affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Mohsin Naqvi
Showing posts with label Mohsin Naqvi. Show all posts
Showing posts with label Mohsin Naqvi. Show all posts

Wednesday, 25 April 2018

Ashar



کھلی زمینوں میں جب بھی سرسوں کے پھول مہکیں
تم ایسی رت میں سدا مرا انتظار کرنا

جو لوگ چاہیں تو پھر تمہیں یاد بھی نہ آئیں
کبھی کبھی تم مجھے بھی ان میں شمار کرنا

"محسنؔ نقوی"


Friday, 28 October 2016

Macha deti hain halchal sham dhaly he teri yadden



مچا دیتی ھیں ہلچل شام ڈھلتے ہی تیری یادیں,

دلٍ نادان_____کا تجھ کو بھلانے کا ارادہ تھا..!!

( محسن نقوی)


Monday, 25 July 2016

Ye or bat hai k wo nibha na saka Mohsin

 

یہ اور بات ہے کہ وہ نبھا نہ سکا محسن

مگر جو کیے تھے اس نے وہ وعدے غضب کے تھے

Saturday, 23 July 2016

Ur jaen gay tasveer kay rangon k trh hain


اڑ جائیں گے تصویر کے رنگوں کی طرح ہیں
ھم وقت کی ٹہنی پہ پرندوں کی طرح ہیں


تم شاخ پہ کھلتے ہوئے پھولوں کی طرح ہو
ہم ریت پہ لکھے ہوئے حرفوں کی طرح ہیں


اک عمر ترستے ہیں کسی ایک خوشی کو
ہم لوگ بھی بنجر سی زمینوں کی طرح ہیں


دنیا کے لیےٴ کچھ بھی سہی تیرے لیےٴ ہم
مخلص صدا ماوٴں کی دعاوٴں کی طرح ہیں


تاریخ کی نظروں میں ھم اک عمر سے محسن
اسکول سے بھاگے ہوئے بچے کیطرح ہیں


Friday, 22 July 2016

Wird e Tanhai

(دِلِ زیر لب - وردِ تنہائی )
۔۔۔۔۔
وہ بے حد خاص تھا لیکن مثالِ عام رہتا تھا
بہت ہنس مکھ سا بیلی تھا، بڑا دِلبر سا انساں تھا
مری ہر بات سے واقف،مرے حالات سے واقف
مری ہر بات کو سُنتا تسلی اور توجہ سے
بہت اپنائیت سے پھر وہ اچھے مشورے دیتا
مری بے ربط باتوں کو وہی ترتیب دیتا تھا
زمانے میں نبھانے کامجھے وہ حوصلہ دیتا
اُسے جب بھی کبھی دیکھا ، ہمیشہ مسکراتا تھا
عجب انسان تھا جو سخت مشکل میں بھی ہنستا تھا
کبھی بھی اپنے بارے میں کسی کو نہ بتاتا تھا
ہاں! تنہائی میں زیرِ لب وہ شاید گنگناتا تھا
مرے دریافت کرنے پر، وہ ہنس کر ٹال دیتا تھا
وہ پُر اسرار سا انساں، نجانے اِس طرح کیوں تھا
مگرجیسا بھی تھا لیکن، مجھے اُس کی ضرورت تھی
ضرورت تھی کہ الفت تھی یا پھر شاید محبت تھی
۔۔۔
پھر اِک دِن سردیوں کی شام میں ہم ساتھ تھے کچھ پل
الاؤ کی تپش بھی تھی مگر خنکی بلا کی تھی
وہ آنکھیں موند کر، چادر لیے، تکیے پہ سر رکھے
مجھے سُن کر، تسلی دے کے جانے کی اجازت دی
مگر اُس پل، وہاں رُک کر ، مرا دِل تھا ، اُسے دیکھوں
مرا دِل تھا اُسے کہہ دوں، مرے جذبوں سے ناواقف!
مری سوچوں سے بہرہ ور! مری چاہت سے ناواقف!
اے میرے مہرباں، محسن! مجھے تم سے محبت ہے!
۔۔۔
فضا خاموش تھی، خنکی، تپش ، مسحور سا منظر!
یہاں دھڑکن کی شورش، اور وہاں مدھر سی سرگوشی!!!
وہی مدہوش کرتی گنگناہٹ، "وردِ تنہائی"!!!
"مری سوچوں ناواقف، مرے جذبوں سے ناواقف
جسے میرا پتہ نہ تھا، مجھے اُس سے محبت تھی"
۔۔۔

Wednesday, 13 July 2016

IK chehra jo mery khawab saja deta tha

ایک چہرہ، جو میرے خواب سجا دیتا ھے 
 مجھکو میریے ہی خیالوں میں صدا دیتا ھے
 
 وہ میرا کون ھے معلوم نہیں ھے، لیکن"
جب بھی ملتا ھے وہ پہلو میں جگہ دیتا ھے

میں جو اندر سے کبھی ٹوٹ کے بکھروں "
وہ مجھکو تھامنے کیلیے ہاتھ بڑھا دیتا ھے
 
  میں جو تنہا کبھی چُپکے سے بھی رونا چاہوں"
وہ دل کے دروازے کی زنجیر ھلا دیتا ھے

اُس کی قُربت میں ھے کیا بات نجانے "محسن"
ایک لمحے کیلئے صدیوں کو بھلا دیتا ھے

Junoon Main Shauq Ki Gehraiyon Se Darta Raha

Junoon Main Shauq Ki Gehraiyon Se Darta Raha
Main Apni ZaaT Ki Sachaiyon Se Darta Raha

