affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Khawab Poetry
Showing posts with label Khawab Poetry. Show all posts
Showing posts with label Khawab Poetry. Show all posts

Saturday, 23 April 2016

ہر ایک خوابِ سفر آنسوؤں میں ڈھل جائے


ہر ایک خوابِ سفر آنسوؤں میں ڈھل جائے
میں جس کے ساتھ چلوں راستہ بدل جائے

عجیب رسم ہے دنیا میں آب و دانے کی
لگائے تخم کوئی اور کسی کو پھل جائے

وہ پھول خواب جنہیں دیکھنے میں عمر لگے
ذرا سی دیر کو آئے وہ اور مَسل جائے

عجب گھٹن سی تھی دل میں تو یہ خیال آیا
تھمے جو آج یہ دھڑکن تو جی سنبھل جائے

جو میرے ساتھ ہوا میں ہی جانتا ہوں عدیل
کسی کے ساتھ ہو یہ سب تو دم نکل جائے

Friday, 15 April 2016

خواب




صبح کے اجالوں میں ڈھونڈتا ھے تعبیریں

 دل کو کون سمجھاۓ خواب خواب ھوتے ھیں

Thursday, 14 April 2016

یہ تھکا تھکا سا جو چاند ہے


 
یہ تھکا تھکا سا جو چاند ہے

 
یہ تو خواب ہے ، کسی آنکھ کا
 ،
جسے جاگنے کی سزا ملی
 ،
یہ جو چاند ہے ، یہ عذاب ہے
 ،
وہ عذاب
 ،
جس نے ملا دیا ہے گلاب لمحوں کو خاک میں
 ،
یہ جو چاند ہے ، یہ جواب ہے
 ،
کسی اس طرح کے سوال کا
 ،
کہ جو آج تک نا اٹھا کبھی کسی زہن میں
 ،
یہ جو چاند ہے
 ،
یہ تو باب ہے کسی درد کا
 ،
کسی حجر کا ، کسی وصل کا
 ،
کسی زرد زرد سی فصل کا
 ،
یہ تھکا تھکا سا جو چاند ہے
 ،
کبھی بن پڑے تو یہ اس سے پوچھ کے دیکھنا
 
اِسے گہری گہری سی نیند سے
 ،
بھلا کس نے آ کے جگا دیا ؟
 
اِسے روگ کس نے لگا دیا . . . ؟

Tuesday, 29 March 2016

تُو نے کہا تھا عشق ڈھونگ ہے

تُو نے کہا تھا عشق ڈھونگ ہے
 
تجھے عشق ہو خدا کرے
 
کوئی تجھ کو اُس سے جُدا کرے
 
تيرے ہونٹ ہنسنا بھول جائيں
 
تيری آنکھ پُرنم رہا کرے
 
تُو اسکی باتيں کيا کرے
 
تُو اُسکی باتيں سُنا کرے
 
اُسے ديکھ کر تُو رُک پڑے
 
وہ نظر جھکا کر چلا کرے
 
تُجھے ہجر کی وہ جھڑی لگے
 
تُو ملنے کی ہر پل دُعا کرے
 
تيرے خواب بکھريں ٹُوٹ کر
 
تُو کِرچی کِرچی چُنا کرے
 
تُو نگر نگر پھرا کرے
 
تُو گلی گلی صدا کرے
 
تُجھے عشق ہو پھر يقين ہو
 
اُسے تسبيعوں ميں پڑھا کرے

Monday, 28 March 2016

خواہش ہے کے اس طور سے جیون کو گزاروں



خواہش ہے کے اس طور سے جیون کو گزاروں
ہر عکس تیرے حسن کا آنکھوں میں اُتاروں
وہ تشنہ لبی ہے کے سمجھ کچھ نہیں آتا
دریا کو صدا دوں کے سمندر کو پُکاروں

