affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Barish Poetry
Showing posts with label Barish Poetry. Show all posts
Showing posts with label Barish Poetry. Show all posts

Tuesday, 26 July 2016

Khawab Ankhon m bhar gae barish

خواب آنکهوں میں بهر گئی بآرش
جانے کس کس کے گهر گئی بارش
سسکیاں دیر تک سنی میں نے
اور چپ چاپ مرگئی بارش
درد کی آخری حدوں میں تهی
آج حد سے گذر گئی بارش
کتنی پرچهائیوں میں لپٹی تهی
دل کو ویران کر گئی بارش
اس نے آنسو کی لاج رکهہ لی تهی
کون کہتا ہے ڈر گئی بارش
ایسے لکهے ہیں ریشمی جذبے
جیسے دل میں اتر گئی بارش
بهیگی آنکهیں یوں مسکراتی ہیں
جیسے سورج کے گهر گئی بارش
سوکهی دهرتی پہ خوشبوئیں لکهہ دیں
خوب یہ کام کر گئی بارش...!!
عاطف سعید

Monday, 18 April 2016

" بارش

 

 


" بارش میں بھیگتے ہوئے جھونکے ہوا کے تھے
وہ چند بے گمان سے لمحے، بلا کے تھے "

(امجد اسلام امجد)

Monday, 28 March 2016

وقت کے الجھے الجھے دھاگے

وقت کے الجھے الجھے دھاگے
 جب دل توڑ کے چل دیں گے
پگڈنڈی پر پیلے پتے تم کو تنہا دیکھیں گے
پیڑوں کے سینے پر لکھے، نام بھی ہو جائیں تحلیل،
اور ہوا بھی سمت کو اپنی کر جائے تبدیل
بھینی بھینی خوشبو ہم کو، ہر اک گام پکارے گی،
کرکے یخ بستہ جب ہم کو، برف اس پار سدھارے گی
دھوپ صداؤں کے سکے،
جب کانوں میں کھنکائے گی،
بارش، مسکانوں کے موتی،
 پتھر پر جب پھوڑے گی
اور برستی بوندوں کے دھاروں پر دھارے جوڑے گی
گرم گرم، انگاروں جیسے، آنسو آنکھ سے ابلیں گے،
دل کے ارماں، اک مدت کے بعد تڑپ کر نکلیں گے
جب احساس کی دنیا میں پھر، اور نہ گھنگھرو چھنکیں گے
صرف خموشی گونجے گی تب؟
آنے والے موسم کی،
کھڑکی پر دستک بھی نہ ہوگی،
کوئی سریلی رم جھم کی
شام کے سناٹے میں بدن پر،
عکس تمہارا جھولے گا
یادوں کا لمس ٹٹولے گا،
گھور اداسی چُھو لے گا
اونچی اونچی باتوں سے تم، 
خاموشی میں شور کرو گے
گیت پرانے سن کر،
 ٹھنڈی سانسیں بھر کر، بور کرو گے
اس پل شب کی تنہائی میں۔۔۔
اپنے دل کو شاد کرو گے
بولو۔۔۔
مجھ کو یاد کرو گے؟؟؟

Sunday, 27 March 2016

دُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئے


دُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئے
پھر بھی خُوشبو کے ہاتھ پِیلے ہُوئے

بد گُمانی کے سَرد موسم میں
میری گُڑیا کے ہاتھ نِیلے ہُوئے

جب زمیں کی زباں چٹخنے لگی
تب کہیں بارشوں کے حیلے ہُوئے

وقت نے خاک وہ اُڑائی ہے
شہر آباد تھے جو ٹِیلے ہُوئے

جب پرندوں کی سانس رُکنے لگی
تب ہواؤں کے کُچھ وسیلے ہُوئے

کوئی بارش تھی بد گُمانی کی
سارے کاغذ ہی دِل کے گَیلے ہُوئے

- نوشی گیلانی

Monday, 21 March 2016

"محبت کر کے دیکهتے ہیں"

"

