affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Poem
Showing posts with label Poem. Show all posts
Showing posts with label Poem. Show all posts

Monday, 14 July 2025

Spark of Hope Poem by Ayesha Asif

SPARK OF HOPE

Written by: Ayesha Asif

 

Life needs a hope, a single one might be,

And that hope needs another hope.

Extemporaneous efforts, untouched, unrehearsed with desultory,

Cantankerous, unhappy, unsatisfied, annoyed.

Annoyed from being hopeless?

Hopes are born, constructed, created…

One strives with thunder to gain hope.

Galumph, move, further, ahead faster,

Towards your ease with filled jars of motivation.

Intrinsically, being attentive to that spark,

That spark, you always had worked for!

Unpredictable things would take your way,

Would adopt protagonist role,

in the untold episode of your story,

Would try even harder to make you fall,

To make you surrender towards your fate!

These joys were only temporary,

So were the sorrows you had.

The globe, keeping you in that undefined circle,

Compelling you, to move around and around,

Pushing, like you were a compulsory part.

Like you were a dream that never diminishes,

As if these dreams must always be centralized!

That story, words, emotions weren’t finished,

Scratched, untold and stayed incomplete.

Producing hope, like growing colorful flowers,

in the barren field or in the garden of your story.

Coloring life with the colors of hope,

Adding some more colors, few more desires.

With strong intentions and powerful spark of hope.

That hope, witnessed in those eyelids,

Present in that heart like a behest!

You weren’t tucked in that globe,

You were there to find your way, your option,

And your ray of hope!

 *********************

Thursday, 5 July 2018

Fizza Batool Poetry


تاروں کی زیارت کیا کرنا
یادوں کی حفاظت کیا کرنا
شب بھر کی اداسی بے معنی
بے کار ریاضت کیا کرنا
کیوں تجھ کو پکارا چاہت سے
خواہش پہ ملامت کیا کرنا
الفت کی امیدیں چھوٹ گئیں
یک طرفہ محبت کیا کرنا
کچھ کالی بھوری آنکھیں تھیں
سازش کی شکایت کیا کرنا
ہے دل میں گماں پر لب پہ قفل
بے کار کی حجت کیا کرنا
آزاد رہیں میرے سان و گمان
پابند سلاسل کیا کرنا
یہ جور و ستم یہ درد و الم
پر جاؤ! شکایت کیا کرنا
اب چپ بھی رہو تم اے لوگو!
اتنی بھی بغاوت کیا کرنا
احساسں ندامت کیا کہیے
اک حرفِ دعا کا کیا کرنا
دل لہو لہو لب سلے سلے
اب اور عنایت کیا کرنا
سر پھوڑ لیا دل مار لیا
اب اور کیا کہنا کیا کرنا
ہے ایک حقیقت دل کی لگی
پر تم یہ حماقت نہ کرنا
آزار سہی پر ڈٹے رہو
ظالم کی حمایت کیا کرنا
یہ اہل جہل ہیں ستم ظریف
لفظوں کو بے حرمت کیا کرنا
اب فضؔہ چلیں اس بستی سے
پتھر کی عبادت کیا کرنا




Saturday, 4 November 2017

Intezar _انتظار


انتظار
چلے آؤ کہ اب سورج کے ڈھلتے ہی مری آنکھیں !
سیہ ہوتے فلک پر گننے لگتی ہیں ستاروں کو
سنا تھا یہ کبھی میں نے
فلک پر جتنے تارے ہیں
اگر وہ گن لیے جائیں
تو پھر جو بھی دعا مانگیں
وہ پوری ہوکے رہتی ہیں
چلے آؤ!
کہ اب آنکھیں مری تھکنے لگی ہیں
اور دعائیں مانگتے لب بھی


عاطف سعید 

Wednesday, 27 September 2017

Wo dost ab nahi rahy (old & beautiful memories)

