affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Aas Poetry
Showing posts with label Aas Poetry. Show all posts
Showing posts with label Aas Poetry. Show all posts

Wednesday, 13 April 2016

محبت وہ آسمانوں پر رقم احساس ہے جاناں



محبت وہ آسمانوں پر رقم احساس ہے جاناں

 کہ جس کی روشنی سےیہ زمیں بے حد منور ہے
 کہ جسکی ضوفشانی سے یہاں ہر احساس جھلمل ہے..
محبت بحر باراں اور قلزم کو لہر دیتی ..
صحرا دلوں پہ یہ معصوم جب اپنا نقش دھرتی ہے
تو بنجر رہگزر بھی آنکھ کھولے کسمساتی ہے 

 کوئ آہٹ جامد دل کی ساعت گدگداتی ہے
 محبت
 دعا کی چلمن میں مقدس سی چمکتی ہے.
 کبھی چپ میں مچلتی سی ..
اشکوں میں دمکتی ہے..
محبت یاد کا قصہ

 .. خلوت جلوت بناتا ہے..
محبت آس کا حصہ..

 سکینت گدگداتا ہے ..
محبت آنکھ میں خاموش سلگی چپ اگر ہے تو..
محبت ہر صدا کی خامشی سی بھی ابھرتی ہے..
محبت خود میں مرتی اور جیتی زندگی سی ہے..
محبت کیف میں سمٹی کبھی اک بندگی سی ہے..
محبت ہے آس کا آنچل..

 محبت احساس میں صندل ..
محبت ہی تو تپتی راہ میں کندن بناتی ہے..
محبت ہے عطا پر ہاں محبت آزماتی ہے..
اگر یہ آزماتی ہے اور سچ کو تم وفا کر دو
تو یہی وہ ساتھ ہے جاناں جو ہر دم نبھاتی ہے..

حیا ایشم

Sunday, 1 November 2015

اہل وفا



دن رات کے آنے جانے میں
  دنیا کے عجائب خانے میں
کبھی شیشے دھندلے ہوتے ہیں،
کبھی منظر صاف نہیں ہوتے
کبھی سورج بات نہیں کرتا
کبھی تارے آنکھ بدلتے ہیں
کبھی منزل پیچھے رہتی ہے
کبھی رستے آگے چلتے ہیں
کبھی آسیں توڑ نہیں چڑھتیں
کبھی خدشے پورے ہوتے ہیں
کبھی آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں
کبھی خواب ادھورے ہوتے ہیں
یہ تو سب صحیح ہے لیکن
اس آشوب کے منظر نامے میں
دن رات کے آنے جانے میں
دنیا کے عجائب خانے میں
کچھ سایہ کرتی آنکھوں کے ، پیماں تو دکھائی دیتے ہیں!
ہاتھوں سے اگرچہ دور سہی، امکاں تو دکھائی دیتے ہیں!
ہاں، ریت کے اس دریا سے ادھر
اک پیڑوں والی بستی کے
عنواں تو دکھائی دیتے ہیں!
منزل سے کوسوں دور سہی
پردرد سہی، رنجور سہی
زخموں سے مسافر چور سہی
پر کس سے کہیں اے جان وفا
کچھ ایسے گھاؤ بھی ہوتے ہیں جنہیں زخمی آپ نہیں دھوتے
بن روئے ہوئے آنسو کی طرح سینے میں چھپا کر رکھتے ہیں
اور ساری عمر نہیں روتے
نیندیں بھی مہیا ہوتی، سپنے بھی دور نہیں ہوتے
کیوں پھر بھی جاگتے رہتے ہیں! کیوں ساری رات نہیں سوتے!
اب کس سے کہیں اے جان وفا
یہ اہل وفا
کس آگ میں جلتے رہتے ہیں، کیوں بجھ کر راکھ نہیں ہوتے