں میں،

کہ جہاں ہجر کے غم کے سِوا کوںٔی تیرا غمگسار نہیں_

کہ جہاں تیرا طلبگار تنہاںٔی کہ سِوا کوںٔی نہیں،

نہ ماننے من میرا،

یہ ضدی بہت ہے،

سب ہار منا رے ہے اِس من کے آگے،

کہ میرے من کا محبوب تو دشتِ تنہاںٔی ہے_

اور تنہاںٔی کب میرے من کا اسیر ہوگیا نامعلوم مجھے،

یہ راتیں آج کل طویل بہت ہے،

ورنہ مجال میری کہ،

میں اِن وحشی راتوں سے منہ موڑو ،

بس سکون سے نہ جینے دیتا ،نہ مرنے دیتا یہ من میرا،

کاش یہ من انسان ہوتا،

تو کب کا میں ایک قاتل ہوتا_

 

یہ دل بد بخت اپنے لاحاصل محبت پے شرمندہ ہے مگر،

یہ چشم بدلحاظ اپنے ناکام محبت پے شرمندہ ہے مگر،

کیا خالص محبت لاحاصل ہی ہوتی ہے،

کیا خالص محبت ناکام ہی ہوتی ہے_

 

یہ دل شرمندہ ضرورمگر ناکام تو نہیں ،

یہ محبت لاحاصل ہے ضرور مگر ملاوٹ تو نہیں،

یہ چشم بدلحاظ ہے ضرور مگر پُرنم تو نہیں،

یہ زُبان بد اخلاق ہے ضرور مگر بےباک تو نہیں ،

یہ سانسیں سُست ضرور ہے مگر بھاری تو نہیں،

ابھی باقی ہے امتحان مریم...

یہ سفر تھکن سے بھرا ہے ضرور مگر ہاری تو نہیں؟..

 

حسرتیں میری اور بھی تھی،

چاہتیں میری اور بھی تھی،

جو مگر تجھکو نہ پانے کی حسرت نے نڈھال کردیا،

جو مگر تیری چاہت نے نڈھال کردیا،

کمال کردیا...

 

بناوٹ جو تم کرتے ہو،کسی کو پانے کے لیے،

مخلص ہوکر بھی،چاہ کر بھی کیا نہ پاسکے،

مخلص ہوکر تو دیکھو جاناں،

حسرتیں خود دامن چھوڑ دیتی ہے..

 

مخلص کہتے ہو ،اے نادان انسان!

کس زمانے میں ہو،کیسی بات کرتے ہو،

یہاں مخلص بشر نہیں پاںٔے جاتے،

یہاں مستقل ہمدرد نہیں پاںٔے جاتے،

سب بدل جاتے ہے،جان کہتے کہتے..

 

ڈھونڈ رہے ہو کیا تم وفا کے موتی،

اِن مٹی کہ بتوں میں،

غلط فہمی لے کر خوش فہمی پال رہے ہو..

 

اب اِن حسرتوں کا کیا کریں مریم

اِن کا ہم سے بہت پُرانہ رشتہ ہے،

گرمی کے شولے والے دھوپ سے لے کر سردی کے کڑکڑاتی شام تک یہ ہمارا ساتھ دیتے ہیں...

 

اب کہانی بدل چُکی ہے،

روانی بدل چُکی ہے،

رُت بدل چکے ہیں،

لوگ بدل چکے ہیں،

سیّانے بدل چکے ہیں،

نںٔے لوگ آچکے ہے،

تیری حیثیت بدل چکی ہے،

مگر اے دلِ نادان!

تو ابھی تک وہی ہے_

 

اب تو عادت سی ہے لوگوں کے یوں چلے جانا،

اب فرق نہیں پڑتا کسی کی حاضری سے،

اب تو عادت سی ہے لوگوں کے یوں روٹھ جانا،

اب فرق نہیں پڑتا اُنکی ناراضگی سے،

اب چلے جاتے ہے ،تو چلے جانے دو،

اب تو عادت سی ہے ،دل نہیں کرتا منانے کو،

اب تو عادت سی ہے لوگوں کے یوں چلے جانا،

اب فرق نہیں پڑتا کسی کی غیرحاضری سے_

 

ہر کسی پے دل آجایا نہیں کرتا،

ہر کسی پے ہم ایمان گوایا نہیں کرتے_

 

ایک لڑکی ہے انار سی...

جو اپنے رازوں کو انار کے بیج کی طرح.،.

جو انار کی طرح اپنے اندر بہت سارے درد چُھپا کے رکھتی ہے،

بظاہر وہ باہر سے ایک انار کے چھلکے کی طرح سخت ہے،

لال گلال ہے ،مگر جب اُسے کھولتے ہو،

تو اُس میں سے بہت ساری باتیں نکلتی ہے،

جیسے ایک انار کو کھولنے سے بیج نکلتے ہے،

کچھ کھٹے،کچھ میٹھے،

اِسی طرح اُس لڑکی کے راز بھی ،

کچھ اُداس،کچھ دردناک،

وہ دیکھاتی نہیں،بس چُھپاتی ہے،

ایک لڑکی ہے انار سی....

 

کوںٔی مجھ سے سچی محبت کیوں کریگا،

کوںٔی میرے لیے اپنا وقت ضاںٔع کیوں کریگا،

کوںٔی مجھے اپنے جان سے زیادہ کیوں چاہے گا،

میں تو ایک پل ہوں،اور جب یہ پل بھی بیت جاںٔے گا،

کوںٔی میری یاد میں آنسو کیوں بہاںٔے گا،

کوںٔی میرے لیے اپنی دنیا رد کیوں کریگا،

میں تو ایک خشک گلاب کے پھول کی طرح ہوں،

جِسے لوگ استعمال کرکے پھینک دیتے ہے،

کوںٔی میرے لیے درد کیوں سہے گا،

میں تو ایک نمکین سمندر ہوں،

کوںٔی میرے زخم کیوں بھرے گا،

کوںٔی میری فریاد کیوں سمجھے گا،

کوںٔی میرے لیے دُعا کیوں کریگا،

میں ایک اُجڑا ہوا باغ ہوں،

کوںٔی مجھے سرسبز کیوں کریگا،

میں ایک صحرا ہوں،

کوںٔی مجھے پانی کیوں دیگا،

میں ایک گہرںٔی جھیل کی مانند ہوں،

کوںٔی میری گہراںٔی میں کیوں اُترے گا،

کوںٔی مجھ سے کتابوں والا عشق کیوں کریگا،

میں تو ایک دنیاوی انسان ہوں،

کوںٔی مجھے پسند کیوں کریگا،

میں تو ایک پھتر ہوں،

جو دھوکے سے نہیں،

بلکہ لاحاصل سے ٹوٹے گا،

کوںٔی میرے لیے اپنی زندگی قُربان کیوں کریگا،

کیوںکہ میرے پاس کچھ بھی نہیں،

کچھ بھی نہیں.....

 

تمہیں تو متعبادل مل جاںٔیں گے،

بات ہماری ہے،ہم کدھر جاںٔیں گے،

تو جو پشیمان بھی ہے ،اپنی عادت سے،

بات ہماری ہے،

ہم زخم کیسے بھریں گے،

تو جو معصوم بھی بہت ہے،

دغاباز بھی نہیں،

بات ہمارے دل کی ہے،

وہ سودے بازی کیسے کریگا....

************

No comments:

Post a Comment