کچھ
خاص تو ہے ان آنکھوں میں
کوئی
بات تو ھے ان باتوں میں
ہجر
سے مجھ کو پھر کیا غرض
وہ
تو رہتے ہیں میری نگاہوں میں
ان
زلفوں کی تاب کیوں کر لاۓ
یہ
سیاہی جو ہے کالی راتوں میں
مسکراہٹ
ہے ان کی گل جیسی
خوب
ہے یہ لاکھوں نظام روں میں
بھڑ
میں بھی وہ ھم کو مل جاتے ہیں
وہ
تو چاند ہیں فلک کے ستاروں میں
لکھتے
ہیں غزلیں ہم انھی کے لیے
تبھی
تو نا م ہمارا ہے شاعروں میں
ختم
شد
**************
زیست
کی تلخی سےقلب پکارے یا خدا
صبرِ
ایوب دے ، دے پھر مثل انعامِ ایوب
****
By
hina masood
No comments:
Post a Comment