*غزل:
"نگاہِ خاموش"*
یہ
آنکھیں نہیں، کسی راز کی کتاب ہیں
ہر
پلک پر لکھی ہوئی تقدیرِ شباب ہیں
کبھی
دیکھو تو لگے جیسے کائنات ٹھہر گئی
کبھی
جھک جائیں تو دنیا کے سب سوال جواب ہیں
ان
میں سمندر بھی ہے، صحرا بھی ہے، آگ بھی
یہ
خاموش نگاہیں، مگر ہزار خطاب ہیں
نہ
جانے کس جنم کے قرضے چکا رہی ہیں یہ
کہ
ہر اشک میں صدیوں کے درد کا حساب ہیں
محبت
نے جو لکھا، لفظوں میں نہ سما سکا
تو
آنکھوں نے کہا، ہم ہی اصل نصاب ہیں
(اقراء صابر)
*********
غزل:
نشیلے نین
*اے ہرن کے نین والی، تو نے کیا کر ڈالا*
*پتھر دل کے مندر میں، اپنا دیپ جلا ڈالا*
*کاجل تیرا سیاہ ہے، پر قسمت سفید کر دے*
*قاتل کی پیشانی پہ، محبت لکھ ڈالا
*تیرے نین کی جھیل میں، 20 برس کا صحرا*
*اک پل میں ڈوبا ایسا، پیاسا نہ رہا اک قطرہ*
*پلکیں جھکا کے جب تو، زمیں کو کھینچتی ہے*
*لگتا ہے جیسے چاند نے، نگاہیں جھکا ڈالی*
*خوف کے مارے لوگ تو، نظریں چرا لیتے ہیں۔*
*تو نے تو آنکھ ملا کر، بارلاس گرا ڈالا*
*کہتے تھے لوگ مجھ سے، یہ دل ہے سنگ مرمر*
*تیرے نین کی چھوٹ نے، شیشہ بنا ڈالا*
*اب تو جیسے دیکھے گی، وہ جیتا ہی مر جائے*
*اے ہرن کے نین والی، تو نے جادو کر ڈالا*
*مانگا تھا خدا سے میں نے، بس ایک سکون کا لمحہ*
*تیرے نین کی صورت میں، سارا اجہاں ملا ڈالا*
* یہ بار لاس جو تھا کل تک، خون کا پیاسا*
*تیرے نین کے درشن سے، اب اشک بہا ڈالا
(اقرا صابر)
*************
No comments:
Post a Comment