جیون بھی تو الجھی ہوئی ڈوروں کی طرح ہے
اس سوچ میں گم ہوں کے اسے کیسے گزاروں ؟

اب اس کے سوا میرا کوئی خواب نہیں ہے
ہر سانس کو خوشنودی جاناں پہ میں واروں

بہتر ہے کے اب موت کو سینے سے لگا لوں
اس من کو تیرے ہجر میں اب کتنا میں ماروں

پہلے تو فقط حسرت دیدار تھی واثق
اب یہ بھی طلب ہے کے اسے جیت کے ہاروں

جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو

جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو
تو ایک شب بھی نا سو سکو گے
کے لاکھ چاہو نا ہنس سکو گے
ہزار چاہو نا رو سکو گے
کے خواب کیا ہیں عذاب ہیں یہ
میرے دکھوں کی کتاب ہیں یہ
رفاقتیں ان میں چھوٹی ہیں
محبتیں ان میں روٹھتی ہیں
اذیتیں ان میں پھوٹتی ہیں
انہی کے ڈر سے خزاں ہیں جذبے
انہی سے شاخیں سی ٹوٹتی ہیں
غموں کی بندش ہیں خواب میرے
دکھوں کی بارش ہیں خواب میرے
ابل رہا ہے دکھوں کا لاوا
رہیں آتَش ہیں خواب میرے
خیال سارے جھلس گئے ہیں
سلگتی خواہش ہیں خواب میرے
اکھڑتی سانسیں ہیں زندگی کی
لہو کی سازش ہیں خواب میرے
جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو
تو ایک شب بھی نا سو سکو گے

Saturday, 26 March 2016

Barka’ein Meri Piyaas Ko Aksar Teri Ankhein..!!


Barka’ein Meri Piyaas Ko Aksar Teri Ankhein..!!
Sehra Mera Chehra Hay, Samander Teri Ankhein..!!
Phir Kaun Bhala Daad-e-Tabassum Inhein Dega..!!
Roo’yein Ghi Buhat Mujse Bichar Kar Teri Ankhein..!!
Khali Jo Howi Shaam-e-Gharibaan Ki Hatheli ..!!
Kia Kia Na Lutaati Rahein Guhar Teri Ankhein..!!
Boojal Nazar Aati Hein Bazahir Muje Laikin..!!
Khulti Hein Buhat Dil Mein Uther Kar Teri Ankhein..!!
Ab Takh Meri Yadoon Say Mitaye Nahe Mitt’ta
Bheegi Howi Ek Shaam Ka Manzer, Teri Ankhein..!!
Mumkin Hoo Toa Ek Taza Ghazal Aur Bhi Keh Loon..!!
Phir Oarh Nah Lein Khuwaab Ki Chader, Teri Ankhein..!!
Mein Sang-e-Sift Eik Hi Rastey Mein Khara Hoon..!!
Shayid Muje Dekhein Ghi Palat Kat Teri Ankhein…!!
Yun Dekhtey Rehna Ussey Acha Nahe Mohsin..!!
Woh Kaanch Ka Pekar Hay Toa Pather Teri Ankhein..!!

Friday, 25 March 2016

وفا......Wafa



میں سارے جذبے
تمام وعدے
دعائیں ساری
سبھی ارادے
ہر اک تمنا
ہر ایک خواہش
خواب اپنا
خمار سارے
محبتوں کے نصاب سارے
جو تم کو دے دوں
تو اتنا کیہ دو
وفا کرو گے

ہم ترے خواب دیکھتے رہیں گے

سو رہیں گے کہ جاگتے رہیں گے
ہم ترے خواب دیکھتے رہیں گے
تو کہیں اور ڈھونڈتا رہے گا
ہم کہیں اور ہی کھلے رہیں گے
راہ گیروں نے رہ بدلنی ہے
پیڑ اپنی جگہ کھڑے رہیں گے
لوٹنا کب ہے تونے پر تجھ کو
عادتاَ ہی پکارتے رہیں گے
برف پگھلے گی اور پہاڑوں میں
سالہا سال راستے رہیں گے
تجھ کو چھونے کے بعد کیا ہوگا
دیر تک ہاتھ کانپتے رہیں گے
سبھی موسم ہیں دسترس میں تری
تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے
ایک مدت ہوئی ہے تجھ سے ملے
تو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے
تجھ کو پانے میں مسئلہ یہ ہے
تجھ کو کھونے کے وسوسے رہیں گے
شکریہ مستقل مزاجی کا
ہم ترے ہیں تو ہم ترے رہیں گے

