affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Famous Urdu Ghazal
Showing posts with label Famous Urdu Ghazal. Show all posts
Showing posts with label Famous Urdu Ghazal. Show all posts

Thursday, 1 June 2017

Mujhay bhool ja by Anee Asad

Mujhay bhool ja by Anee Asad

مجھے بھول جا 
مجھے بھول جا 
یہ  ہی کہا تھا 
تو نے کبھی 
مجھے محبّت کے حصار میں 
گم کیا تھا تو نے کبھی 
تجھے ایسا لگا میں بھول گئ 
اور راہ میں نے بدل ہی لی 
یہ تیرا ہی گمان تھا 
کے راہ سے  ھوں میں بھٹک گئ. 
میری آرزو میری جستجو 
تیری روح سے تیری ذات تک 
میری زندگی ہے یہیں کہیں 
تیری راہ میں رکی ہوئی 
میں بھول نہ سکی تجھے 
میں ھوں اب بھی وہیں کھڑی ہوئی 
جہاں تو نے مجھ سے 
کہا تھا یہ بھی کبھی 
مجھے بھول جا 
مجھے بھول جا 

عینی اسد

Tuesday, 30 May 2017

Suno humdum tumharay wastay kuch lafz likhnay hain



سنو ہم دم ! تمھارے واسطے کچھ لفظ لکھنے ہیں
تمھارے نام۔۔۔
کچھ اشعار کرنے ہیں
ہماری ذیست کے اے دوست!
وہ لمحے معتبر تو ہیں۔۔۔
تمھارے سنگ جو بیتے ۔۔۔
تمھاری پُر لطف قُربت سے۔۔۔
جو کچھ پل میں نے تھامے ہیں
سنو ساتھی !
وہ پل سارے ،
لفظوں کو رنگ میں رنگ کر۔۔۔
ابھی تم کو سنانے ہیں ،
کسی تصویر میں رنگ کر ۔۔۔
ابھی تم کو سکھانے ہیں ۔۔۔
سنو ہم دم!
کہو تو پاس میں رکھ لوں ،
اثاثہ اُس گلابوں کا۔۔۔
تمھاری میٹھی باتوں کا۔۔۔
اور اُن میٹھی باتوں سے ۔۔۔
مجھے کچھ لفظ چننے ہیں ،
پھر تم سے بس یہ کہنا ہے۔۔۔!
سنو ساتھی ، سنو ہم دم!
اگر جو تم اجازت دو۔۔۔
تمہیں اپنے پاس میں رکھ لوں۔۔۔
عمر بھر ساتھ میں رکھ لوں۔۔۔؟؟؟

Woh alfaz dhoon raha tha by Anee Asad


وہ الفاظ ڈھونڈ رہا تھا ...
مجھے روکنے کے لئے ...
آنکھوں میں کئی سوال تھے ...
مجھے واپس پانے کے لئے ...
کئی الفاظ بے معنی سے ..
کئی جذبات بے سہارا سے ...
نہ کوئی دلیل تھی ...
نہ کوئی وضاحت تھی ...
الفاظوں کا ایک ہجوم تھا ...
اس گہری خاموشی میں ...
انتہا کا درد تھا ...
پر اس میں ایک سکون تھا ...
کچھ امیدیں ٹوٹی ہوئیں ...
کچھ سانسیں تھمی ہوئیں ...
محبّت کے بھرم کو نبھا رہا تھا۔...
وہ مجھ کو واپس بولا رہا تھا۔..

عینی اسد۔۔۔

Monday, 29 May 2017

Aadaten by Anee Asad


عادتیں مختلف ہیں۔.
عادتیں بدل ڈالو۔.
کم محبّت کرنے والے۔.
اکثر بھول جاتے ہیں۔.

عینی اسد ۔۔۔

Woh alfaz dhoond raha tha



وہ الفاظ ڈھونڈ رہا تھا ...
مجھے روکنے کے لئے ...
آنکھوں میں کئی سوال تھے ...
مجھے واپس پانے کے لئے ...
کئی الفاظ بے معنی سے ..
کئی جذبات بے سہارا سے ...
نہ کوئی دلیل تھی ...
نہ کوئی وضاحت تھی ...
الفاظوں کا ایک ہجوم تھا ...
اس گہری خاموشی میں ...
انتہا کا درد تھا ...
پر اس میں ایک سکون تھا ...
کچھ امیدیں ٹوٹی ہوئیں ...
کچھ سانسیں تھمی ہوئیں ...
محبّت کے بھرم کو نبھا رہا تھا۔...
وہ مجھ کو واپس بولا رہا تھا۔..

