affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Zain Shakeel
Showing posts with label Zain Shakeel. Show all posts
Showing posts with label Zain Shakeel. Show all posts

Saturday, 23 July 2016

Wo ankhon se bol rha tha

  اپنے آنسو رول رہا تھا

وہ آنکھوں سے بول رہا تھا

تیرے بعد مرے کمرے میں
ماتم کا ماحول رہا تھا

ہم ہی چلنے سے عاری تھے
وہ تو رستے کھول رہا تھا

جان! تمہاری نگری اندر
میں کتنا بے مول رہا تھا

وہ بھی کیسے اپنی چُپ سے
میری چُپ کو تول رہا تھا

تم کتنے انمول ہوئے ہو
میں کتنا انمول رہا تھا

رات ، مری بے چین آنکھوں میں
چاند اداسی گھول رہا تھا

یاد ہے؟ تیری خاطر میرے
ہاتھوں میں کشکول رہا تھا

زین شکیل

Wednesday, 13 July 2016

محبت مر نہیں سکتی



سنو!
اے کانچ کی گڑیا
تمہیں چھونے کی خواہش سے بھی ڈرتا ہوں
کہیں پر آنچ نہ آئے
کہیں کچھ ٹوٹ نہ جائے
سنو اے ماہِ رُو لڑکی
تمہیں میں نے بتانا ہے
تمہاری صندلیں خوشبو
مجھے محصور رکھتی ہے
محبت کے سحِر میں
تم مجھے اتنا بتا ؤ تو !
بھلا تم کون ہو ؟
اے ماہ وش
اے ماہ پارہ
چاندنی جیسی
تمہارے دور جانے سے
نہ جانے کیوں مری اب سانس رُکتی ہے
مجھے کیوں موت کا اِحساس ہوتا ہے
سنو!
اے دلربا لڑکی
مجھے دل میں جگہ دے دو
میں صدیوں سے اکیلا ہوں
تری آنکھوں میں رہنا ہے
مرے سارے ہی لفظوں کو
فقط اپنی زباں دو
مری تو زندگی ڈوبی ہوئی ہے گھپ اندھیروں میں
سنو تم نور ہو تم تیرگی میں نور بھر دو نا
مجھےسب سے چھپا لو نا
مجھے اپنا بنا لو نا
کبھی پیڑوں سے ملنے جاؤ تو
جس پیڑ پر تم سب زیادہ
سبز پتے دیکھ لو تو اس پہ اک پتھر سے
میرا اور اپنا نام لکھنا
اور دونوں نام لکھ کر یہ بھی لکھ دینا
ہوا، آندھی کوئی طوفان
یا غم کا کوئی صحرا
کسی بھی راہ میں آئے
کوئی بھی رُت ہمیں اک دوسرے سے
یوں جدا اَب کر نہیں سکتی
محبت مر نہیں سکتی


زین شکیل

Monday, 23 May 2016

تم سپنوں کی تعبیر پِیا

مرے پیروں میں زنجیر پِیا

اب نین بہاویں نیر پِیا
اے شاہ مرے اک بار تو آ
تو وارث، میں جاگیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

بے نام ہوئی، گم نام ہوئی
کیوں چاہت کا انجام ہوئی
مرا مان رہے، مجھے نام ملے
اک بار کرو تحریر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

کب زلف کے گنجل سلجھیں گے
کب نیناں تم سے الجھیں گے
کب تم ساون میں آؤ گے
کب بدلے گی تقدیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

سب تیر جگر کے پار گئے
مجھے سیدے کھیڑے مار گئے
آ رانجھے آ کر تھام مجھے
تری گھائل ہو گئی ہیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

میں جل جل ہجر میں راکھ ہوئی
میں کندن ہو کر خاک ہوئی
اب درشن دو، آزاد کرو
اب معاف کرو تقصیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پیا

کب زین اداسی بولے گی
کب بھید تمہارا کھولے گی
کب دیپ بجھیں ان آنکھوں کے
تم مت کرنا تاخیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
-
زین شکیل
کتاب: سن سانسوں کے سلطان پیا

 





تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدن



تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدن
تُو اگر ہاتھ چھڑا لے تو بکھر جاؤں میں