Thursday, 24 March 2016

ادھر دیکھو میرے چہرے پہ پھیلے اِس کرب کو




ادھر دیکھو
 میرے چہرے پہ پھیلے ہر طرف
اِس کرب کو دیکھو
اندھیری رات کے غم کو
میں کیسے جھیل آئی ہوں
ہتھیلی کی لکیروں کو
ذرا پڑھ کر یہ بتلاؤ!
ابھی قسمت میں میری
اور کتنا صبر لکھا ہے
سنو.... اندر میرے
اِک گونجتی وحشت کا ڈیرہ ہے
مری سنسان آنکھوں پہ
ترے خوابوں کا پہرہ ہے
تمہارے وصل کی موہوم سی امید پر میری
ابھی تک سانس چلتی ہے
مری آنکھوں کے یہ آنسو
مری پلکوں پہ ڈھلنے کو
بہت بے تاب رہتے ہیں
کہو خاموش کیوں ہو تم؟
کیا اب خواہش نہیں باقی؟
یا سب افسانہ لگتا ہے؟
مجھے کیوں وہم ہوتا ہے؟
کہ مجھ سے کھو چکے ہو تم؟
بہت ہی بے وفا ہو تم
تمہیں واپس نہیں آنا!
مگر! "یہ جھوٹ ہے" کہہ دو
کہ یہ وقتی سا وقفہ ہے
بہت ہی جلد گزرے گا
تم اپنا نام لکھ دو گے
میرے اس نام کے آگے
کہو تم وقف کر دوگے
محبت ...نام پر میرے
کہو تم وقف کر دوگے
کہو تم وقف کر دوگے
مناہلؔ فاروقی

اب حرفِ تمنّا کو سماعت نہ مِلے گی

اب حرفِ تمنّا کو سماعت نہ مِلے گی


اب حرفِ تمنّا کو سماعت نہ مِلے گی
 
بیچو گے اگر خواب تو قیمت نہ مِلے گی

تشہیر کے بازار میں اے تازہ خریدار
 
زیبائشیں مِل جائیں گی قامت نہ مِلے گی

لمحوں کے تعاقب میں گُزر جائیں گی صدیاں
 
یُوں وقت تو مِل جائے گا مُہلت نہ مِلے گی

سوچا ہی نہ تھا یُوں بھی اُسے یاد رکھیں گے
 
جب اُس کو بُھلانے کی بھی فرصت نہ مِلے گی

تا عمر وہی کارِ زیاں عشق رہا یاد
 
حالانکہ یہ معلوم تھا اُجرت نہ مِلے گی

تعبِیر نظر آنے لگی خواب کی صُورت
 
اب خواب ہی دیکھو گے بشارت نہ مِلے گی

آئینہ صفت وقت! تِرا حُسن ہیں ہم لوگ
 
کل آئینے ترسیں گےتو صُورت نہ مِلے گی

Tuesday, 19 January 2016

آنکھیں


وہ آنکھیں
جھیل سی آنکھیں
بہت گہری ہیں
ان میں تیرتے آنسو
کئی مفہوم رکھتے ہیں
وہ آنکھیں
ایک مدت سے
بدلتے موسموں
بنتے،بگڑتے منظروں کی زد میں ہیں
لیکن
انہیں کچھ خواب
اپنے مخملیں احساس سے مسحور رکھتے ہیں
وہ آنکھیں
منتظر ہیں،کب کوئی آئے
حسیں خوابوں کو اپنے سحر سے
تعبیر میں بدلے
بہت سی ان کہی باتوں کے در کھولے
بہت سے بے نشاں جذبوں کو
آحساس شراکت دے

وہ گہری جھیل سی آنکھیں
کئی قصے سنانے کے لیے بے چین پھرتی ہیں
وہ گہری جھیل سی آنکھیں
کئی مفہوم رکھتی ہیں
 

