affiliate marketing Famous Urdu Poetry: tanhai Poetry
Showing posts with label tanhai Poetry. Show all posts
Showing posts with label tanhai Poetry. Show all posts

Friday, 22 July 2016

Wird e Tanhai

(دِلِ زیر لب - وردِ تنہائی )
۔۔۔۔۔
وہ بے حد خاص تھا لیکن مثالِ عام رہتا تھا
بہت ہنس مکھ سا بیلی تھا، بڑا دِلبر سا انساں تھا
مری ہر بات سے واقف،مرے حالات سے واقف
مری ہر بات کو سُنتا تسلی اور توجہ سے
بہت اپنائیت سے پھر وہ اچھے مشورے دیتا
مری بے ربط باتوں کو وہی ترتیب دیتا تھا
زمانے میں نبھانے کامجھے وہ حوصلہ دیتا
اُسے جب بھی کبھی دیکھا ، ہمیشہ مسکراتا تھا
عجب انسان تھا جو سخت مشکل میں بھی ہنستا تھا
کبھی بھی اپنے بارے میں کسی کو نہ بتاتا تھا
ہاں! تنہائی میں زیرِ لب وہ شاید گنگناتا تھا
مرے دریافت کرنے پر، وہ ہنس کر ٹال دیتا تھا
وہ پُر اسرار سا انساں، نجانے اِس طرح کیوں تھا
مگرجیسا بھی تھا لیکن، مجھے اُس کی ضرورت تھی
ضرورت تھی کہ الفت تھی یا پھر شاید محبت تھی
۔۔۔
پھر اِک دِن سردیوں کی شام میں ہم ساتھ تھے کچھ پل
الاؤ کی تپش بھی تھی مگر خنکی بلا کی تھی
وہ آنکھیں موند کر، چادر لیے، تکیے پہ سر رکھے
مجھے سُن کر، تسلی دے کے جانے کی اجازت دی
مگر اُس پل، وہاں رُک کر ، مرا دِل تھا ، اُسے دیکھوں
مرا دِل تھا اُسے کہہ دوں، مرے جذبوں سے ناواقف!
مری سوچوں سے بہرہ ور! مری چاہت سے ناواقف!
اے میرے مہرباں، محسن! مجھے تم سے محبت ہے!
۔۔۔
فضا خاموش تھی، خنکی، تپش ، مسحور سا منظر!
یہاں دھڑکن کی شورش، اور وہاں مدھر سی سرگوشی!!!
وہی مدہوش کرتی گنگناہٹ، "وردِ تنہائی"!!!
"مری سوچوں ناواقف، مرے جذبوں سے ناواقف
جسے میرا پتہ نہ تھا، مجھے اُس سے محبت تھی"
۔۔۔

Tuesday, 11 February 2014

Mere Baad Kidhar Jayegi ye Tanhayi

Mere Baad Kidhar Jayegi ye Tanhayi...
Main Jo Mara To Mar Jayegi ye Tanhayi...

Main Jab Ro Ro Ke Dariya Ban Jaunga...
Us Din Paar Utar Jayegi ye Tanhayi...

Tanhayi Ko Ghar Se Rukhsat Kar To Dun...
Socho Kis Ke Ghar Jayegi ye Tanhayi...

Veerana Hoon Aabadi Se Aaya Hoon...
Dekhegi To Dar Jayegi ye Tanhayi...

Yun Aao Ke Paanv Ki Bhi Aawaz Na Ho...
Shor Hua To Mar Jayegi Tanhayi...

Tuesday, 14 January 2014

Tuesday, 7 January 2014

Thursday, 2 January 2014

Ik ik fard december tha

اکاک فرد دسمبر تھا

بس اک میری بات نہیں تھی سب کا درد دسمبر تھا
برف کے شہر میں رہنے والا اک اک فرد دسمبر تھا

پچھلے سال کے آخر میں بھی حیرت میں ہم تینوں تھے
اک میں تھا ، اک تنہائی تھی ، اک بے درد دسمبر تھا

اپنی اپنی ہمت تھی اور اپنی اپنی قسمت تھی
ھاتھ کسی کے نیلے تھے اور پیلا زرد دسمبر تھا

پھولوں پر تھا سکتہ طاری اور خوشبو سہمی سہمی تھی
خوفزدہ تھا گلشن سارا اور دہشت گرد دسمبر تھا

یہ جو تیری آنکھ میں پانی ، یہ جو تیری بات میں سردی
اتنا ہمیں بتاؤ تم ، کیا ہمدرد دسمبر تھا؟

