affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Ansoo Poetry
Showing posts with label Ansoo Poetry. Show all posts
Showing posts with label Ansoo Poetry. Show all posts

Saturday, 2 April 2016

کبھی ناراض مت ہونا

کبھی ناراض مت ہونا 

کبھی ناراض مت ہونا 
گلے چاہے بہت کرنا
رلانا اور بہت لڑنا

سنو ناراض مت ہونا
کبھی ایسا جو ہو جائے
کے تیری یاد سے غافل کسی ! لمحے جو ہو جاؤں
بنا دیکھے تیری صورت
کسی شب میں جو سو جاؤں
تو سپنوں میں چلے آنا
مجھے احساس دلا جانا

" سنو ناراض مت ہونا "
کبھی ایسا جو ہو جائے
جنہیں کہنا ضروری ہو
وہ مجھ سے لفظ کھو جائیں
انا کو بیچ مت لانا
میری آواز بن جانا
" کبھی ناراض مت ہونا

جانے وہ کیسے لوگ تھے

جانے وہ کیسے لوگ تھے

جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا
ہم نے تو جب کلیاں‌مانگیں، کانٹوں‌کا ہار ملا

خوشیوں‌کی منزل ڈھونڈی تو غم کی گرد ملی
چاہت کے نغمے چاہے تو آہِ سرد ملی

دل کے بوجھ کو دونا کر گیا جو غم خوار ملا

بچھڑ گیا ہر ساتھی دے کر پل دو پل کا ساتھ
کس کو فرصت ہے جو تھامے دیوانوں کا ہاتھ

ہم کو اپنا سایہ تک اکثر بیزار ملا

اس کو ہی جینا کہتے ہیں تو یوں ہی جی لیں گے
اُف نہ کریں‌گے، لب سی لیں‌گے، آنسو پی لیں‌گے

غم سے اب گھبرانا کیسا، غم سو بار ملا

Friday, 1 April 2016

ﺍﮮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﮬﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﻨﻮ



ﺍﮮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﮬﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﻨﻮ
 
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ
 
ﻣﻦ ﻣﯿﺖ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻢ
 
ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺎﻝ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﺗﻢ
 
ﻣﯿﮟ ﮬﺮ ﺷﺐ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﮬﻮﮞ
 
ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﺗﮯ ﻭﻗﺖ
 
ﮐﭽﮫ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ......؟؟
 
ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﻧﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ
 
ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮬﮯ.......؟؟
 
ﺍﮮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﮬﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ کہ
 
ﯾﺎﺩ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺁﺗﯽ ﮬﮯ
،
ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﮎ ﭘﻞﭼﯿﻦ نہیں
 
ﮐﯿﻮﮞ ﭘﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮬﻦ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﺗﮭﮯ......؟؟
 
ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺱ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺗﮭﻤﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ......؟؟
 
ﻭﮦ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﻭﻋﺪﮮ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ......؟؟
 
ﮐﯿﻮﮞ ﺳﺎﺟﻦ ﮬﻢ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﮫ ﮔﺌﮯ......؟؟
 
ﮬﻢ ﺗﻢ ﺑﻦ ﺟﯽ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯿﻨﮕﮯ
 
ﯾﮧ ﺭﺷﺘﮯ ﺗﻮﮌ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯿﻨﮕﮯ
 
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﻢ
 
ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﺷﮏ ﺑﮩﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ
 
ﯾﮧ ﮬﺠﺮ ﮬﺮﺍﺳﺎﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ
 
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﮦ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺗﮑﺘﯽ ﮬﻮﮞ
 
ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮐﻞ ﺑﮯﮐﻞ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﮬﻮﮞ
 
ﮬﺮ ﮬﺮ ﺩﻥ ﺟﯿﺘﯽ ﻣﺮﺗﯽ ﮬﻮﮞ
 
ﺍﮮ ﭼﺎﻧﺪ ﺟﺐ ﻟﻮﭦ ﮐﮯ ﺁﻧﺎ ﺗﻢ
 
ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮ ﮮ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﺁﻧﺎ ﺗﻢ.

