affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Sad Poetry
Showing posts with label Sad Poetry. Show all posts
Showing posts with label Sad Poetry. Show all posts

Sunday, 29 April 2018

Ye jaza saza k tlusam hai mera tera es m qasoor kya

جو بے رخی ہے بجا نہیں،یہ ادائیں کیوں؟یہ غرور کیا؟
یہ گریز کس لئے اس قدر،یہ خفا خفا سے حضور کیا؟


تجھے یاد کرنا مذاق تھا،تجھے بھول جانا عذاب ہے
یہ سزا ہے جرمِ فراق کی،میرے حافظے کا قصور کیا


تیرے ساتھ ہے جو تیری انا،میرے ساتھ میرا نصیب ہے
مجھے تجھ سے کیسی شکائیتں،تجھے خود پہ اتنا غرور کیا!


کوئی خواب تھا کہ سراب تھا،جو گزر گیا،سو گزر گیا
یہ بصیرتوں کا قصور کیوں،یہ بصارتوں کا فتور کیا


یہ تمہارا چہرہ کتاب ہے،اسے پڑھ رہا ہوں ورق ورق
ذرا بات سادہ لکھا کرو،یہ محاوروں کی سطور کیا


دلِ خود پسند صدا نہ دے کہ یہ اک صداؤں کا دشت ہے
کہیں کھو گئے ہیں جو بھیڑ میں،ہمیں ڈھونڈنا ہے ضرور کیا؟


سبھی پھول تیرے نصیب میں،سبھی خار میرے حساب میں
یہ جزا سزا کا طلسم ہے،میرا تیرا اس میں قصور کیا



Wednesday, 21 March 2018

jub hum mily thy by Maryam Sheikh



وہ عام سی ہی شام تھی
جب ہم ملے تھے
انجانی راہوں پے چلے تھے
کالی آنکھوں نے دل لوٹ تھا
یہ دل روز سے دھڑکا تھا
برستی بارش میں ہاتھ تھامے تھے
بہتے آنسو مسکراہٹ میں بدلے تھے
ایک چھوٹی سے کرنیٹو دی تھی
کہا کچھ بھی نہیں تھا
مگر محبت کر بیٹھے تھے
بارش میں خوب بھیگے تھے
ساری رات جاگے تھے
نئے سپنے پروے تھے
وہ بھی عام سی شام تھی
برستی بارش میں کرنیٹو پگھلی تھی
دو ہاتھ چھوٹے تھے
آنسو پھر سے بہے تھے
محبت گنوا بیٹھے تھے
جب ہم ملے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریم شیخ
جب ہم ملے تھے

Wednesday, 10 January 2018

"محبت مار دیتی ہے" Muhabbat mar deti hai by Shamsa Iqbal






"محبت مار دیتی ہے"
سادہ سی وہ اِک لڑکی
آنکھوں میں ہر پل جِسکی
خواب رقص کرتے تھے
آسکی روشن آنکھوں سے
جگنو روشنی چُراتے تھے
محبت کے ذکر پر
پہلے مسکراتی تھی
پھر محبت کی حمایت میں
چاہتوں کے عنوان پر
گھنٹوں بولا کرتی تھی
آج جو برسوں بعد
ملا میں اُس سے
تو دیکھا کہ اُن روشن آنکھوں میں
اب بسیرا ہے ویرانی کا۔۔۔
اب محبت کے ذکر پر
اُسکی ویران آنکھوں میں
آنسوؤں کا سمند ر
ٹھاٹیں مار کر اُٹھتا ھے۔۔
محبت کی حمایت میں
وہ اب کچھ نھیں کہتی
بس لب بھینچے
وہ سر جھکا کر
آنسو پیتی رھتی ہے
قرب کا گہرا احساس
اُسکےچہرے پر رھتا ہے۔۔
دیکھ کر اُداسی اُسکی۔۔
پھر میں یہ جان جاتی ہوں
میں یہ مان جاتی ہوں
محبت مار دیتی ہے
دکھوں کے ہار دیتی ہے۔۔
ہاں۔۔ محبت مار دیتی ہے۔۔۔
 
Written by : .
شمسہ اقبال

Wednesday, 27 September 2017

Wo dost ab nahi rahy (old & beautiful memories)

