affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Image Poetry
Showing posts with label Image Poetry. Show all posts
Showing posts with label Image Poetry. Show all posts

Thursday, 5 July 2018

Fizza Batool Poetry


تاروں کی زیارت کیا کرنا
یادوں کی حفاظت کیا کرنا
شب بھر کی اداسی بے معنی
بے کار ریاضت کیا کرنا
کیوں تجھ کو پکارا چاہت سے
خواہش پہ ملامت کیا کرنا
الفت کی امیدیں چھوٹ گئیں
یک طرفہ محبت کیا کرنا
کچھ کالی بھوری آنکھیں تھیں
سازش کی شکایت کیا کرنا
ہے دل میں گماں پر لب پہ قفل
بے کار کی حجت کیا کرنا
آزاد رہیں میرے سان و گمان
پابند سلاسل کیا کرنا
یہ جور و ستم یہ درد و الم
پر جاؤ! شکایت کیا کرنا
اب چپ بھی رہو تم اے لوگو!
اتنی بھی بغاوت کیا کرنا
احساسں ندامت کیا کہیے
اک حرفِ دعا کا کیا کرنا
دل لہو لہو لب سلے سلے
اب اور عنایت کیا کرنا
سر پھوڑ لیا دل مار لیا
اب اور کیا کہنا کیا کرنا
ہے ایک حقیقت دل کی لگی
پر تم یہ حماقت نہ کرنا
آزار سہی پر ڈٹے رہو
ظالم کی حمایت کیا کرنا
یہ اہل جہل ہیں ستم ظریف
لفظوں کو بے حرمت کیا کرنا
اب فضؔہ چلیں اس بستی سے
پتھر کی عبادت کیا کرنا




Thursday, 24 May 2018

Kuch khawab he tu thy



کچھ خواب ہی تو تھے
سنو
اب دل کو سنبھالو
ذرا سوچو ذرا سمجھو
بِتا دی جن کے ماتم میں
یہ ساری زندگی تم نے
فقط کچھ خواب ہی تو تھے
چلو آنکھوں میں در آئے
کہ گھر اس دل کو کر بیٹھے
یہ مانا تم نے اپنے دل کے خوں سے اُن کو سِینچا تھا
بجا کہ اپنی سانسوں کی امانت اُن کو دے دی تھی
جو پورے دل کی تھی دولت، وہ چاہت اُن کو دے دی تھی
مگر سوچو
سفر جیون کا رُکتا ہے اگر کچھ ہاتھ چُھوٹیں تو
نئی اُمید بنتی ہے
کہ جینے کی تمنا مر نہیں جاتی اگر کچھ خواب ٹُوٹیں تو
سنو اب دل کو سنبھالو
کہ جب زندہ تمہارے دل میں تھے بے تاب ہی تو تھے
ذرا سوچو ذرا سمجھو
بِتا دی جن کے ماتم میں یہ ساری زندگی تم نے
کتابِ زندگی کے کچھ ادھُورے باب ہی تو تھے
چلو آنکھوں میں در آئے
مگر کچھ خواب ہی تو تھے


Muhabbat by Bakht Jarwar









کاش کہ اپنا جان لیتے تو کرب محبت نہ ہوتا
خلش نہ ہوتی سینے میں لب پہ لفظ شکایت نہ ہوتا
خشم میں زہر نہ پیتے تم سے دوری کا
دفع کر دیتے اگر تو ہماری چاہت نہ ہوتا
الفاظ محبت نہ لکهتے خنک راتوں میں تنہا
اگر تو ہمارا عشوہ ساذ موضوع عبارت نہ ہوتا
خرد میں ہی غم بے شمار لگا لیے سینے سے اپنے
کاش کہ اس دل میں درد محبت نہ ہوتا
عش عش کر اٹهتی ہے ہماری تحریروں پہ دنیا بخت
لڑ جاتے اپنی محبت سے گر گلہ نقاہت نہ ہوتا

Bakht Jarwar






Wednesday, 9 May 2018

Koe bat kar




میرے جان و دل___ میرے ہمسفر
میں اداس ہوں کوئی بات کر.,,!!

