You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Showing posts with label Urdu Poetry by Atif Saeed. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry by Atif Saeed. Show all posts
Tuesday, 26 July 2016
Saturday, 11 June 2016
ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﺫﺭﺍ
ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﺫﺭﺍ
کچھ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ
ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﮐﺎ ﻣﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﻟﻮ ﮔﮯ؟ ...
ﺁﺝ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ
ﺑﻮﻝ ﺗﺘﻠﯽ کے ﺩﺍﻡ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ...
ﺭﻧﮓ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ
ﺳﺮﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﯿﭻ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﻏﻢ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیںﻣﺠﮭﮯ
ﺯﻧﺪﮔﯽ کے ﺟﻮﺍﺭ ﺑﮭﺎﭨﮯ ﺳﮯ
کچھ ﺷﺮﺍﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ
...
ﻣﯿﮟ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺧﺮﯾﺪ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍﺏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺧﺮﺍﺝ ﮐﺘﻨﺎ ہے
ﮔﻮﺷﻮﺍﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﮈﮔﻤﮕﺎﺗﯽ ہے ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻋﺎﻃﻒ
کچھ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ
Tuesday, 31 May 2016
مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔۔
مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔۔
بہت زیادہ نہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
خوشی میں اور غم میں
بارشوں میں بھیگتے اور سردیوں کی دھوپ میں بیٹھے
پرانی ڈائری کے حاشیوں میں ،
تمہارے کھلکھلاہٹ سے بھرے
جملوں کو پڑھ کر مسکراتے
اور تمہارے کارڈز کو
ہر بار اک نئی ترتیب سے رکھتے
جنم دن پر
ہر اک تہوار پر
سچ میں ۔۔۔
مجھے تم یاد آتے ہو
بہت زیادہ نہیں لیکن
مری ہر سوچ میں دھڑکن میں
سانسوں کے تسلسل میں
مجھے بھولے ہوئے ساتھی
مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔۔۔۔
عاطف سعید
Wednesday, 13 April 2016
کیا تم اس کے سبب سے واقف ہو؟
کیا تم اس کے سبب سے واقف ہو؟
دل میرا آج تک نہیں بدلا
اتنا مصروف آج رہتا ہوں
اتنی چاہت تو دل میں اب بهی ہے
جتنی اس وقت میرے دل میں تهی
شعر ویسے ہی اب کہتا ہوں
جیسے اس وقت بهی میں کہتا تها
یاد سے دل کے رابطے نے ابهی
اک نئی سمت بهی نہیں اوڑهی
مرکز دید جو بهی منظر تها
وہ ہی منظر ہے اب بهی آنکهوں میں
گذرے لمحوں کے نقش پا دل پر
میں نے اب تک سنبهال رکهے ہیں
جن سے لپٹے ہوئے تهے خواب میرے
میں وہ آنکهیں ابهی نہیں بهولا
جن سے جینے کا ڈهنگ سیکها تها
میں وہ باتیں ابهی نہیں بهولا
کوئی یادیں ابهی نہیں بهولا
تم مجهے بهول گئی ہو شاید
دل سے یہ واہم نہیں جاتا
تم ہی اس کے سبب سے واقف ہو
میں تمہیں یاد کیوں نہیں آتا...؟؟
عاطف سعید
دل میرا آج تک نہیں بدلا
اتنا مصروف آج رہتا ہوں
اتنی چاہت تو دل میں اب بهی ہے
جتنی اس وقت میرے دل میں تهی
شعر ویسے ہی اب کہتا ہوں
جیسے اس وقت بهی میں کہتا تها
یاد سے دل کے رابطے نے ابهی
اک نئی سمت بهی نہیں اوڑهی
مرکز دید جو بهی منظر تها
وہ ہی منظر ہے اب بهی آنکهوں میں
گذرے لمحوں کے نقش پا دل پر
میں نے اب تک سنبهال رکهے ہیں
جن سے لپٹے ہوئے تهے خواب میرے
میں وہ آنکهیں ابهی نہیں بهولا
جن سے جینے کا ڈهنگ سیکها تها
میں وہ باتیں ابهی نہیں بهولا
کوئی یادیں ابهی نہیں بهولا
تم مجهے بهول گئی ہو شاید
دل سے یہ واہم نہیں جاتا
تم ہی اس کے سبب سے واقف ہو
میں تمہیں یاد کیوں نہیں آتا...؟؟
عاطف سعید
بچھڑنے والے تُجھے خبر ہے؟
بچھڑنے والے تُجھے خبر ہے؟
کہ تِـیرے جانے سے میرا جیون
ہزار خانوں میں بٹ گیا ہے
تُجھے خبر ہے بچھڑنے والے؟
کہ میری خُوشیاں ہی کھو گئی ہیں
میں کتنا تنہا سا ہوگیا ہُـوں
وجود میرا تو اس سفر میں
یہ دیکھ زخموں سے اَٹ گیا ہے
میں سوچتا ہُـوں۔۔۔۔!
