You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Showing posts with label Famous Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Famous Urdu Poetry. Show all posts
Sunday, 28 August 2016
Tuesday, 26 July 2016
Wednesday, 1 June 2016
پوچھا صدف تو آنکھ جھکا کر دکھا دیا
پوچھا صدف تو آنکھ جھکا کر دکھا دیا
پوچھا گوہر تو اشک بہا کر دکھا دیا
پوچھا کہ اتنے پھول بہاروں میں کس طرح
اس نے عدیم خود کو ہنسا کر دکھا دیا
پوچھا کہ شب کو چاند نکلتا ہے کس طرح
رخ سے نقاب اس نے ہٹا کر دکھا دیا
پوچھا کہ آفتاب کو چھاؤں کبھی ملی
بالوں کو اس نے رخ پہ گرا کر دکھا دیا
پوچھا کہاں سے آئی دھنک آسمان پر
آنچل ہوا میں اس اڑا کر دکھا دیا
پوچھا کے حوض شب میں کیا غسل نور بھی
تب اس نے چاندنی میں نہا کر دکھا دیا
پوچھا کہ مجھ کو وعدہ شکن کہہ دیا ہے کیوں
اس نے عدیم خط میرا لا کر دکھا دیا
عدیم ہاشمی
Tuesday, 31 May 2016
مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔۔
مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔۔
بہت زیادہ نہیں لیکن۔۔۔۔۔۔
خوشی میں اور غم میں
بارشوں میں بھیگتے اور سردیوں کی دھوپ میں بیٹھے
پرانی ڈائری کے حاشیوں میں ،
تمہارے کھلکھلاہٹ سے بھرے
جملوں کو پڑھ کر مسکراتے
اور تمہارے کارڈز کو
ہر بار اک نئی ترتیب سے رکھتے
جنم دن پر
ہر اک تہوار پر
سچ میں ۔۔۔
مجھے تم یاد آتے ہو
بہت زیادہ نہیں لیکن
مری ہر سوچ میں دھڑکن میں
سانسوں کے تسلسل میں
مجھے بھولے ہوئے ساتھی
مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔۔۔۔
عاطف سعید
Monday, 30 May 2016
کوئی حد نہیں ہے کمال کی
کوئی حد نہیں ہے کمال کی
کوئی حد نہیں ہے جمال کی
وہی قرب و دور کی منزلیں
وہی شام خواب و خیال کی
نہ مجھے ہی اس کا پتہ کوئی
نہ اسے خبر مِرے حال کی
یہ جواب میری صدا کا ہے
کہ صدا ہے اس کے سوال کی
یہ نمازِ عصر کا وقت ہے
یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی
وہ قیامتیں جو گزر گئیں
تھیں امانتیں کئی سال کی
ہے منیر تیری نگاہ میں
کوئی بات گہرے ملال کی
۔۔۔۔۔۔۔۔
منیر نیازی
Thursday, 26 May 2016
میں تجھے محسوس کرنا چاہتی ہوں
مجھ کو اپنے آپ سے بچھڑے ہوئے
کتنے زمانے ہوگئے ہیں
سُرمئی شاموں کے پہرے میں
طلب کی ریت پر تنہائی ننگے پیر چلتی ہے
تو میرا دل وصالِ معنی سے بچھڑے ہوئے
اک حرفِ تنہا کی طرح بجھ جاتا ہے
میری سحر سے رات
جب سرگوشیاں کرتی ہے
تو کوئی بھی اک لبریز لمحہ جسم سے باہر نہیں آتا
نہ ہونٹوں پر کوئی بوسہ
مرے احوال کی تمہید باندھتا ہے
یہی ہوتا ہے میری آرزو کے سب سِرے
حسرت کی تاروں میں اُلجھ کر
میرے اندر سانس تو لیتے ہیں
لیکن تیرے دل سے میرے دل تک
فاصلوں کی وہ جو
اک دیوار حائل ہے
وہ جوں کی توں ہمارے درمیاں
موجود رہتی ہے
وہ تنہائی وہ برسوں کی خموشی
(جوگماں کی دھند میں لپٹی ہوئی ہے)
میرا سایہ بن کے میرے ساتھ رہتی ہے
دلِ خاموش اس سب سلسلے سے تھک گیا ہے
اس سے پہلے لاتعلق اور لمبی تلخیوں کی
یہ کہانی زرد پڑ جائے
یہ چُپ دیمک کی مانند
زندگی کو چاٹ جائے
میں یقیں کےساتھ
تجھ کو اور تیری روح کو
محسوس کرنا چاہتی ہوں
