affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Naheed Wrik
Showing posts with label Naheed Wrik. Show all posts
Showing posts with label Naheed Wrik. Show all posts

Thursday, 26 May 2016

میں تجھے محسوس کرنا چاہتی ہوں



مجھ کو اپنے آپ سے بچھڑے ہوئے

کتنے زمانے ہوگئے ہیں

سُرمئی شاموں کے پہرے میں

طلب کی ریت پر تنہائی ننگے پیر چلتی ہے

تو میرا دل وصالِ معنی سے بچھڑے ہوئے

اک حرفِ تنہا کی طرح بجھ جاتا ہے

میری سحر سے رات

جب سرگوشیاں کرتی ہے

تو کوئی بھی اک لبریز لمحہ جسم سے باہر نہیں آتا

نہ ہونٹوں پر کوئی بوسہ

مرے احوال کی تمہید باندھتا ہے

یہی ہوتا ہے میری آرزو کے سب سِرے

حسرت کی تاروں میں اُلجھ کر

میرے اندر سانس تو لیتے ہیں

لیکن تیرے دل سے میرے دل تک

فاصلوں کی وہ جو

اک دیوار حائل ہے

وہ جوں کی توں ہمارے درمیاں

موجود رہتی ہے

وہ تنہائی وہ برسوں کی خموشی

(جوگماں کی دھند میں لپٹی ہوئی ہے)

میرا سایہ بن کے میرے ساتھ رہتی ہے

دلِ خاموش اس سب سلسلے سے تھک گیا ہے

اس سے پہلے لاتعلق اور لمبی تلخیوں کی

یہ کہانی زرد پڑ جائے

یہ چُپ دیمک کی مانند

زندگی کو چاٹ جائے

میں یقیں کےساتھ

تجھ کو اور تیری روح کو

محسوس کرنا چاہتی ہوں

رات دن خوشبو کی مانند

تیری چاہت اور سنگت میں مہکنا چاہتی ہوں۔۔۔

تیری یاد کے موسم تیرے نام کی آہٹ



تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ

دم بخود سی بیٹھی ہے میرے بام کی آہٹ


کیوں ٹھہر گئی دل میں اُس قیام کی آہٹ

کیوں گزر نہیں جاتی اُس مقام کی آہٹ


ہاتھ کی لکیروں سے کس طرح نکالوں میں

تیری یاد کے موسم تیرے نام کی آہٹ


آنکھ میں مچلتی ہے روح میں تڑپتی ہے

اُس پیام کی آواز اُس قیام کی آہٹ


جب یہ دل رفاقت کی کچی نیند سے جاگا

ہر طرف سنائی دی اختتام کی آہٹ


فرقتوں کے بوسیدہ ساحلوں پہ اُتری تو

ہر طرف تھی بس تیرے صبح و شام کی آہٹ


رات کے اُترتے ہی دل کی سُونی گلیوں میں

جاگ اُٹھتی ہے پھر سے تیرے نام کی آہٹ


بیٹھ جاتی ہے آکر در پہ کیوں مرے ناہید

تیرے ساتھ کی خوشبو، تیرے گام کی آہٹ​