affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Zindagi Poetry
Showing posts with label Zindagi Poetry. Show all posts
Showing posts with label Zindagi Poetry. Show all posts

Wednesday, 13 April 2016

اجاڑ راہوں میں جو ملیں گے وہ خار سارے سنبھال رکھنا

 
اجاڑ راہوں میں جو ملیں گے وہ خار سارے سنبھال رکھنا
جو میری یادوں کا مرحلہ ہو، تو میرے دامن میں ڈال رکھنا

نہ چھو سکو گے بلندیوں کو، یوں خواہشوں کو نہ طُول دینا
نصیب تم کو دغا ہی دے گا، محبتوں میں زوال رکھنا

وفا کی دنیا میں ہم رہیں گے، دغا کی دنیا میں تم اگر ہو
ہر ایک دل کی یہ آرزو ہے، کہ منفرد سا کمال رکھنا

ہوائیں بھی اب زہر رساں ہیں، جو روز ہم پہ تماشبیں ہیں
ازل سے دل کا یہ مشغلہ ہے، ملن کی خواہش کو پال رکھنا

نہ ان کے آنے کی آس رکھنا، نہ دل کو اپنے اداس رکھنا
کہیں یہ سپنے جھلس نہ جائیں، نہ اب کسی سے وصال رکھنا

زمانہ بدلا ہے، تم بھی بدلو، وفا شعاری کا ذوق چھوڑو
سنبھل اے محسن یوں بے سبب ہی نہ زندگی کو نڈھال رکھنا

محسن نقوی

Thursday, 31 March 2016

وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے

وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے
تپش اک بد گمانی کی کہیں پگھلا نہ دے اس کو
میں کہتا ہوں کہ جس دل میں ذرا بھی بدگمانی ہو
وہاں کچھ اور ہو تو ہو محبت ہو نہیں سکتی
وہ کہتی ہے سدا ایسے ہی کیا تم مجھ کو چاہو گے
کہ میں اس میں کمی بالکل گوارا کر نہیں سکتی
میں کہتا ہوں محبت کیا ہے یہ تم نے سکھایا ے
مجھے تم سے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں آتا
وہ کہتی ہے جدائی سے بہت ڈرتا ہے میرا دل
کہ خود کو تم سے ہٹ کر دیکھنا ممکن نہیں ہے اب
میں کہتا ہوں کہ یہی خدشے بہت مجھ کو ستاتے ہیں
مگر سچ ہے محبت میں جدائی ساتھ چلتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ کیا میرے بن جی سکوو گے تم
میری یادیں، میری آنکھیں، میری باتیں بھلا دو گے
میں کہتا ہوں کبھی اس بات پر سوچا نہیں میں نے
اگر اک پل کو بھی سوچوں تو سانسیں رکنے لگتی ہیں
وہ کہتی ہےتمہیں مجھ سے محبت اس قدر کیوں ہے
کہ میں اک عام سی لڑکی ہوں تمہیں کیوں خاص لگتی ہوں
میں کہتا ہوں کبھی خود کو میری آنکھوں سے تم دیکھو
میری دیوانگی کیوں ہے یہ خود ہی جان جاؤ گی
وہ کہتی ہے مجھے وارفتگی سے دیکھتے کیوں ہو
کہ میں خود کو بہت ہیی قیمتی محسوس کرتی ہوں
میں کہتا ہوں متاع جاں بہت انمول ہوتی ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوں زندگی محسوس ہوتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ نا کسے کھونے سے ڈرتے ہو
بتاؤ کون ہے وہ جسکو یہ موسم بلاتے ہیں
میں کہتا ہوں یہ میری شاعری ہے آئینہ دل کا
ذرا دیکھو بتاؤ کیا تمہیں اس میں نظر آیا
وہ کہتی ہے کہ آتش جی بہت باتیں بناتے ہو
مگر سچ ہے کہ یہ باتیں بہت ہی شاد رکھتی ہیں
میں کہتا ہوں یہ سب باتیں، فسانے اک بہانہ ہیں
کہ پل کچھ زندگانی کے تمہارے ساتھ کٹ جائیں
پھر اس کے بعد خاموشی کا اک دلکش رقص ہوتا ہے
نگاہیں بولتی ہیں اور یہ لب خاموش رہتے ہیں....

