affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Ghazals of Usman Khan

Sunday, 3 May 2026

Ghazals of Usman Khan

تعارف — از خود (عثمان خان) ✨

میں، عثمان خان…

لفظوں کا مسافر، احساسوں کا قیدی، اور خاموشی میں چیختی ہوئی ایک آواز ہوں۔

یہ میرا پہلا قدم ہے اس دنیا میں جہاں جذبات کو سنا بھی جاتا ہے اور محسوس بھی کیا جاتا ہے۔

میں نے کبھی خود کو شاعر نہیں کہا،

بس دل میں جو بکھرا… اسے لفظوں میں سمیٹ دیا۔

کچھ خواب تھے، کچھ ٹوٹے ہوئے لمحے، کچھ ان کہی باتیں—

انہیں ہی میں نے اپنی تحریر کا رنگ بنا لیا۔

اگر میرے لفظ آپ کے دل تک پہنچ جائیں،

تو سمجھ لینا… میں کامیاب ہو گیا۔

— عثمان خان 🖤

غزل — از قلم عثمان خان 💫

وہ آیا تھا میرے سامنے اک نیا چہرہ لے کر

میرے دل کو بہلانے کوئی نیا قصہ لے کر

میں نے جب غور سے دیکھا تو وہی نکلا آخر

جو ہمیشہ سے چھپا تھا کوئی پردہ لے کر

جب انہی نظروں نے اس کو ذرا پہچان لیا

وہ اداکار بھی ٹھہرا اپنی ادا بھلا کر

لب پہ خاموشی تھی لیکن نظر بول اٹھی

جیسے آیا ہو وہ دل میں کوئی صدا لے کر

وہ جو کہتا تھا محبت کا یقین ہے اس کو

آج بیٹھا تھا وہی جھوٹ کا لہجہ لے کر

میرے جذبات سے کھیلا بھی تو ایسے جیسے

کوئی بچہ ہو کھلونا کوئی سستا لے کر

اس کی آنکھوں میں عجب خوف چھپا بیٹھا تھا

جیسے آیا ہو وہ دنیا سے کنارہ لے کر

میں نے چاہا تھا اسے روح کی گہرائی سے

وہ مگر لوٹ گیا دل کو اندھیرا لے کر

اک لمحہ تھا مگر صدیوں پہ بھاری نکلا

وہ جو آیا تھا فقط خود کو دکھا لے کر

اب بھی یاد آتی ہیں وہ اجنبی سی آنکھیں

جو گئی تھیں مری نیندوں کا اجالا لے کر

میں نے پوچھا بھی نہیں اس سے حقیقت اس کی

وہ خود آیا تھا مرے سامنے فسانہ لے کر

اور آخر میں یہی سچ مرے دل نے مانا

وہ نہیں آیا تھا بس دل کو رلانے لے کر

 

.................

 

 

غزل 💔✨️

ہم دونوں میں کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا

نہ لفظوں نے بغاوت کی، نہ دل خفا نہیں ہوا

بس بات اتنی سی تھی کہ وہ انا کا قیدی تھا

اور مجھ سے میری عزت کا سودا نہیں ہوا

وہ جیتنا چاہتا تھا ہر اک بحث میں مجھ سے

میں ہار بھی گئی لیکن کبھی جھکا نہیں ہوا

اسے پسند تھی اپنی ذات کی بلندی ہر دم

مجھے کسی کے غرور کا نشہ نہیں ہوا

میں چپ رہی تو اس نے اسے کمزوری سمجھا

وہ بولتا رہا مگر کچھ بھی سنا نہیں ہوا

کبھی وہ مان لیتا، کبھی میں رک جاتی اگر

تو آج یہ رشتہ یوں بے وفا نہیں ہوا

وہ اپنے لفظوں کی تلوار لیے پھرتا رہا

اور میرے صبر کا کوئی صلہ نہیں ہوا

میں نے نبھانے کی ہر حد کو چھو کر دیکھا

مگر اس کی انا سے رابطہ نہیں ہوا

وہ چاہتا تھا کہ میں خود کو مٹا دوں اس میں

مگر یہ عشق کبھی بھی خودکشی نہیں ہوا

اب دور کھڑی ہوں تو سمجھ آیا یہ مجھ کو

وہ ساتھ تھا مگر میرا کبھی بنا نہیں ہوا

ہم دونوں میں کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا

بس اس کو انا عزیز تھی، مجھے جھکا نہیں ہوا 🥀

............

