affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Ubaid Ullah Aleem
Showing posts with label Ubaid Ullah Aleem. Show all posts
Showing posts with label Ubaid Ullah Aleem. Show all posts

Wednesday, 1 June 2016

محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

 
جو دل گلاب ہیں زخموں سے بھر نہ جائیں کہیں

ابھی تو وعدہ و پیماں اور یہ حال اپنا

 
وصال ہوتو خوشی سے ہی مر نہ جائیں کہیں

 

یہ رنگ چہرے کے اور خواب اپنی آنکھوں کے

 
ہوا چلے کوئی ایسی بکھر نہ جائیں کہیں

 

جھلک رہا ہے جن آنکھوں سے اب وجود مرا

 
یہ آنکھیں ہائے یہ آنکھیں مکر نہ جائیں کہیں

 

پکارتی ہی نہ رہ جائے یہ زمیں پیاسی

 
برسنے والے یہ بادل گزر نہ جائیں کہیں

 

نڈھال اہلِ طرب ہیں کہ اہلِ گلشن کے

 
بجھے بجھے سے یہ چہرے سنور نہ جائیں کہیں

 

فضائے شہر عقیدوں کی دھند میں ہے اسیر

 
نکل کے گھر سے اب اہلِ نظر نہ جائیں کہیں

Friday, 15 April 2016

تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے

تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے
فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اِک شخص


پلٹ سکوں ہی نہ آگے ہی بڑھ سکوں جس پر
مجھے یہ کون سے رستے لگا گیا اِک شخص


محبّتیں بھی عجب اُس کی نفرتیں بھی کمال

مری ہی طرح کا مجھ میں سما گیا اِک شخص


محبّتوں نے کسے کی بھُلا رکھا تھا اُسے
ملے وہ زخم کہ پھر یاد آگیا اِک شخص


کھلا یہ راز کہ آئینہ خانہ ہے دنیا
اور اس میں مجھ کو تماشا بنا گیا اِک شخص


کلام : عبید اللہ علیمؔ

Thursday, 31 March 2016

دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیا

دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیا
تم بھی تو بے اماں ہوئے۔۔۔ ہم کو ستا لیا تو کیا


باغ کا باغ آپ کی دسترسِ ہوس میں ھے
ایک غریب نے اگر پھول اٹھا لیا تو کیا


پڑھتا نہیں ھے اب کوئی سنتا نہیں ھے اب کوئی
حرف جگا لیا تو کیا شعر سنا لیا تو کیا

عبید الله علیم