عاطف سعید

Monday, 28 March 2016

تُجھے اس قدر ہیں شکایتیں


تُجھے اس قدر ہیں شکایتیں
 کبھی سُن لے میری حکایتیں۔
تُجھے گر نہ کوئی ملال ھو،
میں بھی ایک تُجھ سے گلہ کروں؟
نہیں اور کُچھ بھی جواب اب
میرے پاس تیرے سوال کا۔
تُو کرے گا کیسے یقیں میرا،
مُجھے تو بتا دے میں کیا کروں؟
یہ جو بھولنے کا سوال ھے،
میری جان یہ بھی کمال ھے۔
تُو نمازِ عشق ھے جانِ جاں،
تُجھے رات و دن میں ادا کروں۔
تیرا پیار تیری محبتیں،
میری زندگی کی عبادتیں۔
جو ھو جسم و جاں میں رواں دواں،
اُسے کیسے خود سے جُدا کروں؟
تُو ھے دل میں، تُو ھی نظر میں ھے،
تُو ھے شام تُو ھی سحر میں ھے۔
جو نجات چاھوں حیات سے،
تُجھے بھولنے کی دعا کروں۔

Sunday, 27 March 2016

محبّت آزمانے دو

ابھی کچھ دن مجھے
میری محبّت آزمانے دو ..
مجھے خاموش رہنے دو ..
سنا ہے عشق سچا ہو تو
خاموشی لہو بن کر ..
رگوں میں ناچ اٹھتی ہے ..
ذرا اس کی رگوں میں
خاموشی کو جھوم جانے دو ..
ابھی کچھ دن مجھے
میری محبّت آزمانے دو ..
اسے میں کیوں بتاؤں
میں نے اس کو کتنا چاہا ہے .. .
بتایا جھوٹ جاتا ہے ..
کہ سچی بات کی خوشبو تو
خود محسوس ہوتی ہے ..
میری باتیں ..
میری سوچیں ..
اسے خود جان جانے دو ..
ابھی کچھ دن مجھے
میری محبّت آزمانے دو ..
اگر وہ عشق کے احساس کو
پہچان نہ پائے..!
مجھے بھی جان نہ پائے..
تو پھر ایسا کرو اے دل ..
خود ہی گمنام ہوجاؤ ..
مگر اس بےخبر کو زندگی بھر مسکرانے دو

ہم جو پہنچے سرِ مقتل تو یہ منظر دیکھا

ہم جو پہنچے سرِ مقتل تو یہ منظر دیکھا
سب سے اونچا تھا جو سرِ نوکِ سناں پر دیکھا

ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند ابھرتا ہے یہاں
ہم نے سورج بھی ترے شہر میں آ کر دیکھا

پیاس یادوں کو اب اس موڑ پہ لے آئی ہے
ریت چمکی تو یہ سمجھے کہ سمندر دیکھا

ایسے لپٹے ہیں دروبام سے اب کے جیسے
حادثوں نے بڑی مدت میں میرا گھر دیکھا

زندگی بھر نہ ہوا ختم قیامت کا عذاب
ہم نے ہر سانس میں برپا نیا محشر دیکھا

اتنا بے حس کہ پگھلتا ہی نہ تھا باتوں سے
آدمی تھا کہ تراشا ہوا پتھا دیکھا

دکھ ہی تھا ایسا کہ رویا تیرا محسن ورنہ
غم چھپا کر اسے ہنستے ہوئے اکثر دیکھا...

- محسن نقوی

Saturday, 26 March 2016

زندگی کی کتاب


میری زندگی کی کتاب میں
میرے روز و شب کے حساب میں
تیرا نام جتنے صفحوں پہ ہے
تیری یاد جتنی شبوں میں ہے
وہی چند صفحے ہیں متاعِ جان
اُنہی رتجگوں کا شمار ہے

Wednesday, 23 March 2016

.زندگی کو نہ بنا لیں وہ سزا میرے بعد



.زندگی کو نہ بنا لیں وہ سزا میرے بعد
حوصلہ دینا انہیں میرے خدا میرے بعد

کون گھونگٹ کو اٹھائے گا ستمگر کہہ کر
اور پھر کس سے کریں گے وہ حیا میرے بعد

پھر زمانے میں محبت کی نہ پُرسش ہو گی
روئے گی سسکیاں لے لے کے وفا میرے بعد

ہاتھ اٹھاتے ہوئے ان کو نہ کوئی دیکھے گا
کس کے آنے کی کریں گے وہ دعا میرے بعد

کس قدر غم ہے انہیں مجھ سے بچھڑ جانےکا
ہو گئے وہ بھی زمانے میں جدا میرے بعد

وہ جو کہتا تھا کہ ناصرؔ کے لئے جیتا ہوں
اس کا کیا جانئے کیا حال ہوا میرے بعد

کبھی مجھ کو ساتھ لے کر، کبھی میرے ساتھ چل کے



کبھی مجھ کو ساتھ لے کر، کبھی میرے ساتھ چل کے
وہ بدل گیا اچانک، --!! -----میری زندگی بدل کے