Sunday, 1 November 2015

اے اجنبی

سنو! 
اے اجنبی سے مہرباں 
 لیکن بہت اپنے
بہت دل کے سخی ہو تم
تمہاری آنکھ کے ہر رنگ میں
مرہم نما کچھ خواب بستے دیکھتی ہوں میں
تمہیں چھو کر نہیں دیکھا
مگر۔۔۔۔۔ میں اپنی سانسوں میں
عجب سی خوشبوئوں کے لمس پاتی ہوں
کبھی تم اپنے لہجے میں
کسی گزری مسافت کی تھکن جب گھولتے ہو تو۔!
میں اپنی خواہشوں کا ہر قدم بوجھل سا پاتی ہوں
تمہاری آنکھ میں کیسا انوکھا رنگ ہے پیارے؟
میرے خوابوں کے رنگوں سا
یا شائد پھر کوئی تعبیر لگتا ہے
تمہاری بات میں پھولوں سی کومل دلفریبی ہے
انہیں چن کر خیالوں میں کئی گجرے بناتی ہوں
انہیں جب دل میں دہرائوں۔۔۔
مہک تازہ ہی پاتی ہوں
مگر۔۔۔۔پیارے!
حقیقت.. زہر ہے پھر بھی حقیقت ہے
میرے دل کے کسی کونے میں۔۔۔
اِک لڑکی۔۔۔۔۔۔
بہت سہمی سی رہتی ہے
جسے بدلی رتوں کو دیکھنے سے خوف آتا ہے
کہ جسکے ذرد آنچل کے ۔ڈھلکتے ایک پلو میں
بندھی ہیں کرچیاں۔۔۔۔
یادوں کی۔۔۔خوابوں کی۔۔۔عذابوں کی
وہ یہ کہنے سے ڈرتی ہے
سنو !
اے اجنبی اپنے۔۔میرا آنچل نہیں اتنا
نئے خوابوں کی بکھری کرچیاں اس میں سمو پائیں
میری آنکھیں بہت بنجر۔۔
یہ اتنا رو نہ پائیں گی
کہ تازہ زخم دھو پائیں
مجھے تو راس ہے بس ایک ہی موسم
زیاں موسم۔۔۔خزاں موسم
۔یا شائد رائیگاں موسم

ﮐﺴﯽ ﺷﻤﻊ ﭘﮧ ﭘﺮﻭﺍﻧﮧ____ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺼﺪﺍً ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﺗﺎ

ﮐﺴﯽ ﺷﻤﻊ ﭘﮧ ﭘﺮﻭﺍﻧﮧ____ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺼﺪﺍً ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﺗﺎ ...
ﺍﺳﮯﺗﻮ ﻭﺻﻞ ﮐﮯﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺴﺮﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﯾﮧ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ،، ﺗُﻮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺘﺎ ...
ﺗﯿﺮﮮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﻓﺼﺎﺣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻨﺎ ...
ﮐﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻮﻗﻌﻮﮞ ﭘﺮ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻧﺎﻣﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﻨّﺎ ﺑﮭﯽ ...
ﺍﺭﮮ ﺯﺍﮨﺪ،،، ﺩﮐﮭﺎﻭﮮ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﺮﺩﮦ ﺿﻤﯿﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺗﻌﺠﺐ ﮐﺲ ﻟﺌﮯ ﺍﺗﻨﺎ؟؟؟؟
ﯾﮧ ﺑﮯ ﻭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﺗﮯ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﺳﻨﻮ ﻋﮩﺪِ ﺷﺒﺎﺏ ﺁﯾﺎ ﮬﮯ،،،،،،،، ﺍﺏ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ....
ﻧﺌﯽ ﮐﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻬﻨﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ....
ﺍُﺳﮯﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺩﻥ ﮈﮬﻠﻨﮯﮐﻮ ﮨﮯ ﺍﺏ ﮔﮭﺮﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﮯ ....
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ،،،، ﻟﻤﺒﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﯽ ﻟﯿﮑﻦ،،، ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻮ ﮬﮯ ...
ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﯾﮩﺎﮞ ﺩﻝ ﺑِﮏ ﺭﮨﮯﮨﯿﮟ ﺩﺭﮨﻢ ﻭﺩﯾﻨﺎﺭ ﮐﮯﻋِﻮَﺽ ...
ﻧﻔﻊ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﯾﮧ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﻣﯿﺮﮮ ﺷﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮧ ﺭﻭﺩﯾﻨﺎ ...
ﮐﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﯾﮧ ﻋﺎﺩﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ....
ﺗﻢ ﺍﻧﺠﺎﻡِ ﻣﺤﺒﺖ ﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻋﺎﺭﻑ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﮔﮯ ....
ﺗﻮ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ،، ’ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﻫﮯ

Monday, 26 October 2015

یاد

چناب ... تجھ کو یاد ہے.. ؟؟
کہ تیرے ساحلوں کی نرم ریت پر،
ہوئی تھیں مہرباں وہ انگلیاں ۔ ۔ ۔
انھی کی ایک پور نے جو رقص عشق میں کیا،
اک اسم پھر امر ہوا ۔ ۔ ۔
چناب ... تیری ریت پر ..
وہ اسم اب کہیں نہیں ۔۔۔
بتا ! وہ ہاتھ کیا ہوۓ.. ؟؟
وہ نقش سب ہوا ہوۓ
وہ خواب سب دھواں ہوۓ
نہیں نہیں، یہ جھوٹ ہے.. 
یہ خواب ہے عجیب سا
ابھی بھی کچھ نہیں گیا
میں چاہتا ہوں آنکھ جب کھلے تو
نرم ریت پر میرا ہی ایک نام ہو ...

سب کچھ نام تمھارے


آج یہ سب کچھ نام تمھارے
ساحل
ریت
سمندر
لہریں
بستی
دوستی
صحرا
دریا
خوشبو
موسم
پھول
دریچے
بادل
سورج
چاند
ستارے
آج یہ سب کچھ نام تمھارے
خواب کی باتیں
یاد کے قصے
سوچ کے پہلو
نیند کے لمحے
درد کے آنسو
چین کے نغمے
اڑتے وقت کے بہتے دھارے
روح کی آہٹ
جسم کی جنبش
خون کی گردش
سانس کی لرزش
آنکھ کا پانی
چاہت کے یہ عنوان سارے
آج یہ سب کچھ نام تمھارے

کہا نہ کچھ عرض مدعا پر، وہ لے رہے دم کو مسکرا کر


کہا نہ کچھ عرض مدعا پر، وہ لے رہے دم کو مسکرا کر
سنا کئے حال چپکے چپکے، نظر اُٹھائی نہ سر اُٹھا کر
نہ طور دیکھے، نہ رنگ برتے غضب میں آیا ہوں دل لگا کر
وگر نہ دیتا ہے دل زمانہ یہ آزما کر، وہ آزما کر
تری محبت نے مار ڈالا ہزار ایذا سے مجھ کو ظالم
رُلا رُلا کر، گھلا گھلا کر، جلا جلا کر، مٹا مٹا کر
تمہیں تو ہو جو کہ خواب میں ہو، تمہیں تو ہو جو خیال میں ہو
کہاں چلے آنکھ میں سما کر، کدھر کو جاتے ہو دل میں آکر
ستم کہ جو لذت آشنا ہوں، کرم سے بے لطف، بے مزا ہوں
جو تو وفا بھی کرے تو ظالم یہ ہو تقاضا کہ پھر جفا کر
شراب خانہ ہے یہ تو زاہد، طلسم خانہ نہیں جو ٹوٹے
کہ توبہ کر لی گئی ہے توبہ ابھی یہاں سے شکست پاکر
نگہ کو بیباکیاں سکھاؤ، حجاب شرم و حیا اُٹھاؤ
بھلا کے مارا تو خاک مارا، لگاؤ چوٹیں جتا جتا کر
نہ ہر بشر کا جمال ایسا، نہ ہر فرشتے کا حال ایسا
کچھ اور سے اور ہو گیا تو مری نظر میں سما سما کر
خدا کا ملنا بہت ہے آساں، بتوں کا ملنا ہے سخت مشکل
یقیں نہیں‌ گر کسی کو ہمدم تو کوئی لائے اُسے منا کر
الہٰی قاصد کی خیر گذرے کہ آج کوچہ سے فتنہ گر کے
صبا نکلتی ہے لڑکھڑا کر، نسیم چلتی ہے تھرتھرا کر
جناب! سلطانِ عشق وہ ہے کرے جو اے داغ اک اشارہ
فرشتے حاضر ہوں دست بستہ ادب سے گردن جھکا جھکا کر —

