You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Showing posts with label aankhen. Show all posts
Showing posts with label aankhen. Show all posts
Sunday, 24 April 2016
Thursday, 31 March 2016
وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے
وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے
تپش اک بد گمانی کی کہیں پگھلا نہ دے اس کو
میں کہتا ہوں کہ جس دل میں ذرا بھی بدگمانی ہو
وہاں کچھ اور ہو تو ہو محبت ہو نہیں سکتی
وہ کہتی ہے سدا ایسے ہی کیا تم مجھ کو چاہو گے
کہ میں اس میں کمی بالکل گوارا کر نہیں سکتی
میں کہتا ہوں محبت کیا ہے یہ تم نے سکھایا ے
مجھے تم سے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں آتا
وہ کہتی ہے جدائی سے بہت ڈرتا ہے میرا دل
کہ خود کو تم سے ہٹ کر دیکھنا ممکن نہیں ہے اب
میں کہتا ہوں کہ یہی خدشے بہت مجھ کو ستاتے ہیں
مگر سچ ہے محبت میں جدائی ساتھ چلتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ کیا میرے بن جی سکوو گے تم
میری یادیں، میری آنکھیں، میری باتیں بھلا دو گے
میں کہتا ہوں کبھی اس بات پر سوچا نہیں میں نے
اگر اک پل کو بھی سوچوں تو سانسیں رکنے لگتی ہیں
وہ کہتی ہےتمہیں مجھ سے محبت اس قدر کیوں ہے
کہ میں اک عام سی لڑکی ہوں تمہیں کیوں خاص لگتی ہوں
میں کہتا ہوں کبھی خود کو میری آنکھوں سے تم دیکھو
میری دیوانگی کیوں ہے یہ خود ہی جان جاؤ گی
وہ کہتی ہے مجھے وارفتگی سے دیکھتے کیوں ہو
کہ میں خود کو بہت ہیی قیمتی محسوس کرتی ہوں
میں کہتا ہوں متاع جاں بہت انمول ہوتی ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوں زندگی محسوس ہوتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ نا کسے کھونے سے ڈرتے ہو
بتاؤ کون ہے وہ جسکو یہ موسم بلاتے ہیں
میں کہتا ہوں یہ میری شاعری ہے آئینہ دل کا
ذرا دیکھو بتاؤ کیا تمہیں اس میں نظر آیا
وہ کہتی ہے کہ آتش جی بہت باتیں بناتے ہو
مگر سچ ہے کہ یہ باتیں بہت ہی شاد رکھتی ہیں
میں کہتا ہوں یہ سب باتیں، فسانے اک بہانہ ہیں
کہ پل کچھ زندگانی کے تمہارے ساتھ کٹ جائیں
پھر اس کے بعد خاموشی کا اک دلکش رقص ہوتا ہے
نگاہیں بولتی ہیں اور یہ لب خاموش رہتے ہیں....
تپش اک بد گمانی کی کہیں پگھلا نہ دے اس کو
میں کہتا ہوں کہ جس دل میں ذرا بھی بدگمانی ہو
وہاں کچھ اور ہو تو ہو محبت ہو نہیں سکتی
وہ کہتی ہے سدا ایسے ہی کیا تم مجھ کو چاہو گے
کہ میں اس میں کمی بالکل گوارا کر نہیں سکتی
میں کہتا ہوں محبت کیا ہے یہ تم نے سکھایا ے
مجھے تم سے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں آتا
وہ کہتی ہے جدائی سے بہت ڈرتا ہے میرا دل
کہ خود کو تم سے ہٹ کر دیکھنا ممکن نہیں ہے اب
میں کہتا ہوں کہ یہی خدشے بہت مجھ کو ستاتے ہیں
مگر سچ ہے محبت میں جدائی ساتھ چلتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ کیا میرے بن جی سکوو گے تم