"محبت کر کے دیکهتے ہیں"
محبت پھر سے کر کے د یکھتے ہیں ہم
جہا ں چھو ڑا تھا تم نے
ر خصتی کے سرد مو سم میں
و ہیں چلتے ہیں پھر ا ک بار
ا و ر عہد و فا کو ہا تھ تھا مے یا د کر تے ہیں
چلو پھر سے
محبت کر کے د و نو ں د یکھتے ہیں ہم
تمہیں خو شبو پسند تھی
میں بہا ر و ں کے سبھی پھو لو ں کو
ا پنے سا تھ لا یا ہو ں
تمہیں با ر ش پسند تھی
با د لو ں کے سا تھ بر کھا لے کے آ یا ہو ں
تمہیں تا ر و ں بھر ی ر ا تو ں میں
د ل کا حا ل کہنے میں مزہ آ تا تھا
میں سا ر ے ستا ر ے
آ سما نو ں سے چُرا کے
بس تمہیں سُننے کو آ یا ہو ں
چلو پھر سے محبت کر کے
د و نو ں د یکھتے ہیں ہم
یہ مُمکن ھے کہ تم بھی
گز ر ے موسم کی طرح و ا پس پلٹ آ و
خز ا ں آ تی ہے
لیکن فصل گُل
پت جھڑ کے گھا و آ کے بھر تی ہے
یہی ہے را ز ہستی
ختم ہو تے ہی ا ند ھیر ے کے
نیا د ن
ا ک نر ا لے با نکپن سے پھر نکلتا ہے
تو کیا مُمکن نہیں
ہم مل سکیں دونوں
چلو ا ک با ر کو شش کر د یکھں ہم
محبت کر کے د یکھں
انور زاہدی

Sunday, 25 October 2015

اسے کہنا



اسے کہنا
 محبت ایک صحرا ہے
اور صحرا میں کبھی بارش نہیں ہوتی
اور اگر باالفرض ہو بھی تو
فقط اک پل کو ہوتی ہے
اور اس کے بعد صدیاں خشک سالی میں گزرتی ہیں
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور اس میں وصل کی بارش کو صدیاں بیت جاتی ہیں
مگر پھر بھی نہیں ہوتی
اور اگر باالفرض ہو بھی تو
پھر اس کے بعد صدیوں کی جدائی مار دیتی ہے
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور صحرا کے سرابوں میں بھٹک جانے کا خدشہ سب کو رہتا ہے
کبھی پیاسے مسافر جب سرابوں میں بھٹک جائیں
انھیں رستہ نہیں ملتا
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
وفاؤں کے سرابوں سے اٹا صحرا
محبت کے مسافر گر
وفا کے ان سرابوں میں بھٹک جائیں
تو پھر وہ زندگی بھر ان سرابوں میں ہی رہتے ہیں
کبھی واپس نہیں آتے
..

Saturday, 3 October 2015

کل ہلکی ہلکی بارش تھی


کل ہلکی ہلکی بارش تھی
  کل تیز ہوا کا رقص بھی تھا
کل پھول بھی نکھرے نکھرے تھے
کل ان پہ آپ کا عکس بھی تھا
کل بادل کالے گہرے تھے
کل چاند پہ لاکھوں پہرے تھے
کچھ ٹکڑے آپ کی یاد کے
بڑی دیر سے دل میں ٹہرے تھے
کل یادیں الجھی الجھی تھیں
اور کل تک یہ نہ سلجھی تھیں
کل یاد بہت تم آئے تھے
کل یاد بہت تم آئے تھے

Friday, 2 October 2015

بہار رُت میں اجاڑ راستے



بہار رُت میں اجاڑ راستے
تکا کرو گے تو رو پڑو گے

کسی سے ملنے کو جب بھی محسن 
سجا کرو گے تو رو پڑو گے

تمھارے وعدوں نے یار مجھ کو
تباہ کیا ہے کچھ اس طرح سے
کے زندگی میں جو پھر کسی سے
دغا کرو گے تو رو پڑو گے

میں جانتا ہوں میری محبت 
اجاڑ دے گی تمہیں بھی ایسی
کے چاند راتوں میں اب کسی سے 
ملا کرو گے تو رو پڑو گے

برستی بارش میں یاد رکھنا 
تمہیں ستائیں گی میری آنکھیں
کسی ولی کے مزار پر جب
دعا کرو گے تو رو پڑو گے
 

Friday, 14 August 2015

Isay kahna muhabbat aik sehara hay




اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور صحرا میں کبھی بارش نہیں ہوتی
اور اگر باالفرض ہو بھی تو
فقط اک پل کو ہوتی ہے
اور اس کے بعد صدیاں خشک سالی میں گزرتی ہیں
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور اس میں وصل کی بارش کو صدیاں بیت جاتی ہیں
مگر پھر بھی نہیں ہوتی
اور اگر باالفرض ہو بھی تو
پھر اس کے بعد صدیوں کی جدائی مار دیتی ہے
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور صحرا کے سرابوں میں بھٹک جانے کا خدشہ سب کو رہتا ہے
کبھی پیاسے مسافر جب سرابوں میں بھٹک جائیں
انھیں رستہ نہیں ملتا
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
وفاؤں کے سرابوں سے اٹا صحرا
محبت کے مسافر گر
وفا کے ان سرابوں میں بھٹک جائیں
تو پھر وہ زندگی بھر ان سرابوں میں ہی رہتے ہیں
کبھی واپس نہیں آتے