ہوئے جس پہ مہرباں تم، کوئی خوش نصیب ہو گا
میری حسرتیں تو نکلیں میرے آنسوئوں میں ڈھل کے

تیری زلف و رخ کے قرباں، دلِ زار ڈھونڈتا ہے
وہی چمپئی اجالے، وہی سرمئی دھندلکے

کوئی پھول بن گیا ہے، کوئی چاند کوئی تارا
جو چراغ بجھ گیا ہے، تیری انجمن میں جل کے

میرے دوستو خدارا میرے ساتھ تم بھی ڈھونڈو
وہ یہیں کہیں چھپا ہے، میرے غم کا رخ بدل کے

تیری بے جھجھک ہنسی سے، نہ کسی کا دل ہو میلا
یہ نگر ہے آئینوں کا، یہاں سانس لے سنبھل کے

Saturday, 19 March 2016

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮔﻠﮧ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ



زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
توبہت دیرسے ملا ہے مجھے

تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے

دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے

ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں
اِک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فراز
سب میں اِک شخص ہی ملا ہے مجھے

Monday, 26 October 2015

ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ جاؤں

ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ جاؤں
 ﺗﻮ
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺧﺸﮏ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ۔
ﺟﺐ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻓﺮﺍﻏﺖ پاؤ ﺗﻮ
 ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﮯ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺍﻭﺭﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﯽ اﺱ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﻮ

 ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﺎ۔
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﻧﺎ
ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﭘﮩﺎﮌ ﮨﻮﮞ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ جگنوؤں ﮐﮯ ﻗﺎﻓﻠﮯ
ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﻣﺤﻮِ ﺭﻗﺺ ﮨﻮﮞ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﮧ ﺯﻭﺭ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﭼﺸﻤﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ

 ﺳﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺑﺨﺸﺘﯽ ﮨﻮ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮈﯾﺮﮮ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮ۔
ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮭﻨﮯ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ آنا
ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﭘﯿﮍ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺁﻥ ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﺒﺮ ﭘﺮ ﺍﻧﺠﺎﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ دعاؤں ﮐﮯ
ﻟﺌَﮯ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ۔
ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ

 مجھے ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ 
ﺟﺲ ﮐﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ مر جائیں لیکن محبت ہمیشہ زندہ رﮨﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺲ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ لینا
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻭﺍﺣﺪ ﺟﮕﮧ ﮨﻮ ﮔﯽ

 ﺟﮩﺎﮞ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ بعد ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ
 ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻮﮞ گا۔۔

Sunday, 25 October 2015

مُسافر ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



مُسافر ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 تیرے شہر مُحبت میں ذرا سی دیر ٹھہروں گا
چلا جاؤں گا اپنے راستے پر
زندگی کی رات ڈھلنے دے، بدن کو مات ھونے دے
رُکی ھے جو لبوں پر بات، ھونے دے
تیرا شہر محبت خُوب ھے لیکن اسیری کا بہانہ ھے
ازل کی اولیں ساعت، ابد کا آخری لمحہ
یہیں پر مرتکز سارا زمانہ ھے
مگر مُجھ کو ۔۔ دور آگے
لاجوردی روشنی سے پیار کرنا ھے
ترا شہرِ مُحبت تو میرا
۔۔۔۔۔۔۔۔
فصیلِ وقت کے ٹھہرے ھوئے اُس دائرے کو پار کرنا ھے
ابد کی سرحدوں سے
پہلا پڑاؤ ہے
جسے تو آخری منزل سمجھتی ھے
دِلوں کے راستوں پر وہ فقط اک نیم روشن
سا الاؤ ھے
بڑی لمبی مُسافت ھے، بڑا گہرا یہ گھاؤ ھے
ابد کے اُس طرف بھی راستے ھی راستے ھیں
فاصلوں کا ایک نادیدہ بہاؤ ھے
جِسے میں دیکھ سکتا ھوں
جِسے میں چھو بھی سکتا ھوں
مگر میں تو مُسافر ھوں
تیرے شہر مُحبت میں ذرا سی دیر ٹھہروں گا
چلا جاوْں گا اپنے رستے پر

