You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Showing posts with label Hijar Poetry. Show all posts
Showing posts with label Hijar Poetry. Show all posts
Saturday, 16 April 2016
Thursday, 14 April 2016
یہ تھکا تھکا سا جو چاند ہے
یہ تھکا تھکا سا جو چاند ہے
یہ تو خواب ہے ، کسی آنکھ کا
،
جسے جاگنے کی سزا ملی
،
یہ جو چاند ہے ، یہ عذاب ہے
،
وہ عذاب
،
جس نے ملا دیا ہے گلاب لمحوں کو خاک میں
،
یہ جو چاند ہے ، یہ جواب ہے
،
کسی اس طرح کے سوال کا
،
کہ جو آج تک نا اٹھا کبھی کسی زہن میں
،
یہ جو چاند ہے
،
یہ تو باب ہے کسی درد کا
،
کسی حجر کا ، کسی وصل کا
،
کسی زرد زرد سی فصل کا
،
یہ تھکا تھکا سا جو چاند ہے
،
کبھی بن پڑے تو یہ اس سے پوچھ کے دیکھنا
اِسے گہری گہری سی نیند سے
،
بھلا کس نے آ کے جگا دیا ؟
اِسے روگ کس نے لگا دیا . . . ؟
Friday, 1 April 2016
ﺍﮮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﮬﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﻨﻮ
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ
ﻣﻦ ﻣﯿﺖ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻢ
ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺎﻝ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﺗﻢ
ﻣﯿﮟ ﮬﺮ ﺷﺐ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﮬﻮﮞ
ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﺗﮯ ﻭﻗﺖ
ﮐﭽﮫ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ......؟؟
ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﻧﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ
ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮬﮯ.......؟؟
ﺍﮮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﮬﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ کہ
ﯾﺎﺩ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺁﺗﯽ ﮬﮯ
،
ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﮎ ﭘﻞﭼﯿﻦ نہیں
ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﮎ ﭘﻞﭼﯿﻦ نہیں
ﮐﯿﻮﮞ ﭘﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮬﻦ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﺗﮭﮯ......؟؟
ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺱ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺗﮭﻤﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ......؟؟
ﻭﮦ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﻭﻋﺪﮮ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ......؟؟
ﮐﯿﻮﮞ ﺳﺎﺟﻦ ﮬﻢ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﮫ ﮔﺌﮯ......؟؟
ﮬﻢ ﺗﻢ ﺑﻦ ﺟﯽ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯿﻨﮕﮯ
ﯾﮧ ﺭﺷﺘﮯ ﺗﻮﮌ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯿﻨﮕﮯ
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﻢ
ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﺷﮏ ﺑﮩﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ
ﯾﮧ ﮬﺠﺮ ﮬﺮﺍﺳﺎﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﮦ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺗﮑﺘﯽ ﮬﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮐﻞ ﺑﮯﮐﻞ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﮬﻮﮞ
ﮬﺮ ﮬﺮ ﺩﻥ ﺟﯿﺘﯽ ﻣﺮﺗﯽ ﮬﻮﮞ
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﺟﺐ ﻟﻮﭦ ﮐﮯ ﺁﻧﺎ ﺗﻢ
ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮ ﮮ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺁﻧﺎ ﺗﻢ.