تیرے لب ہلیں___ تو کٹے سفر.
میں اداس ہوں کوئی بات کر,,!!

کوئی بوجھ ہو تو___ اتار دے
کوئی خوف ہو تو__ نکال دے,,!!

میرا ہاتھ ہے_______تیرے ہاتھ پر
میں اداس ہوں کوئی بات کر ,,!!

نہیں___ یاد کتنے برس گئے
تیری گفتگو کو______ترس گئے,,!!

میری کھڑکیاں___دیوار و در
میں اداس ہوں کوئی بات کر ,,!!

تجھے__ چپ ہےکیسی لگی ہوئی
ابھی عمر تو ہے___ پڑی ہوئی,,!!

ابھی مسکرا_____ابھی غم نہ کر
میں اداس ہوں کوئی بات کر ,,!!!!!!

 

 

 

Wednesday, 25 April 2018

Muhabbat


سنو یہ جو تھوڑی سے محبت باقی ہے
ہم اس کو بچا لیتے ہے
اب ہم بچھڑ جاتے ہیں


Sunday, 15 April 2018

Bila Unwan by Fizza Batool

"بلا عنوان"
  لفظ ہیں جوڑ توڑ حرفوں کی
یہ بھلا کب پائیدار ہوتے ہیں
دکھ ہی دیتے زندگی کو دوام
زخم تو سایہ دار ہوتے ہیں
عرش والے کی مان لینے سے
فرش والے بیزار ہوتے ہیں
یہ بغاوت نہیں عبادت ہے
آئینے کاٹ دار ہوتے ہیں
ہر اک کربلا کا محرک تو
اہل کوفہ کے تار ہوتے ہیں
اس کی آنکھوں کا رنگ ایسا کہ
دل تو سارے نہال ہوتے ہیں
عارضی نفرتوں میں گھر کر ہی
سارے انساں خوار ہوتے ہیں
دائمی حسرتوں کا کیا کہنا
جگر سارے فگار ہوتے ہیں
زندگی بوجھ بن ہی جاتی ہے
جب خسارے سوار ہوتے ہیں
رونا آئے تو پھوڑ لو آنکھیں
دلاسے خاردار ہوتے ہیں
صبر سے ہی عرش والے سے
رابطے استوار ہوتے ہیں

 
شاعرہ: فضہ بتول


Bila Unwan by Fizza Batool



"بلا عنوان"
لفظ ہیں جوڑ توڑ حرفوں کی
یہ بھلا کب پائیدار ہوتے ہیں
دکھ ہی دیتے زندگی کو دوام
زخم تو سایہ دار ہوتے ہیں
عرش والے کی مان لینے سے
فرش والے بیزار ہوتے ہیں
یہ بغاوت نہیں عبادت ہے
آئینے کاٹ دار ہوتے ہیں
ہر اک کربلا کا محرک تو
اہل کوفہ کے تار ہوتے ہیں
اس کی آنکھوں کا رنگ ایسا کہ
دل تو سارے نہال ہوتے ہیں
عارضی نفرتوں میں گھر کر ہی
سارے انساں خوار ہوتے ہیں
دائمی حسرتوں کا کیا کہنا
جگر سارے فگار ہوتے ہیں
زندگی بوجھ بن ہی جاتی ہے
جب خسارے سوار ہوتے ہیں
رونا آئے تو پھوڑ لو آنکھیں
دلاسے خاردار ہوتے ہیں
صبر سے ہی عرش والے سے
رابطے استوار ہوتے ہیں


شاعرہ: فضہ بتول



Pory chand k raton m by Farzana Khral

پورے چاند کی راتوں میں
جب پہرہ خوشبو کا
تیرے دل پہ
ذرا سا ہاتھ رکھے
پرانا موسم میری آرزو کا
کوئی ٹوٹا ستارہ
پلک تیری چھو کے جائے
تمہاری انگلیوں کو
لمس میرا یاد آجائے
تبھی تم ہجر لکھنا
کبھی تم ہجر لکھنا