اسے کہنا



اسے کہنا
 محبت ایک صحرا ہے
اور صحرا میں کبھی بارش نہیں ہوتی
اور اگر باالفرض ہو بھی تو
فقط اک پل کو ہوتی ہے
اور اس کے بعد صدیاں خشک سالی میں گزرتی ہیں
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور اس میں وصل کی بارش کو صدیاں بیت جاتی ہیں
مگر پھر بھی نہیں ہوتی
اور اگر باالفرض ہو بھی تو
پھر اس کے بعد صدیوں کی جدائی مار دیتی ہے
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور صحرا کے سرابوں میں بھٹک جانے کا خدشہ سب کو رہتا ہے
کبھی پیاسے مسافر جب سرابوں میں بھٹک جائیں
انھیں رستہ نہیں ملتا
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
وفاؤں کے سرابوں سے اٹا صحرا
محبت کے مسافر گر
وفا کے ان سرابوں میں بھٹک جائیں
تو پھر وہ زندگی بھر ان سرابوں میں ہی رہتے ہیں
کبھی واپس نہیں آتے
..

Friday, 2 October 2015

Tum udas mat hona

 
Tum udas mat hona
Agar kabhi koi lamha
Aisa zakhm de jaye
K koi bhi marham us
Zakhm ko na bher paye
Tum udas mat hona
Mehv-e-yaas mat hona
Zindgi k sub mausam
Aik se nahi hote
Saray log ay humdum
Aik se nahi hote
Zindgi ki rahon main
Hadsey bhi atey hain
Hadson se barh ker kuch
Waaqay bhi atay hain
Waqt k hi marhum se
Zakhm bher bhi jatay hain
Din buray hon ya achay
Bus guzer hi jatay hain
Waqt ko guzerna hai
Zakhm ko bhi bherna hai
Dard k charhay derya
Ko abhi uterna hai
Tum udas mat hona
Mehv-e-yaas mat hona

Tuesday, 29 September 2015

Ajnabi

Ajnabi
 

Ajnabi Se Rahon K 
Ajnabi Musafir Ik
Mujh Se Poch Betha Hai
Rasta Bta Do Gay
Ajnabi Se Rahon K 
Ajnabi Musafir Sun
Rasta Koe Bhi Ho
Wasta Koe Bhi Ho
Manzlen Ni Milten
Manzlen To Dhoka Hain
Manzlen Jo Mil Jaen 
Justuju Ni Rethi
Zandagi Ko Jeeny  Ke
Arzoo Ni Rethi    

Friday, 14 August 2015

Isay kahna muhabbat aik sehara hay




اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور صحرا میں کبھی بارش نہیں ہوتی
اور اگر باالفرض ہو بھی تو
فقط اک پل کو ہوتی ہے
اور اس کے بعد صدیاں خشک سالی میں گزرتی ہیں
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور اس میں وصل کی بارش کو صدیاں بیت جاتی ہیں
مگر پھر بھی نہیں ہوتی
اور اگر باالفرض ہو بھی تو
پھر اس کے بعد صدیوں کی جدائی مار دیتی ہے
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور صحرا کے سرابوں میں بھٹک جانے کا خدشہ سب کو رہتا ہے
کبھی پیاسے مسافر جب سرابوں میں بھٹک جائیں
انھیں رستہ نہیں ملتا
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
وفاؤں کے سرابوں سے اٹا صحرا
محبت کے مسافر گر
وفا کے ان سرابوں میں بھٹک جائیں
تو پھر وہ زندگی بھر ان سرابوں میں ہی رہتے ہیں
کبھی واپس نہیں آتے

Wednesday, 5 February 2014

Muskarahat udhaar dena zara ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﺫﺭﺍ

ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﺩﯾﻨﺎ ﺫﺭﺍ
ﮐﭽﮫ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ

ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﮐﺎ ﻣﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﻟﻮ ﮔﮯ؟
ﺁﺝ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ

ﺑﻮﻝ ﺗﺘﻠﯽ ﮐﮯ ﺩﺍﻡ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺭﻧﮓ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ

ﺳﺮﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﯿﭻ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﻏﻢ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺭ ﺑﮭﺎﭨﮯ ﺳﮯ
ﮐﭽﮫ ﺷﺮﺍﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ

ﻣﯿﮟ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺧﺮﯾﺪ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍﺏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺧﺮﺍﺝ ﮐﺘﻨﺎ ﮨﮯ
ﮔﻮﺷﻮﺍﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ

ﻣﻌﺰﺭﺕ ﮐﮯ میم ﺟﯽ ﺍﺏ ﺗﻮ
ﺑﺲ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ

ﮈﮔﻤﮕﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻋﺎﻃﻒ
ﮐﭽﮫ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ؛؛...

