affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Poetry by Rimsha Sabir

Friday, 8 May 2026

Poetry by Rimsha Sabir

غزل:

 انا کے مریض

---

 

*وہ اپنی انا کے مریض تھے،  ہم اپنی انا کے*

 

*اگر اسی انا میں ہم مارے گئے، تو کیا کرو گے*

 

*کوئی پوچھے ہم سے کہ کیا کرتے ہو، اس سے محبت*

 

*ہم اگر اسی سے ہی قلم ہوگئے تو کیا کرو گے

*

*ہم کیوں مانگیں محبت کی بھیک تم سے

*

*اگر تم نے ہی توڑ دیا قاصہ عشق تو کیا کرو گے*

 

*تم جو ہماری مسکراہٹ پر ہی الجھ بیٹھے ہو*

 

*ہماری آنکھیں اگر ہو جائیں اشک بار تو کیا کرو گے

*

*اس مطلب کی دنیا میں یار*

*ہم کسی بھیڑ میں کھو گئے تو کیا کرو گے*

 

*دیکھ لو، پھر کہہ رہے ہیں نہیں ملیں گے*

 

*اگر ہم  دنیا سے ہی رخصت ہو گئے تو کیا کرو گے*

 

*پھر مت بنانا آنسو میری قبر پر

*

*تجھے خود سے قریب آنے ہی نہ دیا تو کیا کرو گے*

 

*زندگی ایک باری ملتی ہے کر لو قدر*

 

*پھر ہم نے ہی اگر کی بے قدری تو کیا کرو گے*

-

رمشا صابر

٭٭٭٭٭٭٭٭

غزل:

رخ یار کے واسطے

---

 

*اس دلنشیں کے تبسم کے واسطے میں خود کو ہار دوں*

 

*ان آنکھوں کے ذریعے اپنا پیام دوں

*

*اس کی آنکھوں کی جھلملاہٹ، جیسے سبزے پہ شبنم

*

*اس کے مغرور  پن کو آخر میں کیا نام دوں

*

* پس پردہ اس کے آنچل کا لہرانا

* *

*ان زلفوں کے واسطے میں اپنی عمریں وار دوں

*

*لب یا راں کی نزاکت، جیسے گلاب کی پتیاں

*

*دل چاہتا ہے اسے ع - ش - ق سے آشنا کرا دوں

*

*وہ میری چاہت کے چ سے بھی کہاں واقف ہے

*

*اسے نام سے پکاروں یا اپنے دل کا نام دوں

*

*کہیں وہ میرے رخ قلب کی کرچیاں ہی نہ دے

*

*ارے کوئی تو بتا دے کیسے اس کی ناکو ہاں میں بدل دوں

 

رمشا صابر

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

No comments:

Post a Comment