رات دن خوشبو کی مانند
تیری چاہت اور سنگت میں مہکنا چاہتی ہوں۔۔۔
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
ہجر کی پُوری رات آتی ہے صبحِ وصال سے پہلے
دِل کا کیا ہے دِل نے کتنے منظر دیکھے لیکن
آنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے
کس نے ریت اُڑائی شب میں آنکھوں کھول کے رکھیں
کوئی مثال تو ہو ناں اس کی مثال سے پہلے
کارِ محبت ایک سفر ہے اِس میں آ جاتا ہے
ایک زوال آثار سا رستہ بابِ کمال سے پہلے
عشق میں ریشم جیسے وعدوں اور خوابوں کا رستہ
جتنا ممکن ہو طے کر لیں گر دِ ملال سے پہلے
Wednesday, 25 May 2016
جسے خود سے ہی نہیں فرصتیں،جسے دھیان اپنے جمال کا
جسے خود سے ہی نہیں فرصتیں،جسے دھیان اپنے جمال کا
اسے کیا خبر مرے شوق کی،اسے کیا پتا مرے حال کا
مرے کوچہ گرد نے لوٹ کر مرے دل پہ اشک گرا دیا
اسے ایک پل نے مٹا دیا جو حساب تھا مہ و سال کا
تجھے شوق دید غروب ہے،مری آنکھ دیکھ بھری ہوئی
کہیں تیرے ہجر کی تیرگی کہیں رنگ میرے ملال کا
شب انتظار وہ مہ لقا،جونہی میرے سامنے آگیا
مجھے کوئی ہوش نہیں رہا،نہ جواب کا نہ سوال کا
کبھی حال ہجر کہا نہیں،وہ ملا تو لفظ ملا نہیں
کہیں گفتگو ہی میں کھو گیا،جو معاملہ تھا وصال کا
جسے وقت جان غزل کہے،جو چلے تو شام کھڑی رہے
وہی میرے لفظ کا رنگ ہے،وہی روپ میرے خیال کا
شہزاد نیر
Monday, 23 May 2016
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
مرے پیروں میں زنجیر پِیا
اب نین بہاویں نیر پِیا
اے شاہ مرے اک بار تو آ
تو وارث، میں جاگیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
بے نام ہوئی، گم نام ہوئی
کیوں چاہت کا انجام ہوئی
مرا مان رہے، مجھے نام ملے
اک بار کرو تحریر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
کب زلف کے گنجل سلجھیں گے
کب نیناں تم سے الجھیں گے
کب تم ساون میں آؤ گے
کب بدلے گی تقدیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
سب تیر جگر کے پار گئے
مجھے سیدے کھیڑے مار گئے
آ رانجھے آ کر تھام مجھے
تری گھائل ہو گئی ہیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
میں جل جل ہجر میں راکھ ہوئی
میں کندن ہو کر خاک ہوئی
اب درشن دو، آزاد کرو
اب معاف کرو تقصیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پیا
کب زین اداسی بولے گی
کب بھید تمہارا کھولے گی
کب دیپ بجھیں ان آنکھوں کے
تم مت کرنا تاخیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
-
زین شکیل
کتاب: سن سانسوں کے سلطان پیا
Saturday, 14 May 2016
ﻣﺮﮮ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻣﺮﮮ ﺍﺷﻨﺎ
ﯾﮧ ﻣﺮﺍ ﺳﻔﺮ
ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺨﺘﺼﺮ
ﻣﺮﮮ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻣﺮﮮ ﺍﺷﻨﺎ
ﻣﺮﮮ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ
ﯾﮩﺎﮞ ﮬﺮ ﻗﺪﻡ ﭘﮧ ﮬﯿﮟﻭﺣﺸﺘﯿﮟ
ﯾﮩﺎﮞ ﺳﺎﻧﺲ ﺳﺎﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺭ ﮬﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﺳﺮﺩ ﻣﮩﺮﯼ ﻭ ﺑﮯ ﺭﺧﯽ ﮐﮯ
ﮬﺰﺍﺭﻭﮞ ﺗﯿﺮ ﺯﮨﺮ ﺑﺠﮭﮯ
ﺟﻮ ﺟﮕﺮ ﺳﮯ ﺭﻭﺡ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﮬﯿﮟ
ﻣﺮﺍ ﺑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﭘﻠﭧ ﺳﮑﻮﮞ
ﮐﺴﯽ ﻣﻮﮌ ﭘﺮ
ﮐﭽﮫ ﭘﻞ! ﮐﻮ ﺭﮎ ﮐﮯ ﮬﯽ ﺳﻮﭺ ﻟﻮﮞ
ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺰﺏ ﺩﻝ ﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭ ﻟﻮﮞ
ﺗﺠﮭﮯ ﺩﻭﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﻟﻮﮞ
ﺗﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﻧﮓ
ﺣﺴﯿﻦ ﺟﺬﺑﮯﺧﻠﻮﺹ ﭘﻞ
ﺟﻮ ﺍﻣﺎﻧﺘﺎﻣﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮬﯿﮟ
ﺳﺐﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮬﯽ ﺳﻮﻧﭗ ﺩﻭﮞ
ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ
ﺗﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻣﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﺗﮏ
ﯾﮧ ﻣﺮﺍ ﺳﻔﺮﻧﮩﯿﮟ ﻣﺨﺘﺼﺮ
Tuesday, 10 May 2016
Ghar se nikle toh ho socha bhi kidhar jaaoge,
har taraf tez hawaayen hain bikhar jaaoge.
Itna aasaan nahin lafzon pe bharosa karna,
ghar ki dehleez pukaaregi jidhar jaaoge.
Shaam hote hi simat jaayenge saare raste,
behte dariya se jahan hoge thehar jaaoge.
Har naye shehar mein kuchh raaten kadi hoti hain,
chhat se deewaren juda hongi toh dar jaaoge.
Pehle har cheez nazar aayegi bemaani si,
aur phir apni hi nazar se utar jaaoge. !!
Tuesday, 3 May 2016
تم "دوسری" ہو
سنا ہے زمیں پر
وہی لوگ ملتے ہیں جن کو
کبھی آسمانوں کے اُس پار
روحوں کے میلے میں
اک دوسرے کی محبت ملی ہو
مگر تم
کہ میرے لیے نفرتوں کے اندھیروں میں
ہنستی ہوئی روشنی ہو
لہو میں رچی ہو
رگوں میں بسی ہو
ہمیشہ سکوتِ شبِ غم میں آواز ِ جاں بن کے
چاروں طرف گونجتی ہو
اگر آسمانوں کے اس پار
روحوں کے میلے میں بھی مل چکی ہو
تو پھر اس زمیں پر
مری چاہتوں کے کھلے موسموں سے گریزاں
مری دھوپ چھاوں سے کیوں اجنبی ہو
کتابوں میں لکھی ہوئی
اور کانوں سنی
ساری باتیں غلط ہیں
کہ تم "دوسری" ہو
محسن نقوی
اگر کبھی میری یاد آئے
اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخل فلک سے اڑ کر تمہارے قدموں میں آ گرے تو
یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کا
اگر نہ آئے------
مگر یہ ممکن ھی کس طرح ھے تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ھستی نہ بھول جائے
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ھوا کی لہروں پہ ھاتھ رکھنا
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں ملوں گا
اگر ستاروں میں اوس قطروں میں خوشبوؤں میں
نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
میں گرد ھوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا
کہیں پہ روشن چراغ دیکھو تو سوچ لینا
کہ ھر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ھوں
تم اپنے ھاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا
میں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا
کسی نہ دیکھے ھوئے جزیرے پہ رک کے تم کو
صدائیں دوں گا
سمندروں کے سفر پہ نکلو تو
اس جزیرے پہ بھی اترنا................ !
