affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Bichadna Poetry
Showing posts with label Bichadna Poetry. Show all posts
Showing posts with label Bichadna Poetry. Show all posts

Wednesday, 13 April 2016

بچھڑنے والے تُجھے خبر ہے؟

 
بچھڑنے والے تُجھے خبر ہے؟
کہ تِـیرے جانے سے میرا جیون
ہزار خانوں میں بٹ گیا ہے
تُجھے خبر ہے بچھڑنے والے؟
کہ میری خُوشیاں ہی کھو گئی ہیں
میں کتنا تنہا سا ہوگیا ہُـوں
وجود میرا تو اس سفر میں
یہ دیکھ زخموں سے اَٹ گیا ہے
میں سوچتا ہُـوں۔۔۔۔!
مگر یہ سوچیں
کیوں ایک نقطے پہ جم گئی ہیں
کیوں لگ رہا ہے
کہ جیسے سانسیں ہی تھم گئی ہیں
مُجھے بتا دے بچھڑنے والے
کہ کیسے خود کو سنبھالنا ہے
ہجر کے رستے پہ چلتے چلتے
یہ میرے پاؤں لہُو لہُو ہیں
یقین کر لے میں تھک گیا ہُـوں
بچھڑنے والے۔۔۔۔!
تُجھے خبر ہے؟؟؟
میں کب کا خُود سے بچھڑ چُکا ہُـوں.
 
 عاطف سعید

Monday, 28 March 2016

وہ جگنو ہے ستارا کیوں کریں ہم

وہ جگنو ہے ستارا کیوں کریں ہم
نہیں ہے وہ ہمارا، کیوں کریں ہم

کسی کے ساتھ گھل مِل سے گئے ہو
بھلا اِس کو گوارا کیوں کریں ہم

جن آنکھوں میں سمندر ڈُوبتا ہے
اُن آنکھوں سے کنارہ کیوں کریں ہم

بہت سے کام ہیں کرنے کے صاحب
محبت پر گزارہ کیوں کریں ہم

جہاں سارا وفا نا آشنا ہے
فقط شکوہ تمہارا کیوں کریں ہم

اَنا نے باندھ رکھا ہے ہمیں بھی
تمہیں ہر پَل پکارا کیوں کریں ہم

بچھڑنے کی تمنّا ہے تو جاؤ
بچھڑنے کا اشارہ کیوں کریں ہم

مقابل آئینہ ہے، تم نہیں ہو
تو پھر لَٹ کو سنوارا کیوں کریں ہم

محبت ہو گئی، بس کہہ دیا ناں
خطا اب یہ دوبارہ کیوں کریں ہم

یہ دل کچھ رکھ لیا ہے پاس،تم پہ
فدا سارے کا سارا کیوں کریں ہم

فاخرہ بتولؔ

Sunday, 25 October 2015

ﻣُﺤﺒّﺖ




ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
  ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ...!
ﻣَﮕﺮ ﻣَﻄﻠَﺐ ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﺎ،
ﺳَﻤﺠﮫ ﻟَﯿﻨﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﺁﺳﺎﻥ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﭘﺎ ﮐﮯ ﮐَﮭﻮ ﺩَﯾﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﮭﻮ ﮐﮯ ﭘﺎ ﻟَﯿﻨﺎ،
ﯾﮧ ﺍُﻥ ﻟَﻮﮔُﻮﮞ ﮐﮯ ﻗِﺼّﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﺟَﻮ ﻣُﺠﺮِﻡ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻣِﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﮨَﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺑِﭽَﮭﮍ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﺭَﻭﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
!.............! ﺳُﻨﻮ !.............!
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗَﻮ،
ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣَﻮﺵ ﮨَﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻗُﺮﺑَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻓُﺮﻗَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﻓَﺮﯾﺎﺩ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﺍَﺷﮑُﻮﮞ ﮐَﻮ ﭘِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﮐِﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻟَﻔﻆ ﮐﺎ،
ﭼَﺮﭼﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﻭﮦ ﻣَﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺍَﭘﻨﯽ ﭼﺎﮨَﺖ ﮐَﻮ،
ﮐَﺒﮭﯽ ﺭُﺳﻮﺍ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ

ضد

ہی گر ضد تمہاری ہے
چلو ہم بھول جاتے ہیں
سبھی وعدے، سبھی قسمیں
محبت کی سبھی رسمیں
نہیں منظور جو تم کو
کریں رنجور جو تم کو
تمہاری شادمانی ہی، عزیز از جان ہے جب تو
تمہیں پھر ٹوکنا کیسا؟
زیاں، سود کی بابت، بھلا پھر سوچنا کیسا
چلو ہم بھول جاتے ہیں
محبت کی ریاضت میں
وفاؤں کی مسافت میں
قدم کس کے کہاں بہکے، ہوئی کس سے کہاں لرزش
بسا دی جس نے اک پل میں، ہماری آنکھوں میں بارش
کہ جس کی تیز بوندوں سے
کسی تیزاب کی صورت
نشانِ منزلِ دل ہی، جلا ڈالا مٹا ڈالا
مگر جاناں
کہاں آسان ہوتا ہےِ؟
جگر کا خون اشکوں میں، بدلنا اور بہا دینا
خس و خاشاک چن چن کر
گھروندہ اک بنانا اور۔۔۔۔۔اسی کو پھر جلا دینا
جواں سپنوں کی لاشوں کو
درونِ جاں چھپا کر ۔۔۔۔۔ مسکرا دینا
خزائیں پالنا خود میں، بہاریں بانٹے پھرنا
کہاں آسان ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
بہت ممکن ہے ہم بھی ہار ہی جائیں
جواں ہے ضبط جو اب تک
مقابل غم کے آئیں۔۔۔۔ اور ڈھئے جائیں
اور اس میں‌ بھی تعجب کیا۔۔۔۔؟
تمہارے لوٹ آنے کی۔۔۔۔۔ بچی ہو آس جوکوئی
نوائے بےزباں بن کر
سسک کر پھر سے اٹھے اور۔۔۔۔۔۔ تم تک بھی پہنچ جائے
سو تم سے یہ گزارش ہے
تب اک احسان تم کرنا
پلٹ کر دیکھنا یوں سرد نظروں سے
کہ جو بھی آس زندہ ہو۔۔۔
اسے یکسر مٹا دینا
ہمیں پتھر بنا دینا...!!

Saturday, 10 October 2015

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
کہ جس کو ہمسفر جانیں
کہ جو شریک درد ہو
وہی ہم سے بچھڑ جائے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے؟
کہ آنکھیں جن خوابوں کو
حقیقت جان بیٹھی ہوں
وہ سب سپنے بکھر جائیں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے؟
کہ جس کے ساتھ پہروں ساعتیں
ہم نے گزاری ہوں
اسی سے ربط ٹوٹ جائے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے؟
خزاؤں کے دیوانے کو
بہاروں میں بہاروں سے محبت ہونے والی ہو
اور موسم بدل جائے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے؟
کہ جس کے نام کے آگے ہمارا نام آیا ہو
جسے محرم بنایا ہو
اسی کو اپنے ہاتھوں سے، کسی کو سونپ کر آئیں

Friday, 15 May 2015

وہی بے وجہ سی اداسیاں کبھی وحشتیں ترے شہر میں


وہی بے وجہ سی اداسیاں کبھی وحشتیں ترے شہر میں
تُو گیا تو مجھ سے بچھڑ گئیں سبھی رونقیں ترے شہر میں

مری بے بسی کی کتاب کا کوئی ورق تُو نے پڑھا نہیں
تجھے کیا خبر کہاں مر گئیں مری خواہشیں ترے شہر میں

سبھی ہاتھ مجھ پہ اُٹھے یہاں سبھی لفظ مجھ پہ کسے گئے
مری سادگی کے لباس پر پڑی سلوٹیں ترے شہر میں

وہ جو خستہ حال غریب تھے کہیں بستیوں میں مقیم تھے
اُنہیں کیا ہوا کہ وہ سہہ گئے سبھی تہمتیں ترے شہر میں

یہاں لوگ بکتے ہیں دوستو یہاں تاجروں کی کمی نہیں
ہر شخص کی ہیں لگی ہوئیں کئی قیمتیں ترے شہر میں

اِس سر زمیںِ فریب پہ کوئی انبیا نہ امام تھا
تبھی آ کے گزریں قیامتیں پڑیں آفتیں ترے شہر میں

تُو بھی یادِ ماضی میں ہے مگر کئی خواب اور بھی تھے عقیلؔ 
پھر یہ ہوا کہ دفن ہوئیں سبھی چاہتیں ترے شہر میں

Wednesday, 6 May 2015

ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﯽ....


ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﯽ
ﺑﭽﮭﮍﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﻮﺍﻑِ ﺍٓﺭﺯﻭ ﮐﺮﺗﮯ
ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺍٓﺭﺯﻭﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﮑﮭﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﺎ
ﺍﺗﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﺑﺘﺎﻭ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺟﺐ ﺩﻝ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﭼﺮﺍﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺗﻢ ﮮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺟﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺗﻢ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻗﻀﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮨﻮ
ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﺤﺾ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﮑﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﺎ
ﺍﺗﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﺻﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ
ﻭﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ،ﻭﮨﯽ ﺗﻢ ﮨﻮ
ﻣﮕﺮ ﮐﮭﻮﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮ
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻏﺎ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﺳﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﺗﮭﮯ ﺳﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﯿﮟ
ﻣﻠﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ
ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺗﮭﮯ، ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮨﯿﮟ
ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﮨﻢ
ﮐﮩﺎﮞ ﺑﮭﭩﮑﮯ،ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﮯ
ﻣﮕﺮ ﺑﮭﭩﮑﮯ ﺗﻮ ﯾﺎﺩ ﺍٓﯾﺎ
ﺑﮭﭩﮑﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﯽ
ﺑﭽﮭﮍﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