Tuesday, 29 March 2016

موج خوشــــبو کی طرح،، بات اُڑانے والے

موج خوشــــبو کی طرح،، بات اُڑانے والے
تُجھ میں پہلے تو نہ تھے رنگ زمانے والے
،
کتنے ہیرے میری آنکھون سے چُرائے تو نے
چَند پتھر،،،، میری جھولی میں گِرانے والے
،
خوں بہا اگلی بہاروں کا تیرے سر تو نہیں
خُشک ٹہنی پہ،،،،،،، نیا پُھول کِھلانے والے
،
آ تجھے نظر کروں اَپنی ہی شہہ رگ کا لہو
میرے دُشــــمں ،،،، میری توقیر بڑھانے والے
،
آستینوں میں چھپائے ہوئے،،،، خنجر آئے
مجھ سے یاروں کی طرح ہاتھ مِلانے والے
،
ظلمتِ شب سے شکایت اُنہیں کیسی محسنؔ
وہ تو سُورج کو تھے،،۔۔۔، آئینہ دکھانے والے

مرے ہمدم، مرے ساتھی

  •  

    مرے ہمدم، مرے ساتھی

    تمہیں تو یاد ہی ہو گا
    وہ دن کیا خاص تھا جب تم مرے جیون میں آئی تھیں
    مری بے رنگ دنیا کو
    تمہاری مسکراہٹ نے ہزاروں رنگ بخشے تھے
    اسے کیسے سجایا تھا 
    تمہیں تو یاد ہی ہو گا
    تمہیں میں نے بتایا تھا
    کہ میں خوابوں میں رہتا ہوں مگر تم اک حقیقت ہو
    محبت ہی محبت ہو
    پھر اس کے بعد جیون کے سبھی موسم، سبھی منظر تمہاری آنکھ سے دیکھے
    تمہارے ساتھ جو گذرے، وہی پل زندگی ٹھہرے
    تمہیں تو یاد ہی ہو گا، مجھے کب یاد رہتا تھا
    مجھے کیا کام کرنے ہیں
    مجھے کس کس سے ملنا ہے
    کہاں جانا ضروری ہے
    خفا کوئی ہے کیوں مجھ سے
    کسے جا کر منانا ہے
    مجھے کب یاد رہتا تھا
    مرا معمول تو تم تھیں
    تمہی سب یاد رکھتی تھیں
    میں اپنے دل کی سب باتیں فقط تم سے ہی کرتا تھا
    تمہاری بھی یہ عادت تھی
    تمہیں تو یاد ہی ہو گا، میں اکثر تم سے کہتا تھا
    ابھی اس زندگی کے ساتھ کتنے روگ لپٹے ہیں
    مجھے تم سے محبت کی ذرا فرصت نہیں ملتی
    ذرا وہ وقت آنے دو، ذرا فرصت ملے مجھ کو
    بٹھا کر سامنے تم کو، تمہیں جی بھر کے دیکھوں گا
    بتاؤں گا مجھے تم سے محبت سی محبت ہے
    مجھے اس دم ملی فرصت
    کہ جب یہ بات سننے کو نہیں تم سامنے میرے
    مری جاں تم وہاں پر ہو، 
    جہاں سے لوٹ کر واپس کبھی کوئی نہیں آتا
    تمہیں کیوں اتنی جلدی تھی؟
    مرا اقرار سن لیتیں، مرا اظہار سن لیتیں
    کہ اب فرصت ہی فرصت ہے
    کہ اب معمول میں میرے، فقط تم سے محبت ہے
    مگر یہ بھی حقیقت ہے
    کہ میں تاخیر سے پہنچا،
    تمہیں جانے کی جلدی تھی.