زین شکیل

تُو نہ بولے تو یہ تنہائی بہت چیختی ہے


تُو نہ بولے تو یہ تنہائی بہت چیختی ہے

 مار دے گا ترا رہنا یونہی مصروف، مجھے


زین شکیل

غزال مثل تجھے کیا خبر غزل کو مِری


غزال مثل تجھے کیا خبر غزل کو مِری
تری ردیف نگاہی نے قافیے دیے ہیں


زین شکیل

پاس تم نہیں آتے


پاس تم نہیں آتے
دیکھو اپنی آئی پر
ہم اگر اُتر آئے
یاد بھی نہ آئیں گے
زین شکیل

Tuesday, 17 May 2016

"آؤ مر جائیں"

"آؤ مر جائیں"
ذرا تُو بھی وقت نکال کے
کبھی آ
کہ دونوں ہی مر مٹیں
کبھی ایک دوجے پہ مر مٹیں
تو سدا کے واسطے جی اٹھیں
کبھی آتماؤں کو ضم کریں
انہیں دو سے ایک کریں کبھی
کبھی آ
کہ بھولیں یہ ذات بھی کوئی چیز ہے
کبھی آ
کہ بھولیں یہ رات بھی کوئی چیز ہے
کبھی آ
کہ پیار کریں
اور اتنا کریں کہ پھر
جو قدورتوں کے جہان ہیں
وہاں تیرگی کو زوال ہو
کبھی خود کو بھول کے آ
کہ یاد رہوں تجھے
یہ یہاں وہاں
یہ اِدھر اُدھر
کوئی سانس لینا بھی جینا ہے
نہیں صندلیں!
نہیں یہ تو جینا نہیں ہے
یہ تو عجیب طرز کی موت ہے
یہاں آ
کہ سانس کا مول ہو
یہاں آ
کہ درد بھی ڈھل سکیں
کبھی زخم لہجہ بدل سکیں
کبھی آ
کہ دونوں ہی مر مٹیں
تو سدا کے واسطے جی اُٹھیں..

شاعر: زین شکیل

Sunday, 15 May 2016

سائیاں ہم سے بھول ہوئی ہے




سائیاں ہم سے بھول ہوئی ہے
اپنے رحم کرم کی بارش ہم پر بھی برساؤ ناں
سینے ہمیں لگاؤ ناں!
سائیاں ہم کو دانائی نے اتنے زخم لگا ڈالے ہیں
ہم گھاٹے کے سودے میں تھے
کتنی راتیں جاگ جاگ کر کاٹیں لیکن ہم نے سائیاں عشق کا بھید نہ پایا
بس نقصان کمایا ....
لوگوں نے بھی جب جب چاہا ہم کو کتنے دوش دیے اور
ہم الزاموں کی گٹھڑی کو لادے ان نازک کندھوں پر جانے کس کس نگری گھومے
کیسی کیسی تہمت جھیلی
کچھ بھی ہاتھ نہ آیا
بس نقصان کمایا سائیاں
اپنا آپ گنوایا...
ہم سے موسم، بادل، بارش سب کے سب ناراض ہوئے ہیں
صندل سی خوشبو میں سائیاں گھلی ملی اک سَچّی، سُچّی
میٹھی بات سناؤ ناں...
دل کا درد مٹاؤ ناں!
معاف کرو تقصیریں ساری
دیکھو ناں ہم خود سے کتنے عاجز آئے۔۔۔دنیا سے بیزار ہوئے ہیں!
ہم کتنے بیمار ہوئے ہیں۔۔۔
دکھ کا بوجھ گھٹاؤ ناں!
سکھ دینے آجاؤ ناں!
سائیاں پاس تو آؤ ناں!
ہم دانائی کے دھوکے میں پچھلی عمر بِتا آئے ہیں...
یعنی عمر گنوا آئے ہیں
سائیاں ہم سے بھول ہوئی ہے
ہم نے عشق کا بھید نہ پایا..
اپنے رحم کرم کی بارش ہم پر بھی برساؤ ناں
دل میں آن سماؤ ناں!
تجھ میں اپنا آپ فنا کر دینے کو ہم حاضر سائیاں
اپنے صادق، سُچے، سوہنے، مٹھڑے ہونٹ ہلاؤ ناں! ِ
اب تو "کُن" فرماؤ ناں!
سینے ہمیں لگاؤ ناں!

