لکھاری
کی پیشکش ✦
یہ
الفاظ محض لفظوں کا مجموعہ نہیں،
بلکہ
اُن احساسات کی بازگشت ہیں
جو
دل کی گہرائیوں میں برسوں سے قید تھے۔
ہر
شعر میں ایک کہانی پوشیدہ ہے،
ہر
مصرع ایک خاموش صدا ہے،
جو
کبھی لبوں تک نہ آ سکی
مگر
قلم نے اُسے امر کر دیا۔
یہ
تحریریں اُن لمحوں کی عکاسی ہیں
جہاں
دل ٹوٹا بھی، سنبھلا بھی،
اور
آخرکار صبر میں ڈھل گیا۔
اگر
ان اشعار میں آپ کو
اپنے
دل کی جھلک محسوس ہو،
تو
سمجھ لیجیے گا
کہ
یہ محض اتفاق نہیں،
بلکہ
جذبات کی سچائی ہے۔
— تحریر: سبحان علی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عنوان:
"صبر کا راستہ"
دل
کو سکون تو تب ملتا جب صبر آتا
میں
تو ناشکرا سا انسان تھا، مجھے کہاں صبر آتا
میں
بھٹک گیا محبتوں کے سفر میں یوں ہی
جو
سراب سی تھیں، نہ وہاں کوئی اثر آتا
میں
بھول گیا اوپر والا پسندیدہ چیز لے کر ہی آزماتا ہے
ورنہ
ہر خواہش پہ فوراً کہاں ثمر آتا
ہم
نے چاہا ہر خوشی کو اپنی مٹھی میں قید کرنا
مگر
وقت کے آگے کبھی کسی کا بس نہ چل پاتا
یہ
جو دکھ ہیں، یہی تو سکھ کی پہچان بنتے ہیں
ورنہ
ہر چہرہ یوں ہی بے فکر مسکراتا
میں
نے دنیا کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دیا آخر
جب
سمجھ آیا کہ اصل سکون اندر ہی نظر آتا
وہ
جو دیر سے ملتا ہے، وہی قیمتی ہوتا ہے
ورنہ
ہر سستی چیز کا کہاں کوئی قدر دان آتا
ہم
نے مانا کہ صبر آسان نہیں ہوتا
مگر
یہی انسان کو رب کے قریب لے آتا
کبھی
ٹوٹنا، کبھی سنبھلنا یہی زندگی کا سفر ہے
جو
رک جائے وہی اصل میں ہار جاتا
میں
نے اب شکوہ کرنا بھی چھوڑ دیا ہے
کیونکہ
ہر حال میں کوئی نہ کوئی سبق نظر آتا
دل
کو سکون تو تب ملتا جب صبر آتا
میں
تو ناشکرا سا انسان تھا، مجھے کہاں صبر آتا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عنوان:
"خوبصورت منزلیں"
مشکل
راستے اکثر خوبصورت منزلوں تک لے جاتے ہیں
جو
صبر سے چلتے ہیں، وہی خوابوں کو پا جاتے ہیں
یہ
جو کانٹے ہیں سفر میں، یہی سکھاتے ہیں ہمیں
کہ
مسکرا کر بھی لوگ درد چھپا جاتے ہیں
ہم
نے دیکھا ہے اندھیروں کو قریب سے بہت
تبھی
تو روشنی کی قدر ہم سیکھ جاتے ہیں
ہر
تھکن کے بعد آتا ہے سکون کا لمحہ
جو
نہیں رکتے، وہی آگے نکل جاتے ہیں
مشکل
راستے اکثر خوبصورت منزلوں تک لے جاتے ہیں
جو
ہمت نہیں ہارتے، وہی اپنی دنیا بساتے ہیں
یہ
جو زخم ہیں، یہی طاقت بنا دیتے ہیں
لوگ
گر کر ہی تو سنبھلنا سیکھ جاتے ہیں
کبھی
آنسو، کبھی ہنسی، یہی زندگی کا سفر
جو
سب سہہ جائیں، وہی اصل میں جیت جاتے ہیں
ہم
نے مانا کہ سفر آسان نہیں ہوتا
مگر
یہی راستے انسان کو خود سے ملا جاتے ہیں
ہر
اندھیری رات کے بعد سویرا بھی تو ہے
جو
یقین رکھتے ہیں، وہی مسکرا جاتے ہیں
یہ
دنیا آزماتی ہے ہر قدم پر ہمیں
مگر
مضبوط لوگ ہی آگے بڑھ جاتے ہیں
مشکل
راستے اکثر خوبصورت منزلوں تک لے جاتے ہیں
جو
ڈرتے نہیں، وہی اپنے خواب سجا جاتے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عنوان:
"دل آزاریاں"
نہ
ہم ہوتے، نہ دل ہوتا، نہ دل آزاریاں ہوتیں
نہ
یہ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کبھی کہانیاں ہوتیں
اگر
ہم بھی سیکھ لیتے وقت پر بدل جانا
تو
شاید زندگی میں اتنی پریشانیاں ہوتیں
ہم