Wednesday, 8 January 2014

Zehar se ziada khatarnak hai ye mohabbat

،زھر سے زیادہ خطرناک ھے یہ محبت
اگر کوئی اس کو چکھہ لے تو زندگی بھر مر مر کے جیتا ھے۔

Saturday, 4 January 2014

Ay Zindagi

Ay Zindagi..!

Hamein Manzoor Hai Phr Se Wohi Khilono Ka Tootna..!

Ye Har Bar Dil Ka Tootna Hum Se Bardasht Nahi Hota..!

Thursday, 2 January 2014

Kaise bataon main tumhe mery liye tum kon ho

<<< KAISE BATAOON MAIN TUMHE >>>

Kaise bataaoon main tumhe
Mere liye tum kaun ho, kaise bataaoon
Kaise bataaoon main tumhe
Tum dhadkanon ka geet ho
Jeevan ka tum sangeet ho
Tum zindagi tum bandagi
Tum roshni tum taazgi
Tum har khushi tum pyaar ho
Tum preet ho manmeet ho
Aankhon mein tum yaadon mein tum
Saanson mein tum aahon mein tum
Neendon mein tum khwaabon mein tum
Tum ho meri har baat mein
Tum ho mere din raat mein
Tum subaah mein tum shaam mein
Tum soch mein tum kaam mein
Mere liye paana bhi tum
Mere liye khona bhi tum
Mere liye hasna bhi tum
Mere liye rona bhi tum
Aur jaagna sona bhi tum
Jaaoon kahin dekhoon kahin
Tum ho vahan, tum ho vahin
Kaise bataaoon main tumhe
Tum bin to main kuch bhi nahin
Kaise bataaoon main tumhe
Mere liye tum kaun ho
Yeh jo tumhaara roop hai
Yeh zindagi ki dhoop hai
Chandan se tarsha hai badan
Behti hai jis mein ek agan
Yeh shokhiyaan yeh mastiyaan
Tumko hawaaon se mili
Zulfein ghataaon se mili
Honton mein kaliyaan khil gayi
Aankhon ko jheele mil gayi
Chehre mein simti chaandni
Aawaaz mein hai raagini
Sheeshe ke jaisa ang hai
Phoolon ke jaisa rang hai
Nadiyon ke jaisi chaal hai
Kya husn hai kya haal hai
Yeh jism ki rangeeniyaan
Jaise hazaaron titliyaan
Baahon ki yeh golaaiyaan
Aanchal mein yeh parchhaaiyaan
Yeh nagriyaan hai khwaab ki
Kaise bataaoon main tumhe
Haalat dil-e-betaab ki
Kaise bataaoon main tumhe
Mere liye tum kaun ho
Kaise bataaoon, kaise bataaoon
Kaise bataaoon main tumhe
Mere liye tum dharam ho
Mere liye imaan ho
Tum hi ibaadat ho meri
Tum hi to chaahat ho meri
Tum hi mera armaan ho
Takta hoon main har pal jisse
Tum hi to voh tasveer ho
Tum hi meri taqdeer ho
Tum hi sitaara ho mera
Tum hi nazaara ho mera
Yun dhyaan mein mere ho tum
Jaise mujhe ghere ho tum
Purab mein tum pachhim mein tum
Utar mein tum dakshin mein tum
Saare mere jeevan mein tum
Har pal mein tum har chiz mein tum
Mere liye rasta bhi tum
Mere liye manzil bhi tum
Mere liye saagar bhi tum
Mere liye saahil bhi tum
Main dekhta bas tumko hoon
Main sochta bas tumko hoon
Main jaanta bas tumko hoon
Main maanta bas tumko hoon
Tum hi meri pehchaan ho
Kaise bataaoon main tumhe
Devi ho tum mere liye
Mere liye bhagwaan ho
Kaise bataaoon main tumhe
Mere liye tum kaun ho
Kaise................
<<< KAISE BATAOON MAIN TUMHE >>>

Tuesday, 31 December 2013

Is Nayee Saal Par

Is Nayee Saal Par
Tumhare Liye
Duaaon Ka Tohfa Liye
Mai Aese Khara Hoon Jese
Koi Jaan-ba-lab Insaan
Apni Zindagi Ki Dua Maangta Hai…!!!