Mohabton Se Shanasa Huwa Main Jis Din Se
Phir Us K Baad Shanasaiyon Se Darta Raha

Wo Chahta Tha K Tanha Miloon To Baat Kre
Main Kya Krun K Main Tanhaiyon Se Darta Raha

Mein Regzaar Tha Mujh Main Basay Thay Sanaatay
Isi Liye To Main Shehnaiyon Se Darta Raha

Main Apne Baap Ka Yousuf Tha is Liye Mohsin
Sakoon Se So Na Saka Bhaiyon Se Darta Raha

Wednesday, 1 June 2016

میں لغزشوں سے اٹے راستے پہ_____چل نکلا

 

میں لغزشوں سے اٹے راستے پہ_____چل نکلا


تجھے گنوا کے مجھے پھر کہاں سنبھلنا تھا


( محسن نقوی)

Thursday, 26 May 2016

اک دیا دل میں جلانا بھی بجھا بھی دینا

اک دیا دل میں جلانا بھی بجھا بھی دینا

یاد کرنا بھی اسے روز بھلا بھی دینا


خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رہنا اس سے

جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا


مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارہ لیکن

جی میں‌آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا


کیا کہوں یہ مری چاہت ہے کہ نفرت اس کی

نام لکھنا بھی مرا لکھ کے مٹا بھی دینا


صورت نقش قدم دشت میں رہنا محسن

اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا

بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے

بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے

نہ اپنے زخم ہی مہکے ، نہ دل کے چاک سلے


کہاں تلک کوئی ڈھونڈے مسافروں کا سراغ

بچھڑنے والوں کا کیا ہے ، ملے ملے نہ ملے


عجیب قحط کا موسم تھا اب کے بستی میں

کیے ہیں بانجھ زمینوں سے بارشوں نے گِلے


یہ حادثہ سرِ ساحل رُلا گیا سب کو

بھنور میں ڈوبنے والوں کے ہاتھ بھی نہ ملے


سناں کی نوک، کبھی شاخِ دار پہ محسن

سخنوروں کو ملے ہیں مشقتوں کے صلے


Sunday, 15 May 2016

وہ جو اک شہر ہے پانی کے کنارے محسن

وہ جو اک شہر ہے پانی کے کنارے محسن
اپنے اطراف میں دلدل نہیں ہونے دیتا "

  محسن نقوی

Saturday, 14 May 2016

مٹا رہی تھی مجھے طرزِ اِنتہا اُس کی

مٹا رہی تھی مجھے طرزِ اِنتہا اُس کی
کبھی نہ کُھل سکی مُجھ پر کوئی ادا اُس کی

 

نہ میں نے کوئی صدا اُس کو دی ، نہ وہ لوٹا
میری اناء کے مُقابِل رہی انا اُس کی

 

اُسے خِراجِ محبت ادا کرُونگا ضرور
زرا میں یاد تو کر لُوں کـوئی وفا اُس کی

 

وہ چند لوگ جو میری طرف تھے، کیا کرتے ؟
اُدھر تو ایک خُدائی تھی ہمنوااُس کی

 

نجانے کِتنی محبت تھی اُس کی نفرت میں
کئی دُعاؤں سے بہتر تھی بد دُعا اُس کی

 

اُسے جُدا ہوۓ برسوں گُزر گۓ محسن
مگر ہے نقش دِل و جاں پہ ہر ادا اُس کی


مُحسن نقوی

Terey Ekhlaass Say Mohabbat Ki Hai

Terey Ekhlaass Say Mohabbat Ki Hai
Terey Ehssaas Say Mohabbat Ki Hai

Tu Merey Pass Nahin Hai Phir Bhi
Teri Yaad Say Mohabbat Ki Hai

Kabhi Tu Nay Bhi Mujhay Yaad Kya Ho Ga
Main Nay Un Lamhaat Say Mohabbat Ki Hai

Jin Main Ho Sirf Teri Aur Meri Baatain
Main Nay Un Auqaat Say Mohabbat Ki Hai

Aur Jo Mahekay Ho Sirf Teri Hi Mohabbat Say
Main Nay Un Jazbaat Say Mohabaat Ki Hai

Tujh Say Milna Tu Ab Khuwaab Sa Lagta Hai ???
Mohsin Nay Terey Intezaar Say Mohabbat Ki Hai

Tuesday, 10 May 2016

بچھڑ کے تجھ سے یہ سوچوں کہ دل کہاں جائے

بچھڑ کے تجھ سے یہ سوچوں کہ دل کہاں جائے
سحر اداس کرئے، شام رائیگاں جائے

 

زمیں بدر جو ہوئے ہو تو میرے ہمسفرو
چلے چلو کہ جہاں تک یہ آسماں جائے

 