میری یادیں، میری آنکھیں، میری باتیں بھلا دو گے
میں کہتا ہوں کبھی اس بات پر سوچا نہیں میں نے
اگر اک پل کو بھی سوچوں تو سانسیں رکنے لگتی ہیں
وہ کہتی ہےتمہیں مجھ سے محبت اس قدر کیوں ہے
کہ میں اک عام سی لڑکی ہوں تمہیں کیوں خاص لگتی ہوں
میں کہتا ہوں کبھی خود کو میری آنکھوں سے تم دیکھو
میری دیوانگی کیوں ہے یہ خود ہی جان جاؤ گی
وہ کہتی ہے مجھے وارفتگی سے دیکھتے کیوں ہو
کہ میں خود کو بہت ہیی قیمتی محسوس کرتی ہوں
میں کہتا ہوں متاع جاں بہت انمول ہوتی ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوں زندگی محسوس ہوتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ نا کسے کھونے سے ڈرتے ہو
بتاؤ کون ہے وہ جسکو یہ موسم بلاتے ہیں
میں کہتا ہوں یہ میری شاعری ہے آئینہ دل کا
ذرا دیکھو بتاؤ کیا تمہیں اس میں نظر آیا
وہ کہتی ہے کہ آتش جی بہت باتیں بناتے ہو
مگر سچ ہے کہ یہ باتیں بہت ہی شاد رکھتی ہیں
میں کہتا ہوں یہ سب باتیں، فسانے اک بہانہ ہیں
کہ پل کچھ زندگانی کے تمہارے ساتھ کٹ جائیں
پھر اس کے بعد خاموشی کا اک دلکش رقص ہوتا ہے
نگاہیں بولتی ہیں اور یہ لب خاموش رہتے ہیں....
عاطف سعید
Monday, 28 March 2016
وہ جگنو ہے ستارا کیوں کریں ہم
وہ جگنو ہے ستارا کیوں کریں ہم
نہیں ہے وہ ہمارا، کیوں کریں ہم
کسی کے ساتھ گھل مِل سے گئے ہو
بھلا اِس کو گوارا کیوں کریں ہم
نہیں ہے وہ ہمارا، کیوں کریں ہم
کسی کے ساتھ گھل مِل سے گئے ہو
بھلا اِس کو گوارا کیوں کریں ہم
جن آنکھوں میں سمندر ڈُوبتا ہے
اُن آنکھوں سے کنارہ کیوں کریں ہم
بہت سے کام ہیں کرنے کے صاحب
محبت پر گزارہ کیوں کریں ہم
جہاں سارا وفا نا آشنا ہے
فقط شکوہ تمہارا کیوں کریں ہم
اَنا نے باندھ رکھا ہے ہمیں بھی
تمہیں ہر پَل پکارا کیوں کریں ہم
بچھڑنے کی تمنّا ہے تو جاؤ
بچھڑنے کا اشارہ کیوں کریں ہم
مقابل آئینہ ہے، تم نہیں ہو
تو پھر لَٹ کو سنوارا کیوں کریں ہم
محبت ہو گئی، بس کہہ دیا ناں
خطا اب یہ دوبارہ کیوں کریں ہم
یہ دل کچھ رکھ لیا ہے پاس،تم پہ
فدا سارے کا سارا کیوں کریں ہم
فاخرہ بتولؔ
اُن آنکھوں سے کنارہ کیوں کریں ہم
بہت سے کام ہیں کرنے کے صاحب
محبت پر گزارہ کیوں کریں ہم
جہاں سارا وفا نا آشنا ہے
فقط شکوہ تمہارا کیوں کریں ہم
اَنا نے باندھ رکھا ہے ہمیں بھی
تمہیں ہر پَل پکارا کیوں کریں ہم
بچھڑنے کی تمنّا ہے تو جاؤ
بچھڑنے کا اشارہ کیوں کریں ہم
مقابل آئینہ ہے، تم نہیں ہو
تو پھر لَٹ کو سنوارا کیوں کریں ہم
محبت ہو گئی، بس کہہ دیا ناں
خطا اب یہ دوبارہ کیوں کریں ہم
یہ دل کچھ رکھ لیا ہے پاس،تم پہ
فدا سارے کا سارا کیوں کریں ہم
فاخرہ بتولؔ
Saturday, 26 March 2016
Barka’ein Meri Piyaas Ko Aksar Teri Ankhein..!!
Barka’ein Meri Piyaas Ko Aksar Teri Ankhein..!!
Sehra Mera Chehra Hay, Samander Teri Ankhein..!!
Sehra Mera Chehra Hay, Samander Teri Ankhein..!!