نہ اب وہ دوست ہیں 
نہ اب وہ قصے کہانیاں ہیں 
نہ اب کوئی حال پوچھتا ہے 
نہ اب کوئی حال سُناتا ہے 
نہ اب کوئی میری سیٹ  کے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی ٹریٹ کے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی بارش میں نہاتا ہے 
نہ اب کوئی سموسہ کھلاتا ہے 
نہ اب کوئی میری اسائنمنٹ کاپی کرتا ہے 
نہ اب کوئی اگزیمز کی رات ہنساتا ہے 
نہ اب کوئی بنک کرتا ہے 
نہ اب کوئی پروکسی لگواتا ہے 
نہ اب کوئی کیک کاٹتا ہے 
نہ اب کوئی گفٹ دیتا ہے 
نہ اب کوئی مسیج سین کرتا ہے 
نہ اب کوئی کمینٹ کرتا ہے 
نہ اب کوئی بھائی کی گاڑی چرا کے لاتا ہے 
نہ اب کوئی سارا لاہور گھماتا ہے 
نہ اب کوئی کافی ساتھ پیتاہے 
نہ اب کوئی کش ساتھ لگاتا ہے 
نہ اب کوئی وہ جھوٹی منگنی کی خبریں اڑاتا ہے 
نہ اب کوئی بریک اپ پے ٹریٹ مانگتا ہے 
نہ اب کوئی فلموں ڈراموں پر بحث کرتا ہے 
نہ اب کوئی میرے کرش میں کیڑے نکالتا ہے 
نہ اب کوئی پیزا ہٹ جاتا ہے 
نہ اب کوئی بریانی کھلاتا ہے 
نہ اب کوئی میچنگ کپڑے پہنتا ہے 
نہ اب کوئی پینڈو کہہ کر دل جلاتا ہے
نہ اب کوئی میری جینز پہنتاہے 
نہ اب کوئی میری پاکٹ منی چراتا ہے 
نہ اب کوئی میرے پیسوں سے کھاتا ہے 
نہ اب کوئی میری چیزیں چھپاتا ہے 
نہ اب کوئی میری چاکلیٹس کھاتا ہے 
نہ اب کوئی کوک پلاتا ہے 
نہ اب کوئی میرے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی مجھ سے لڑتا ہے 
نہ اب وہ دوستوں کی چھیڑ چھاڑ ہے 
نہ اب وہ قہقہوں کی بوچھاڑ ہے 
نہ اب کوئی میری شادی پے آنے کا پلین کرتا ہے 
نہ اب کوئی اپنی پے بلاتا ہے 
نہ اب وہ پہلے سے دن ہیں 
نہ اب وہ پہلی سی راتیں ہیں 
نہ اب کوئی ساتھ ہنستا ہے 
نہ اب کوئی ساتھ روتا ہے 
اب اور کیا بتاؤں 
کالج کا وہ چپا چپا اب اداس رہتا ہے 
جہاں کبھی قہقوں کی بوچھاڑ ہوتی تھی 

ہماری سرگوشیوں کا گواہ وہ درخت 
اب ویرانیوں سے اجڑ گیا 
ان گول گپوں کا کیا پوچھتے ہو صاحب 
وہ ٹھیلا بھی اب ختم ہوگیا ہے
وہ جن ہواؤں میں بسی تھیں دوستی کی خوشبوئیں 
وہ ہوائیں بھی اب رخ موڑ گئیں ہیں

 وہ اب واٹس ایپ پروفائل پر گزارا کرنے والے دوست 
سمجھتے ہیں مرنے والے کا حال اچھا ہے 
وقت کی آندھیوں نے رخ ایسا موڑا ہے 
کوئی جیے یا مرے اب کس کو تھوڑا ہے
وہ دن اب اداس رہتے ہیں 
وہ راتیں بھی اب سسکتی ہیں 
وہ ہزاروں کی جھرمٹ میں سجا چاند 
اب اکیلا ہی ہنستا ہے 
اب اکیلا ہی روتا ہے
وہ دن بھی اب گئے 
وہ راتیں بھی اب گئیں 
جب روتے تھے تو یار ہوتے تھے 
جب ہنستے تھے تو یار ہوتے تھے 

"مریم شیخ"

Saturday, 16 September 2017

یقین توڑے ۔۔۔۔ گمان چھینے



یقین توڑے ۔۔۔۔ گمان چھینے
ملے جو فرصت تو سوچنا کہ
تمہارے لفظوں نے میری آنکھوں سے
کیسے کیسے جہان چھینے
سکون لے کر ۔۔۔۔۔۔قرار لے کر
بس ایک پل میں جھٹک کے دامن
بدل کے رستہ چلے گئے ہو
شکستگی کے عذاب دے کر

