affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Jugno Poetry
Showing posts with label Jugno Poetry. Show all posts
Showing posts with label Jugno Poetry. Show all posts

Monday, 28 March 2016

وہ جگنو ہے ستارا کیوں کریں ہم

وہ جگنو ہے ستارا کیوں کریں ہم
نہیں ہے وہ ہمارا، کیوں کریں ہم

کسی کے ساتھ گھل مِل سے گئے ہو
بھلا اِس کو گوارا کیوں کریں ہم

جن آنکھوں میں سمندر ڈُوبتا ہے
اُن آنکھوں سے کنارہ کیوں کریں ہم

بہت سے کام ہیں کرنے کے صاحب
محبت پر گزارہ کیوں کریں ہم

جہاں سارا وفا نا آشنا ہے
فقط شکوہ تمہارا کیوں کریں ہم

اَنا نے باندھ رکھا ہے ہمیں بھی
تمہیں ہر پَل پکارا کیوں کریں ہم

بچھڑنے کی تمنّا ہے تو جاؤ
بچھڑنے کا اشارہ کیوں کریں ہم

مقابل آئینہ ہے، تم نہیں ہو
تو پھر لَٹ کو سنوارا کیوں کریں ہم

محبت ہو گئی، بس کہہ دیا ناں
خطا اب یہ دوبارہ کیوں کریں ہم

یہ دل کچھ رکھ لیا ہے پاس،تم پہ
فدا سارے کا سارا کیوں کریں ہم

فاخرہ بتولؔ

Friday, 2 October 2015

محبت ہے


محبت ہے 
جبھی تو کچھ بھی کہتے ہو
تمہاری سرد مہری کے سمندر میں پڑے
چپ چاپ سہتے ہیں
محبت ہے
 جبھی تو ہم پرندوں کی طرح سے لوٹ آتے ہیں
تمہاری ذات کے گنجان برگد میں
جہاں پر کوئی ٹہنی بھی

ہماری خواہشوں کو گھونسلا رکھنے نہیں دیتی
محبت ہے 
جبھی تو ہم نے تیری یاد کا جگنو حسیں ،
روپہلے چہروں کی ضیاء میں آج تک کھویا نہیں
جبھی تو ہم دیے کی طرح جلتے ہیں سلگتے ہیں
تمھارے ہجر کی تاریک راتوں میں
ہماری خاک کو گر ہواؤں میں اڑاؤ گے
تو واپس لوٹ آئیں گے
ہمیں تو راکھ ہو کر بھی" تیرے قدموں میں رہنا ہے"
محبت ہے
.