  • عاطفؔ سعید

Monday, 28 March 2016

وقت کے الجھے الجھے دھاگے

وقت کے الجھے الجھے دھاگے
 جب دل توڑ کے چل دیں گے
پگڈنڈی پر پیلے پتے تم کو تنہا دیکھیں گے
پیڑوں کے سینے پر لکھے، نام بھی ہو جائیں تحلیل،
اور ہوا بھی سمت کو اپنی کر جائے تبدیل
بھینی بھینی خوشبو ہم کو، ہر اک گام پکارے گی،
کرکے یخ بستہ جب ہم کو، برف اس پار سدھارے گی
دھوپ صداؤں کے سکے،
جب کانوں میں کھنکائے گی،
بارش، مسکانوں کے موتی،
 پتھر پر جب پھوڑے گی
اور برستی بوندوں کے دھاروں پر دھارے جوڑے گی
گرم گرم، انگاروں جیسے، آنسو آنکھ سے ابلیں گے،
دل کے ارماں، اک مدت کے بعد تڑپ کر نکلیں گے
جب احساس کی دنیا میں پھر، اور نہ گھنگھرو چھنکیں گے
صرف خموشی گونجے گی تب؟
آنے والے موسم کی،
کھڑکی پر دستک بھی نہ ہوگی،
کوئی سریلی رم جھم کی
شام کے سناٹے میں بدن پر،
عکس تمہارا جھولے گا
یادوں کا لمس ٹٹولے گا،
گھور اداسی چُھو لے گا
اونچی اونچی باتوں سے تم، 
خاموشی میں شور کرو گے
گیت پرانے سن کر،
 ٹھنڈی سانسیں بھر کر، بور کرو گے
اس پل شب کی تنہائی میں۔۔۔
اپنے دل کو شاد کرو گے
بولو۔۔۔
مجھ کو یاد کرو گے؟؟؟

Sunday, 27 March 2016

تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم



تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں

کوئی بھی فیصلہ ہم سوچ کر نہیں کرتے
تمہارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں

تمہارے بعد یہ عادت سی ہو گئی اپنی
بکھرتے سوکھتے پتے سنبھال رکھتے ہیں

خوشی سی ملتی ہے خود کو اذیتیں دے کر
سو جان بوجھ کے دل کو نڈھال رکھتے ہیں

کبھی کبھی وہ مجھے ہنس کے دیکھ لیتے ہیں
کبھی کبھی مرا بے حد خیال رکھتے ہیں

تمہارے ہجر میں یہ حال ہو گیا اپنا
کسی کا خط ہو اسے بھی سنبھال رکھتے ہیں

خوشی ملے تو ترے بعد خوش نہیں ہوتے
ہم اپنی آنکھ میں ہر دم ملال رکھتے ہیں

زمانے بھر سے چھپا کر وہ اپنے آنچل میں
مرے وجود کے ٹکڑے سنبھال رکھتے ہیں

کچھ اس لئے بھی تو بے حال ہو گئے ہم لوگ
تمہاری یاد کا بے حد خیال رکھتے ہیں...

- وصی شاہ

Saturday, 26 March 2016

کبھی جورتجگے برتو



کبھی جورتجگے برتو
کبھی جوکروٹیں بدلو
کبھی جوکروٹوں کہ درمیاں تم جھنجھلاؤ یا
یونہی بےساختہ آنکھیں تمہاری ڈبڈبا جائیں
جو آنکھیں ڈبڈبا جائیں جو تکیہ بھیگ جائے تو
یا سانسیں اپنے سینے میں تمہیں نشتر لگیں دیکھو
تو جاناں مجھکو ایسے میں ذرا بھی یاد مت کرنا
کہ یادیں ایسے لمحوں میں بہت جاںکن سی ہوتی ہیں
مجھے معلوم ہے کیونکہ
میں بهی ہر شب ایسے مرتا ہوں
میں بهی ہر شب ایسے جیتا ہوں

