میرے چارہ گر
دردِ
دل کی اب خبر لو میرے چارہ گر
حال
پر میرے نظر ہو میرے چارہ گر
زخم کی گہرائیوں کو تم ہی سمجھو گے یہاں
درد
سے اب چشم تر ہو میرے چارہ گر
راستے کٹتے نہیں ہیں اب اکیلے ذوق میں
ساتھ
تمہارا ہم سفر ہو میرے چارہ گر
مصلحت کی دھوپ نے جھلسا دیا ہے روح کو
ابر
کا کوئی اثر ہو میرے چارہ گر
خاک ہو جائیں نہ ہم اس ہجر کی دہلیز پر
زندگی
کی اب سحر ہو میرے چارہ گر
رشنا
اختر
**************
No comments:
Post a Comment