مگر یہ سوچیں
کیوں ایک نقطے پہ جم گئی ہیں
کیوں لگ رہا ہے
کہ جیسے سانسیں ہی تھم گئی ہیں
مُجھے بتا دے بچھڑنے والے
کہ کیسے خود کو سنبھالنا ہے
ہجر کے رستے پہ چلتے چلتے
یہ میرے پاؤں لہُو لہُو ہیں
یقین کر لے میں تھک گیا ہُـوں
بچھڑنے والے۔۔۔۔!
تُجھے خبر ہے؟؟؟
میں کب کا خُود سے بچھڑ چُکا ہُـوں.
ہزار خانوں میں بٹ گیا ہے
تُجھے خبر ہے بچھڑنے والے؟
کہ میری خُوشیاں ہی کھو گئی ہیں
میں کتنا تنہا سا ہوگیا ہُـوں
وجود میرا تو اس سفر میں
یہ دیکھ زخموں سے اَٹ گیا ہے
میں سوچتا ہُـوں۔۔۔۔!
مگر یہ سوچیں
کیوں ایک نقطے پہ جم گئی ہیں
کیوں لگ رہا ہے
کہ جیسے سانسیں ہی تھم گئی ہیں
مُجھے بتا دے بچھڑنے والے
کہ کیسے خود کو سنبھالنا ہے
ہجر کے رستے پہ چلتے چلتے
یہ میرے پاؤں لہُو لہُو ہیں
یقین کر لے میں تھک گیا ہُـوں
بچھڑنے والے۔۔۔۔!
تُجھے خبر ہے؟؟؟
میں کب کا خُود سے بچھڑ چُکا ہُـوں.
عاطف سعید
Thursday, 31 March 2016
وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے
وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے
تپش اک بد گمانی کی کہیں پگھلا نہ دے اس کو
میں کہتا ہوں کہ جس دل میں ذرا بھی بدگمانی ہو
وہاں کچھ اور ہو تو ہو محبت ہو نہیں سکتی
وہ کہتی ہے سدا ایسے ہی کیا تم مجھ کو چاہو گے
کہ میں اس میں کمی بالکل گوارا کر نہیں سکتی
میں کہتا ہوں محبت کیا ہے یہ تم نے سکھایا ے
مجھے تم سے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں آتا
وہ کہتی ہے جدائی سے بہت ڈرتا ہے میرا دل
کہ خود کو تم سے ہٹ کر دیکھنا ممکن نہیں ہے اب
میں کہتا ہوں کہ یہی خدشے بہت مجھ کو ستاتے ہیں
مگر سچ ہے محبت میں جدائی ساتھ چلتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ کیا میرے بن جی سکوو گے تم
میری یادیں، میری آنکھیں، میری باتیں بھلا دو گے
میں کہتا ہوں کبھی اس بات پر سوچا نہیں میں نے
اگر اک پل کو بھی سوچوں تو سانسیں رکنے لگتی ہیں
وہ کہتی ہےتمہیں مجھ سے محبت اس قدر کیوں ہے
کہ میں اک عام سی لڑکی ہوں تمہیں کیوں خاص لگتی ہوں
میں کہتا ہوں کبھی خود کو میری آنکھوں سے تم دیکھو
میری دیوانگی کیوں ہے یہ خود ہی جان جاؤ گی
وہ کہتی ہے مجھے وارفتگی سے دیکھتے کیوں ہو
کہ میں خود کو بہت ہیی قیمتی محسوس کرتی ہوں
میں کہتا ہوں متاع جاں بہت انمول ہوتی ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوں زندگی محسوس ہوتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ نا کسے کھونے سے ڈرتے ہو
بتاؤ کون ہے وہ جسکو یہ موسم بلاتے ہیں
میں کہتا ہوں یہ میری شاعری ہے آئینہ دل کا
ذرا دیکھو بتاؤ کیا تمہیں اس میں نظر آیا
وہ کہتی ہے کہ آتش جی بہت باتیں بناتے ہو
مگر سچ ہے کہ یہ باتیں بہت ہی شاد رکھتی ہیں
میں کہتا ہوں یہ سب باتیں، فسانے اک بہانہ ہیں
کہ پل کچھ زندگانی کے تمہارے ساتھ کٹ جائیں
پھر اس کے بعد خاموشی کا اک دلکش رقص ہوتا ہے
نگاہیں بولتی ہیں اور یہ لب خاموش رہتے ہیں....
تپش اک بد گمانی کی کہیں پگھلا نہ دے اس کو
میں کہتا ہوں کہ جس دل میں ذرا بھی بدگمانی ہو
وہاں کچھ اور ہو تو ہو محبت ہو نہیں سکتی
وہ کہتی ہے سدا ایسے ہی کیا تم مجھ کو چاہو گے
کہ میں اس میں کمی بالکل گوارا کر نہیں سکتی
میں کہتا ہوں محبت کیا ہے یہ تم نے سکھایا ے
مجھے تم سے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں آتا
وہ کہتی ہے جدائی سے بہت ڈرتا ہے میرا دل
کہ خود کو تم سے ہٹ کر دیکھنا ممکن نہیں ہے اب
میں کہتا ہوں کہ یہی خدشے بہت مجھ کو ستاتے ہیں
مگر سچ ہے محبت میں جدائی ساتھ چلتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ کیا میرے بن جی سکوو گے تم
میری یادیں، میری آنکھیں، میری باتیں بھلا دو گے
میں کہتا ہوں کبھی اس بات پر سوچا نہیں میں نے
اگر اک پل کو بھی سوچوں تو سانسیں رکنے لگتی ہیں
وہ کہتی ہےتمہیں مجھ سے محبت اس قدر کیوں ہے
کہ میں اک عام سی لڑکی ہوں تمہیں کیوں خاص لگتی ہوں
میں کہتا ہوں کبھی خود کو میری آنکھوں سے تم دیکھو
میری دیوانگی کیوں ہے یہ خود ہی جان جاؤ گی
وہ کہتی ہے مجھے وارفتگی سے دیکھتے کیوں ہو
کہ میں خود کو بہت ہیی قیمتی محسوس کرتی ہوں
میں کہتا ہوں متاع جاں بہت انمول ہوتی ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوں زندگی محسوس ہوتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ نا کسے کھونے سے ڈرتے ہو
بتاؤ کون ہے وہ جسکو یہ موسم بلاتے ہیں
میں کہتا ہوں یہ میری شاعری ہے آئینہ دل کا
ذرا دیکھو بتاؤ کیا تمہیں اس میں نظر آیا
وہ کہتی ہے کہ آتش جی بہت باتیں بناتے ہو
مگر سچ ہے کہ یہ باتیں بہت ہی شاد رکھتی ہیں
میں کہتا ہوں یہ سب باتیں، فسانے اک بہانہ ہیں
کہ پل کچھ زندگانی کے تمہارے ساتھ کٹ جائیں
پھر اس کے بعد خاموشی کا اک دلکش رقص ہوتا ہے
نگاہیں بولتی ہیں اور یہ لب خاموش رہتے ہیں....