Phir Kaun Bhala Daad-e-Tabassum Inhein Dega..!!
Roo’yein Ghi Buhat Mujse Bichar Kar Teri Ankhein..!!
Roo’yein Ghi Buhat Mujse Bichar Kar Teri Ankhein..!!
Khali Jo Howi Shaam-e-Gharibaan Ki Hatheli ..!!
Kia Kia Na Lutaati Rahein Guhar Teri Ankhein..!!
Kia Kia Na Lutaati Rahein Guhar Teri Ankhein..!!
Boojal Nazar Aati Hein Bazahir Muje Laikin..!!
Khulti Hein Buhat Dil Mein Uther Kar Teri Ankhein..!!
Khulti Hein Buhat Dil Mein Uther Kar Teri Ankhein..!!
Ab Takh Meri Yadoon Say Mitaye Nahe Mitt’ta
Bheegi Howi Ek Shaam Ka Manzer, Teri Ankhein..!!
Bheegi Howi Ek Shaam Ka Manzer, Teri Ankhein..!!
Mumkin Hoo Toa Ek Taza Ghazal Aur Bhi Keh Loon..!!
Phir Oarh Nah Lein Khuwaab Ki Chader, Teri Ankhein..!!
Phir Oarh Nah Lein Khuwaab Ki Chader, Teri Ankhein..!!
Mein Sang-e-Sift Eik Hi Rastey Mein Khara Hoon..!!
Shayid Muje Dekhein Ghi Palat Kat Teri Ankhein…!!
Shayid Muje Dekhein Ghi Palat Kat Teri Ankhein…!!
Yun Dekhtey Rehna Ussey Acha Nahe Mohsin..!!
Woh Kaanch Ka Pekar Hay Toa Pather Teri Ankhein..!!
Woh Kaanch Ka Pekar Hay Toa Pather Teri Ankhein..!!
Tuesday, 22 March 2016
اجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا
اجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم محبت سے مکر جاتے تو اچھا ہوتا
جن کو تعبیر میسر نہیں اس دنیا میں
وہ حسیں خواب جو مر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کو سب پھول نظر آتے ہیں بے مصرف سے
گر تری رہ میں بکھر جاتے تو اچھا ہوتا
ان ستاروں کے چمکنے سے بھی کیا حاصل ہے
ہاں، تری مانگ کو بھر جاتے تو اچھا ہوتا
ابرِ باراں کے سبھی قطرے گہر ہیں لیکن
تیری آنکھوں میں اُتر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کو مارا ہے فقط تیز روی نے اپنی
سانس لینے کو ٹھہر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کبھی شام سے آگے نہ گئے تیرے لیے
شام سے تا بہ سحر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم نے جو پھول چنے، کام نہ آئے اپنے
تیری دہلیز پہ دھر جاتے تو اچھا ہوتا
کس لیے سعدؔ مقدر کے بھروسے پہ رہے
ہم اگر خود ہی سنور جاتے تو اچھا ہوتا
سعد اللہ شاہ
ہم محبت سے مکر جاتے تو اچھا ہوتا
جن کو تعبیر میسر نہیں اس دنیا میں
وہ حسیں خواب جو مر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کو سب پھول نظر آتے ہیں بے مصرف سے
گر تری رہ میں بکھر جاتے تو اچھا ہوتا
ان ستاروں کے چمکنے سے بھی کیا حاصل ہے
ہاں، تری مانگ کو بھر جاتے تو اچھا ہوتا
ابرِ باراں کے سبھی قطرے گہر ہیں لیکن
تیری آنکھوں میں اُتر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کو مارا ہے فقط تیز روی نے اپنی
