affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Sitary Poetry
Showing posts with label Sitary Poetry. Show all posts
Showing posts with label Sitary Poetry. Show all posts

Saturday, 26 March 2016

ﺗُـﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮭ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ' ﺗﺨﻠﯿﻖ' ﺑﺨﺸﯽ ﺗﮭﯽ



ﺗُـﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﻣﺠﮭﮯ ' ﺗﺨﻠﯿﻖ' ﺑﺨﺸﯽ ﺗﮭﯽ
ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﻮ ﺗﺮﺗﯿﺐ
ﺗﺨﯿّﻞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺧﻮﺍﺏ
-
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺸﻒ ﺳﮯ، ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺟﯿﺴﮯ

 ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺟﺪﺍﻥ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ،
ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭺ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ...
 ﺳﺘﺎﺭﮮ
ﭘﮭﻠﺠﮍﯼ
ﺟﮕﻨﻮ
ﺑﮩﺎﺭﯾﮟ، ﺳﺐ ﻟﮕﮯ ﭘﮭﯿﮑﮯ
-
ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺳﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﺗﻢ
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮩﻦ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺭﺍﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺳﮩﻢ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
" ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺩﺍﻧﮧ ﭼﮕﻨﺎ ﺗﮭﺎ"
" ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﺗﮭﺎ "
" ﯾﮧ ﯾﮑﺪﻡ ﺷﺎﻡ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺋﯽ؟ "
-
ﮐﺴﯽ ﺳﮩﻤﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻃﺎﺋﺮ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﻮﮞ ...
 ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺋﻮﮞ؟؟؟
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﻮﮞ؟؟؟
-
ﺗﺨﯿّﻞ ﺑﺎﻧﺠﮫ ﮨﻮ ﺟﺲ ﮐﺎ
ﺑﮭﻼ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺳﻮﭼﮯ؟؟؟

Wednesday, 23 March 2016

کبھی مجھ کو ساتھ لے کر، کبھی میرے ساتھ چل کے



کبھی مجھ کو ساتھ لے کر، کبھی میرے ساتھ چل کے
وہ بدل گیا اچانک، --!! -----میری زندگی بدل کے

ہوئے جس پہ مہرباں تم، کوئی خوش نصیب ہو گا
میری حسرتیں تو نکلیں میرے آنسوئوں میں ڈھل کے

تیری زلف و رخ کے قرباں، دلِ زار ڈھونڈتا ہے
وہی چمپئی اجالے، وہی سرمئی دھندلکے

کوئی پھول بن گیا ہے، کوئی چاند کوئی تارا
جو چراغ بجھ گیا ہے، تیری انجمن میں جل کے

میرے دوستو خدارا میرے ساتھ تم بھی ڈھونڈو
وہ یہیں کہیں چھپا ہے، میرے غم کا رخ بدل کے

تیری بے جھجھک ہنسی سے، نہ کسی کا دل ہو میلا
یہ نگر ہے آئینوں کا، یہاں سانس لے سنبھل کے

Tuesday, 22 March 2016

اجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا

اجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم محبت سے مکر جاتے تو اچھا ہوتا
جن کو تعبیر میسر نہیں اس دنیا میں
وہ حسیں خواب جو مر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کو سب پھول نظر آتے ہیں بے مصرف سے
گر تری رہ میں بکھر جاتے تو اچھا ہوتا
ان ستاروں کے چمکنے سے بھی کیا حاصل ہے
ہاں، تری مانگ کو بھر جاتے تو اچھا ہوتا
ابرِ باراں کے سبھی قطرے گہر ہیں لیکن
تیری آنکھوں میں اُتر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کو مارا ہے فقط تیز روی نے اپنی
سانس لینے کو ٹھہر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کبھی شام سے آگے نہ گئے تیرے لیے
شام سے تا بہ سحر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم نے جو پھول چنے، کام نہ آئے اپنے
تیری دہلیز پہ دھر جاتے تو اچھا ہوتا
کس لیے سعدؔ مقدر کے بھروسے پہ رہے
ہم اگر خود ہی سنور جاتے تو اچھا ہوتا
سعد اللہ شاہ