عاطف سعید
Tuesday, 29 March 2016
مرے ہمدم، مرے ساتھی
مرے ہمدم، مرے ساتھی
تمہیں تو یاد ہی ہو گا
وہ دن کیا خاص تھا جب تم مرے جیون میں آئی تھیں
مری بے رنگ دنیا کو
تمہاری مسکراہٹ نے ہزاروں رنگ بخشے تھے
اسے کیسے سجایا تھا
تمہیں تو یاد ہی ہو گا
تمہیں میں نے بتایا تھا
کہ میں خوابوں میں رہتا ہوں مگر تم اک حقیقت ہو
محبت ہی محبت ہو
پھر اس کے بعد جیون کے سبھی موسم، سبھی منظر تمہاری آنکھ سے دیکھے
تمہارے ساتھ جو گذرے، وہی پل زندگی ٹھہرے
تمہیں تو یاد ہی ہو گا، مجھے کب یاد رہتا تھا
مجھے کیا کام کرنے ہیں
مجھے کس کس سے ملنا ہے
کہاں جانا ضروری ہے
خفا کوئی ہے کیوں مجھ سے
کسے جا کر منانا ہے
مجھے کب یاد رہتا تھا
مرا معمول تو تم تھیں
تمہی سب یاد رکھتی تھیں
میں اپنے دل کی سب باتیں فقط تم سے ہی کرتا تھا
تمہاری بھی یہ عادت تھی
تمہیں تو یاد ہی ہو گا، میں اکثر تم سے کہتا تھا
ابھی اس زندگی کے ساتھ کتنے روگ لپٹے ہیں
مجھے تم سے محبت کی ذرا فرصت نہیں ملتی
ذرا وہ وقت آنے دو، ذرا فرصت ملے مجھ کو
بٹھا کر سامنے تم کو، تمہیں جی بھر کے دیکھوں گا
بتاؤں گا مجھے تم سے محبت سی محبت ہے
مجھے اس دم ملی فرصت
کہ جب یہ بات سننے کو نہیں تم سامنے میرے
مری جاں تم وہاں پر ہو،
جہاں سے لوٹ کر واپس کبھی کوئی نہیں آتا
تمہیں کیوں اتنی جلدی تھی؟
مرا اقرار سن لیتیں، مرا اظہار سن لیتیں
کہ اب فرصت ہی فرصت ہے
کہ اب معمول میں میرے، فقط تم سے محبت ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
کہ میں تاخیر سے پہنچا،
تمہیں جانے کی جلدی تھی.عاطفؔ سعید
Thursday, 17 April 2014
Kash aankhein parha kare koi کاش آنکھیں پڑھا کرے کوئی
آئینے سے رہا کرے کوئی
مجھ کو مجھ سے جدا کرے کوئی
بے بسی جان لینے لگتی ہے
جو نہ روئے تو کیا کرے کوئی
شدتِ غم کو جاننے کے لئے
کاش آنکھیں پڑھا کرے کوئی
Monday, 10 February 2014
Mujhe mere jeene ka, Sahara mil gaya مجھے میرے جینے کا سہارا مل گیا
اُس کو
بڑے خلوص سے سمجھایا تھا
یہ محبت
یہ چاہت
یہ روح
یہ جسم
یہ جان
سب کسی کی امانت ہیں
میرے پاس
دینے کو کچھ بھی نہیں ہے
اُس نے خاموشی سے
میرے بہتے ہوئے اشکوں کو
اپنی ہتھیلی پہ سجالیا
اور یہ کہتا ہوا چل دیا
مجھے میرے جینے کا سہارا مل گیا
Usko,
Bare khuloos se,
Samjhaya tha ,
Yeh muhabbat, yeh chahat ,
Yeh rooh ,yeh jism ,
Yeh jan ,
Sab kisi ke amanat hain ,
Mere pass ,
dene ko kuch bhi nahin hai ,
Usne khamooshi se ,
Mere bahtay huye ashkoon ko ,
Apni hatheli per saja liya ,
Aur yeh ,
kahte huye chal di ,
Mujhe mere jeene ka, Sahara mil gaya.... !!