سانس لینے کو ٹھہر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کبھی شام سے آگے نہ گئے تیرے لیے
شام سے تا بہ سحر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم نے جو پھول چنے، کام نہ آئے اپنے
تیری دہلیز پہ دھر جاتے تو اچھا ہوتا
کس لیے سعدؔ مقدر کے بھروسے پہ رہے
ہم اگر خود ہی سنور جاتے تو اچھا ہوتا
سعد اللہ شاہ
Tuesday, 19 January 2016
آنکھیں
وہ آنکھیں
جھیل سی آنکھیں
بہت گہری ہیں
ان میں تیرتے آنسو
کئی مفہوم رکھتے ہیں
وہ آنکھیں
ایک مدت سے
بدلتے موسموں
بنتے،بگڑتے منظروں کی زد میں ہیں
لیکن
انہیں کچھ خواب
اپنے مخملیں احساس سے مسحور رکھتے ہیں
وہ آنکھیں
منتظر ہیں،کب کوئی آئے
حسیں خوابوں کو اپنے سحر سے
تعبیر میں بدلے
بہت سی ان کہی باتوں کے در کھولے
بہت سے بے نشاں جذبوں کو
آحساس شراکت دے
جھیل سی آنکھیں
بہت گہری ہیں
ان میں تیرتے آنسو
کئی مفہوم رکھتے ہیں
وہ آنکھیں
ایک مدت سے
بدلتے موسموں
بنتے،بگڑتے منظروں کی زد میں ہیں
لیکن
انہیں کچھ خواب
اپنے مخملیں احساس سے مسحور رکھتے ہیں
وہ آنکھیں
منتظر ہیں،کب کوئی آئے
حسیں خوابوں کو اپنے سحر سے
تعبیر میں بدلے
بہت سی ان کہی باتوں کے در کھولے
بہت سے بے نشاں جذبوں کو
آحساس شراکت دے
وہ گہری جھیل سی آنکھیں
کئی قصے سنانے کے لیے بے چین پھرتی ہیں
وہ گہری جھیل سی آنکھیں
کئی مفہوم رکھتی ہیں
کئی قصے سنانے کے لیے بے چین پھرتی ہیں
وہ گہری جھیل سی آنکھیں
کئی مفہوم رکھتی ہیں
Sunday, 1 November 2015
ہجر کی شب
غزلِ
مُحسن نقوی
کیا خزانے مِری جاں ہجر کی شب یاد آئے
تیرا چہرہ، تِری آنکھیں، تِرے لب یاد آئے
مُحسن نقوی
کیا خزانے مِری جاں ہجر کی شب یاد آئے
تیرا چہرہ، تِری آنکھیں، تِرے لب یاد آئے
ایک تُو تھا جسے غُربت میں پُکارا دِل نے
ورنہ، بِچھڑے ہُوئے احباب تو سب یاد آئے
ہم نے ماضی کی سخاوت پہ جو پَل بھر سوچا
دُکھ بھی کیا کیا ہمیں یاروں کے سبَب یاد آئے
پُھول کِھلنے کا جو موسم مِرے دل میں اُترا
تیرے بخشے ہُوئے کچھ زخم عجَب، یاد آئے
اب تو آنکھوں میں فقط دُھول ہےکچھ یادوں کی
ہم اُسے یاد بھی آئے ہیں تو، کب یاد آئے
بُھول جانے میں، وہ ظالِم ہے بھَلا کا ماہر !
یاد آنے پہ بھی آئے، تو غضب یاد آئے
یہ خُنک رُت، یہ نئے سال کا پہلا لمحہ !
دِل کی خواہش ہے کہ، مُحسن، کوئی اب یاد آئے
ورنہ، بِچھڑے ہُوئے احباب تو سب یاد آئے
ہم نے ماضی کی سخاوت پہ جو پَل بھر سوچا
دُکھ بھی کیا کیا ہمیں یاروں کے سبَب یاد آئے
پُھول کِھلنے کا جو موسم مِرے دل میں اُترا
تیرے بخشے ہُوئے کچھ زخم عجَب، یاد آئے
اب تو آنکھوں میں فقط دُھول ہےکچھ یادوں کی
ہم اُسے یاد بھی آئے ہیں تو، کب یاد آئے
بُھول جانے میں، وہ ظالِم ہے بھَلا کا ماہر !
یاد آنے پہ بھی آئے، تو غضب یاد آئے
یہ خُنک رُت، یہ نئے سال کا پہلا لمحہ !
دِل کی خواہش ہے کہ، مُحسن، کوئی اب یاد آئے
اے اجنبی
سنو!