عینی اسد۔۔۔
https://ssl.gstatic.com/ui/v1/icons/mail/images/cleardot.gif


Tuesday, 9 May 2017

Mein tumhary aks k aarzoo m bas aaina bani rahi


میں تمہارے عکس کی آرزو میں بس آٰ ئینہ ہی بنی رہی

کبھی تم نہ سامنے آ سکے،کبھی مجھ پہ گرد پڑی رہی


وہ عجیب شام تھی،آج تک میرے دل میں اس کا ملال ھے

میری طرح جو تیری منتظر،تیرے راستے میں کھڑی رھی


کبھی وقف ہجر میں ہو گئ کبھی خواب وصل میں کھو گئ

میں فقیر عشق بنی رہی، میں اسیر یاد ہوئی رہی


بڑی خامشی سے سرک کے پھر مرے دل کے گرد لپٹ گئ

وہ رداےء ابر سپید جو ، سر کوہسار تنی رہی


ہوئی اس سے جب میری بات بھی،تھی شریک درد وہ ذات بھی

تو نہ جانے کون سی چیز کی میری زندگی میں کمی رہی

 ثمینہ راجہ

Saturday, 26 November 2016

Jub tum ko he sawan ka sandesa nahi ban'na


جب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننا
مجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بننا

کہتی ہے کہ آنکھوں سے سمندر کو نکالو
ہنستی ہے کہ تم سے تو کنارہ نہیں بننا

محتاط ہے اتنی کہ کبھی خط نہیں لکھتی
کہتی ہے مجھے اوروں کے جیسا نہیں بننا

تصویر بناؤں تو بگڑ جاتی ہے مجھ سے
ایسا نہیں بننا مجھے ویسا نہیں بننا

اس طرح کے لب کون تراشے گا دوبارہ
اس طرح کا چہرہ تو کسی کا نہیں بننا

چہرے پہ کسی اور کی پلکیں نہیں جھکنی
آنکھوں میں کسی اور کا نقشہ نہیں بننا

میں سوچ رہا ہوں کہ میں ہوں بھی کہ نہیں ہوں
تم ضد پہ اڑی ہو کہ کسی کا نہیں بننا

میں رات کی اینٹیں تو بہت جوڑ رہا ہوں
پر مجھ سے تیرے دن کا دریچہ نہیں بننا

اُس نے مجھے رکھنا ہی نہیں آنکھوں میں عامر
اور مجھ سے کوئی اور ٹھکانہ نہیں بننا..

Thursday, 27 October 2016

Ranj kitna bhi kren en ka zamany waly


رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے

 

کیسی بے فیض سی رہ جاتی ہے دل کی بستی
کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے

 

ایک پل چھین کے انسان کو لے جاتا ہے
پیچھے رہ جاتے ہیں سب ساتھ نبھانے والے

 

لوگ کہتے ہیں کہ تو دور افق پار گیا
کیا کہوں اے مرے دل میں اتر آنے والے

.

جانے والے تری مرقد پہ کھڑا سوچتا ہوں
خواب ہی ہوگئے تعبیر بتانے والے

 

ہر نیا زخم کسی اور کے سینے کا سعودؔ
چھیڑ جاتا ہے مرے زخم پرانے والے

 

شاعر : سعودؔ عثمانی

Tuesday, 23 August 2016

Jis ko likhta hon mein jan se pyairy jesa

ﺟﺲ ﮐﻮ لکھتا ہوں میں ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ۔

ﺩﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ

۔

ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻠﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ،ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﻧﺎ ﭘﮍﺍ۔

ﻋﺸﻖ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺳﮯ ﮔﺰﺍﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ۔


ﺯﺧﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ،ﻣﺮﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﻭﮦ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ۔


ﺗﻢ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﻢ ﺳﮯ۔

ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺅ،،ﻣﻼ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ۔؟

Thursday, 18 August 2016

Us k har baat mery dil ko rwa ho jaey

 

اس کی ہر بات مرے دل کو روا ہو جائے

وہ مگر اپنی انا سے تو رہا ہو جائے


بات ہم دل کی چھپائیں گے نہیں اب ہرگز
کوئی ہوتا ہے خفا گر تو خفا ہو جائے


جتنے ممکن تھے جتن ہم نے کئے ہیں لیکن
وہ جدائی پہ مصر ہے تو جدا ہو جائے


پھر سے سیراب کرے روح مری ، پیار ترا
دل کے صحراؤں پہ ساون کی گھٹا ہو جائے


ہم نے سوچا تھا تجھے بھول کے جینے کا مگر
دل کی مرضی ہے ترے غم میں فنا ہو جائے


ہم ترے غم سے تعلق کو نبھائیں گے سدا
چاہےاب ہم کو یہ جینا بھی سزا ہو جائے


ہم ترے حکم کو تسلیم کیئے لیتے ہیں
اس سے پہلے کہ کوئی اور خطا ہو جائے


کچھ تو میرے یار توازن بھی محبت میں رہے
اس کو اتنا بھی نہ چاہو کہ خدا ہو جائے

Monday, 25 July 2016

Kahen chand rahon m kho gaia ,khen chandni bhi bathak gae



کہیں چاند راہوں میں‌ کھو گیا، کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی

میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا، میری رات کیسے چمک گئی

-

میری داستاں کا عروج تھا تیری نرم پلکوں کی چھاؤں‌ میں

میرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تیری آنکھ کیسے جھپک گئی
-
کبھی ہم ملے بھی تو کیا ملے، وہی دوریاں‌ وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے، نہ کبھی تمہاری جھجک گئی
-
تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تیری یاد شاخِ گلاب ہے جو ہوا چلی تو لچک گئی

 

بشیر بدر

Wednesday, 13 July 2016

IK chehra jo mery khawab saja deta tha

ایک چہرہ، جو میرے خواب سجا دیتا ھے 
 مجھکو میریے ہی خیالوں میں صدا دیتا ھے
 
 وہ میرا کون ھے معلوم نہیں ھے، لیکن"
جب بھی ملتا ھے وہ پہلو میں جگہ دیتا ھے

میں جو اندر سے کبھی ٹوٹ کے بکھروں "
وہ مجھکو تھامنے کیلیے ہاتھ بڑھا دیتا ھے
 
  میں جو تنہا کبھی چُپکے سے بھی رونا چاہوں"
وہ دل کے دروازے کی زنجیر ھلا دیتا ھے

اُس کی قُربت میں ھے کیا بات نجانے "محسن"
ایک لمحے کیلئے صدیوں کو بھلا دیتا ھے

Aey musafir ! Arzoo Ka Rasta Kesa Laga


اے مسافر! آرزو کا راستہ کیسا لگا؟

 زیرِ پائے شوق، پہلا آبلہ کیسا لگا؟

 

اُڑتے بادل کے تعاقب کا نتیجہ کیا رہا؟
عشق میں دیوانگی کا تجربہ کیسا لگا؟

 

دو جہاں دامن میں بھر لینے کی خواہش کیا ہوئی؟
اپنی بانہوں کا سِمٹتا دائرہ کیسا لگا؟

 

تم کہ تھے مظلوم کے حامی، تمہارا کیا بنا؟
جب ہوا ظالم کے حق میں فیصلہ، کیسا لگا؟

 

زندگی کو تم سمجھتے تھے ہنسی کی داستاں
داستاں پر، آنسوؤں کا تبصرہ کیسا لگا؟

 

کیسے کیسے خواب دیکھے پہلی پہلی عمر میں
اور جب اُترا جوانی کا نشہ، کیسا لگا؟

 

خوش ہوا کرتے تھے عاجزؔ تم کھلونے توڑ کر
اب جو ٹوٹا ہے انا کا آئینہ کیسا لگا؟

Saturday, 11 June 2016

ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﺫﺭﺍ


ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﺫﺭﺍ

کچھ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ

 

ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﮐﺎ ﻣﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﻟﻮ ﮔﮯ؟ ...

ﺁﺝ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ

ﺑﻮﻝ ﺗﺘﻠﯽ کے ﺩﺍﻡ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ...
ﺭﻧﮓ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ


ﺳﺮﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﯿﭻ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﻏﻢ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیںﻣﺠﮭﮯ


ﺯﻧﺪﮔﯽ کے ﺟﻮﺍﺭ ﺑﮭﺎﭨﮯ ﺳﮯ
کچھ ﺷﺮﺍﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ

 ...
ﻣﯿﮟ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺧﺮﯾﺪ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍﺏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ


ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺧﺮﺍﺝ ﮐﺘﻨﺎ ہے
ﮔﻮﺷﻮﺍﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ


ﻣﺠﮭﮯ ﮈﮔﻤﮕﺎﺗﯽ ہے ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻋﺎﻃﻒ
کچھ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ہیں ﻣﺠﮭﮯ

خود سے روٹھوں تو کئی روز نہ خود سے بولوں

خود سے روٹھوں تو کئی روز نہ خود سے بولوں
پھر کسی درد کی دیوار سے لگ کر رو لوں

 

تو سمندر ہے تو پھر اپنی سخاوت بھی دکھا
کیا ضروری ہے کہ میں پیاس کا دامن کھولوں

 

میں کہ اک صبر کا صحرا نظر آتا ہوں تجھے
تُو جو چاہے تو ترے واسطے دریا رو لوں

 

اور معیار رفاقت کے ہیں ایسا بھی نہیں
جو محبت سے ملے ساتھ اسی کے ہولوں

 