Thursday, 24 March 2016

ادھر دیکھو میرے چہرے پہ پھیلے اِس کرب کو




ادھر دیکھو
 میرے چہرے پہ پھیلے ہر طرف
اِس کرب کو دیکھو
اندھیری رات کے غم کو
میں کیسے جھیل آئی ہوں
ہتھیلی کی لکیروں کو
ذرا پڑھ کر یہ بتلاؤ!
ابھی قسمت میں میری
اور کتنا صبر لکھا ہے
سنو.... اندر میرے
اِک گونجتی وحشت کا ڈیرہ ہے
مری سنسان آنکھوں پہ
ترے خوابوں کا پہرہ ہے
تمہارے وصل کی موہوم سی امید پر میری
ابھی تک سانس چلتی ہے
مری آنکھوں کے یہ آنسو
مری پلکوں پہ ڈھلنے کو
بہت بے تاب رہتے ہیں
کہو خاموش کیوں ہو تم؟
کیا اب خواہش نہیں باقی؟
یا سب افسانہ لگتا ہے؟
مجھے کیوں وہم ہوتا ہے؟
کہ مجھ سے کھو چکے ہو تم؟
بہت ہی بے وفا ہو تم
تمہیں واپس نہیں آنا!
مگر! "یہ جھوٹ ہے" کہہ دو
کہ یہ وقتی سا وقفہ ہے
بہت ہی جلد گزرے گا
تم اپنا نام لکھ دو گے
میرے اس نام کے آگے
کہو تم وقف کر دوگے
محبت ...نام پر میرے
کہو تم وقف کر دوگے
کہو تم وقف کر دوگے
مناہلؔ فاروقی

Tuesday, 19 January 2016

آنکھیں


وہ آنکھیں
جھیل سی آنکھیں
بہت گہری ہیں
ان میں تیرتے آنسو
کئی مفہوم رکھتے ہیں
وہ آنکھیں
ایک مدت سے
بدلتے موسموں
بنتے،بگڑتے منظروں کی زد میں ہیں
لیکن
انہیں کچھ خواب
اپنے مخملیں احساس سے مسحور رکھتے ہیں
وہ آنکھیں
منتظر ہیں،کب کوئی آئے
حسیں خوابوں کو اپنے سحر سے
تعبیر میں بدلے
بہت سی ان کہی باتوں کے در کھولے
بہت سے بے نشاں جذبوں کو
آحساس شراکت دے

وہ گہری جھیل سی آنکھیں
کئی قصے سنانے کے لیے بے چین پھرتی ہیں
وہ گہری جھیل سی آنکھیں
کئی مفہوم رکھتی ہیں
 

Sunday, 1 November 2015

مَیں ماٹی کے مول بِکی

مَیں ماٹی کے مول بِکی
بول کے بس دو بول بِکی
سَیّاں کو تب پیار آیا
زہر تھی جب وہ گھول چکی
بک گئی ایک رُوپلی میں
میری اک اَن مول سَکھی
جال میں اُس کے پاؤں پھنسے
چڑیا جب پَر کھول چکی
چال میں کب ہے فرق پڑا
من میں لیکن ڈول چکی
میں نے کہہ دی بِپتا سب
تُو بھی تو اب بول سَکھی !
آ برسات کی رُت آئی
ڈال گلے میں ڈھول سَکھی !
آنکھ کی سِیپ کے موتی کو
ماٹی میں نہ رول سکھی !
کہنے کی ہمّت نہ ہوئی
بات تھی لیکن تول چکی
یہ تو کہانی ٹھیک نہیں
اِس میں ہے کچھ جھول سَکھی !
ساجن سے نہ نظر ملے
کھل گئے سارے پول سَکھی !

Monday, 26 October 2015

سب کچھ نام تمھارے


آج یہ سب کچھ نام تمھارے
ساحل
ریت
سمندر
لہریں
بستی
دوستی
صحرا
دریا
خوشبو
موسم
پھول
دریچے
بادل
سورج
چاند
ستارے
آج یہ سب کچھ نام تمھارے
خواب کی باتیں
یاد کے قصے
سوچ کے پہلو
نیند کے لمحے
درد کے آنسو
چین کے نغمے
اڑتے وقت کے بہتے دھارے
روح کی آہٹ
جسم کی جنبش
خون کی گردش
سانس کی لرزش
آنکھ کا پانی
چاہت کے یہ عنوان سارے
آج یہ سب کچھ نام تمھارے