اے اجنبی سے مہرباں
لیکن بہت اپنے
بہت دل کے سخی ہو تم
تمہاری آنکھ کے ہر رنگ میں
مرہم نما کچھ خواب بستے دیکھتی ہوں میں
تمہیں چھو کر نہیں دیکھا
مگر۔۔۔۔۔ میں اپنی سانسوں میں
عجب سی خوشبوئوں کے لمس پاتی ہوں
کبھی تم اپنے لہجے میں
کسی گزری مسافت کی تھکن جب گھولتے ہو تو۔!
میں اپنی خواہشوں کا ہر قدم بوجھل سا پاتی ہوں
تمہاری آنکھ میں کیسا انوکھا رنگ ہے پیارے؟
میرے خوابوں کے رنگوں سا
یا شائد پھر کوئی تعبیر لگتا ہے
تمہاری بات میں پھولوں سی کومل دلفریبی ہے
انہیں چن کر خیالوں میں کئی گجرے بناتی ہوں
انہیں جب دل میں دہرائوں۔۔۔
مہک تازہ ہی پاتی ہوں
مگر۔۔۔۔پیارے!
حقیقت.. زہر ہے پھر بھی حقیقت ہے
میرے دل کے کسی کونے میں۔۔۔
اِک لڑکی۔۔۔۔۔۔
بہت سہمی سی رہتی ہے
جسے بدلی رتوں کو دیکھنے سے خوف آتا ہے
کہ جسکے ذرد آنچل کے ۔ڈھلکتے ایک پلو میں
بندھی ہیں کرچیاں۔۔۔۔
یادوں کی۔۔۔خوابوں کی۔۔۔عذابوں کی
وہ یہ کہنے سے ڈرتی ہے
سنو !
اے اجنبی اپنے۔۔میرا آنچل نہیں اتنا
نئے خوابوں کی بکھری کرچیاں اس میں سمو پائیں
میری آنکھیں بہت بنجر۔۔
یہ اتنا رو نہ پائیں گی
کہ تازہ زخم دھو پائیں
مجھے تو راس ہے بس ایک ہی موسم
زیاں موسم۔۔۔خزاں موسم
۔یا شائد رائیگاں موسم
بہت دل کے سخی ہو تم
تمہاری آنکھ کے ہر رنگ میں
مرہم نما کچھ خواب بستے دیکھتی ہوں میں
تمہیں چھو کر نہیں دیکھا
مگر۔۔۔۔۔ میں اپنی سانسوں میں
عجب سی خوشبوئوں کے لمس پاتی ہوں
کبھی تم اپنے لہجے میں
کسی گزری مسافت کی تھکن جب گھولتے ہو تو۔!
میں اپنی خواہشوں کا ہر قدم بوجھل سا پاتی ہوں
تمہاری آنکھ میں کیسا انوکھا رنگ ہے پیارے؟
میرے خوابوں کے رنگوں سا
یا شائد پھر کوئی تعبیر لگتا ہے
تمہاری بات میں پھولوں سی کومل دلفریبی ہے
انہیں چن کر خیالوں میں کئی گجرے بناتی ہوں
انہیں جب دل میں دہرائوں۔۔۔
مہک تازہ ہی پاتی ہوں
مگر۔۔۔۔پیارے!
حقیقت.. زہر ہے پھر بھی حقیقت ہے
میرے دل کے کسی کونے میں۔۔۔
اِک لڑکی۔۔۔۔۔۔
بہت سہمی سی رہتی ہے
جسے بدلی رتوں کو دیکھنے سے خوف آتا ہے
کہ جسکے ذرد آنچل کے ۔ڈھلکتے ایک پلو میں
بندھی ہیں کرچیاں۔۔۔۔
یادوں کی۔۔۔خوابوں کی۔۔۔عذابوں کی
وہ یہ کہنے سے ڈرتی ہے
سنو !
اے اجنبی اپنے۔۔میرا آنچل نہیں اتنا
نئے خوابوں کی بکھری کرچیاں اس میں سمو پائیں
میری آنکھیں بہت بنجر۔۔
یہ اتنا رو نہ پائیں گی
کہ تازہ زخم دھو پائیں
مجھے تو راس ہے بس ایک ہی موسم
زیاں موسم۔۔۔خزاں موسم
۔یا شائد رائیگاں موسم
Sunday, 25 October 2015
مجھے تم سے محبت ہے
میں جب بھی اس سے کہتی ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ
بتاؤ نا! کہ کتنی ہے؟
میں بازو کھول کر کہتی ہوں کہ
زمیں سے آسماں تک ہے
فلک کی کہکشاں تک ہے
میرے دل سے تیرے دل تک
مکاں سے لا مکاں تک ہے
وہ کہتا ھے، کہ بس اتنی!!!