زین شکیل

Friday, 13 May 2016

ر شے کا آغاز محبت اور انجام محبت ہے

 

ر شے کا آغاز محبت اور انجام محبت ہے

درد کے مارے لوگوں کا بس اک پیغام ، محبت ہے

 

یہ جو مجھ سے پوچھ رہے ہو، ’’من مندر کی دیوی کون؟‘‘
میرے اچھے لوگو سن لو،’’اُس کا نام محبت ہے

!‘‘

شدت کی لُو ہو یا سرد ہوائیں، اِس کو کیا پروا
کانٹوں کے بستر پر بھی محوِ آرام محبت ہے

 

بِن بولے اک دل سے دوجے دل تک بات پہنچتی ہے
جو ایسے روحوں پر اُترے ، وہ الہام محبت ہے

 

پگلے! دامن بندھ جاتی ہے، جس کے بخت میں لکھی ہو
تم کتنا بھاگو گے، آگے ہر ہر گام محبت ہے

 

اب تو بس اک یاد سہارے وقت گزرتا رہتا ہے
اور اُس یاد میں ہراک صبح، ہر اک شام محبت ہے

 

ہم جیسے پاگل دیوانے، سود خسارہ کیا جانیں
نفرت کے اس شہر میں اپنا ایک ہی کام محبت ہے

 

اک لڑکی آدھے رستے میں ہار گئی اپنا جیون
وہ شاید یہ مان چکی تھی، بدفرجام محبت ہے

 

کچھ آلودہ روحوں والے، ہوس پجاری ہوتے ہیں
زین انہی لوگوں کے باعث ہی بدنام محبت ہے

 

تُو پگلی ! اب کن سوچوں میں گم صم بیٹھی رہتی ہے
بولا ہے ناں اب یہ ساری تیرے نام محبت ہے

 

زین شکیل

Wednesday, 11 May 2016

سائیاں


سائیاں

دیکھ رہے ہو ناں تم؟
ہم نے کتنے بھیس بدل کر
راہ بدلنے کی کوشش کی
ہم پھر بھی ناکام رہے ہیں
دکھ نے ہم کو ڈھونڈ لیا ہے
بھولی بسری یادوں کو بھی
تکیے کی اک شکل میں لا کر
سینے ساتھ لگا لینے سے
پل بھر دل بہلا لینے سے
من کی پیاس نہیں مٹتی ناں!
سائیاں رات نہیں کٹتی ناں!
ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے
کتنے زیادہ دکھ تھے جن کا
قتلِ عام کیا چُن چُن کر
پھر ان کی لاشوں کو سائیاں
دور بہت ہی دور کہیں پر
پھینک کے آگ لگا آئے ہیں
پھر بھی اپنے دل آنگن سے
غم کی بھیڑ نہیں جاتی ہے
سائیاں پیڑ نہیں جاتی ہے

زین شکیل

Wednesday, 4 May 2016

کس طرح کہیں تجھ سے


کس طرح کہیں تجھ سے
تیرے روٹھ جانے سے
ہم دکھوں کے ماروں پر
دو ٹکے کے لوگوں نے
انگلیاں اٹھائی ہیں۔۔۔
-
زین شکیل

Tuesday, 3 May 2016

تم کو اچھا لگتا تھا


تم کو اچھا لگتا تھا
خاموشی سُنتے رہنا
ہم نے آخر سیکھ لیا
تم سے مل کر چپ رہنا
اب پچھتاوا کیوں بولو؟
اب کیوں روتے رہتے ہو؟

زین شکیل

Monday, 2 May 2016

یہ چھپ کر کون شہرِ دل سے گزرا


یہ چھپ کر کون شہرِ دل سے گزرا
ہمارے دل کی دھڑکن تھم گئی ہے

 

وہ میرے حال سے واقف نہیں ہیں
مری اُن تک خبر کم کم گئی ہے

 

خوشی لینے چلی آئی تھی لیکن
وہ لڑکی آج بھی پُر نم گئی ہے

 

وہ شور و غُل میں کیسے بات سنتے
مری آواز بھی مدّھم گئی ہے

 

کبھی آ کر انہیں شفاف کر دے
ترے وعدوں پہ مٹی جم گئی ہے

 