Sunday, 25 October 2015

ﻣُﺤﺒّﺖ




ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
  ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ...!
ﻣَﮕﺮ ﻣَﻄﻠَﺐ ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﺎ،
ﺳَﻤﺠﮫ ﻟَﯿﻨﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﺁﺳﺎﻥ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﭘﺎ ﮐﮯ ﮐَﮭﻮ ﺩَﯾﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﮭﻮ ﮐﮯ ﭘﺎ ﻟَﯿﻨﺎ،
ﯾﮧ ﺍُﻥ ﻟَﻮﮔُﻮﮞ ﮐﮯ ﻗِﺼّﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﺟَﻮ ﻣُﺠﺮِﻡ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻣِﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﮨَﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺑِﭽَﮭﮍ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﺭَﻭﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
!.............! ﺳُﻨﻮ !.............!
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗَﻮ،
ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣَﻮﺵ ﮨَﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻗُﺮﺑَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻓُﺮﻗَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﻓَﺮﯾﺎﺩ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﺍَﺷﮑُﻮﮞ ﮐَﻮ ﭘِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﮐِﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻟَﻔﻆ ﮐﺎ،
ﭼَﺮﭼﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﻭﮦ ﻣَﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺍَﭘﻨﯽ ﭼﺎﮨَﺖ ﮐَﻮ،
ﮐَﺒﮭﯽ ﺭُﺳﻮﺍ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ

مُسافر ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



مُسافر ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 تیرے شہر مُحبت میں ذرا سی دیر ٹھہروں گا
چلا جاؤں گا اپنے راستے پر
زندگی کی رات ڈھلنے دے، بدن کو مات ھونے دے
رُکی ھے جو لبوں پر بات، ھونے دے
تیرا شہر محبت خُوب ھے لیکن اسیری کا بہانہ ھے
ازل کی اولیں ساعت، ابد کا آخری لمحہ
یہیں پر مرتکز سارا زمانہ ھے
مگر مُجھ کو ۔۔ دور آگے
لاجوردی روشنی سے پیار کرنا ھے
ترا شہرِ مُحبت تو میرا
۔۔۔۔۔۔۔۔
فصیلِ وقت کے ٹھہرے ھوئے اُس دائرے کو پار کرنا ھے
ابد کی سرحدوں سے
پہلا پڑاؤ ہے
جسے تو آخری منزل سمجھتی ھے
دِلوں کے راستوں پر وہ فقط اک نیم روشن
سا الاؤ ھے
بڑی لمبی مُسافت ھے، بڑا گہرا یہ گھاؤ ھے
ابد کے اُس طرف بھی راستے ھی راستے ھیں
فاصلوں کا ایک نادیدہ بہاؤ ھے
جِسے میں دیکھ سکتا ھوں
جِسے میں چھو بھی سکتا ھوں
مگر میں تو مُسافر ھوں
تیرے شہر مُحبت میں ذرا سی دیر ٹھہروں گا
چلا جاوْں گا اپنے رستے پر

Saturday, 10 October 2015

مجھے محبت سے ہو گئی ہے



 
 
کٹھن اندھیروں کی راہ گزر پہ
چراغِ صبح جلا جلا کے
قسم سے آنکھیں بھی تھک گئیں ہیں
تمہارے آنسو چھپا چھپا کے
کیا خبر تھی کہ اک چہرے سے
کتنے چہرے کشید ہوں گے
میں تھک گیا ہوں تمہارے چہروں کو
آئینے میں سجا سجا کے
ہم اتنے سادہ مزاج کب تھے
مگر سرابوں کی رہ گزر پہ
فریب دیتا رہا زمانہ
تمہاری صورت دکھا دکھا کے
عجب تناسب سے ذہن و دل میں
خیال تقسیم ہو رہے ہیں
مجھے محبت سے ہو گئی ہے