وہی ہیں اآنسو ۔۔۔۔ وہی ہیں نالے

عمر بھر کی مسافتوں کے

بعد جسکو پتا چلے کہ

بھٹک گیا ہوں میں راستے سے

بتاؤ ہمدم ذرا یہ مجھکو

وہ اشک روکے یا ___دل سنبھالے


میں وہ ساری جگہیں دیکھنا چاہتی ہوں



میں وہ ساری جگہیں دیکھنا چاہتی ہوں
جنھیں تمھاری موجودگی نے مرتعش کر دیا
میں ان تمام راستوں سے گزرنا چاہتی ہوں
جن پر تمھارے قدموں نے منزلیں تراشیں
میں ان ہواؤں کو پینا چاہتی ہوں
جنھیں تمھاری خوشبو نے سیراب کیا
میں وہ ساری کتابیں پڑھنا چاہتی ہوں
جن کے حروف تمھارے مطالعے سے روشن ہیں
میں ان ساری چیزوں کو چھونا چاہتی ہوں
جنھیں تمھارے لمس نے جاوداں کردیا
میں تمھیں بالواسطہ یا بلاواسطہ
ایک لمحے کو بھی پا سکوں
تو صدیاں اسے دان کردوں گى

Sunday, 27 March 2016

محبّت آزمانے دو

ابھی کچھ دن مجھے
میری محبّت آزمانے دو ..
مجھے خاموش رہنے دو ..
سنا ہے عشق سچا ہو تو
خاموشی لہو بن کر ..
رگوں میں ناچ اٹھتی ہے ..
ذرا اس کی رگوں میں
خاموشی کو جھوم جانے دو ..
ابھی کچھ دن مجھے
میری محبّت آزمانے دو ..
اسے میں کیوں بتاؤں
میں نے اس کو کتنا چاہا ہے .. .
بتایا جھوٹ جاتا ہے ..
کہ سچی بات کی خوشبو تو
خود محسوس ہوتی ہے ..
میری باتیں ..
میری سوچیں ..
اسے خود جان جانے دو ..
ابھی کچھ دن مجھے
میری محبّت آزمانے دو ..
اگر وہ عشق کے احساس کو
پہچان نہ پائے..!
مجھے بھی جان نہ پائے..
تو پھر ایسا کرو اے دل ..
خود ہی گمنام ہوجاؤ ..
مگر اس بےخبر کو زندگی بھر مسکرانے دو

Wednesday, 23 March 2016

پہلے میں تیری نظر میں آیا


پہلے میں تیری نظر میں آیا
پھر کہیں اپنی خبر میں آیا
میں ترے ایک ہی پل میں ٹھہرا
تو مرے شام و سحر میں آیا
ایک میں ہی تری دھن میں نکلا
ایک تو ہی مرے گھر میں آیا
تو مرا حاصل ہستی ٹھہرا
میں ترے رخت، سفر میں آیا
وصل کا خواب اجالا بن کر
شام کی راہگذر میں آیا
ہم جو اک ساتھ چلے تو یوسف
آسماں گرد سفر میں آیا

Saturday, 19 December 2015

ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﻮ.....

ﺗﻢ ﺑﮯ ﺛﻤﺮ ﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﻮ ﺍﻣﯿﺪ
ﺗﻢ ﺭﮨﮕﺬﺍﺭ ﺷﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﮧ ﺟﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺁﺭﺯﻭ ﮨﻮ ﺍﮨﻞ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﯽ ﮨﻮ ﺧﻠﺶ
ﺗﻢ ﺭﺗﺠﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﻟﻤﺤﮧ ﺳﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮨﻮ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ
ﺗﻢ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﯿﻂ ﺣﻮﺍﺱ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺍﮎ ﮐﺮﻥ ﮨﻮ ﻧﻮﺭ ﺍﺯﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ
ﺗﻢ ﺗﺎﺯﮔﯽ ﮨﻮ ﺷﺒﻨﻤﯽ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺱ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﮯ ﻣﻮﺗﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻟﻤﺲ
ﺗﻢ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﺸﺎﻥ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺸﻢ ﻧﻢ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﮩﮑﺸﺎﮞ
ﺗﻢ ﺣﺴﻦ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﻮ, ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﻮ

Friday, 16 October 2015

ہجر



کئی برسوں سے آنکھوں میں
مسلسل اک سمندر ہے
تمہیں بچھڑے ہوئے مدت ہوئی
لیکن یہ لگتا ہے
تمہارے ہجر کا پہلا ہی عشرہ کٹ نہیں پایا
وہ منظر چشمِ حیرت سے ابھی تک ہٹ نہیں پایا
کہ جب تم ـــــــــ ایک ساعت میں
جدائی سونپ کر مجھ کو
ہمیشہ کیلئے اُس دیس کو نکلے
جہاں جاتے ہوئے وعدے تو ہوتے ہیں
مگر ــــــــــ پورے نہیں ہوتے