 

غزل: "نظروں کی نفرت" 💔✨️

از قلم: عثمان خان 🖤

تم حسرت کرتے ہو چاند کی، اے عثمان

ہمیں تو اس کے نظر آنے سے بھی نفرت ہوتی ہے اب

وہی چہرہ جو کبھی دعا لگتا تھا

آج اسے دیکھنے سے بھی وحشت ہوتی ہے اب

کبھی جس کی ایک جھلک پہ دل ٹھہر جاتا تھا

اب اس کی موجودگی بھی قیامت ہوتی ہے اب

وہ جس کے نام سے دھڑکنیں تیز ہو جاتی تھیں

اسی کے ذکر سے روح پہ بوجھ سی آتی ہے اب

ہم نے چاہا تھا اسے چاند سے بڑھ کر کبھی

مگر وہی چاند ہمیں جلانے لگتا ہے اب

تم تو کہتے ہو محبت عبادت ہوتی ہے

ہمیں تو یہ عبادت بھی سزا لگتی ہے اب

وہ جو نظریں ملا کر سکون دے جاتا تھا

انہی نظروں سے اب الجھن سی ہوتی ہے اب

ہم نے دل سے اسے نکالنے کی ٹھانی تو سہی

مگر ہر سانس میں اس کی کمی محسوس ہوتی ہے اب

یہ کیسا موڑ ہے عشق کے اس سفر کا عثمان

جہاں چاہت بھی باقی ہے، نفرت بھی ہوتی ہے اب

کبھی ہم بھی دعاؤں میں مانگتے تھے اسے

آج اسی کے لیے خاموشی بہتر لگتی ہے اب

 

.........غزل: "وہمِ ہنر" ✨🖤

از قلم: عثمان خان

دکھ درد لکھ دیتا ہوں یوں ہی دو چار لفظوں میں

اور لوگوں کو لگتا ہے مجھے شاعری آتی ہے

میں زخم سجاتا ہوں کاغذ کی پیشانی پر

وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی فنکاری آتی ہے

کبھی سوچا ہے لفظوں کے پیچھے کیا ہوتا ہے؟

ہر سطر میں اک ٹوٹی ہوئی کہانی آتی ہے

میں ہنستا بھی ہوں تو حرف بھیگ جاتے ہیں

میری مسکراہٹ میں بھی اداسی سماتی ہے

یہ شعر نہیں، میرے دن رات کی تھکن ہے

جو چپکے سے قلم تک اپنی روانی لاتی ہے

میں لکھتا ہوں تو خود سے ہی چھپتا رہتا ہوں

یہ دنیا تو بس اوپر کی چمک پہ جاتی ہے

کبھی داد ملے تو عجیب سا لگتا ہے مجھے

جیسے کسی درد کی نیلامی سی ہو جاتی ہے

وہ پوچھتے ہیں "کیسے لکھ لیتے ہو اتنا سب؟"

انہیں کیا خبر کتنی تنہائی رلاتی ہے

میں لفظوں کو جوڑ کر خود کو سنبھالتا ہوں

ورنہ یہ خاموشی تو مجھے کھا جاتی ہے

یہ شہرت، یہ تعریفیں سب عارضی سی لگتی ہیں

اصل میں تو ہر تحریر ایک چیخ چھپاتی ہے

میں شاعر نہیں ہوں، بس حال لکھ دیتا ہوں

اور دنیا اسے میری مہارت بتاتی ہے

دکھ درد لکھ دیتا ہوں یوں ہی دو چار لفظوں میں

اور لوگوں کو لگتا ہے مجھے شاعری آتی ہے 🥀

 

............

 

غزل: "لباس کی طرح" 🖤🥀

از قلم: عثمان خان ✨

ایک شخص مجھے چاہ کر یوں بدل گیا، اے عثمان

جیسے بدلا ہو اس نے مجھے اپنے لباس کی طرح

کل تک جو میری ہر عادت پہ فخر کرتا تھا

آج دیکھتا ہے مجھے بھی کسی اجنبی احساس کی طرح

وہی ہاتھ جو تھامے رکھتے تھے میری انگلیاں

چھوڑ گئے مجھے راہوں میں ادھورے یقین کی طرح

میں نے خود کو سمیٹا تھا اس کی چاہت میں کہیں

وہ بکھیر گیا مجھے ریت کے ادھورے پاس کی طرح

اس کی باتوں میں پہلے سی مٹھاس نہ رہی

اب وہ لگتا ہے کسی کڑوی سی پیاس کی طرح

میں نے مانا تھا اسے اپنی دعا کی صورت

وہ نکل آیا میرے نصیب کے اک طنز کی طرح

وہ بدلتا گیا آہستہ آہستہ یوں

جیسے رنگ اترتا ہے کسی پرانے لباس کی طرح

میں دیکھتی رہی اس کی آنکھوں کی خاموشی

اور وہ دور ہوتا گیا کسی ان کہے راز کی طرح

کبھی وہی میری دنیا کا محور تھا

آج گزر جاتا ہے وہ ایک عام سی بات کی طرح

میں نے چاہا تھا اسے روح میں اتار لینا

وہ ٹھہرا ہی نہیں کسی عارضی قیاس کی طرح

اس کی یادیں بھی عجیب بوجھ بن گئی ہیں اب

جیسے اٹھائے پھروں میں کسی ادھورے ناس کی طرح

میں نے پوچھا بھی نہیں اس کے بدلنے کا سبب

وہ خود بدل گیا کسی موسم کے مزاج کی طرح

اب نہ شکایت ہے، نہ کوئی سوال باقی ہے

وہ ختم ہو چکا ہے میرے اندر کسی احساس کی طرح

اور سچ یہی ہے، اے عثمان، اس کہانی کا

وہ آیا بھی تھا بس ایک عارضی لباس کی طرح 🥀

 

.................

 

تحریر عثمان خان ️‍🩹

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

No comments:

Post a Comment