Samajh Mein Kuch Nahi Aata سمجھ میں کچھ نہیں آتا
سمجھ میں کچھ نہیں آتا
بہت کچھ کر بھی لوں لیکن
کمی کیوں پھر بھی رہتی ہے
مری آنکھوں میں ' لہجے میں
نمی کیوں پھر بھی رہتی ہے
Samajh Mein Kuch Nahi Aata
Bahot Kuch Kar Bhi Loon Lekin
Kami Kyun Phir Bhi Rehti Hai
Meri Aankhon Mein, Lehjay Mein
Nami Phir Bhi Rehti Hai
Lafzon ke thakey log لفظوں کے تھکے لوگ
ایک مدت سے کچھ نہیں کہتے
درد دل میں چھپا کے رکھتے ہیں
آنکھ ویراں ہے اس طرح ان کی
جیسے کچھ بھی نہیں رہا اس میں
نہ کوئی اشک نہ کوئی سپنا
نہ کوئی غیر نہ کوئی اپنا
پپڑیاں ہونٹ پر جمی ایسی
جیسے صدیوں کی پیاس کا ڈیرہ
جیسے کہنے کو کچھ نہیں باقی
درد سہنے کو کچھ نہیں باقی
اجنبیت ہے ایسی نظروں میں
کچھ بھی پہچانتے نہیں جیسے
کون ہے جس سے پیار تھا ان کو
کون ہے جس سے کچھ عداوت تھی
کون ہے جس سے کچھ نہیں تھا مگر
ایک بے نام سی رفاقت تھی
سوکھی دھرتی کو ابر سے جیسے
ایسی انجان سی محبت تھی
رنگ بھرتے تھے سادہ کاغذ پر
اپنے خوابوں کو لفظ دیتے تھے
اپنی دھڑکن کی بات لکھتے تھے
دل کی باتوں کو لفظ دیتے تھے
اس کے ہونٹوں سے خامشی چن کو
اس کی آنکھوں کو لفظ دیتے تھے
چاندنی کی زباں سمجھتے تھے
چاند راتوں کو لفظ دیتے تھے
ایک مدت سے کچھ نہیں کہتے
اپنے جذبوں سے تھک گئے جیسے
اپنے خوابوں سے تھک گئے جیسے
دل کی باتوں سے تھک گئے جیسے
اس کی آنکھوں سے تھک گئے جیسے
چاند راتوں سے تھک گئے جیسے
ایسے خاموشیوں میں رہتے ہیں
اپنے لفظوں سے تھک گئے جیسے
Tumhain kitna ye bola tha تمہیں کتنا یہ بولا تھا
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
کہ میری زندگی میں اس طرح شامل نہیں ہونا
جب آنکھیں صبح کو کھولوں
پکاروں نام میں تیرا
کبھی جب آئینہ دیکھوں
تمہارا عکس میری آنکھ کی پتلی میں جم جائے
خوشی مجھ کو ملے کوئی،
تمہارا ساتھ میں ڈھونڈوں
دکھوں میں بھی یہی چاہوں
کہ میرے پاس ہو بس تم
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مجھے بادل سے، بارش سے،
محبت ہے ہمیشہ سے
مگر تم نے محبت کو جنوں میں کیوں بدل ڈالا
میں اب بارش کے موسم میں
تمہی کو ڈھونڈتا کیوں ہوں؟
انہی سوچوں میں بھیگا ہوں
میں تنہا بھیگتا کیوں ہوں
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مری عادت نہیں بدلو
مری خاطر نہیں بدلو
مگر تم نے بدل ڈالا
مرا سب کچھ بدل ڈالا
میں اب جو خود کو تکتا ہوں
مجھے تم یاد آتی ہو
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مجھے تم یاد مت آنا
کہ تم کو بھولنا ویسے ہی
میرے بس سے باہر ہے
مجھے جب یاد آتی ہو
تو یہ محسوس ہوتا ہے
مجھے تم یاد کرتی ہو
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مجھے تم یاد مت کرنا
مجھے تم یاد مت آنا
مری اس زندگی میں
اس طرح شامل نہیں ہونا
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
Tumhain kitna ye bola tha,
K meri zindagi me,
Is tarah shamil nahi hona,
Jab aankhain subha ko kholun,
Pukarun naam me tera,
Kabhi jab aayina dekhaun,
Tumhara aks,
Meri aankh ki putli me jam jaye,
Khushi mujh ko milay koi,
Tumhara sath me dhundun,
Dukhon me bhi yahi chahun,
K mere pas ho bus tum,
Tumhain kitna ye bola tha ...!
Mujhay badal se baarish se,
Muhabbat hai hamesha se,
Magar tum ne muhabbat ko,
Junoon me kyun badal dala,
K ab barish k mosam me,
Tumhi ko dhundta kyun hun,
Inhi sochon me bheega hun,
Me tanha bheegta kyun hun,
Tumhain kitna ye bola tha...!