Saturday, 10 October 2015

کبھی تو دیکھنا

کبھی تو دیکھنا اور دیکھ کر مسکرا دینا کبھی نظریں چرا کر میری الجھن بڑھا دینا اچانک بے رخی اتنی دل بھر گیا ہو گا کہا بھی تھا کبھی ایسا ہوا تو بتا دینا تمہیں دکھ ہی یہ دیں گے چلو تم ایسا کر لینا میرے سب کارڈز اور تحفے دریا میں بہا دینا تم گر دیکھ لو تو شاید تم بھی نرم پڑ جاؤ تمہارے ذکر پر وہ میرا نظریں جھکا دینا دیکھو لے آیا آخر کس مقام پر ہم کو تمہارا معمولی باتوں کو بھی یوں ہوا دینا کبھی دیکھا ہے مچھلی کو کہ زندہ ہو بنا پانی؟؟ 
اگر ایسا ہوا ممکن مجھے بے شک بھلا دینا

Saturday, 3 October 2015

ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ


ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﺑﮭﺮﮮ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯽ
ﺑﮩﺖ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺗﮭﯽ
ﺟﺴﮯ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺗﻤﻨﺎ ﺗﮭﯽ
ﮐﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﺮﻡ ﺣﺮﻓﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻼﺣﺖ
ﺗﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻮ ﻟﮯ
ﺍﺳﮯ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺗﻤﻨﺎ ﺗﮭﯽ
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﺴﺮﺕ ﺗﮭﯽ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ۔۔۔ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﻮ ﮨﻮ
ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺗﻨﮩﺎ ﮨﻮ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮ !
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﺑﮭﺮﮮ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﻌﺼﻮﻡ
ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺗﮭﯽ
ﺟﺴﮯ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﺎ ﺩﮐﮫ ﮨﮯ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ..!!!



کسی پر نظم لکھنے سے


کسی پر نظم لکھنے سے

کوئی مِل تو نہیں جاتا

کوئی تعریف

بانہوں کے برابر تو نہیں ھوتی

کسی آواز کے پاوں

کبھی دل پر نہیں چلتے

کبھی کشکول میں

قوس و قزح اُتری نہیں دیکھی

صحیفہ رِحل پر رکھنے سے

قرآں تو نہیں بنتا

کسی نے آج تک

شاعر کے آنسو

خود نہیں پونچھے

دلاسہ ، لفظ کی حد تک ھی اپنا کام کرتا ھے

کسی خواھش کو

سینے سے لگانے

کی اجازت تک نہیں ھوتی

تمھاری ضد کو پُورا کر دیا دیکھو

ستارے ، چاند، سُورج ، روشنی، خوشبو،

تمھارے دَر پہ کیا کیا دھر دیا دیکھو

 گُلِ فردا !!
ابھی کِھل جاو ! کہنے سے


کوئی کِھل تو نہیں جاتا

کسی پر نظم لکھنے سے

کوئی مِل تو نہیں جاتا

Friday, 2 October 2015

Hum Aksar Sab Se Kehte hain



Hum Aksar Sab Se Kehte hain
Q Khwab Adhore Rehte Hain .?

Q Yaad Kisi Ki Ati Hay ?
Q Dard Jigar Mein Hota Hy?

Q Qadam Behkne Lagte Hain?
Ham Jab B Chalne Lagte Hain

Q Palken Num Ho Jati Hain?
Ham Jab B Hansne Lagte Hain

Aksr Raaton Ki Tareeki.
Yaadon K Zeher Ugalti Hy.

Q Hijar Ka Mosam Ata Hy ?
Jab Wasal Ki Batain Hoti Hain..

Q Log Deewane Hote Hain?
Q Dard Hazaron Sehte Hain?


Hum Aksar Sab Se Kehte Hain.
Q Khwab Adhore Rehte Hain........!!

ﮐﭩﮭﻦ ﻣﺴﺎﻓﺘﯿﮟ



ﮐﭩﮭﻦ ﻣﺴﺎﻓﺘﯿﮟ
ﺑﮍﯼ ﮐﭩﮭﻦ ﯾﮧ ﻣﺴﺎﻓﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑِﭽﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍُﺳﯽ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﺠﺎ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﮟ ﺩﻻﺅﮞ
ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ ﮨﮯ
ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﻼﺅﮞ ﺗﻮ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺅﮞ
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﯿﮟ

ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍُﺳﮯ ﺧﺒﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺷﺎﯾﺪ
ﻣﯿﮟ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ۔

Thursday, 1 October 2015

Jub Dil Tumhara Apna Ho...