Monday, 28 March 2016
خواہش ہے کے اس طور سے جیون کو گزاروں
خواہش ہے کے اس طور سے جیون کو گزاروں
ہر عکس تیرے حسن کا آنکھوں میں اُتاروں
وہ تشنہ لبی ہے کے سمجھ کچھ نہیں آتا
دریا کو صدا دوں کے سمندر کو پُکاروں
جیون بھی تو الجھی ہوئی ڈوروں کی طرح ہے
اس سوچ میں گم ہوں کے اسے کیسے گزاروں ؟
اب اس کے سوا میرا کوئی خواب نہیں ہے
ہر سانس کو خوشنودی جاناں پہ میں واروں
بہتر ہے کے اب موت کو سینے سے لگا لوں
اس من کو تیرے ہجر میں اب کتنا میں ماروں
پہلے تو فقط حسرت دیدار تھی واثق
اب یہ بھی طلب ہے کے اسے جیت کے ہاروں
اس سوچ میں گم ہوں کے اسے کیسے گزاروں ؟
اب اس کے سوا میرا کوئی خواب نہیں ہے
ہر سانس کو خوشنودی جاناں پہ میں واروں
بہتر ہے کے اب موت کو سینے سے لگا لوں
اس من کو تیرے ہجر میں اب کتنا میں ماروں
پہلے تو فقط حسرت دیدار تھی واثق
اب یہ بھی طلب ہے کے اسے جیت کے ہاروں
Sunday, 27 March 2016
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں
کوئی بھی فیصلہ ہم سوچ کر نہیں کرتے
تمہارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں
بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں
کوئی بھی فیصلہ ہم سوچ کر نہیں کرتے
تمہارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں
تمہارے بعد یہ عادت سی ہو گئی اپنی
بکھرتے سوکھتے پتے سنبھال رکھتے ہیں
خوشی سی ملتی ہے خود کو اذیتیں دے کر
سو جان بوجھ کے دل کو نڈھال رکھتے ہیں
کبھی کبھی وہ مجھے ہنس کے دیکھ لیتے ہیں
کبھی کبھی مرا بے حد خیال رکھتے ہیں
تمہارے ہجر میں یہ حال ہو گیا اپنا
کسی کا خط ہو اسے بھی سنبھال رکھتے ہیں
خوشی ملے تو ترے بعد خوش نہیں ہوتے
ہم اپنی آنکھ میں ہر دم ملال رکھتے ہیں
زمانے بھر سے چھپا کر وہ اپنے آنچل میں
مرے وجود کے ٹکڑے سنبھال رکھتے ہیں
کچھ اس لئے بھی تو بے حال ہو گئے ہم لوگ
تمہاری یاد کا بے حد خیال رکھتے ہیں...
- وصی شاہ
بکھرتے سوکھتے پتے سنبھال رکھتے ہیں
خوشی سی ملتی ہے خود کو اذیتیں دے کر
سو جان بوجھ کے دل کو نڈھال رکھتے ہیں
کبھی کبھی وہ مجھے ہنس کے دیکھ لیتے ہیں
کبھی کبھی مرا بے حد خیال رکھتے ہیں
تمہارے ہجر میں یہ حال ہو گیا اپنا
کسی کا خط ہو اسے بھی سنبھال رکھتے ہیں
خوشی ملے تو ترے بعد خوش نہیں ہوتے
ہم اپنی آنکھ میں ہر دم ملال رکھتے ہیں
زمانے بھر سے چھپا کر وہ اپنے آنچل میں
مرے وجود کے ٹکڑے سنبھال رکھتے ہیں
کچھ اس لئے بھی تو بے حال ہو گئے ہم لوگ
تمہاری یاد کا بے حد خیال رکھتے ہیں...
- وصی شاہ
Friday, 25 March 2016
جب درد پرانے ہو بیٹھے
جب درد پرانے ہو بیٹھے
جب`یاد کا جگنو راکھ ہوا
جب آنکھ میں اآنسو برف ہوے
جب زخم سے دل مانوس ہوا
تب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں
پھر دل کو دھڑکنا یاد آیا !
جب کرب کی لمبی راہوں میں
احساس کے بال سفید ہوے
جب آنکھیں 'بے سیلاب ہوئیں
جب چاند چڑھا بے دردی کا
جب ریت پہ لکھی یادوں کو
بے مہر ہوا نے چھین لیا
جب 'یاد رتیں' بے داد ہوئیں
تب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں!!
پھر دل کو دھڑکنا یاد آیا
جب آنکھیں کچھ آباد ہوئیں
جب پہ مجھ کھلا میں زندہ ہوں
احساس کا بچپن جاگ پڑا
پھرجذبے بے تقویم ہوے!
پھر وقت نے کچھ انگڑائی لی
پھر سوچ کی قبر سےدھول اڑی
پھرپیاس کا برزخ بھول گیا
ایک ہجر سےکیا آزاد ہوے؟
سو ہجرنئے ایجاد ہوے!
پھر اشک میں دریا قید ہوا
پھر دھڑکن میں بھونچال پڑے
پھر عشق کاجوگی گلیوں میں..
تقدیر کے سانپ اٹھا لایا
پھر ہوش کا جنگل سبز ہوا
پھر `شوق درینہ جاگ اٹھا.