خود کو عمروں سے مقفل کئے بیٹھا ہوں فراز
وہ کبھی آئے تو خلوت کدۂ جاں کھولوں

Wednesday, 1 June 2016

محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

 
جو دل گلاب ہیں زخموں سے بھر نہ جائیں کہیں

ابھی تو وعدہ و پیماں اور یہ حال اپنا

 
وصال ہوتو خوشی سے ہی مر نہ جائیں کہیں

 

یہ رنگ چہرے کے اور خواب اپنی آنکھوں کے

 
ہوا چلے کوئی ایسی بکھر نہ جائیں کہیں

 

جھلک رہا ہے جن آنکھوں سے اب وجود مرا

 
یہ آنکھیں ہائے یہ آنکھیں مکر نہ جائیں کہیں

 

پکارتی ہی نہ رہ جائے یہ زمیں پیاسی

 
برسنے والے یہ بادل گزر نہ جائیں کہیں

 

نڈھال اہلِ طرب ہیں کہ اہلِ گلشن کے

 
بجھے بجھے سے یہ چہرے سنور نہ جائیں کہیں

 

فضائے شہر عقیدوں کی دھند میں ہے اسیر

 
نکل کے گھر سے اب اہلِ نظر نہ جائیں کہیں

تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہے



 تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہے

تو نے ہونٹوں کو لرزنے سے تو روکا ہوتا

 
بےنیازی سے مگر کانپتی آواز کے ساتھ 
تو نے گھبرا کے میرا نام نہ پوچھا ہوتا

 
تیرے بس میں تھی اگر مشعل جذبات کی لو
تیرے رخسار میں گلزار نہ بھڑکا ہوتا

 
یوں تو مجھ سے ہوئیں صرف آب وہوا کی باتیں
اپنے ٹوٹے ہوئے فقروں کو تو پرکھا ہوتا

 
یونہی بے وجہ ٹھٹھکنے کی ضرورت کیا تھی
دم رخصت اگر یاد نہ آیا ہوتا

 
تیرا غماز بنا خود تیرا اندازِ خرام 
دل نہ سنبھلا تھا تو قدموں کو سنبھالا ہوتا

 
اپنے بدلے میری تصویر نظر آجاتی 
تُو نے اُس وقت اگر آئینہ دیکھا ہوتا

 
حوصلہ تجھ کو نہ تھا مجھ سے جُدا ہونے کا
ورنہ کاجل تیری آنکھوں میں نہ پھیلا ہوتا

کیسا چپ چپ تھا مرے عزم سفر کو دیکھ کر​

کیسا چپ چپ تھا مرے عزم سفر کو دیکھ کر​

ڈر گیا میں اخری بار اپنے گھر کو دیکھ کر​

میرے سر اس چار دیواری کے کتنے قرض تھے​

سر جھکا جاتا تھا ان دیوار و در کو دیکھ کر​

شہر سے رخصت کے منظر کا بھی اپنا کرب تھا​

دل لہو روتا تھا اک اک رہ گزر کو دیکھ کر​

کیا عمارت تھی کہ جس کو وقت غارت کر گیا​

انکھ بھر آئی ہے خواہش کے کھنڈر کو دیکھ کر​

جو ملا پہلے وہی بھوکی نظر میں جچ گیا​

میں نے کب چاہا تھا اس کو، شہر بھر کو دیکھ کر​

خود غرض دل کی خواہش جان لے لے گی ریاض​

خود پہ رحم آتا ہے اپنے ہمسفر کو دیکھ کر​

اسطرح نہیں کرتے، رابطہ تو رکھتے ھیں

اسطرح نہیں کرتے، رابطہ تو رکھتے ھیں

تھوڑا ملنے جلنے کا سلسلہ تو رکھتے ھیں

 

منزلیں بلند ہوں تو مشکلیں بھی آتی ھیں

مشکلوں سے لڑنے کا حوصلہ تو رکھتے ھیں

 

جو تمہارے اپنے ہوں، تم سے پیار کرتے ہوں

ان کا حال کیسا ھے، کچھ پتہ تو رکھتے ھیں

 

دوستی کے رشتے کو توڑتے نہیں ایسے

روٹھے دوستوں سے بھی واسطہ تو رکھتے ھیں

 

چھوڑ جانے والے اکثر لوٹ کے بھی آتے ھیں

ان کے لوٹ آنے کا راستہ تو رکھتے ھیں..

بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں

بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں

کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے
کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں

ابھی غیروں کے دکھ پہ بھیگنا بھولی نہیں آنکھیں
ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں

نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دل سے لگا رکھتا
میں دشمن کو بھی گنتا ہوں محبت کے سفیروں میں

سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں
میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں

بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے
کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں

احمد ندیم قاسمی