 

Jub Dil TumHara Apna Ho


Jub Dil Tumhara Apna Ho
Par Baten Sari Us K hon
Sub Sansen Tumhari Apni Hon
Or Khushboo Ati Us K ho
Jub Had Darja Masroof Ho Tum
Wo Yaad Achanak Aa Jaey
Jub Ankhen Neend Se Bojhal Hon 
Tum Pass Usy He pao Tu
Phr Khud Ko Dhokha Mt Dena
Or Us Se Ja K Keh Dena...
Is Dil Ko Muhabbat Hai Tum se  

Tuesday, 22 September 2015

Tum Aao Tu Hum Bhi Eid Kren..... ^_^



Tum Aao To Hum Bhi Eid Kren
Hasrat Hai Tumhari Deed Kren
Kuch Der To Dil Ko Chain Mily
Kuch Roz To Man K Phool Khilen 
Kethy Hain K EID k Aamad Hai
Hum Log Bhi Kuch Taeed Kren
Tum Se Ik Yeh Guraish Hai
Ye Apny Dil K khawish Hai 
Ik Bar Milo
Ik Bar Milo
Har Bar Yehi Takeed Kren
Man K Hum Deewany Hain 
Sub Baton Se Anjany Hain
Jub Apny Bhi Begany Hain 
Gharon Se Kya Umeed Kren
Tum Aao Tu Hum Bhi Eid Kren
Tum Aao Tu Hum Bhi Eid Kren 

Thursday, 14 May 2015

کوﺋﯽ ﺗﻮ ﮬﻮﺗﺎ





  کوﺋﯽ ﺗﻮ ﮬﻮﺗﺎ

,ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻃﺮ ﺍﺩﺍﺱ ﺟﺎﮌﮮ ﮐﯽ ﺳﺮﺩ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ 

ﺭَﺗﺠﮕﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮩﺘﺎ

ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﺼﮯ ﮐﮯ ﺯﺧﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮕﺮ ﭘﮧ ﻟﯿﺘﺎ

ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺷﮏ ﭘﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﺭﻭﺗﺎ

ﺟﺪﺍﺋﯽ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﺩﺍﺱ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﻮ, ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﺮﻭﮞ ﺍﺩﺍﺱ ﺭﮬﺘﺎ

ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻠﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣﯿﮟ

ﻣﯿﮟ خود ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻟﺠﮫ چکی ﮬﻮﮞ

ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﭘﺎ ﮨﮯ

Monday, 11 May 2015

Tumhen Malom Hai...




Tumhen Maloom hai ....

Hum ny  

Kise K hijar Mein

Ye Zindage Kesy Guzari hai 

Hr Ik Khushboo K Aahat Pr 

Guman Us kaGuzarta Tha 

Hr Ik Sat Pr Ye  Dil ......

Aankhon M ein Aa K Beth Jata Tha 

Kae Phelo Badelti Hue Khawishen Haton Ko Phelaey 

Dua'en Mangti Or Hanpti Dil Se 

Guzarti The 

Mager Jo Hijar Lahaq Hai 

Wo Jism-o-Jan K Dewaren Girata Hai

Umeed-o-phem Ke Ankhon Se 

Benaie K Sabhi Manzer

Khak Kerta Hai Or Mitata Hai

So Hum Bhe Khak Hain Or Khak Ke Taqdeer M likha ....!   







Saturday, 9 May 2015

محبت یوں نہیں اچھی ۔۔۔۔






کوئی وعدہ نہیں ہم میں
نہ آپس میں بہت باتیں
نہ ملنے میں بہت شوخی
نہ آخرِ شب کوئی مناجاتیں
مگر ایک ان کہی سی ہے
جو ہم دونوں سمجھتے ہیں
عجب ایک سرگوشی سی ہے
جو ہم دونوں سمجھتے ہیں
یہ سارے دلرُوبا منظر
طلسمی چاندنی راتیں
سنہری دُھوپ کے موسم
یہ ہلکے سُکھ کی برساتیں
سبھی ایک ضد میں رہتے ہیں
مجھے پہم یہ کہتے ہیں
محبت یوں نہیں اچھی
محبت یوں نہیں اچھی ۔۔۔