نہ اب وہ دوست ہیں 
نہ اب وہ قصے کہانیاں ہیں 
نہ اب کوئی حال پوچھتا ہے 
نہ اب کوئی حال سُناتا ہے 
نہ اب کوئی میری سیٹ  کے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی ٹریٹ کے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی بارش میں نہاتا ہے 
نہ اب کوئی سموسہ کھلاتا ہے 
نہ اب کوئی میری اسائنمنٹ کاپی کرتا ہے 
نہ اب کوئی اگزیمز کی رات ہنساتا ہے 
نہ اب کوئی بنک کرتا ہے 
نہ اب کوئی پروکسی لگواتا ہے 
نہ اب کوئی کیک کاٹتا ہے 
نہ اب کوئی گفٹ دیتا ہے 
نہ اب کوئی مسیج سین کرتا ہے 
نہ اب کوئی کمینٹ کرتا ہے 
نہ اب کوئی بھائی کی گاڑی چرا کے لاتا ہے 
نہ اب کوئی سارا لاہور گھماتا ہے 
نہ اب کوئی کافی ساتھ پیتاہے 
نہ اب کوئی کش ساتھ لگاتا ہے 
نہ اب کوئی وہ جھوٹی منگنی کی خبریں اڑاتا ہے 
نہ اب کوئی بریک اپ پے ٹریٹ مانگتا ہے 
نہ اب کوئی فلموں ڈراموں پر بحث کرتا ہے 
نہ اب کوئی میرے کرش میں کیڑے نکالتا ہے 
نہ اب کوئی پیزا ہٹ جاتا ہے 
نہ اب کوئی بریانی کھلاتا ہے 
نہ اب کوئی میچنگ کپڑے پہنتا ہے 
نہ اب کوئی پینڈو کہہ کر دل جلاتا ہے
نہ اب کوئی میری جینز پہنتاہے 
نہ اب کوئی میری پاکٹ منی چراتا ہے 
نہ اب کوئی میرے پیسوں سے کھاتا ہے 
نہ اب کوئی میری چیزیں چھپاتا ہے 
نہ اب کوئی میری چاکلیٹس کھاتا ہے 
نہ اب کوئی کوک پلاتا ہے 
نہ اب کوئی میرے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی مجھ سے لڑتا ہے 
نہ اب وہ دوستوں کی چھیڑ چھاڑ ہے 
نہ اب وہ قہقہوں کی بوچھاڑ ہے 
نہ اب کوئی میری شادی پے آنے کا پلین کرتا ہے 
نہ اب کوئی اپنی پے بلاتا ہے 
نہ اب وہ پہلے سے دن ہیں 
نہ اب وہ پہلی سی راتیں ہیں 
نہ اب کوئی ساتھ ہنستا ہے 
نہ اب کوئی ساتھ روتا ہے 
اب اور کیا بتاؤں 
کالج کا وہ چپا چپا اب اداس رہتا ہے 
جہاں کبھی قہقوں کی بوچھاڑ ہوتی تھی 

ہماری سرگوشیوں کا گواہ وہ درخت 
اب ویرانیوں سے اجڑ گیا 
ان گول گپوں کا کیا پوچھتے ہو صاحب 
وہ ٹھیلا بھی اب ختم ہوگیا ہے
وہ جن ہواؤں میں بسی تھیں دوستی کی خوشبوئیں 
وہ ہوائیں بھی اب رخ موڑ گئیں ہیں

 وہ اب واٹس ایپ پروفائل پر گزارا کرنے والے دوست 
سمجھتے ہیں مرنے والے کا حال اچھا ہے 
وقت کی آندھیوں نے رخ ایسا موڑا ہے 
کوئی جیے یا مرے اب کس کو تھوڑا ہے
وہ دن اب اداس رہتے ہیں 
وہ راتیں بھی اب سسکتی ہیں 
وہ ہزاروں کی جھرمٹ میں سجا چاند 
اب اکیلا ہی ہنستا ہے 
اب اکیلا ہی روتا ہے
وہ دن بھی اب گئے 
وہ راتیں بھی اب گئیں 
جب روتے تھے تو یار ہوتے تھے 
جب ہنستے تھے تو یار ہوتے تھے 

"مریم شیخ"