 شاعرہ فرزانہ کھرل


Wednesday, 21 March 2018

jub hum mily thy by Maryam Sheikh



وہ عام سی ہی شام تھی
جب ہم ملے تھے
انجانی راہوں پے چلے تھے
کالی آنکھوں نے دل لوٹ تھا
یہ دل روز سے دھڑکا تھا
برستی بارش میں ہاتھ تھامے تھے
بہتے آنسو مسکراہٹ میں بدلے تھے
ایک چھوٹی سے کرنیٹو دی تھی
کہا کچھ بھی نہیں تھا
مگر محبت کر بیٹھے تھے
بارش میں خوب بھیگے تھے
ساری رات جاگے تھے
نئے سپنے پروے تھے
وہ بھی عام سی شام تھی
برستی بارش میں کرنیٹو پگھلی تھی
دو ہاتھ چھوٹے تھے
آنسو پھر سے بہے تھے
محبت گنوا بیٹھے تھے
جب ہم ملے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریم شیخ
جب ہم ملے تھے

Monday, 22 January 2018

Jahan bujh gaey thy chragh

جہاں بجھ گئے تھے چراغ سب وہاں داغ دل کے جلے تھے پھر
جہاں آکے پاؤں کٹے مرے، وہاں نقشِ پا بھی چلے تھے پھر

مرے رہنما کا تھا فیصلہ، مرا جسم جاں سے جُدا ہُوا
یہی خوب تھا کہ اسی نے ہی سرِ دار ہاتھ ملے تھے پھر

مجھے آسمان پہ سُکون تھا، یہ زمین میرا جنون تھا
یہی کیا کہ پھر مجھے خوف تھا، سبھی آسماں کے تلے تھے پھر

جو ملا مجھے وہ خفا ہوا، یہ تھا معجزہ ترے پیار کا
جو تھے خوش ہوئے مجھے دیکھ کر، ترے پاس جا کے جلے تھے پھر

مرے پاس میرا خیال تھا، مرا سوچنا بھی کمال تھا
مری آنکھ نے مرے اشک بھی کفِ آستیں پہ ملے تھے پھر

مرے دل کی بات ہی اور تھی، مری کائنات ہی اور تھی
وہ جو جگنوؤں کی طرح تھے سب شبِ تیرگی میں پلے تھے پھر

وہ عجیب سا کوئی کھیل تھا، جہاں دھوپ چھاؤں کا میل تھا
تھے جو مہر و ماہ وہ بچ گئے، گو وہ روز و شب میں ڈھلے تھے پھر

سعداللہ شاہ

Wednesday, 10 January 2018

"محبت مار دیتی ہے" Muhabbat mar deti hai by Shamsa Iqbal






"محبت مار دیتی ہے"
سادہ سی وہ اِک لڑکی
آنکھوں میں ہر پل جِسکی
خواب رقص کرتے تھے
آسکی روشن آنکھوں سے
جگنو روشنی چُراتے تھے
محبت کے ذکر پر
پہلے مسکراتی تھی
پھر محبت کی حمایت میں
چاہتوں کے عنوان پر
گھنٹوں بولا کرتی تھی
آج جو برسوں بعد
ملا میں اُس سے
تو دیکھا کہ اُن روشن آنکھوں میں
اب بسیرا ہے ویرانی کا۔۔۔
اب محبت کے ذکر پر
اُسکی ویران آنکھوں میں
آنسوؤں کا سمند ر
ٹھاٹیں مار کر اُٹھتا ھے۔۔
محبت کی حمایت میں
وہ اب کچھ نھیں کہتی
بس لب بھینچے
وہ سر جھکا کر
آنسو پیتی رھتی ہے
قرب کا گہرا احساس
اُسکےچہرے پر رھتا ہے۔۔
دیکھ کر اُداسی اُسکی۔۔
پھر میں یہ جان جاتی ہوں
میں یہ مان جاتی ہوں
محبت مار دیتی ہے
دکھوں کے ہار دیتی ہے۔۔
ہاں۔۔ محبت مار دیتی ہے۔۔۔
 