تمام شہر میں پھیلی ہوئی ہے تنہائی
یہ دل جواں سہی مگر کہاں کہاں جائے

 

جلوں تو یوں کہ ازل جگمگا اٹھے مجھ سے
بجھوں تو یوں کہ ابد تک دھواں جائے

 

ابھی تو دل سے نکل کر زبان تک آئی ہے
کسے خبر کہ کہاں کہاں تک یہ داستاں جائے

 

قدم قدم پہ ہے زنداں روش روش پہ صلیب
کوئی تو ہو کہ جو اب بہر امتحاں جائے

 

بچھڑ چلا ہے تو میری دعا بھی لیتا جا

وہاں وہاں مجھے پائے، جہاں جہاں جائے

 

میں اپنے گھر کی طرف جا رہا ہوں یوں محسن
کہ جیسے لٹ کے کسی بن میں کا رواں جائے !

Friday, 6 May 2016

منزلیں تیرے علاوہ بھی ہیں لیکن.



منزلیں تیرے علاوہ بھی ہیں لیکن.

 زندگی اور کسی راہ پر چلنا ہی نہیں چاہتی..

Tuesday, 3 May 2016

تم "دوسری" ہو

سنا ہے زمیں پر
وہی لوگ ملتے ہیں جن کو
کبھی آسمانوں کے اُس پار
روحوں کے میلے میں
اک دوسرے کی محبت ملی ہو
مگر تم
کہ میرے لیے نفرتوں کے اندھیروں میں
ہنستی ہوئی روشنی ہو
لہو میں رچی ہو
رگوں میں بسی ہو
ہمیشہ سکوتِ شبِ غم میں آواز ِ جاں بن کے
چاروں طرف گونجتی ہو
اگر آسمانوں کے اس پار
روحوں کے میلے میں بھی مل چکی ہو
تو پھر اس زمیں پر
مری چاہتوں کے کھلے موسموں سے گریزاں
مری دھوپ چھاوں سے کیوں اجنبی ہو
کتابوں میں لکھی ہوئی
اور کانوں سنی
ساری باتیں غلط ہیں
کہ تم "دوسری" ہو
محسن نقوی

اگر بچھڑنا ٹھہر گیا ہے

اگر بچھڑنا ٹھہر گیا ہے
اگر بچھڑنا ٹھہر گیا ہے
تو میرے خوابوں سمیت اپنی اداس آنکھیں
بھلا کے جاؤ
کہ جب بھی ملنا پڑے کسی سے
  کسی شناسا کہ اجنبی سے تو یوں نہ ہو
تم چھپا نہ پاؤ
تمام ماضی
تمام سچ کے لہو میں تر ناتمام وعدے
کہ اجنبی دوستوں سے ملتے ہوۓ
خود اپنی اداس آنکھوں میں
بولتے سچ کو دفن کرنا
بہت ہی مشکل ہے
اپنے ماضی
کے سچ پہ
"اظہار معذرت "
اور معذرت
اعتراف جرم و سزا سے بھی
کڑا عمل ہے
" جو تم سے شاید کبھی نہ ہو گا "
-
محسن نقوی

Monday, 2 May 2016

تمام شب یُونہی دیکھیں گی سُوئے در آنکھیں


تمام شب یُونہی دیکھیں گی سُوئے در آنکھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں

 

طلوعِ صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں

 یہ دشتِ شب میں ستاروں کی ہمسفر آنکھیں

 

ستم یہ کم تو نہیں دلگرفتگی کے لیے !
میں شہر بھر میں اکیلا، اِدھر اُدھر آنکھیں

 

شمار اُسکی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص
چراغ بانٹتا پھرِتا ہے چھین کر آنکھیں

 

وہ پاس تھا تو زمانے کو دیکھتی ہی نہ تھیں
بچھڑ گیا تو ہُوئیں پھر سے در بدر آنکھیں

 

ابھی کہاں تجھے پہچاننے کی ضد کیجئے!
ابھی تو خود سے بھی ٹھہری ہیں بےخبر آنکھیں

 

میں اپنے اشک بچاؤں گا کس طرح محسن ؟
زمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر انکھیں

اب کے تو اسطرح سے یاد آیا

اب کے تو اسطرح سے یاد آیا
جس طرح دشت میں گھنے سائے


جیسے دھندلے سے آئینے کے نقوش
جیسے صدیوں کی بات یاد آئے

محسن نقوی


.

Saturday, 30 April 2016

آنکھ میں بے کراں ملال کی شام

آنکھ میں بے کراں ملال کی شام

دیکھنا ، عـــشق کے زوال کی شام

 

 میری قسمت ہے تیرے ہجر کا دن

میری حسرت تیرے وصال کی شام

 

دہکی دہکی تیرے جمال کی صُبح

مہکی مہکی میرے خیال کی شام

 

روپ صدیوں کی دوپہر پہ محیط

اوڑھنی ہے کہ ماہ و سال کی شام

 

پھر وہی در وہی صدا "محسنؔ"

پھر وہی میں ــ وہی سوال کی شام

 

محسن نقوی