Meri aadat nahi badlo,
Meri khatir nahi badlo,
Magar tum ne badal dala,
Mera sab kuch badal dala,
Me ab jo khud ko takta hun,
Mujhay tum yaad aati ho,
Tumhain kitna ye bola tha ...!
Mujhay tum yaad mat aana,
K tum ko bhoolna wese hi,
Mere bas se baahir hai,
Mujhay jab yaad aati ho,
To ye mehsoos hota hai,
Mujhay tum yaad karti ho,
Tumahin kitna ye bola tha...!
Meri is zindagi me is tarah,
Shamil nahi hona,
Tumhain kitna ye bola tha,
Kis Liye Ab Udas Bethi Ho کس لئے اب اداس بیٹھی ہو
کس لئے اب اداس بیٹھی ہو ؟
ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍِﮎ ﺷﺨﺺ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭘﮩﺮﮦ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﻣﯿﮟ بسی تھی ﺗﻢ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺭچی تھی ﺗﻢ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎگتی تھی ﺗﻢ
ﻭﮦ ﺟﻮ کہتا تھا ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭﯼ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﻭﻓﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﺻﺮﻑ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ
ﺻﺮﻑ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ
ﮐﺘﻨﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ سکتا
ﺩﻭﺭ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ سکتا
ﺗﺐ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﻮ
ﺗﺐ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺟﺬﺑﮯ ﮐﻮ
ﺍِﮎ ﮨﻨﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺍﯾﺎ ﮐﺮتی تھی
ﺳﻦ ﮐﮯ ﺗﻢ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮتی تھی
اسکی آنکھوں کو دیکھتی تھی جب وہ
بے نیازی کے درد سہتا تھا
ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺘﻨﺎ ﻣﻠﻮﻝ ﺭہتا تھا
ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻟﮓ ﮐﺮ
ﺳﺎﺭﮮ ﺁﻧﺴﻮ ﻭﮦ ﺭﻭ گیا ﺍﮎ ﺩﻥ
ﺍﯾﮏ ﭘﺘﮭﺮ ﺳﮯ ﺩﻝ ﻟﮕﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮭﺮ کا ﮨﻮ گیا ﺍﮎ ﺩﻥ
ﺍﺏ ﻭﮦ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ کہتا
ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯﯼ ﮐﮯ ﺩﮐﮫ ﻧﮩﯿﮟ سہتا
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﻧﺎ
ﺍﺏ ﻭﮦ ﺍِﮎ ﺷﺨﺺ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺲ ﻟﯿﮯ پھر ﺍﺩﺍﺱ بیٹھے ﮨﻮ؟؟
Kis Liye Ab Udas Bethi Ho??
Jab wo ik shakhs dastras me tha
Us se milna tumhare bas me tha
Us ki ankhen tumhari ankhen thin
Us ki baten tumhari baten thin
Us ka chehra tumhara chehra tha
Us k dil par tumhara pehra tha
Us ki har sans me basi thin tum
Us k har lafz me khili thin tum
Us k sapnon me bhi rachi thin tum
Us ki neendon me jagti thin tum
Wo jo kehta tha be-qarari h
Meri sari wafa tumhari h
Sirf tum se mujhe mohabat h
Sirf tum se meri haqiqat h
Kitni baten main keh nhi sakta
Door tum se me reh nhi sakta
Tab tum us k har aik jumle ko
Tab tum us k har aik jazbe ko
Ik hansi me uraya karti thin
Sun k tum bhool jaya karti thin
Us ki ankhon ko dekhti thi jab
Be-niyazi k dard wo sehta tha
Bhool jana tumhari adat thi
Phir bhi kitna malool rehta tha
Apni tanhai k gale lag kar
Sare ansoo wo ro gaya ik din
Aik pathar se dil lagi kar k
Khud bhi pathar ka ho gaya ik din
Ab wo tum se to kuch nhi kehta
Be-niyazi k dukh nhi sehta
Us ki ankhen ab us ki ankhen hen
Us ki baten ab us ki baten hen
Bhool jana tumhari adat h
Us ki baton ko bhool jao na
Ab wo ik shakhs dastras me nhi
Us se milna tumhare bas me nhi
Kis Liye Ab Udas Bethi Ho??
Subscribe to:
Posts (Atom)