Written by : .
شمسہ اقبال

Wednesday, 27 December 2017

Umer ka bhrosa kya pal ka sath ho jaey

عُمر کا بھروسہ کیا، پَل کا ساتھ ہوجائے
ایک بار اکیلے میں، اُس سے بات ہوجائے

دِل کی گُنگ سرشاری اُس کو جِیت لے، لیکن
عرضِ حال کرنے میں احتیاط ہوجائے

ایسا کیوں کہ جانے سے صرف ایک اِنساں کے 

 ساری زندگانی ہی، بے ثبات ہوجائے

یاد کرتا جائے دِل، اور کِھلتا جائے دِل
اوس کی طرح کوئی پات پات ہوجائے

سب چراغ گُل کرکے اُس کا ہاتھ تھاما تھا
کیا قصور اُس کا، جو بَن میں رات ہوجائے

ایک بار کھیلےتو، وہ مِری طرح اور پھر
جِیت لے وہ ہر بازی مجھ کو مات ہوجائے

رات ہو پڑاو کی پھر بھی جاگیے ورنہ !
آپ سوتے رہ جائیں، اور ہات ہوجائے

پروین شاکر

Tuesday, 26 December 2017

Bandhan



وصال کی خواہش
کہہ بھی دے اب وہ سب باتیں
جو دل میں پوشیدہ ہیں
سارے روپ دکھا دے مجھ کو
جو اب تک نادیدہ ہیں

ایک ہی رات کے تارے ہیں
ہم دونوں اس کو جانتے ہیں
دوری اور مجبوری کیا ہے
اس کو بھی پہچانتے ہیں

کیوں پھر دونوں مل نہیں سکتے
کیوں یہ بندھن ٹوٹا ہے
یا کوئی کھوٹ ہے تیرے دل میں
یا میرا غم جھوٹا ہے


منیر نیازی

Monday, 25 December 2017

درد دل by Gul Bashrah


درد دل
 درد دل کو زباں چاہیے
 مجھے تھوڑا سا آسماں چاہیے 
 فقیر ہوں میں در در کا 
 رہنے کو اک مکاں چاہیے
 چھوڑ دینا مجھے اندھیروں میں 
 مگر تیرا اک نشاں چاہیے
 نہ صرف اک تو چاہیے
 مگر ہمیں کوہ گراں چاہیے
 بہار کے افسانوں کو 
حقیقت کی خزاں چاہیے
 شمع کو پروانے کی محفل میں
 جاں چاہیے
 بتا محبت کودفنا نےہم نشیں
 جانا ہمیں کہاں چاہیے ..?
 زندگی چار دن کا میلہ ہے
 ڈھلنے کو زرا آسمان چاہیے 
جہاں کبھی نہ دن ڈھلے گل' 
مجھے تیرا ساتھ وہاں چاہیے

 Gul bashrah

Saturday, 23 December 2017

تيرى نظريں وہ تِير نيم كش سى..





تيرى نظريں وہ تِير نيم كش سى..
تيرى وہ مسکراہٹ اف قيامت..

بہاريں ساتھ لے کر تیرا چلنا..
تيرے قدموں کی آہٹ اف قیامت.

يہ حسن بے پناہ مسحور كن هے..
اور اس پر يہ سجاوٹ اف قيامت..

ميرا نظریں ملانا وہ حیا سے..
تیری وہ هڑبڑاهٹ اف قيامت..

كهلى هے جو لبوں پہ چاشنی..
محبت كى ملاوٹ اف قیامت..

تیری سرگوشیاں مہکى ہوائیں..
وہ ان کی سرسراہٹ اف قیامت..

تراشا ہے تجھے فرصت میں رب نے..
تیرے نقش و بناوٹ اف قیامت..

تیری انگڑائياں بھى قاتلانہ..
تيرى تو ہے تھکاوٹ اف قیامت..

  😍😍💞

صدف ایمان
..
💞