پھر زلف کے تیور شام بنے
اس شام میں پھرمہتاب چڑھا
پھر ہونٹ کی لرزش , گیت بنی
پھر شعر، شعور کا ورد ہوا
پھر خون سے لکھے جذبے بھی نیلام ہوۓ
پھر درد "زلیخا "بن بیٹھا
پھر قرب کا کرب جوان ہوا
پھر مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں
کچھ ہجر کی نبضیں تیز ہوئیں
جب قید کو تازہ عمر ملی
اس قیدی عمر کے بختوں نے.
اک شامِ سہور سے پوچھ لیا
قید ہی رہنا تھا ...تو ہمیں
وہ پچھلا ہجر ہی کافی تھا
کیوں پچھلے جال کو چھوڑا تھا
کس عهد پہ پنجرہ توڑا تھا؟
جب جال تیری کمزوری تھے ..
صیّاد کو کیوں بدنام کیا
اب سوچ رہا ہوں مدّت سے
کیوں مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں؟
کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا...
Saturday, 19 March 2016
تیرا حُسن ہو۔۔۔۔ میرا عشق ہو۔۔۔
تیرا حُسن ہو۔۔۔۔
میرا عشق ہو۔۔۔
تو پھر حُسن و عشق کی بات ہو۔۔۔
کبھی میں ملوں کبھی تُو ملے ۔۔۔
کبھی ہم ملیں ملاقات ہو ۔۔۔
کبھی تُو چُپ کبھی میں ہوں چُپ ۔۔۔
کبھی دونوں ہم چُپ چاپ ہوں ۔
کبھی گُفتگو کبھی تذکرے ۔۔۔
کوئی ذکر ہو کوئی بات ہو ۔۔۔
کبھی وصل ہو تو دن کو ہو ۔۔۔
کبھی ہجر ہو تو وہ رات ہو ۔۔۔
کبھی میں تیرا کبھی تُو میری ۔۔۔
کبھی ایک دوجے کے ہم رہیں۔۔۔
کبھی ساتھ میں کبھی ساتھ تُو ۔۔۔
کبھی ایک دوجے کا ساتھ ہو ۔۔۔
کبھی صحبتیں کبھی رنجشیں ۔۔۔
کبھی دُوریاں کبھی قُربتیں ۔۔۔
کبھی اُلفتیں کبھی نفرتیں ۔۔۔
کبھی جیت ہو کبھی مات ہو ۔۔۔
کبھی پُھول ہو کبھی دُھول ہو ۔۔۔
کبھی یاد ہو کبھی بھول ہو ۔۔۔
نہ نشیب ہوں نہ فراز ہوں ۔۔۔
نہ ہی نچہ ہو نہ ہی جات ہو ۔۔۔
رہیں مُسکُراتے پیار میں ۔۔۔
کھلیں پھول بن کے بہار میں ۔۔۔
نہ زمیں کوئی نہ فلک کوئی ۔۔۔
نہ وجود ہو نہ ہی ذات ہو ۔۔۔
صرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرا حُسن ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا عشق ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری آنکھ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیری ذات ہو ۔۔۔۔
میرا عشق ہو۔۔۔
تو پھر حُسن و عشق کی بات ہو۔۔۔
کبھی میں ملوں کبھی تُو ملے ۔۔۔
کبھی ہم ملیں ملاقات ہو ۔۔۔
کبھی تُو چُپ کبھی میں ہوں چُپ ۔۔۔
کبھی دونوں ہم چُپ چاپ ہوں ۔
کبھی گُفتگو کبھی تذکرے ۔۔۔
کوئی ذکر ہو کوئی بات ہو ۔۔۔
کبھی وصل ہو تو دن کو ہو ۔۔۔
کبھی ہجر ہو تو وہ رات ہو ۔۔۔
کبھی میں تیرا کبھی تُو میری ۔۔۔
کبھی ایک دوجے کے ہم رہیں۔۔۔
کبھی ساتھ میں کبھی ساتھ تُو ۔۔۔
کبھی ایک دوجے کا ساتھ ہو ۔۔۔
کبھی صحبتیں کبھی رنجشیں ۔۔۔
کبھی دُوریاں کبھی قُربتیں ۔۔۔
کبھی اُلفتیں کبھی نفرتیں ۔۔۔
کبھی جیت ہو کبھی مات ہو ۔۔۔
کبھی پُھول ہو کبھی دُھول ہو ۔۔۔
کبھی یاد ہو کبھی بھول ہو ۔۔۔
نہ نشیب ہوں نہ فراز ہوں ۔۔۔
نہ ہی نچہ ہو نہ ہی جات ہو ۔۔۔
رہیں مُسکُراتے پیار میں ۔۔۔
کھلیں پھول بن کے بہار میں ۔۔۔
نہ زمیں کوئی نہ فلک کوئی ۔۔۔
نہ وجود ہو نہ ہی ذات ہو ۔۔۔
صرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرا حُسن ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا عشق ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری آنکھ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیری ذات ہو ۔۔۔۔
Friday, 2 October 2015
محبت ہے
جبھی تو کچھ بھی کہتے ہو
تمہاری سرد مہری کے سمندر میں پڑے
چپ چاپ سہتے ہیں
محبت ہے
تمہاری سرد مہری کے سمندر میں پڑے
چپ چاپ سہتے ہیں
محبت ہے
جبھی تو ہم پرندوں کی طرح سے لوٹ آتے ہیں
تمہاری ذات کے گنجان برگد میں
جہاں پر کوئی ٹہنی بھی
ہماری خواہشوں کو گھونسلا رکھنے نہیں دیتی
محبت ہے
تمہاری ذات کے گنجان برگد میں
جہاں پر کوئی ٹہنی بھی
ہماری خواہشوں کو گھونسلا رکھنے نہیں دیتی
محبت ہے
جبھی تو ہم نے تیری یاد کا جگنو حسیں ،
روپہلے چہروں کی ضیاء میں آج تک کھویا نہیں
جبھی تو ہم دیے کی طرح جلتے ہیں سلگتے ہیں
تمھارے ہجر کی تاریک راتوں میں
ہماری خاک کو گر ہواؤں میں اڑاؤ گے
تو واپس لوٹ آئیں گے
ہمیں تو راکھ ہو کر بھی" تیرے قدموں میں رہنا ہے"
محبت ہے.
روپہلے چہروں کی ضیاء میں آج تک کھویا نہیں
جبھی تو ہم دیے کی طرح جلتے ہیں سلگتے ہیں
تمھارے ہجر کی تاریک راتوں میں
ہماری خاک کو گر ہواؤں میں اڑاؤ گے
تو واپس لوٹ آئیں گے
ہمیں تو راکھ ہو کر بھی" تیرے قدموں میں رہنا ہے"
محبت ہے.
Friday, 21 February 2014
Kab Yaad Mein Tera Saath Nahi کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں
کب ہات میں تیرا ہات نہیں
صد شکر کہ اپنی راتوں میں
،اب ہجر کی کوئی رات نہیں
مشکل ہے اگر حالات وہاں
دل بیچ آئیں جاں دے آئیں
دل والو کوچہء جاناں میں
، کیا ایسے بھی حالات نہیں
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا
وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان توآنی جانی ہے
، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
میدانِ وفا دربار نہیں
یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں
، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
گر بازی عشق کی بازی ہے
جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گرجیت گئے تو کیا کہنا
......... ہارے بھی تو بازی مات نہیں
Kab Yaad Mein Tera Saath Nahi,
Kab Haath Mein Tera Haath Nahi
Sad Shukar K Apni Raaton Mein
Ab Hijar ki Koi Raat Nahi,
Mushkil Hein Agar Halaat Wahaan
Dil Baich Aaen Jaa'n De Aaen
Dil Waalo Kocha-e-Janaa'n Mein
Kiya Aisey Bhi Halaat Nahi,
Jis Dhaj Se Koi Maqtal Mein Gaya
Wo Shaan Salamat Rehti Hai
Ye Jaan Tou Aani Jaani Hai
Iss Jaa'n Ki Tou Koi Baat Nahi,
Maidan-e-Wafa Darbaar Nahi
Yaa'n Naam-o-Nasab Ki Pooch Kahan
Aashiq Tou Kisi Ka Naam Nahi
Kuch Ishq Kisi Ki Zaat Nahi,
Gar Baazi Ishq Ki Baazi Hai
Jo Chaho Laga Do Dar Kaisa
Gar Jeet Gaey Tou Kiya Kehna
Haarey Bhi Tou Baazi Maat Nahi.......
