آمنہ
رمضان
"لفظ
میرے ہتھیار ہیں، غزل میری پہچان"
آمنہ
رمضان — ایک ایسا نام جو احساس کی زبان بولتا ہے۔ جب قلم اٹھتا ہے تو دل کی گہرائیوں
سے الفاظ جنم لیتے ہیں، اور جب غزل لکھی جاتی ہے تو لگتا ہے جیسے روح نے سانس لی ہو۔
امنہ
رمضان ایک نوجوان، با احساس اور باصلاحیت شاعرہ ہیں جن کے اشعار میں محبت کی خوشبو،
درد کی گہرائی اور زندگی کی سچائی ایک ساتھ ملتی ہے۔
🖊️
فن و شاعری
شاعری
ان کے لیے محض الفاظ کا کھیل نہیں — یہ ان کے دل کی آواز ہے۔ غزل کی ہر بیت میں وہ
اپنی پوری کائنات سمیٹ لیتی ہیں۔
🌹
مجموعۂ غزلیات
یہ
مجموعہ ان کی روح کی آواز ہے —
ہر
غزل ایک نئی کہانی، ہر شعر ایک نیا جہاں
~
آمنہ رمضان
*********
غزل
✍️ امنہ رمضان
مطلع:
موت
کے قریب ہو کر، عین اُس لمحے میں جب سانسیں تھم گئیں
جو
دیکھی میں نے پہلی بار — تو بس دیکھتی رہ گئی اُس کی آنکھیں
تمہیں
کیا بتاؤں، کس طرح بیان کروں اِس دل کا یہ قصہ
اتنی
حسیں، اتنی گہری، اتنی پُر اسرار تھیں اُس کی آنکھیں
میری
زندگی کے گہرے اندھیروں میں جب کوئی نہ تھا ساتھ میرے
تب
روشنی کی کرن بن کر جگمگا اٹھیں — اُس کی آنکھیں
میرا
عشق، میرا ایمان، میری سانس، میری دھڑکن سب کچھ
میری
پوری کائنات کا مرکز بن گئیں — اُس کی آنکھیں
کیا
تم نے کبھی دیکھی ہیں برف کی سفید چادر میں لپٹے
ٹھنڈی
رات میں دمکتے، روشن ستاروں جیسی آنکھیں؟
میری
داستانِ عشق کا پہلا باب، پہلا لفظ، پہلی سطر
میری
محبت کی شروعات ہیں — اُس کی وہ آنکھیں
بازارِ
عشق میں لاکھوں عاشق آئے، وفا کا دم بھرا
پر
سب بے وفا ہو گئے دیکھ کر — اُس کی آنکھیں
ساری
حسینائیں سج دھج کر آئیں، سنگھار کرتی رہ گئیں
مگر
ساری محفل لوٹ کر لے گئیں — اُس حسینہ کی آنکھیں
تم
کہتی ہو امنہ کہ محبوب کا چہرہ دیکھ کر قرار آتا ہے
مگر
میری بے قراری کا اصل سبب بنتی ہیں — صرف اُس کی آنکھیں
چاند
کو گھیر لیتی ہیں ستاروں کی طرح رات کی تاریکی میں
زمیں
پر رہتے ہوئے بھی آسمان چھوتی ہیں — اُس کی آنکھیں
چاند
ستاروں کی بھری محفل میں بھی میرا دل بھٹکتا ہے
اُس
کی آنکھوں کا طواف کرتی ہیں ہر لمحہ — میری آنکھیں
غالبؔ
نے لکھا، میرؔ نے رویا، فیضؔ نے نالہ کیا
پھر
بھی لفظ کم پڑ گئے — اُس کی آنکھوں کی تعریف میں
دنیا
بھر کے شاعر مل کر بھی نہ کر سکے بیاں
اتنی
حسیں، اتنی بے مثال تھیں — اُس کی آنکھیں 🌹
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
🌹
غزل
✍️ امنہ رمضان
موت