Saturday, 16 September 2017

یقین توڑے ۔۔۔۔ گمان چھینے



یقین توڑے ۔۔۔۔ گمان چھینے
ملے جو فرصت تو سوچنا کہ
تمہارے لفظوں نے میری آنکھوں سے
کیسے کیسے جہان چھینے
سکون لے کر ۔۔۔۔۔۔قرار لے کر
بس ایک پل میں جھٹک کے دامن
بدل کے رستہ چلے گئے ہو
شکستگی کے عذاب دے کر

وہی ہیں اآنسو ۔۔۔۔ وہی ہیں نالے

عمر بھر کی مسافتوں کے

بعد جسکو پتا چلے کہ

بھٹک گیا ہوں میں راستے سے

بتاؤ ہمدم ذرا یہ مجھکو

وہ اشک روکے یا ___دل سنبھالے


میں وہ ساری جگہیں دیکھنا چاہتی ہوں



میں وہ ساری جگہیں دیکھنا چاہتی ہوں
جنھیں تمھاری موجودگی نے مرتعش کر دیا
میں ان تمام راستوں سے گزرنا چاہتی ہوں
جن پر تمھارے قدموں نے منزلیں تراشیں
میں ان ہواؤں کو پینا چاہتی ہوں
جنھیں تمھاری خوشبو نے سیراب کیا
میں وہ ساری کتابیں پڑھنا چاہتی ہوں
جن کے حروف تمھارے مطالعے سے روشن ہیں
میں ان ساری چیزوں کو چھونا چاہتی ہوں
جنھیں تمھارے لمس نے جاوداں کردیا
میں تمھیں بالواسطہ یا بلاواسطہ
ایک لمحے کو بھی پا سکوں
تو صدیاں اسے دان کردوں گى

Wednesday, 16 August 2017

جو میں نے پوچھا کہ ساتھ دو گے؟




جو میں نے پوچھا کہ ساتھ دو گے؟
کہا تھا تم نے
بہت ہیں ساتھی
نہیں ہے ممکن
سبھی کو کھو کر تمہارا ہونا
منا کے ماتم بہت ہے سوچا
یقین آیا کے تم ہو سچے
تمہاری فطرت ہی میں نہیں ہے
کے خود سے ہٹ کر
کسی کو سوچو
نہیں ہے چاہت
تمہیں کسی کی
کسی کو چاہو
تو اس کو روکو
ہماری خواہش سدا یہی تھی
یہی رہے گی
سہل ہو جیون تمہارا ہمدم
ملے جو فرصت تو ملنا مجھ سے
تمہارے مسئلے کا حل ہے سوچا
سبھی کو کھو کر ہمارا ہونا
تمہیں جو دشوار لگ رہا تھا
تو فکر چھوڑو
سبھی کو رکھو بنا کے ساتھی
تمہیں بدلنا نہیں ہے آتا
تو کیا ہوا پھر
کہانی باقی وہی رہے گی
بس ایک کردار مر گیا ہے
ملے جو فرصت تو اس سے ملنا
________

Monday, 31 July 2017

چَل آ اِک ایسی نظم کہوں۔۔!


چَل آ اِک ایسی نظم کہوں۔۔!
جو لفظ کہوں وہ ہو جائے۔۔
بس’’ اشک‘‘ کہوں تو،
اِک آنسو ترے گورے گال کو دھو جائے۔۔
مَیں’’ آ‘‘ لکھوں،
تُو آ جائے۔۔
میں ’’بیٹھ‘‘ لکھوں،
تُو آ بیٹھے۔۔
مرے شانے پر سر رکھے تو،
مَیں’’نِیند‘‘ کہوں،
تُو سو جائے۔۔
میں کاغذ پر’’تِرے ہونٹ‘‘ لکھوں،
تِرے ہونٹوں پر مُسکان آئے۔۔
میں’’ دِل‘‘ لکھوں،
تُو دِل تھامے۔۔
میں’’ گُم‘‘ لکھوں،
وہ کھو جائے۔۔
تِرے ہاتھ بناؤں پینسِل سے،
پھر ہاتھ پہ تیرے ہاتھ رکھوں۔۔
کُچھ’’ اُلٹا سِیدھا‘‘فرض کروں،
کُچھ’’ سِیدھا اُلٹا ‘‘ہو جائے۔۔
میں’’ آہ ‘‘لِکھوں،
تُو "ہائے" کرے۔۔
’’بے چین‘‘ لکھوں،
بے چین ہو تُو۔۔
پھر میں بے چین کا ’’ب ‘‘کاٹوں،
تُجھے چین زرا سا ہو جائے۔۔
ابھی’’ ع‘‘ لکھوں،
تُو سوچے مجھے۔۔!
پھر’’ش‘‘ لکھوں،
تِری نیند اُڑے۔۔!
جب’’ ق‘‘ لکھوں،
تُجھے کُچھ کُچھ ہو۔۔
مَیں’’ عِشق ‘‘لِکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تُجھے ہو جائے..

Monday, 17 July 2017

تعلق


میں نے تعلق کو یہاں

فرصتوں کا محتاج پایا ھے

Sunday, 2 July 2017

نہیں ہے اب ساتھ تمہارا



بھیگی بھیگی سڑکیں
لہلہاتے درخت
ٹھنڈی ہوا
برستی بارش
ساتھ تمہارا
اور یہ چائے
ہاں یہ بھی تو ہے
ساتھ ہماری خاموشی کی
گواہ ہے ہماری
محبّتوں کی
یہ چائے اور یہ بارش
ان دونوں سے ہے گہرا تعلق
چائے سے اٹھتے دھویں میں
اب بھی عکس تمہارا دیکھتا ہے
اور یہ بارش جب بھی اتی ہے
یادیں تمہاری ساتھ لاتی ہے
سب ویسا ہی ہے
یہ چائے اور یہ بارش
بس ایک کمی ہے
نہیں ہے اب ساتھ تمہارا 

تحریر ..
عینی اسد

Saturday, 4 February 2017

جو آنا چاہو ہزار رستے، نہ آنا چاہو تو عُذر لاکھوں


جو آنا چاہو ہزار رستے___ نہ آنا چاہو تو عذر لاکهوں

مزاج برہم، طویل رستہ، برستی بارش، خراب موسم

Tuesday, 24 January 2017

ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ


ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ،
ﯾﮧ ﻓﺮﺍﻕ ﻟﻤﺤﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺷﺖِ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮐﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺤﺎﺏ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ،
ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ
ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮨﻢ ﺳﯽ،
ﺗﯿﺮﮮ ﻟﻔﻆ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺭﻭﭖ ﮨﮯ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ!
ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻠﺴﻠﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺴﺒﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮔﻼﺏ ﺳﮯ
ﺍﺳﮯ ﺟﯿﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﻨﺸﯿﮟ

 ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺎﻡ ﻟﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﻻ ﮐﮯ ﺟﺒﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ،
ﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮩﺮ ﺗﮩﮧِ ﺁﺏ ﺳﮯ
ﻭﮨﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ،
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺣﺎﺻﻞِ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺑﺎﺏ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭼﺮﺍ ﻟﯿﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﮯ

Friday, 28 October 2016

Farz kro


فرض کرو

 تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا
کسی دن فرض کرو
کہ تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے
ایک پل، ایک دن یا ایک مہینہ بھی فرض کیا جا سکتا ہے لیکن احتیاطاً
ایک سال ہی سہی
فرض کر لو تو کسی عام آدمی کا بھیس بدل کر
اپنے گھر یا اپنے شہر جاؤ
اور لوگوں میں بیٹھ کر اپنا ذکر کرو
اور دیکھو
کہ تم جو ایک مشہور آدمی تھے اور کافی لوگوں میں مقبول بھی
تمہاری موت کے بعد
لوگ جو تمہیں بمشکل یاد رکھے ہوئے ہیں
تمہارے بارے میں گفتگو کرنے میں ذرا بھی دلچسپی محسوس نہیں کرتے
جو جو شخص
تم سے پیار کرتا تھا اتنا
کہ پل بھر کی جدائی بھی اسے عذاب لگتی تھی
اور اس وقت تک کھڑا رہتا تھا
جب تک تم اپنی نشست پر بیٹھ نہیں جاتے تھے
اور کبھی تمہاری آواز سے
اپنی آواز بلند نہیں ہونے دیتا تھا
اب اس کے پاس اتنا وقت نہیں
کہ کہیں بیٹھ کے چند گھڑیاں تمہارے ساتھ بیتے ہوئے لمحات یاد کر سکے
پھر وہاں سے آگے چلو
اور کسی ایسے آدمی کو تلاش کرو
جو تمہاری شاعری پہ دل و جان سے فدا ہو
اور تمہارا اتنا معتقد ہو
کہ ہمہ وقت ہاتھوں میں تمہاری کتابیں اٹھائے
اور ہونٹوں پر تمہارے شعر سجائے پھرتا ہو
لوگوں کو
دن رات تمہاری نظمیں سناتا تھکتا نہ ہو
تم اس سے ملو
اور اس سے گزارش کرو
کہ وہ تمہیں تمہاری نظمیں سنائے
اور تمہارے بارے میں اپنے خیالات اور اپنی معلومات کا اظہار کرے
وہ تمہاری بات سنتے ہی تمہیں اپنے پاس بڑے احترام سے بٹھا لے گا
اور بڑی خوشی اور گہری دلچسپی سے تمہیں تمہاری ساری شاعری سنا ڈالے گا
اور کہے گا
"فرحت شاہ ایک عظیم شاعر تھا
اس کی شاعری پڑھ کے ہوں لگتا ہے
جیسے اس نے لوگوں کے دلوں اور روحوں کے اندر اتر کے شاعری کی ہو
مجھے تو اس کی شاعری سے عشق ہے
یوں لگتا ہے جیسے اس نے سارا کچھ خود میرے متعلق ہی لکھ ڈالا ہے
میرے دل کا عالم اور حالات زندگی
بالکل ایسے ہی ہیں جیسے اس نے لکھا ہے
اس کی ایک ایک سطر پڑھتے ہوئے
مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ بات تو میں خود کہنا چاہتا ہوں"
وہ شخص تمہیں بتاتا جائے گا ایسی ہزاروں باتیں
جن میں تمہارا کم اور اس کا اپنا حوالہ زیادہ ہو گا
ہاں صرف ایک سال بعد
تم جس کسی سے بھی ملو گے
جس سے بھی اپنے بارے پوچھو گے
صورت حال مختلف نہیں ہو گی
گویا تمام باتیں کسی زندہ آدمی کے لیے جاننا تقریباً ناممکن ہے
لیکن پھر بھی
کسی دن تم فرض تو کرو
کہ تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے
اے میرے گمنام اور اجنبی فرحت شاہ

فرحت عباس شاہ

Thursday, 27 October 2016

Ranj kitna bhi kren en ka zamany waly


رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے

 

کیسی بے فیض سی رہ جاتی ہے دل کی بستی
کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے

 

ایک پل چھین کے انسان کو لے جاتا ہے
پیچھے رہ جاتے ہیں سب ساتھ نبھانے والے

 

لوگ کہتے ہیں کہ تو دور افق پار گیا
کیا کہوں اے مرے دل میں اتر آنے والے

.

جانے والے تری مرقد پہ کھڑا سوچتا ہوں
خواب ہی ہوگئے تعبیر بتانے والے

 

ہر نیا زخم کسی اور کے سینے کا سعودؔ
چھیڑ جاتا ہے مرے زخم پرانے والے

 

شاعر : سعودؔ عثمانی

Bohat Mumkin tha


بہت ممکن تھا
میرے پاؤں ،میرے زیست کے
کانٹے نکل جاتے
بہت ممکن تھا
میری راہ کے پتھّر پگھل جاتے
جو دیواریں میرے رستے میں حائل تھیں
میرے آگے سے ہٹ جاتیں
اگر تم آنکھ اٹھا کر دیکھ لیتے
کوہساروں کی طرف اک پل
چٹانیں اک تمہاری جنبش ابرو سے کٹ جاتیں
بہت ممکن تھا
انگاروں بھری اس زندگانی میں
تمہارے پاؤں کے اجلے کنول کھِلتے
رفاقت کی سنہری جھیل میں
دونوں کے عکس ضوفشاں بنتے
بس اک خواب مسلسل کی فضا رہتی
ہماری روح کب ہم سے
خفا رہتی
یہ سب کچھ عین ممکن تھا
اگر تم مجھ کو مل جاتے

(اعتبار ساجد)

Tuesday, 23 August 2016

Tumhara Khat mila janan

تمہارا خط ملا جاناں۔
وہ جس میں تم نے پوچھا ہے
کہ اب حالات کیسے ہیں؟
میرے دن رات کیسے ہیں؟
مہربانی تمہاری ہے
کہ تم نےاس طرح مجھ سے
میرے حالات پوچھے ہیں
میرے دن رات پوچھے ہیں
تمہیں سب کچھ بتا دونگا!
تمہیں سب کچھ بتا دونگا
مجھے اتنا بتاؤ کہ
کبھی ساگر کنارے پر
کسی مچھلی کو دیکھا ہے؟
کہ جسکو لہریں پانی کی،
کنارے تک تو لاتی ہیں
مگر پھر چھوڑ جاتی ہیں
میرے حالات ایسے ہیں
میرے دن رات ایسے ہیں

Saturday, 23 July 2016

Bebasi k chader mein

بےبسی کی چادر میں
چھید تو بہت سے ہیں
پھر بھی اس کے دامن میں
اک سکون سا بھی ہے
دھوپ چھاؤں کے لمحے
اس میں ہی گزاریں ہیں
بارشوں کے موسم میں
بھیگتے رہے ہیں ہم
دلخراش لمحوں سے
داغ داغ ہے چادر
ان کہی سی کچھ باتیں
اس کی خوشبوؤں میں ہے
دل لگی سی کچھ یادیں
اس کی وسعتوں میں ہیں
بے قراری کے نغمے
جا بجا منقش ہیں
ہم نے زندگی ساری
بےبسی کی چادر کی
قید میں گزاری ہے
ہاں تیرے بنا جاناں
زندگی ہی ہاری ہے

Wednesday, 22 June 2016

Main Tujhe Chahta Nahi Lekin,

Main Tujhe Chahta Nahi Lekin,

Phir Bhi Jab Paas Tum Nahi Hoti,

Khudko Kitna Udaas Paata Hoon,

Gumse Apne Hawas Pata Hoon,

Jaane Kya Dhun Samayi Rehti Hai,

Ek Khamoshi Si Chhayi Rehti Hai,

Dilse Bhi Guftagu Nahi Hoti,

Phir Bhi Jab Paas Tu Nahi Hoti,


Main Tujhe Chahta Nahi Lekin,

Phir Bhi Shab Ki Taveel Khalwat Mein,

Tere Aukat Sochta Hoon Main,

Teri Har Baat Sochta Hoon Main,

Kaunse Phool Tujhko Bhaate Hai,

Rang Kya Kya Pasand Aate Hai Tujhe,

Kho Sa Jata Hoon Teri Jannat Mein,

Phir Bhi Shab Ki Taveel Khalwat Mein,


Main Tujhe Chahta Nahi Lekin,

Phir Bhi Ehsaas Se Nijaat Nahi,

Sochta Hoon To Ranj Hota Hai,

Jaise Dilko Koi Dabota Hai,

Jisko Is Darja Chahta Hoon Main,

Jisko Itna Sarahta Hoon Main,

Usmein Teri Si Koi Baat Nahi,

Phir Bhi Ehsaas Se Nijaat Nahi...

Tuesday, 14 June 2016

بھلائیں گے اسے

بھلائیں گے اسے

لیکن 

 ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ
ابھی رستے میں ہے وہ موج
کہ ساحل تک نہیں پہنچی
جو گیلی ریت کی چادر پہ بکھرے
اس کے قدموں کے نشاں
وارفتگی سے چوم کر معدوم کر ڈالے
ابھی پت جھڑ کا سایہ اس قدر گہرا نہیں اترا
کہ دل کی سوکھتی ٹہنی سے
اس کی آرزو کا آخری پتا بھی جھڑ جائے
ابھی تک میں نے اس احساس کی مٹھی نہیں کھولی
کہ جس میں قید کر رکھی ہے اس کے لمس کی حدت
ابھی دوری کی نشترکاریوں کے زخم بھرنے دو
زرا سا وقت کے مرہم کو اپنا کام کرنے دو
نواحِ جاں سے اس کے قرب کا احساس جانے دو
میرے کاندھے سے اس کے آنسوؤں کی باس جانے دو
ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ 

 بھلائیں گے اسے
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, 11 June 2016

اے نیل گگن

مت بول پیا کے لہجے میں (مکمل نظم)
-
اے شام
مجھے برباد نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے شام
عجیب سی ویرانی
مرے سینے میں آباد نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے شام
کئی سو صدیوں کے
قیدی بیچارے اشکوں کو
مری آنکھوں سے آزاد نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مت بول پیا کے لہجے میں

اے وقت
تو ایسا کام نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے وقت
پرائی دنیا میں
مرے ہر سُو ہجر کی شام نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں

اے وقت
زمانہ ظالم ہے
تو بیچ ہر اک چوراہے کے
مرے پیا کو یوں بدنام نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مت بول پیا کے لہجے میں
اے رات نگر ویران نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں

اے رات
سکوت ہے پہلے ہی
اس دل۔۔۔ زخموں کے دریا میں
اب اور اسے سنسان نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں

اے رات
میں دکھ کا مارا ہوں
کوئی وصل وصال بشارت دے
یہ ہجر مرا ایمان نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
کوئی نور کرن
کوئی دیپ جلا
مجھے پیا کی اپنی رس کی بھری
میٹھی دلدار آواز سنا
مرا یوں تاریک جہان نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مت بول پیا کے لہجے میں

اے بادِ صبا
خاموش گزر جا باغوں سے
مت بول پیا کے لہجے میں
ہمیں خوف آتا ہے داغوں سے

اے نیل گگن
تری وسعت وصف سہی تیرا
میں پنچھی، بادل، سیّارہ، پورن ماشی
میں بچھڑے یار کا متلاشی
اے نیل گگن
ترے قریہ قریہ اڑنا مرا دیوانہ پن
مت بول پیا کے لہجے میں
اے کہکشاں
تری چمک دمک
مرے پیا کی لانبی پلکوں کی بس ایک جھلک
بس ایک جھلک مرے پیا کے نوری ماتھے کی
مرے دل کو کچھ کچھ ہو جاتا ہے فوراً ہی
مجھے تری صدا ہی کافی ہے
مت بول پیا کے لہجے میں
بے چین ہوا
مت چھُو مجھ کو
مرے زخم نہ کھلنے لگ جائیں
میں جن باتوں کو بھول چکا
اور چھوڑ چکا ہوں مدت سے
آآ کے نہ ملنے لگ جائیں
بے چین ہوا
مت بول پیا کے لہجے میں
مرے کان نہ جلنے لگ جائیں
مرے ہونٹ نہ سلنے لگ جائیں

بے چین ہوا
مت دیکھ مجھے
مت دیکھ مجھے کسی نابینا کی نظروں سے
مرے ہونے پر یوں ظلم نہ ڈھا
بے چین ہوا

بے چین ہوا
اُسے یاد نہ کر
اُسے دھیرے دھیرے یاد نہ کر
وہ یاد آیا
تو آنکھیں اپنی آئی پر آجائیں گی
پھر دریا کے دھاروں کی طرح
جانے کب تک نیر بہائیں گی
بے چین ہوا
نیندیں نہ اُڑا
مرے جیون جوگ کو جوگ سمجھ
بے چین ہوا مرا سوگ منا
مرے دل کے روگ کو روگ سمجھ
میں پہلے ہی بے کل ہوں بہت
پانی سے بھرا بادل ہوں بہت
اور رونے میں جل تھل ہوں بہت
بے چین ہوا
بے چین ہوا
مرے پاس نہ آ
مرا دل نہ جلا
مت بول پیا کے لہجے میں

بے چین ہوا
مت چھیڑ مجھے
مرے ساتھ عجیب فریب نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
میں شہر میں جتنا تنہا ہوں
اتنا ہی رہنے دے مجھ کو
مری غم کے سفر سے جان چھڑا
یہ سفر مری پازیب نہ کر
بے چین ہوا
مجھے چھینٹے مار نہ بارش کے
مجھے اتنا رمز شناس نہ کر
میں ہوں تو مجھ ہی کو رہنے دے
مری آس امید اُداس نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں

اے رُت مستانی
ظلم نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مری روح کا سارا بنجر پن
مری ویرانی
کہاں انجانی ہے پیا کی ہجر کہانی سے
میں کس کے دوارے جا بیٹھوں
میں کس سے پوچھوں اس کا پتہ
اے رُت مستانی
پیا بنا ہے ساری دنیا بیگانی
مت بول پیا کے لہجے میں
مرے جذبوں کو مہمیز نہ کر
احساس کو اور بھی تیز نہ کر
مرے غم کی فصلوں کے کارن
دِل کی مٹی زرخیز نہ کر
مرے پاس نشانی یہی تو ہے
آواز اُداس ہواؤں کی
مری لُوں لُوں نے ہے پہچانی
مت بول پیا کے لہجے میں
-
فرحت عباس شاہ