غزل:
انا کے مریض
---
*وہ اپنی انا کے مریض تھے،
ہم اپنی انا کے*
*اگر اسی انا میں ہم مارے گئے، تو کیا کرو گے*
*کوئی پوچھے ہم سے کہ کیا کرتے ہو، اس سے محبت*
*ہم اگر اسی سے ہی قلم ہوگئے تو کیا کرو گے
*
*ہم کیوں مانگیں محبت کی بھیک تم سے
*
*اگر تم نے ہی توڑ دیا قاصہ عشق تو کیا کرو گے*
*تم جو ہماری مسکراہٹ پر ہی الجھ بیٹھے ہو*
*ہماری آنکھیں اگر ہو جائیں اشک بار تو کیا کرو گے
*
*اس مطلب کی دنیا میں یار*
*ہم کسی بھیڑ میں کھو گئے تو کیا کرو گے*
*دیکھ لو، پھر کہہ رہے ہیں نہیں ملیں گے*
*اگر ہم دنیا سے ہی رخصت ہو
گئے تو کیا کرو گے*
*پھر مت بنانا آنسو میری قبر پر
*
*تجھے خود سے قریب آنے ہی نہ دیا تو کیا کرو گے*
*زندگی ایک باری ملتی ہے کر لو قدر*
*پھر ہم نے ہی اگر کی بے قدری تو کیا کرو گے*
-
رمشا
صابر
٭٭٭٭٭٭٭٭
غزل:
رخ یار کے واسطے
---
*اس دلنشیں کے تبسم کے واسطے میں خود کو ہار دوں*
*ان آنکھوں کے ذریعے اپنا پیام دوں
*
*اس کی آنکھوں کی جھلملاہٹ، جیسے سبزے پہ شبنم
*
*اس کے مغرور پن کو آخر میں
کیا نام دوں
*
* پس پردہ اس کے آنچل کا لہرانا
* *
*ان زلفوں کے واسطے میں اپنی عمریں وار دوں
*
*لب یا راں کی نزاکت، جیسے گلاب کی پتیاں
*
*دل چاہتا ہے اسے ع - ش - ق سے آشنا کرا دوں
*
*وہ میری چاہت کے چ سے بھی کہاں واقف ہے
*
*اسے نام سے پکاروں یا اپنے دل کا نام دوں
*
*کہیں وہ میرے رخ قلب کی کرچیاں ہی نہ دے
*
*ارے کوئی تو بتا دے کیسے اس کی ناکو ہاں میں بدل دوں
رمشا
صابر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
No comments:
Post a Comment