Monday, 21 March 2016

"محبت کر کے دیکهتے ہیں"

"

"محبت کر کے دیکهتے ہیں"
محبت پھر سے کر کے د یکھتے ہیں ہم
جہا ں چھو ڑا تھا تم نے
ر خصتی کے سرد مو سم میں
و ہیں چلتے ہیں پھر ا ک بار
ا و ر عہد و فا کو ہا تھ تھا مے یا د کر تے ہیں
چلو پھر سے
محبت کر کے د و نو ں د یکھتے ہیں ہم
تمہیں خو شبو پسند تھی
میں بہا ر و ں کے سبھی پھو لو ں کو
ا پنے سا تھ لا یا ہو ں
تمہیں با ر ش پسند تھی
با د لو ں کے سا تھ بر کھا لے کے آ یا ہو ں
تمہیں تا ر و ں بھر ی ر ا تو ں میں
د ل کا حا ل کہنے میں مزہ آ تا تھا
میں سا ر ے ستا ر ے
آ سما نو ں سے چُرا کے
بس تمہیں سُننے کو آ یا ہو ں
چلو پھر سے محبت کر کے
د و نو ں د یکھتے ہیں ہم
یہ مُمکن ھے کہ تم بھی
گز ر ے موسم کی طرح و ا پس پلٹ آ و
خز ا ں آ تی ہے
لیکن فصل گُل
پت جھڑ کے گھا و آ کے بھر تی ہے
یہی ہے را ز ہستی
ختم ہو تے ہی ا ند ھیر ے کے
نیا د ن
ا ک نر ا لے با نکپن سے پھر نکلتا ہے
تو کیا مُمکن نہیں
ہم مل سکیں دونوں
چلو ا ک با ر کو شش کر د یکھں ہم
محبت کر کے د یکھں
انور زاہدی

Saturday, 19 December 2015

ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﻮ.....

ﺗﻢ ﺑﮯ ﺛﻤﺮ ﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﻮ ﺍﻣﯿﺪ
ﺗﻢ ﺭﮨﮕﺬﺍﺭ ﺷﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﮧ ﺟﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺁﺭﺯﻭ ﮨﻮ ﺍﮨﻞ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﯽ ﮨﻮ ﺧﻠﺶ
ﺗﻢ ﺭﺗﺠﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﻟﻤﺤﮧ ﺳﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮨﻮ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ
ﺗﻢ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﯿﻂ ﺣﻮﺍﺱ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺍﮎ ﮐﺮﻥ ﮨﻮ ﻧﻮﺭ ﺍﺯﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ
ﺗﻢ ﺗﺎﺯﮔﯽ ﮨﻮ ﺷﺒﻨﻤﯽ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺱ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﮯ ﻣﻮﺗﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻟﻤﺲ
ﺗﻢ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﺸﺎﻥ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺸﻢ ﻧﻢ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﮩﮑﺸﺎﮞ
ﺗﻢ ﺣﺴﻦ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﻮ, ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﻮ

Saturday, 3 October 2015

کسی پر نظم لکھنے سے


کسی پر نظم لکھنے سے

کوئی مِل تو نہیں جاتا

کوئی تعریف

بانہوں کے برابر تو نہیں ھوتی

کسی آواز کے پاوں

کبھی دل پر نہیں چلتے

کبھی کشکول میں

قوس و قزح اُتری نہیں دیکھی

صحیفہ رِحل پر رکھنے سے

قرآں تو نہیں بنتا

کسی نے آج تک

شاعر کے آنسو

خود نہیں پونچھے

دلاسہ ، لفظ کی حد تک ھی اپنا کام کرتا ھے

کسی خواھش کو

سینے سے لگانے

کی اجازت تک نہیں ھوتی

تمھاری ضد کو پُورا کر دیا دیکھو

ستارے ، چاند، سُورج ، روشنی، خوشبو،

تمھارے دَر پہ کیا کیا دھر دیا دیکھو

 گُلِ فردا !!
ابھی کِھل جاو ! کہنے سے


کوئی کِھل تو نہیں جاتا

کسی پر نظم لکھنے سے

کوئی مِل تو نہیں جاتا