زین شکیل

Sunday, 1 May 2016

آپ ہنس کر ملا نہیں کرتے

آپ ہنس کر ملا نہیں کرتے
پھول ایسے کھلا نہیں کرتے

 

 خود سے رہتے ہیں دیر تک ناراض
آپ سے بھی گلہ نہیں کرتے

 

درد ہوتے ہیں کس قدر باذوق
ہر کسی کو ملا نہیں کرتے

 

ایک ، دو پھر بھی رہ ہی جاتے ہیں
زخم سارے سلا نہیں کرتے

 

زین شکیل

Saturday, 30 April 2016

اک ترا دکھ ہی نہیں تھا کہ پریشاں ہوتے

اک ترا دکھ ہی نہیں تھا کہ پریشاں ہوتے
-
یہ جو پہناوا ہے زخموں پہ، مداوا تو نہیں
یہ جو آنکھیں ہیں، ترے نور سراپا کی قسم
اس قدر پھوٹ کے روئی ہیں کہ اب یاد نہیں
کون سا درد کہاں آن ملا تھا ہم کو
کس جگہ ضبط پریشان ہوا پھرتا رہا
نہ ہمیں راس رہا ہجر نہ ملنے کی گھڑی
اب تمہیں کیسے کہیں زخم پہ مرہم رکھو
اب تمہیں کیسے کہیں ہم سے کہیں آ کے ملو
اب تمہیں کیسے کہیں آنکھ سے بہتے ہوئے شخص
اب ہمیں اور کئی دکھ بھی تو ہو سکتے ہیں


زین شکیل

سُن سانسوں کے سلطان پیا

مری تھم تھم جاوے سانس پیا

مری آنکھ کو ساون راس پیا

 

تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھے

ترا لہجہ بہت اداس پیا


ترے پیر کی خاک بنا ڈالوں

مرے تن پر جتنا ماس پیا


تُو ظاہر بھی، تُو باطن بھی

ترا ہر جانب احساس پیا


تری نگری کتنی دور سجن

مری جندڑی بہت اداس پیا


میں چاکر تیری ازلوں سے

تُو افضل، خاص الخاص پیا


مجھے سارے درد قبول سجن

مجھے تیری ہستی راس پیا


زین شکیل


سچے، سچل سائیِں

سُن ڈھولے، سُن کرمانوالے

سوہنے سچل سائیں

اپنا آپ دکھائِیں وے سائِیں

کبھی ہم سے دور نہ جائِیں

انجانے میں لگ جاتے ہیں دل کو روگ اَوَلڑے

سکھ کا مینہ برسا، اب کر بھاری بختوں کے پلڑے

ہم نادان مصیبت مارے

اپنے آپ سے تنگ

کِت جاویں؟ کس کو بتلاویں؟

سکھ کی ہم سے جنگ۔۔۔

ایسے گھور اندھیرے میں اب سُکھ کا دیپ جلائِیں!

سینے ہمیں لگائِیں!

وے سائیں کبھی ہم سے دور نہ جائِیں!

سچے، سچل سائیِں!


زین شکیل


یہ کیسی تیری پریت پیا


یہ کیسی تیری پریت پیا
-
یہ کیسی تیری پریت پیا
تو دھڑکن کا سنگیت پیا
-
ترے رسم رواج عجیب بہت
مرا در در پھرے نصیب بہت
ترا ہجر جو مجھ میں آن بسا
میں تیرے ہوئی قریب بہت
-
مجھے ایسے لگ گئے روگ بُرے
میں جان گئی سب جوگ بُرے
آ سانول نگری پار چلیں
اس نگری کے سب لوگ بُرے
-
تجھے دیکھ لیا جب خواب اندر
میں آن پھنسی گرداب اندر
بن پگلی، جھلَی، دیوانی
میں ڈھونڈوں تجھے سراب اندر
-
ترے جب سے ہو گئے نین جدا
مرے دل سے ہو گیا چین جدا
کیا ایک بدن میں دو روحیں
ہم جسموں کے مابین جدا
-
یہ ہے ازلوں سے رِیت پیا
کب مل پائے من میت پیا
اب لوٹ آؤ سُونے مَن میں
کہیں وقت نہ جائے بیت پیا
-
یہ کیسی تیری پریت پیا
تو دھڑکن کا سنگیت پیا

  زین شکیل