Saturday, 18 January 2014
MERA HO KEH BHI GHAIR KI JAGEER THA
MERA HO KEH BHI GHAIR KI JAGEER THA
DIL BHI GOYA KEH KHITTA E KASHMIR THA................
Woh sahilon pe gany waly kia hoey
وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ھوۓ
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ھوۓ
وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ھوۓ
میں ان کی راہ دیکھتا ھوں رات بھر
وہ روشنی دیکھانے والے کیا ھوۓ
یہ کون لوگ ھیں میرے ادھر ادھر
وہ دوستی نبھانے والے کیا ھوۓ
وہ دل میں کبھنے والی آنکھیں کیا ھوئی
وہ ھونٹ مسکرانے والے کیا ھوۓ
عمارتیں تو جل کے راکھ ھوگئی
عمارتیں بنانے والے کیا ھوۓ
اکیلے گھر سے پوچھتی ھے بےکسی
تیرا دیا جلانے والے کیا ھوۓ
یہ آپ ھم تو بوجھ ھیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ھوۓ
Mohabbat phir mohabbat hai by Nazia Kanwal Nazi
hum tera raaz rakheinge
hum tera raaz rakheinge,
Bol do dil ki bat hum tera raaz rakheinge,
Keh do aaj har ik baat hum tera raaz rakheinge,
Tum ko hum se chahat he ya nafrat kiya pata,
Kardo apne jazbat ka izhar hum tera raaz rakheinge,
Mat samajhna k tum ko ruswa kareinge zamane mein,
Qasam he hum ko teri yar hum tera raaz rakheinge,
Mat ghabrao zamane ki uljanon se
Bataa do aaj har ik raaz hum tera raaz rakheinge,
Itna Sa Yaad Rakh Mujhe
Itna Sa Yaad Rakh Mujhe
Itna Sa Yaad Rakh Mujhe
Jaisey Kisi Kitaab me
Beety Dino K Dort Ka
Ek Khat Para Huwa milay
Lafz Mithey Mithey Se Hon
Rang Ura Ura Sa Ho Lekin Wo Ajnabi Na ho
Bhooley Huway Tamaam Dukh
Guzray Huway Tamaam Sukh
Beety Dino Ka Sab Kuch
Tujh Se Kahy Or Ro Pary
Bas Itna Sa Yaad Rakh Mujhe
K
Jb Kbi Bat-be-Bat
Yad Hmari Aa Jay To Thora Sa Muskura
Lena
Or Dil Ko Ye Smjha Lena
Nadan Sa Tha Pr
Acha Tha
Ik Dost Hmara Sacha Tha
Itna Sa YaaD Rkh Mjy.
Dil Ne Gham K Pahaar Ko Dekha,
Dil Ne Gham K Pahaar Ko Dekha,
Dil Ne Gham K Pahaar Ko Dekha,
Main Ne Khud Mein Daraar Ko Dekha.
Dasht Kehta Hai Mujh Se Hairat Se,
Main Ne Tujh Mein Ujaar Ko Dekha.
Khauf Aasaib Ban K Aa Betha,
Dil Ne Khud Ro Se Jhaar Ko Dekha.
Ban Gaya Hai Khala Mere Andar,
Main Ne Apni Pichaar Ko Dekha.
Main Khudi Se Nikal Gaya Bahir,
Jo'n Hi Nafrat Ki Aar Ko Dekha.
Naqsh Chehray K Dhul Gaye
Jab Bhi Dil Main Bigaar Ko Dekha..