میں کہتی ھوں
یہ بہتی ھے
لہو کی تیز حدت میں
میرے جذبوں کی شدت میں
تیرے امکاں کی حسرت کی
میرے وجداں کی جدت میں
وہ کہتا ہے
نہیں کافی ابھی تک یہ
میں کہتی ہوں
ہوا کی سرسراہٹ ہے
تیرے قدموں کی آھٹ ہے
کسی شب کے کسی پل میں
مجسم کھنکھناہٹ ہے
وہ کہتا ہے
یہ کیسے (محسوس) ہوتی ھے؟؟
میں کہتی ہوں
چمکتی دھوپ کی مانند
بلوریں سوت کی مانند
صبح کی شبنمی رت میں
لہکتی کوک کی مانند
وہ کہتا ھے
مجھے بہکاوے دیتی ہو؟
مجھے سچ سچ بتاؤ نا
مجے تم چاھتی بھی ہو
یا بس بہلاوے دیتی ہو؟
میں کہتی ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
کہ جیسے پنچھی پر کھولے
ہوا کے دوش پر جھولے
کہ جیسے برف پگھلے اور
جیسے موتیا پھولے
وہ کہتا ھے
مجھےالو بناتی ہو
مجھے اتنا کیوں چاہتی ھو؟
میں اس سے پوچھتی ہوں اب
تمھیں مجھ سے محبت ہے؟
بتاؤ نا کہ، کتنی ہے
وہ بازو کھول کے
مجھ سے لپٹ کے
جھوم جاتا ہے
میری آنکھوں کو کر کے بند
مجھ کو چوم جاتا ھے
دکھا کے مجھ کو وہ چٹکی
دھیرے سے مسکراتا ھے
میرے کانوں میں کہتا ھے
فقط اتنی...
Friday, 16 October 2015
ہجر
کئی برسوں سے آنکھوں میں
مسلسل اک سمندر ہے
تمہیں بچھڑے ہوئے مدت ہوئی
لیکن یہ لگتا ہے
تمہارے ہجر کا پہلا ہی عشرہ کٹ نہیں پایا
وہ منظر چشمِ حیرت سے ابھی تک ہٹ نہیں پایا
کہ جب تم ـــــــــ ایک ساعت میں
جدائی سونپ کر مجھ کو
ہمیشہ کیلئے اُس دیس کو نکلے
جہاں جاتے ہوئے وعدے تو ہوتے ہیں
مگر ــــــــــ پورے نہیں ہوتے
Saturday, 10 October 2015
مجھے محبت سے ہو گئی ہے
کٹھن اندھیروں کی راہ گزر پہ
چراغِ صبح جلا جلا کے
قسم سے آنکھیں بھی تھک گئیں ہیں
تمہارے آنسو چھپا چھپا کے
کیا خبر تھی کہ اک چہرے سے
کتنے چہرے کشید ہوں گے
میں تھک گیا ہوں تمہارے چہروں کو
آئینے میں سجا سجا کے
ہم اتنے سادہ مزاج کب تھے
مگر سرابوں کی رہ گزر پہ
فریب دیتا رہا زمانہ
تمہاری صورت دکھا دکھا کے
عجب تناسب سے ذہن و دل میں
خیال تقسیم ہو رہے ہیں
مجھے محبت سے ہو گئی ہے
قسم سے آنکھیں بھی تھک گئیں ہیں
تمہارے آنسو چھپا چھپا کے
کیا خبر تھی کہ اک چہرے سے
کتنے چہرے کشید ہوں گے
میں تھک گیا ہوں تمہارے چہروں کو
آئینے میں سجا سجا کے
ہم اتنے سادہ مزاج کب تھے
مگر سرابوں کی رہ گزر پہ
فریب دیتا رہا زمانہ
تمہاری صورت دکھا دکھا کے
عجب تناسب سے ذہن و دل میں
خیال تقسیم ہو رہے ہیں
مجھے محبت سے ہو گئی ہے
تمہیں محبت سکھا سکھا کے
Friday, 2 October 2015
بہار رُت میں اجاڑ راستے
بہار رُت میں اجاڑ راستے
تکا کرو گے تو رو پڑو گے
کسی سے ملنے کو جب بھی محسن
سجا کرو گے تو رو پڑو گے
تمھارے وعدوں نے یار مجھ کو
تباہ کیا ہے کچھ اس طرح سے
کے زندگی میں جو پھر کسی سے
دغا کرو گے تو رو پڑو گے
دغا کرو گے تو رو پڑو گے
میں جانتا ہوں میری محبت
اجاڑ دے گی تمہیں بھی ایسی
کے چاند راتوں میں اب کسی سے
ملا کرو گے تو رو پڑو گے
برستی بارش میں یاد رکھنا
تمہیں ستائیں گی میری آنکھیں
کسی ولی کے مزار پر جب
دعا کرو گے تو رو پڑو گے
دعا کرو گے تو رو پڑو گے
Thursday, 14 May 2015
Wednesday, 5 February 2014
Teri raah par bicha kay aankhen hum تيرى راہ پر بچها كے آنکھیں ہم
تيرى راہ پر بچها كے آنکھیں ہم
.نيند كا گهر، اجاڑ .... بيٹهے ہيں
Teri raah par bicha kay aankhen hum
Neend ka ghar , ujaar , bethy hain
Tuesday, 21 January 2014
کب تک آخر ہم سے اپنے دل کا بھید چھپاؤ گی Kab tak aakhir hum se apne dil ka bheid chupao ge
کب تک آخر ہم سے اپنے دل کا بھید چھپاؤ گی
تمہیں رہ پر اک دن آنا ہے، تم رہ پر آ ہی جاؤ گی
کیوں چہرہ اُترا اُترا ہے؟ کیوں بُجھی بُجھی سی ہیں آنکھیں؟
سُنو! عشق تو ایک حقیقت ہے، اسے کب تک تم جُھٹلاؤ گی
سب رنگ تمہارے جانتا ہوں، میں خوب تمہیں پہچانتا ہوں
کہو کب تک پاس نہ آؤ گی؟ کہو کب تک آنکھ چُراؤ گی؟
بھلا کب تک ہم اک دوسرے کو چُھپ چُھپ کر دیکھیں اور ترسیں؟
ہمیں یار ستائیں گے کب تک ، تم سکھیوں میں شرماؤ گی!
یہ سرو تنی، محشر بدَنی، گُل پیرہنی، گوہر سُخَنی
سب حسن تمہارا بے قیمت، گر ہم سے داد نہ پاؤ گی
جب کھیل ہی کھیلا شعلوں کا، پھر آؤ کوئی تدبیر کریں
ہم زخم کہاں تک کھائیں گے؟ تم غم کب تک اپناؤ گی
چلو آؤ بھی، ہم تم مل بیٹھیں، اور نئے سفر کا عہد کریں
ہم کب تک عمر گنوائیں گے، تم کب تک بات بڑھاؤ گی؟
میں شاعر ہوں، مرا شعر مجھے کسی تاج محل سے کم تو نہیں
میں شاہ جہانِ شعر، تو تم، ممتاز محل کہلاؤ گی
نہیں پاس کیا گر عشق کا کچھ، اور ڈریں نہ ظالم دنیا سے
شاعر پہ بھی الزام آئیں گے، تم بھی رسوا ہو جاؤ گی!۔
دتی کر خیرات محبتاں دی میں جھولی تانڑ کے آنداں Diti kar kherat mohabbatan di
دتی کر خیرات محبتاں دی میں جھولی تانڑ کے آنداں
~.~ میکوں کملا سمجھ کے جھنڑک نہ دے تیری شکل پہچان کے آنداں
~.~ تیرے ورگا جگ تے دسدا کوئی نئیں ساری دھرتی چھانڑ کے آنداں
~.~.~ تیری اکھ دا مقناطیس چھکیندا اے بھلا میں کوئی جانڑ کے آنداں
Subscribe to:
Posts (Atom)