Sunday, 25 October 2015

محبت کیا ھے؟

محبت کیا ھے؟
محبت کیسی ھوتی ھے؟
سنتے آئے ھیں کہ
محبت
گلاب پہ شبنم کے جیسی ھوتی ھے.
محبت ٹوٹے دلوں پہ مرہم لگاتی ھے..
محبت غیروں کو اپنا بناتی ھے..
محبت چٹانوں کو بھی
موم کی طرح پگھلاتی ھے.
یہ صحراؤں کو گلستان بناتی ھے.
محبت پت جھڑ میں نویدِ بہار لاتی ھے..
محبت چکور کو حد پرواز سے گزرنے پر ُاُکساتی ھے ..
یہ پروانے کو شمع پہ مٹنا سکھاتی ھے..
محبت سادہ سی آنکھوں کو
حسین خوابوں سے سجاتی ھے...
محبت عام سے چہرے کو
اپنا نور بخشتی ھے...
"""لیکن"""
چلو دیکھیں ھم آج اسکا روپ دوسرا....
::::محبت.::::
گلاب سے چہرے سے شبنم
اک پل میں نچوڑ لیتی ھے.
یہ خوش باش سے دل کو
زخمِ ناسُور سا دیتی ھے.
محبت پل بھر میں اپنوں سے
کسی کو باغی کرتی ھے.
کبھی یہ موم سے دل کو
پتھر کا بناتی ھے.
یہ اپنی سے کرنے پہ اگر آجائے تو
بہارِ رُت میں بھی جھڑی ساون کی لگاتی ھے.
محبت دیوانگی میں اُڑتے چکور کو...
بے دم کر کے گراتی ھے..
محبت پروانے کی معصومیت کو.
ھر شمع پہ لُٹاتی ھے...
یہ سادہ آنکھوں کو حسین خوابوں سے سجا کر..
پھر ھر اک خواب کو نُوچ لیتی ھے..
محبت پُرنُور چہروں کے دیپ بُجھاتی ھے..
محبت ایسی بھی تو ھوتی ھے...
یہ کیوں دل کو ویران کرتی ھے...
کیونکر برباد کرتی ھے...
کسی کی یوں نھیں سنتی....
کیوں ھر بار اپنی سی کرتی ھے...

Friday, 2 October 2015

Ek Khawab Ajab Sa Dekha Hai


Ek khwab ajab sa dekha tha
Hum us Din se bezaar Piya

Ab nend bhi Hum se rooth gai
Phir kaise ho Didaar Piya

Ab keh dalo to behtar hai

Jo krna hai Iqrar Piya

Dil Ghum se hi phatt jae ga
Kr dena na Inkar Piya

In ashkon ko in Ankhon ki
Na rok sake Diwaar Piya

Agr raste seedhe sadhay hen
To chalna kyun Dushwar Piya

Haan Jism to apna laut aya
Pr bhatke Rooh us paar Piya!!!

Hum Aksar Sab Se Kehte hain



Hum Aksar Sab Se Kehte hain
Q Khwab Adhore Rehte Hain .?

Q Yaad Kisi Ki Ati Hay ?
Q Dard Jigar Mein Hota Hy?

Q Qadam Behkne Lagte Hain?
Ham Jab B Chalne Lagte Hain

Q Palken Num Ho Jati Hain?
Ham Jab B Hansne Lagte Hain

Aksr Raaton Ki Tareeki.
Yaadon K Zeher Ugalti Hy.

Q Hijar Ka Mosam Ata Hy ?
Jab Wasal Ki Batain Hoti Hain..

Q Log Deewane Hote Hain?
Q Dard Hazaron Sehte Hain?


Hum Aksar Sab Se Kehte Hain.
Q Khwab Adhore Rehte Hain........!!