Log samjhe,
Log samjhe,
Jo hum pe guzre thay ranj sare
wo khud pe guzre to log samjhe
Jo apni apni mohabbaton k
Azab jheelay to log samjhe
Wo jin darakhton ki chaaon se
Musafiron ko utha dia tha
Unhi darakhton se aglay mosam
Jo phal na utray to log samjhe
Us aik kacchi c umer wali
K falsafay ko koi na samjha
Jab us k kamre e lash nikli
Khatot nikle to log samjhe
Wo gaaon ka aik zaeef dehqan
Sadak k ban'nay pe q khafa tha
Usi k bacchay jo shehr ja kar
Kabhi na lotay to log samjhe....
wo khud pe guzre to log samjhe
Jo apni apni mohabbaton k
Azab jheelay to log samjhe
Wo jin darakhton ki chaaon se
Musafiron ko utha dia tha
Unhi darakhton se aglay mosam
Jo phal na utray to log samjhe
Us aik kacchi c umer wali
K falsafay ko koi na samjha
Jab us k kamre e lash nikli
Khatot nikle to log samjhe
Wo gaaon ka aik zaeef dehqan
Sadak k ban'nay pe q khafa tha
Usi k bacchay jo shehr ja kar
Kabhi na lotay to log samjhe....
Friday, 10 January 2014
Mohabbat mein ne dekhi thi
محبت میں نے دیکھی تھی
ہجر کے پیڑ کے نیچے
سسکتی ہچکیاں بھرتی
وہ مجھ سے ھی خفا ھو کر
!!وہاں پہ جا کہ بیٹھی تھی ـــــــــــــــــــ
Thursday, 9 January 2014
Khawahish hai ke iss tor jeevan ko guzaroon
خواہش ہے کے اس طور سے جیون کو گزاروں
ہر عکس تیرے حسن کا آنکھوں میں اُتاروں
وہ تشنہ لبی ہے کے سمجھ کچھ نہیں آتا
دریا کو صدا دوں کے سمندر کو پُکاروں
جیون بھی تو الجھی ہوئی ڈوروں کی طرح ہے
اس سوچ میں گم ہوں کے اسے کیسے گزاروں ؟
اب اس کے سوا میرا کوئی خواب نہیں ہے
ہر سانس کو خوشنودی جاناں پہ میں واروں
بہتر ہے کے اب موت کو سینے سے لگا لوں
اس من کو تیرے ہجر میں اب کتنا میں ماروں
پہلے تو فقط حسرت دیدار تھی واثق
اب یہ بھی طلب ہے کے اسے جیت کے ہاروں
Saturday, 4 January 2014
Gaey mosam mein jo khiltey they gulabon ki tarha
گئے موسم میں جو کِھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اُتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے‘مرے خوابوں کی طرح
ساعتِ دید کے عارض ہیں گلابی اب تک
اولیں لمحوں کے گُلنار حجابوں کی طرح
وہ سمندر ہے تو پھر رُوح کو شاداب کرے
تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح
غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
میرے رِستے ہُوئے زخموں کے حسابوں کی طرح
یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
شیلف میں رکھی ہُوئی کتابوں کی طرح
کون جانے نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح
شوخ ہوجاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
گاہے گاہے ‘ ترے دلچسپ جوابوں کی طرح
ہجر کی شب ‘ مری تنہائی پہ دستک دے گی
تیری خوشبو ‘مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح
Tuesday, 31 December 2013
Ek Din Chaand Se Bicharna Hai
Ek Din Chaand Se Bicharna Hai
Aankh, Taqdeer Aur Ta’aluq Jo
Jaane Kis Doosre Ke Bas Mai Hain
Saanp Ban Ban Ke Daste Rehte Hain
Apni Saanson Mai Dobte Dil Ko
Chaand Jis Tarz Ka Musafir Hai
Hijr Hi Hai Ke Jo Paraao Mai Hai
Bas Judaai Ko Hai Thehr Jana
Hum To Shikwa Bhi Kar Nahi Sakte
Aur Tanhaaiyon Se Shikwa Kiya
Chaand Be-Chainiyon Ka Mosam Hai
Beet Jane Pe Bhi Hamesha Hi
Apne Aasaar Chor Jata Hai
Yeh Meri Aankh Ke Sulagte Hue
Zard-Ro Aeinon Ki Nam-Naaki
Sab Issi Dard Ki Nishaani Hai
Yeh Mera Be-Sabab Hi Khush Rehna
Sab Issi Gham Ki Azmaish Hai
Ek Khuwahish Hai Jis Ko Marna Hai
Ek Jeewan Jise Ujarna Hai
Ek Din Chaand Se Bicharna Hai
Subscribe to:
Posts (Atom)