تمہیں محبت سکھا سکھا کے

Saturday, 3 October 2015

ﺍﮮﮔﺮﺩشِ ﺩﻭﺭﺍﮞ، اے ﻋُﻤﺮ ﺭﻭﺍﮞ



ﺍﮮﮔﺮﺩشِ ﺩﻭﺭﺍﮞ، اے ﻋُﻤﺮ ﺭﻭﺍﮞ
  ﮐﭽﮫ ﭘَﻞ ﮐﮯ لیۓ ﺳَﺴﺘﺎﻧﮯ ﺩﮮ
ﯾﮧ ﻧﺎﺗﮯ، ﺭﯾﺖ، ﯾﮧ ﺭﺳﻢ ﻭ ﺭﻭﺍﮦ
ﺍِﻥ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﭼُﺮﺍﻧﮯ ﺩﮮ
ﯾﮧ ﺟﺒﺮِ ﻣُﺴﻠﺴﻞ رِﺷﺘﻮﮞ ﮐﮯ
ﯾﮧ ﺑﻨﺪﮬﻦ ﺁﻧﺴﻮ ﺁھﻮﮞ ﮐﮯ
ﺍﺏ ﺯﻧﻨﺠﯿﺮﯾﮟ ﺳﯽ ﻟﮕﺘﯽ ھﯿﮟ
ﺍِﻥ ﺯﻧﺠﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭘَﻞ ﺩﻭ ﭘَﻞ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺩﮮ
ﺍﮮ ﻋُﻤﺮ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﭽﮫ ﭨﮭﮩﺮ ﺯﺭﺍ
ﺍﮮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺧﻠِﺶ ﮐﭽﮫ ﭼﯿﻦ ﺗﻮ ﻟﮯ
ﺍِﺱ ﺩﺷﺖِ ﺍﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺪﺋﮧ ﻧﻢ
ﮐُﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﺗﯽ ھﯿﮟ
ﺧﻮﺵ فہمی ﮐﮯ ﺑﮩﻼﻭﻭﮞ ﺳﮯ
ﮐﭽﮫ ﺣﺮﻑِ ﺗﺴﻠّﯽ ﺩﯾﺘﯽ ھﯿﮟ
ﺍﮮ ﻋُﻤﺮ ﺭﻭﺍﮞ ﮐُﭽﮫ ﭘَﻞ ﮐﮯلیۓ
ﺁﺳﻮﺩﮦ ﻧﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﻧﮯ ﺩﮮ
ﺍِﺱ ﺷﻮﺥ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﺗﻮ ﻟﯿﮟ
ﺍِﺱ ﺭﺍﮦ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ یہ ﭘﺎﮔﻞ ﺩﻝ
ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﻟﮯ ﭘﮧ ﺩﮬﮍﮐﺎ ھﮯ
ﺍﺱ ﻣﻮﮌ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﯾﮧ ﺩﺍﻣﻦ ﺩﻝ
ﭘﮭﺮﮐﺲ ﮐﮯﺁ ﮔﮯ ﭘﮭﯿﻼ ھﮯ
ﯾﮧ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍُﻧﮑﯽ ﺭﺍھﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﯿﻮﮞ ﺳﺠﺪﮦ ﺭﯾﺰﯼ ﮐﺮﺗﯽ ھﯿﮟ
ﺍﮮﮔﺮﺩﺵ ﺩﻭﺭﺍﮞ ﺗﻮ ھﯽ ﺑﺘﺎ
ﺍﺱ ﺩﺭﺩ ﮐﺎﺣﺎﺻِﻞ ھﺠﺮ ھﮯ ﮐﯿﺎ....... ؟؟؟

کسی پر نظم لکھنے سے


کسی پر نظم لکھنے سے

کوئی مِل تو نہیں جاتا

کوئی تعریف

بانہوں کے برابر تو نہیں ھوتی

کسی آواز کے پاوں

کبھی دل پر نہیں چلتے

کبھی کشکول میں

قوس و قزح اُتری نہیں دیکھی

صحیفہ رِحل پر رکھنے سے

قرآں تو نہیں بنتا

کسی نے آج تک

شاعر کے آنسو

خود نہیں پونچھے

دلاسہ ، لفظ کی حد تک ھی اپنا کام کرتا ھے

کسی خواھش کو

سینے سے لگانے

کی اجازت تک نہیں ھوتی

تمھاری ضد کو پُورا کر دیا دیکھو

ستارے ، چاند، سُورج ، روشنی، خوشبو،

تمھارے دَر پہ کیا کیا دھر دیا دیکھو

 گُلِ فردا !!
ابھی کِھل جاو ! کہنے سے


کوئی کِھل تو نہیں جاتا

کسی پر نظم لکھنے سے

کوئی مِل تو نہیں جاتا