Tuesday, 31 December 2013

Ek Din Chaand Se Bicharna Hai

Ek Din Chaand Se Bicharna Hai

Aankh, Taqdeer Aur Ta’aluq Jo

Jaane Kis Doosre Ke Bas Mai Hain

Saanp Ban Ban Ke Daste Rehte Hain

Apni Saanson Mai Dobte Dil Ko

Chaand Jis Tarz Ka Musafir Hai

Hijr Hi Hai Ke Jo Paraao Mai Hai

Bas Judaai Ko Hai Thehr Jana

Hum To Shikwa Bhi Kar Nahi Sakte

Aur Tanhaaiyon Se Shikwa Kiya

Chaand Be-Chainiyon Ka Mosam Hai

Beet Jane Pe Bhi Hamesha Hi

Apne Aasaar Chor Jata Hai

Yeh Meri Aankh Ke Sulagte Hue

Zard-Ro Aeinon Ki Nam-Naaki

Sab Issi Dard Ki Nishaani Hai

Yeh Mera Be-Sabab Hi Khush Rehna

Sab Issi Gham Ki Azmaish Hai

Ek Khuwahish Hai Jis Ko Marna Hai

Ek Jeewan Jise Ujarna Hai

Ek Din Chaand Se Bicharna Hai

Friday, 27 December 2013

Meri tanhai se ziada mujhe koi janta kab hai


ﺣﺮﻭﻑ_ﻋﺸﻖ ﻧﺎﻭﺍﻗﻒ ﻧﻈﺮ ﭘﻬﭽﺎﻧﺘﺎ ﮐﺐ ﮬﮯ؟

ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮬﻮﺍ ﻋﺎﺷﻖ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﻩ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮐﺐ ﮬﮯ؟

،ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮬﮯ ﻭﻩ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﯿﺮﺍ ﭨﮭﮑﺎﻧﺎ ﮬﮯ

ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺴﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﺎﺭﻭ ﻭﻩ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﻧﺪﮬﺘﺎ ﮐﺐ ﮬﮯ؟

ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ

ﻟﻬﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﺎﻧﺘﺎ ﮐﺐ ﮬﮯ؟

ﮬﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﮐﺜﺮ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ

ﻣﮕﺮ ﯾﻪ ﺿﺪﯼ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮐﺐ ﮬﮯ؟

ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﻩ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻟﯿﮑﻦ

ﺟﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﻬﭽﺎﻧﺘﺎ ﮐﺐ ﮬﮯ؟

ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﮬﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺌﯽ ﺭﺷﺘﮯ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﭘﺮ

ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻨﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮐﺐ ﮬﮯ؟

Deen se door na mazhab se alag betha hon

دین سے دور نا مذھب سے الگ بیٹھا ھوں
،تیری دھلیز پے ھوں 'سب سے الگ بیٹھا ھوں

ڈھنگ کی بات کھے کوئی'تو بولوں میں بھی
مطلبی ھوں'کسی مطلب سے الگ بیٹھا ھوں،

،بزم احباب میں حاصل نا ھوا 'چین مجھے
،مطمئن دل ھے بھت'جب سے الگ بیٹھا ھوں

،غیروں سے دؤر 'مگر اس کی نگاھوں کے قریب
.محفل یار میں'اس ڈھب سے الگ بیٹھا ھوں

،یھی مسلک ھے میرا'اور یھی میرا مقام
،آج تک خواھش منصب سے الگ بیٹھا ھوں

،،،،عمر کرتا ھوں'بسر گوشا تنھائی میں
،جب سے وه روٹھ گئے'تب سے الگ بیٹھا ھوں

،میرا انداز'نصیر اھل'جھان سے ھے جدا
،سب میں شامل ھوں'مگر سب سے الگ بیٹھا ھوں

Ek larki thi seedhi saadhi

یاد ہے تم کو

اک لڑکی تھی سیدھی سادی

اپنے آپ میں رہنے والی

عشق محبت اور جنوں کو

محض حماقت کہنے والی

ہر اک دکھ کو چپکے چپکے

اپنے دل پہ سہنے والی

یاد ہے تم کو

اس نے تم سے پیار کیا تھا

اپنی خوشیاں‘ دل اور جیون

سب کچھ تم پر وا ردیا تھا

اس کی آنکھوں میں کھو کر تم

اپناآپ بھلا بیٹھے تھے

چین سکون گنوابیٹھے تھے

یاد ہے تم کو اس لڑکی نے

ہنس کر ہر اک زخم سہا تھا

کبھی نہ تم سے گلہ کیا تھا

پھر بھی تم نے

لوگوں کی باتوں میں آکر

اس کے دل کو توڑ دیا تھا

عشق کی منزل پر لانے سے پہلے اس کو چھوڑ دیا تھا

یاد ہے تم کو بچھڑکے تم سے

وہ لڑکی پھر بکھر گئی تھی

دنیا والے ایک طرف وہ اپنے آپ سے بچھڑ گئی تھی

اب تم کووہ یاد آتی ہے

تنہائی میں تڑپاتی ہے

لیکن جاناں

اب پچھتانے سے کیا حاصل

اب وہ موسم گزر گیا ہے

دل کا گلشن اجڑ گیا ہے

اور چاہت کا دل کش موسم دستک دے کر

خالی ہاتھ گزر جائے تو دل بھی خالی رہ جاتے ہیں

سچے پیار کو کھونے والے

اکثر یوں ہی پچھتاتے ہیں

. . .خود بھی خالی رہ جاتے ہیں