امجد اسلام امجد
Sunday, 1 May 2016
کوئی کفر کفارہ کرو نی اڑیوں،
کوئی کفر کفارہ کرو نی اڑیوں،
میری جان کفر دی کملی ہوئی،
میرا رانجھن لگا جوگ سرہانے،
میری اکھی رو رو انی ہوئی،
میرا کعبہ مندر مندر ہویا،
میں تے حج وی یار دی راہ ڈبوئی
میرا ورد طواف وی ہور ہی ہویا،
میری روح وی کوکدی عشقاں کوئی،
میرے ورد الٹ، میرے وکھ وظیفے،
میں عشق سباق دی اجڑی ہوئی،
میرے ہور دھمال میرا لوک تماشا،
میری جان جے نچ نچ جھلی ہوئی،
میرا رانجھن رٹھیا میرے اونوں سجدے،
مینوں رب دی خیر خبر نا کوئی،
میرا ہور قران میری نوی نماز،
میرا یار سوا ہن پیر نہ کوئی،
منوں فیر نہ آکھیوں کافر مشرک،
میرے دل دماغ تے قبضہ کوئی،
مینوں رب وی جیڑا آن مناوے،
میں یار بنا نہ راضی ہوئی،
غالب کمال
کلّیوں کا تبسّم ہو، کہ تم ہو، کہ صَبا ہو
کلّیوں کا تبسّم ہو، کہ تم ہو، کہ صَبا ہو
اِس رات کے سنّاٹے میں، کوئی تو صدا ہو
یُوں جسم مہکتا ہے ہَوائے گُلِ تر سے !
جیسے کوئی پہلوُ سے ابھی اُٹھ کے گیا ہو
دُنیا ہَمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو
کچھ اور قریب آؤ ، کوئی سُن نہ رہا ہو
یہ رنگ، یہ اندازِ نوازش تو وہی ہے
شاید کہ کہیں پہلے بھی توُ مجھ سے مِلا ہو
یوں رات کو ہوتا ہے گُماں دِل کی صدا پر
جیسے کوئی دِیوار سے سر پھوڑ رہا ہو
دُنیا کو خبر کیا ہے مِرے ذوقِ نظر کی
تم میرے لیے رنگ ہو، خوشبو ہو، ضیا ہو
یُوں تیری نِگاہوں میں اثر ڈُھونڈ رہا ہُوں
جیسے کہ تجھے دِل کے دَھڑکنے کا پتا ہو
اِس درجہ محبّت میں تغافل نہیں اچھّا
ہم بھی جو کبھی تم سے گُریزاں ہوں تو کیا ہو
ہم خاک کے ذرّوں میں ہیں اختر بھی، گُہر بھی
تم بامِ فلک سے، کبھی اُترو تو پتا ہو
اختر ہوشیارپوری
Saturday, 30 April 2016
سُن سانسوں کے سلطان پیا
مری تھم تھم جاوے سانس پیا
مری آنکھ کو ساون راس پیا
تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھے
ترا لہجہ بہت اداس پیا
ترے پیر کی خاک بنا ڈالوں
مرے تن پر جتنا ماس پیا
تُو ظاہر بھی، تُو باطن بھی
ترا ہر جانب احساس پیا
تری نگری کتنی دور سجن
مری جندڑی بہت اداس پیا
میں چاکر تیری ازلوں سے
تُو افضل، خاص الخاص پیا
مجھے سارے درد قبول سجن
مجھے تیری ہستی راس پیا
زین شکیل
Friday, 29 April 2016
مجھ میں وہ تابِ ضبطِ شکایت کہاں ہے اب
مجھ میں وہ تابِ ضبطِ شکایت کہاں ہے اب