نے جس کو چاہا، اس کو خدا بنا ڈالا
ورنہ
اتنی شدت سے یہ قربانیاں ہوتیں؟
وہ
جو کہتے تھے کبھی چھوڑ کے جائیں گے نہیں
اگر
وہ سچ ہوتے، تو کہاں جدائیاں ہوتیں
نہ
ہم ہوتے، نہ دل ہوتا، نہ یہ بے چین سی راتیں
نہ
آنکھوں میں چھپی خاموش سی یہ بارشیں ہوتیں
ہم
نے دل کو لگا بیٹھے تھے جن راستوں پر
اگر
سوچا ہوتا، نہ یہ ویرانیاں ہوتیں
کوئی
سیکھا دے ہمیں بھی ہنر بھلا دینے کا
تو
شاید دل میں اتنی گہرائیاں ہوتیں؟
وہ
جو زخم ملا ہے ہمیں اپنوں کے ہاتھوں سے
اگر
غیر دیتے، تو اتنی رسوائیاں ہوتیں؟
ہم
نے ہر بار نبھایا ہے خلوصِ دل سے
ورنہ
اتنی بار ہمیں آزمائشیں ہوتیں؟
اب
تو عادت سی ہو گئی ہے درد سہنے کی
ورنہ
پہلے پہل اتنی یہ آسانیاں ہوتیں؟
نہ
ہم ہوتے، نہ دل ہوتا، نہ دل آزاریاں ہوتیں
نہ
اس قدر ہماری کہانی میں ویرانیاں ہوتیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عنوان:
"ہر شخص غدار نکلا"
ہم
چھوڑ چکے ہیں دنیا کے لوگوں کو
ہماری
کہانی میں ہر شخص غدار نکلا
جنہیں
دل کے قریب رکھا تھا ہم نے کبھی
وہی
وقت آنے پہ سب سے بیزار نکلا
ہم
نے تو ہر رشتے کو عبادت سمجھا تھا
مگر
ہر تعلق ہی بس اک کاروبار نکلا
وہ
جو دعویٰ کرتے تھے ساتھ نبھانے کا
ضرورت
پڑی تو وہی لاچار نکلا
ہم
نے مانا تھا جنہیں اپنی سانسوں کی طرح
وہی
شخص ہمیں چھوڑنے کو تیار نکلا
ہر
چہرے پہ ہم نے سچائی ڈھونڈی بہت
مگر
ہر مسکراہٹ کے پیچھے اک وار نکلا
ہم
نے خود کو بھی مٹا دیا محبت میں
مگر
انجام صرف دل کا بکھار نکلا
جنہیں
رازِ دل بتایا تھا ہم نے کبھی
وہی
راز لے کر ہمیں رسوا کرنے والا نکلا
ہم
نے چاہا تھا بس تھوڑی سی وفا ان سے
مگر
ہر وعدہ ہی اک جھوٹا اقرار نکلا
اب
نہ کسی سے شکایت ہے نہ کوئی گلہ
کیونکہ
ہر اپنا ہی آخر بے قرار نکلا
ہم
نے چھوڑ دی ہیں اب سب سے امیدیں بھی
کیونکہ
ہر خواب ہی ٹوٹا ہوا تار نکلا
ہم
چھوڑ چکے ہیں دنیا کے لوگوں کو
ہماری
کہانی میں ہر شخص غدار نکلا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عنوان:
"رہائی کا فیصلہ"
رشتوں
میں زبردستی اچھی نہیں ہوتی
جس
کو جہاں خوشی ملے، وہیں خوشی ہوتی
ہم
نے تو چاہا تھا اسے دل کی گہرائی سے
مگر
ہر چاہت کے بدلے وفا نہیں ہوتی
کبھی
وہ نام تھا لبوں پہ دعا کی صورت
اب
اس کا ذکر بھی دل کو خوشی نہیں ہوتی
وہ
جو کہتا تھا کہ بچھڑنا ممکن ہی نہیں
وقت
آیا تو کوئی بھی مجبوری نہیں ہوتی
ہم
نے دیکھا ہے محبت کو بکھرتے ہوئے
ہر
کہانی ہمیشہ مکمل نہیں ہوتی
میں
نے چھوڑا اسے اس کی مسکراہٹ کے لیے
ورنہ
دل توڑنے کی میری عادت نہیں ہوتی
وہ
گیا ایسے کہ پلٹ کر بھی نہ دیکھا اس نے
شاید
اب اس کو میری کمی نہیں ہوتی
ہم
نے سیکھا ہے یہی عشق کے اصولوں سے
ہر
کسی کے نصیب میں چاہت نہیں ہوتی
کبھی
آنکھوں میں چھپائے پھرتے تھے جس کو ہم
اب
وہ تصویر بھی دل کو روشنی نہیں ہوتی
وہ
جو وعدے تھے، سب وقت کے ساتھ ٹوٹ گئے
ہر
قسم کی قسم آخر سچی نہیں ہوتی
میں
نے خود کو بھی بھلا دیا اس کی خاطر
مگر
اس کو کبھی میری کمی نہیں ہوتی
دل
کو سمجھایا بہت، مان بھی جا اے نادان
ہر
خواہش ہر کسی کے لیے نہیں ہوتی
رشتوں
میں زبردستی اچھی نہیں ہوتی
جس
کو جہاں خوشی ملے، وہیں رہائی ہوتی
٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment