affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Romantic
Showing posts with label Romantic. Show all posts
Showing posts with label Romantic. Show all posts

Wednesday, 13 April 2016

محبت وہ آسمانوں پر رقم احساس ہے جاناں



محبت وہ آسمانوں پر رقم احساس ہے جاناں

 کہ جس کی روشنی سےیہ زمیں بے حد منور ہے
 کہ جسکی ضوفشانی سے یہاں ہر احساس جھلمل ہے..
محبت بحر باراں اور قلزم کو لہر دیتی ..
صحرا دلوں پہ یہ معصوم جب اپنا نقش دھرتی ہے
تو بنجر رہگزر بھی آنکھ کھولے کسمساتی ہے 

 کوئ آہٹ جامد دل کی ساعت گدگداتی ہے
 محبت
 دعا کی چلمن میں مقدس سی چمکتی ہے.
 کبھی چپ میں مچلتی سی ..
اشکوں میں دمکتی ہے..
محبت یاد کا قصہ

 .. خلوت جلوت بناتا ہے..
محبت آس کا حصہ..

 سکینت گدگداتا ہے ..
محبت آنکھ میں خاموش سلگی چپ اگر ہے تو..
محبت ہر صدا کی خامشی سی بھی ابھرتی ہے..
محبت خود میں مرتی اور جیتی زندگی سی ہے..
محبت کیف میں سمٹی کبھی اک بندگی سی ہے..
محبت ہے آس کا آنچل..

 محبت احساس میں صندل ..
محبت ہی تو تپتی راہ میں کندن بناتی ہے..
محبت ہے عطا پر ہاں محبت آزماتی ہے..
اگر یہ آزماتی ہے اور سچ کو تم وفا کر دو
تو یہی وہ ساتھ ہے جاناں جو ہر دم نبھاتی ہے..

حیا ایشم

Monday, 28 March 2016

تُجھے اس قدر ہیں شکایتیں


تُجھے اس قدر ہیں شکایتیں
 کبھی سُن لے میری حکایتیں۔
تُجھے گر نہ کوئی ملال ھو،
میں بھی ایک تُجھ سے گلہ کروں؟
نہیں اور کُچھ بھی جواب اب
میرے پاس تیرے سوال کا۔
تُو کرے گا کیسے یقیں میرا،
مُجھے تو بتا دے میں کیا کروں؟
یہ جو بھولنے کا سوال ھے،
میری جان یہ بھی کمال ھے۔
تُو نمازِ عشق ھے جانِ جاں،
تُجھے رات و دن میں ادا کروں۔
تیرا پیار تیری محبتیں،
میری زندگی کی عبادتیں۔
جو ھو جسم و جاں میں رواں دواں،
اُسے کیسے خود سے جُدا کروں؟
تُو ھے دل میں، تُو ھی نظر میں ھے،
تُو ھے شام تُو ھی سحر میں ھے۔
جو نجات چاھوں حیات سے،
تُجھے بھولنے کی دعا کروں۔

Thursday, 24 March 2016

جان پیاری تھی ، مگر جان سے پیارے تم تھے


جان پیاری تھی ، مگر جان سے پیارے تم تھے
جو کہا تم نے وہ مانا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹالا نہ گیا

صرف اک بار نظر بھر کے۔۔۔۔۔۔۔۔ انھیں دیکھا تھا

 زندگی بھر مری آنکھوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اجالا نہ گیا

خلوت بزم ہو یا جلوت تنہائی ہو



خلوت بزم ہو یا جلوت تنہائی ہو
تیرا پیکر میری نظروں میں اُتر آتا ہے

کوئی ساعت ہو کوئی فکر ہو کوئی ماحول
مجھ کو ہر سمت تیرا حسن نظر آتا ہے

Monday, 21 March 2016

"محبت کر کے دیکهتے ہیں"

"

"محبت کر کے دیکهتے ہیں"
محبت پھر سے کر کے د یکھتے ہیں ہم
جہا ں چھو ڑا تھا تم نے
ر خصتی کے سرد مو سم میں
و ہیں چلتے ہیں پھر ا ک بار
ا و ر عہد و فا کو ہا تھ تھا مے یا د کر تے ہیں
چلو پھر سے
محبت کر کے د و نو ں د یکھتے ہیں ہم
تمہیں خو شبو پسند تھی
میں بہا ر و ں کے سبھی پھو لو ں کو
ا پنے سا تھ لا یا ہو ں
تمہیں با ر ش پسند تھی
با د لو ں کے سا تھ بر کھا لے کے آ یا ہو ں
تمہیں تا ر و ں بھر ی ر ا تو ں میں
د ل کا حا ل کہنے میں مزہ آ تا تھا
میں سا ر ے ستا ر ے
آ سما نو ں سے چُرا کے
بس تمہیں سُننے کو آ یا ہو ں
چلو پھر سے محبت کر کے
د و نو ں د یکھتے ہیں ہم
یہ مُمکن ھے کہ تم بھی
گز ر ے موسم کی طرح و ا پس پلٹ آ و
خز ا ں آ تی ہے
لیکن فصل گُل
پت جھڑ کے گھا و آ کے بھر تی ہے
یہی ہے را ز ہستی
ختم ہو تے ہی ا ند ھیر ے کے
نیا د ن
ا ک نر ا لے با نکپن سے پھر نکلتا ہے
تو کیا مُمکن نہیں
ہم مل سکیں دونوں
چلو ا ک با ر کو شش کر د یکھں ہم
محبت کر کے د یکھں
انور زاہدی