چھیڑو نہ تم کہ میرے بھی منہ میں زباں ہے اب
وہ دن گئے کہ حوصلۂ ضبطِ راز تھا
چہرے سے اپنے شورشِ پنہاں عیاں ہے اب
جس دل کو قیدِ ہستئ دنیا سے ننگ تھا
وہ دل اسیرِ حلقۂ زلفِ بتاں ہے اب
آنے لگا جب اُس کی تمنا میں کچھ مزا
کہتے ہیں لوگ جان کا اس میں زیاں ہے اب
لغزش نہ ہو بلا ہے حسینوں کا التفات
اے دل سنبھل وہ دشمنِ دیں مہرباں ہے اب
اک جرعۂ شراب نے سب کچھ بھلا دیا
ہم ہیں اور آستانۂ پیرِ مغاں ہے اب
ہے وقتِ نزع اور وہ آیا نہیں ہنوز
ہاں جذبِ دل مدد کہ دمِ امتحاں ہے اب
ہے دل غمِ جہاں سے سبکدوش ان دنوں
سر پڑتا سوجھتا کوئی بارِ گراں ہے اب
حالی تم اور ملازمتِ پیرِ مے فروش
وہ علمِ دیں کدھر ہے وہ تقویٰ کہاں ہے اب
(خواجہ الطاف حسین حالی)
Thursday, 28 April 2016
راحتِ دل متاعِ جاں ہے تو
راحتِ دل متاعِ جاں ہے تو
اے غمِ دوست جاوداں ہے تو
اے غمِ دوست جاوداں ہے تو
آنسوؤں پر بھی تیرا سایہ ہے
دھوپ کے سر پر سائباں ہے تو
دھوپ کے سر پر سائباں ہے تو
دل تری دسترس میں کیوں نہ رہے
اس زمیں پر تو آسماں ہے تو
شامِ شہر اداس کے والی
اے مرے مہرباں کہاں ہے تو
سایۂ ابرِ رائیگاں ہوں میں
موجِ بحرِ بیکراں ہے تو
میں تہہِ دست و گرد پیرہن
لال و الماس کی دکاں ہے تو
لمحہ بھر مل کے روٹھنے والے
زندگی بھر کی داستاں ہے تو
کفر و ایماں کے فاصلوں کی قسم
اے متاعِ یقین گماں ہے تو
تیرا اقرار ہے نفی میری
میرے اثبات کا جہاں ہے تو
جو مقدر سنوار دیتے ہیں
ان ستاروں کی کہکشاں ہے تو
بے نشاں بے نشاں خیام میرے
کارواں کارواں رواں ہے تو
جلتے رہنا چراغ آخرِ شب
اپنے محسن کا رازداں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محسن نقوی
اس زمیں پر تو آسماں ہے تو
شامِ شہر اداس کے والی
اے مرے مہرباں کہاں ہے تو
سایۂ ابرِ رائیگاں ہوں میں
موجِ بحرِ بیکراں ہے تو
میں تہہِ دست و گرد پیرہن
لال و الماس کی دکاں ہے تو
لمحہ بھر مل کے روٹھنے والے
زندگی بھر کی داستاں ہے تو
کفر و ایماں کے فاصلوں کی قسم
اے متاعِ یقین گماں ہے تو
تیرا اقرار ہے نفی میری
میرے اثبات کا جہاں ہے تو
جو مقدر سنوار دیتے ہیں
ان ستاروں کی کہکشاں ہے تو
بے نشاں بے نشاں خیام میرے
کارواں کارواں رواں ہے تو
جلتے رہنا چراغ آخرِ شب
اپنے محسن کا رازداں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محسن نقوی
Subscribe to:
Posts (Atom)