کے قریب ہو کر، عین وقت پر
جو
دیکھی میں نے — اُس کی آنکھیں
تمہیں
کیسے بتاؤں، کتنی حسیں تھیں اُس کی آنکھیں
عین
وقت پر، جو میری زندگی کے اندھیروں میں
روشنی
کی کرن بنیں — وہ روشن آنکھیں
میرا
عشق، میرا ایمان بنیں اُس کی آنکھیں
کیا
تم نے دیکھی ہیں کبھی
برف
میں ڈھکے، روشن ستاروں جیسی آنکھیں؟
میری
داستانِ عشق کی شروعات ہیں اُس کی آنکھیں
بازارِ
عشق میں بے مول ہو گئی عاشقوں کی وفا
ہر
عاشق بے وفا ہو گیا — دیکھ کر اُس کی آنکھیں
ساری
حسینائیں، ہر سنگھار کرتی رہ گئیں
ساری
محفل لوٹ کر لے گئیں — اُس حسینہ کی آنکھیں
تم
کہتی ہو، امنہ —
محبوب
کا چہرہ دیکھ کر قرار آتا ہے
مگر
میری بے قراری کا سبب بنتی ہیں
صرف
اُس کی آنکھیں
چاند
کو گھیر لیتی ہیں ستاروں کی طرح
زمیں
پر رہنے والوں کی آنکھیں
چاند
ستاروں کی محفل میں بھی
اُس
کی آنکھوں کا طواف کرتی ہیں — میری آنکھیں
دنیا
بھر کے شاعروں کے لفظ کم پڑ گئے
اُس
کی آنکھوں کی تعریف میں
اتنی
حسیں تھیں — اُس کی آنکھیں 🌹
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
🌹
غزل
✍️ امنہ رمضان
دوسری
غزل
ہر
شب سجدے میں جھکتی ہوں تو بس ایک ہی دعا مانگتی ہوں
رب
سے چھپ چھپ کے آنسو بہا کر — وہی ایک دعا مانگتی ہوں
اُس
دعا میں لپٹا ہوا ایک خواب بھی ہے میرا
نیند
میں آنکھیں بند کر کے — وہی خواب مانگتی ہوں
اُس
خواب کے اندر بسی ہے ایک پوری کائنات میری
جس
میں اُس کا ساتھ ہو ہمیشہ — بس وہی ساتھ مانگتی ہوں
اُس
کی محبت کی باہوں میں سمٹ جانا چاہتی ہوں میں
اُس
کے گرم حصار میں پناہ — یہی دعا مانگتی ہوں
جب
وہ پاس ہو، جب وہ مسکرائے، جب نظریں ملیں
تب
وقت سے گزارش کرتی ہوں — ٹھہر جا، یہی مانگتی ہوں
یہ
لمحہ جو ہے، یہ سانس جو ہے، یہ پل جو ہے ابھی
رک
جائے یہیں ہمیشہ کے لیے — یہی مانگتی ہوں
دنیا
مانگتی ہے دولت، شہرت، تاج و تخت سب کچھ
میں
بس اُس کی ایک نظر — بار بار مانگتی ہوں
صبح
اٹھوں تو اُس کا خیال، رات ڈھلے تو اُس کی یاد
ہر
سانس میں، ہر دھڑکن میں — اُس کو مانگتی ہوں
رب
جانتا ہے میرے دل کا یہ چھپا ہوا راز بھی
پھر
بھی زبان سے کہہ کر — وہی ایک دعا مانگتی ہوں
جنت
مل جائے، خوشیاں مل جائیں، سب کچھ مل جائے
پر
اُس کے بغیر کچھ نہیں — بس اُسے مانگتی ہوں
امنہ
کی یہ دعا، یہ خواب، یہ محبت — سب ایک ہیں
ہر
رات سجدے میں جھک کر — وہی ایک دعا مانگتی ہوں 🌹
~ امنہ رمضان ✨
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment