affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Best Urdu Poetry
Showing posts with label Best Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Best Urdu Poetry. Show all posts

Wednesday, 1 June 2016

ﻣﺠﺖ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﮯ, ﻣﺎﻧﺘﺍ ﮨﻮﮞ،


ﻣﺠﺖ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﮯ, ﻣﺎﻧﺘﺍ ﮨﻮﮞ،
ﻣﮕﺮ ﮨﻤﺰﺍﺩ !! ﺍﺏ ﻣﯿﮟ, ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ

 

ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﺠﺮ ﮐﺎﻧﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ،
ﻧﺎﺟﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﺟﮕﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﻫﺎ ﮨﻮﮞ

 

ﻣﯿﺮﯼ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ،
ﻣﺤﺒﺖ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟﺩﮮ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ

 

ﻣﯿﺮﮮ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﺍﮎ ﺷﻮﺭ ﺳﺎ ﮨﮯ،
ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﺎﮞﺗﻨﮩﺎ ﮐﮭﮍﺎ ﮨﻮﮞ

 

ﻣﺤﺒﺖ, ﮨﺠﺮ , ﻧﻔﺮﺕ, ﻣﻞ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ،
ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ

جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا


جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا
خود کو کبھی خوابوں کے حوالے نہیں کرنا

اِس عمر میں خوش فہمیاں اچھی نہیں ہوتیں
اِس عمر کو وعدوں کے حوالے نہیں کرنا

تم اصل سے بچھڑا ہوا اک خواب ہو شاید
اس خواب کو یادوں کے حوالے نہیں کرنا

اب اپنے ٹھکانے ہی پہ رہتا نہیں کوئی
پیغام پرندوں کے حوالے نہیں کرنا

دنیا بھی تو پاتال سے باہر کا سفر ہے
منزل کبھی رستوں کے حوالے نہیں کرنا 

اب کے جو مسافت ہمیں درپیش ہے اس میں
کچھ بھی تو سرابوں کے حوالے نہیں کرنا

جس آگ سے روشن ہوا احساس کا آنگن
اس آگ کو اشکوں کے حوالے نہیں کرنا

دیکھا نہیں اس فقر نے کیا کر دیا تم کو
اس فقر کو شاہوں کے حوالے نہیں کرنا

اِس معرکۂ عشق میں جو حال ہو میرا
لیکن مجھے لوگوں کے حوالے نہیں کرنا

Monday, 30 May 2016

میرا ذکر نہ کرنا


دُکھ درد کے ماروں سے میرا ذکر نہ کرنا
گھر جاؤ تو یاروں سے میرا ذکر نہ کرنا


وہ ضبط نہ کر پائیں گے آنکھوں کے سمندر
تُم غم گُساروں سے میرا ذکر مت کرنا


شاید یہ اندھیرے ہی مجھے راہ دکھائیں گے
اب چاند ستاروں سے میرا ذکر نہ کرنا


وہ میری کہانی کو غلط رنگ نہ دے دیں
افسانہ نگاروں سے میرا ذکر نہ کرنا


لے جائیں گے گہرائی میں تم کو بھی بہا کر
دریا کے کناروں سے میرا ذکر نہ کرنا


وہ شخص ملے تو اُسے ہر بات بتانا
تُم صرف اشاروں سے میرا ذکر نہ کرنا


وصی شاہ

Saturday, 28 May 2016

ہجر کے سارے دن ہیں پورے

ہجر کے سارے دن ہیں پورے
لیکن ہے ہر رات ادھوری


لفظوں کی گہرائی میں جھانکو
سمجھو نہ ہر بات ادھوری


نم آنکھیں اور سوکھی پلکیں
ہوتی ہے برسات ادھوری


مجھ سے مجھ کو چھین گئے تم
رہ گئی میری ذات ادھوری

________

Thursday, 26 May 2016

ہم بلائیں تو انہیں کام نکل آتے ہیں


بے سبب یونہی سرِ شام نکل آتے ہیں
ہم بلائیں تو انہیں کام نکل آتے ہیں

روتے روتے جو ہنسا ہوں تو تعجب کیاہے
سختیوں میں بھی تو آرام نکل آتے ہیں

ایک مجنوں ہی نہیں دشت میں تنہا ٹھہرا
رونے والوں میں کئی نام نکل آتے ہیں

بارہا پہنچے ہیں دربار میں اوروں کی طرح
دام لگتے ہیں تو بے دام نکل آتے ہیں

نئی تہذیب کے روزن سے یہ دیکھا منظرؔ
سچ کے اظہار سے ابہام نکل آتے ہیں


منظرؔ نقوی

تمام یادیں مہک رہی ہیں


تمام یادیں مہک رہی ہیں، ہر ایک غنچہ کھلا ہوا ہے

زمانہ بیتا مگر گماں ہے کہ آج ہی وہ جدا ہوا ہے


یہ سچ ہے کھائے ہیں میں نے دھوکے، مگر نہ چاہت سے کوئی روکے

بجھے بجھے سے چراغِ دل میں بھی ایک شعلہ چھپا ہوا ہے


کچھ اور رسوا کرو ابھی مجھ کو تا کوئی پردہ رہ نہ جائے

مجھے محبّت نہیں جنوں ہے، جنوں کا کب حق ادا ہوا ہے


میں اور خود سر، میں اور سر کش، ہوا ہوں تلقینِ مصلحت سے

مجھے نہ اس طرح کوئی چھیڑے، یہ دل بہت ہی دکھا ہوا ہے


ملا جو اک لمحۂ محبّت، یہ پوچھ اس کی ہے کتنی قیمت

اب ایسے لمحوں کا تذکرہ کیا، کبھی جو وہ بے وفا ہوا ہے


یہ درد ابھرا ہے عہدِ گل میں، خدا کرے جلد رنگ لائے

نہ جانے کب سے سلگ رہا ہے، نہ جانے کب کا دبا ہوا ہے


وفا میں برباد ہو کے بھی آج زندہ رہنے کی سوچتے ہیں

نئے زمانے میں اہلِ دل کا بھی حوصلہ کچھ بڑھا ہوا ہے


ہر ایک لَے میری اکھڑی اکھڑی سی، دل کا ہر تار جیسے زخمی

یہ کون سی آگ جل رہی ہے، یہ میرے گیتوں کو کیا ہوا ہے

Tera Hiojar Bara Badzaat.



ترا ہجر بڑا بدذات


مرے پیڑ گئے سب جل
مرے سوکھ گئے سب پھل
مرے سپنے ہو گئے شل
کوئی بھیج دکھوں کا حل
مرے اجڑ گئے سب شہر
مری رگ رگ اندر زہر
مرے دل کے اندر تھل
مری آنکھوں میں برسات
ترا ہجر بڑا بدذات
میں پھرا بہت گھر گھر
کوئی کھلا ملا نہ در
ابھی اڑتا اور مگر
مرے زخمی ہو گئے پر
مرے کالے ہوئے نصیب
مرے حصے آئی صلیب
مرے دل سے جائے نہ ڈر
مرے سر سے کٹے نہ رات
ترا ہجر بڑا بدذات
جب بدل گئے حالات
لگی قدم قدم پر گھات
ہر سمت بکھر گئے پات
ہم مَلتے رہ گئے ہاتھ
تری چاہ میں چھوڑا جھنگ
تری خاطر ہوئے ملنگ
تری خاطر بدلی ذات
کیا سورج کو بھی رات
ترا ہجر بڑا بدذات سجن
ترا ہجر بڑا بدذات

Wednesday, 25 May 2016

نہ کوئی فال نکالی نہ اِستخارہ کیا ..


نہ کوئی فال نکالی نہ اِستخارہ کیا ..

بس اک صبح یونہی خلق سے کنارہ کیا ..


نکل پڑیں گے گھروں سے تمام سیارے ..

اگر زمین نے ہلکا سا اک اشارہ کیا ..


جو دل کے طاق میں تُو نے چراغ رکھا تھا ..

نہ پوچھ میں نے اُسے کس طرح ستارہ کیا ..


پرائی آگ کو گھر میں اُٹھا کے لے آیا ..

یہ کام دل نے بغیر اُجرت و خسارہ کیا ..


عجب ہے تُو کہ تجھے ہجر بھی گراں گزرا ..

اور ایک ہم کہ ترا وصل بھی گوارا کیا ..


ہمیشہ ہاتھ رہا ہے جمال آنکھوں پر ..

کبھی خیال کبھی خواب پر گُزارہ کیا ..


.. شاعر: جمال احسانی ..

Friday, 13 May 2016

اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا

 

 

 اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا

 

اس کی آواز کا منتظر تھا نگر ، چاند خاموش تھا

 

کون تھا جس کی آہوں کے غم میں ہوا سرد تھی شہر کی

 
کس کی ویران آنکھوں کا لے کے اثر، چاند خاموش تھا

 
وہ جو سہتا رہا رت جگوں کی سزا چاند کی چاہ میں

 
مرگیا تو نوحہ کناں تھے شجر، چاند خاموش تھا

 
اس سے مل کے میں یوں خامشی اور آواز میں قید تھا

 
اک صدا تو مرے ساتھ تھی ہم سفر ، چاند خاموش تھا

 
کل کہیں پھر خدا کی زمیں پر کوئی سانحہ ہوگیا

 
میں نے کل رات جب بھی اٹھائی نظر ، چاند خاموش تھا

Wednesday, 27 April 2016

یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی

یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی
پڑی ہُوئی تھیں مُجھے کِتنی عادتیں اُس کی


یہ میرا سارا سَفر اُس کی خوشبوؤں میں کٹا
مجھے تو راہ دکھاتی تھیں چاہتیں اُس کی


گِھری ہُوئی ہوں میں چہروں کی بھیڑ میں لیکن
کہیں نظر نہیں آتیں شباہتیں اُس کی


مَیں دُور ہونے گلی ہوں تو ایسا لگتا ہے
کہ چھاؤں جیسی تھیں مجھ پر رفاقتیں اُس کی


یہ کِس گلی میں یہ کِس شہر میں نِکل آئے
کہاں پہ رہ گئیں لوگو صداقتیں اُس کی


میں بارشوں میں جُدا ہو گئی ہوں اُس سےمگر
یہ میرا دل، مِری سانسیں امانتیں اُس کی

Tuesday, 29 March 2016

یہ جو ریگِ دشتِ فراق ہے

 

یہ جو ریگِ دشتِ فراق ہے 

یہ رکے اگر

یہ رکے اگر، تو نشاں ملے
کہ جو فاصلوں کی صلیب ہے
یہ گڑی ہوئی ہے کہاں کہاں؟
مرے آسماں سے کدھر گئی ؟ ترے التفات کی کہکشاں
مرے بے خبر، مرے بے نشاں
یہ رکے اگر تو پتا چلے
میں تھا کس نگر تو رہا کہاں
کہ زماں و مکاں کی وسعتیں
تجھے دیکھنے کو ترس گئیں
وہ میرے نصیب کی بارشیں
کسی اور چھت پر برس گئیں
مرے چار سوہے غبار جاں ، وہ فشار جاں
کہ خبر نہیں مرے ہاتھ کو مرے ہاتھ کی
مرے خواب سے تیرے بام تک
تری رہگزر کا تو ذکر کیا
نہیں ضوفشاں تیرا نام تک !۔
ہیں دھواں دھواں مرے استخواں
مرے آنسوؤں میں بجھے ہوئے ، مرے استخواں
مرے نقش گر مرےنقش جاں
اسی ریگ دشت فراق میں ، رہے منتظر ، ترے منتظر
مرے خواب جن کے فشار میں
رہی مرے حال سے بے خبر
تری رہگزر
تری رہگزر کہ جو نقش ہے مرے ہاتھ پر
مگر اس بلا کی ہے تیرگی
کہ خبر نہیں مرے ہاتھ کومرے ہاتھ کی
وہ جو چشم شعبدہ ساز تھی وہ اٹھے اگر
میرے استخواں میں ہو روشنی
اسی ایک لمحہ دید میں تری رہگزر
میری تیرہ جاں سے چمک اٹھے
مرے خواب سے ترے بام تک
سبھی منظروں میں دمک اٹھے
اسی ایک پل میں ہو جاوداں
مری آرزو کہ ہے بے کراں
مری زندگی کہ ہے مختصر
جو ریگ دشت فراق ہے یہ ، رکے اگر
یہ رکے اگر۔۔۔

امجد اسلام امجد

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔


کہ جس کو ہمسفر جانیں۔۔
 
جسے پانے کی خواہش میں۔۔
 
ہزاروں درد انجانے

،یونہی ہم گود لیتے ہیں۔۔
 
زمانے کے گلے شکوے

کبھی اغیار کی باتیں
،
کئی جاگی ہوئی راتیں
،
ہمیں تحفے میں ملتی ہیں۔۔

تمنّا جس کو پانے کی
،
زباں پر وِرد کی صورت
،
ہمیشہ جاری رہتی ہے۔۔

وہ جس کا نام سن کردل دھڑکنا بھول جاتا ہے

۔۔ہم اُس خوش بخت کی خاطر
،
جاں پر کھیل جاتے ہیں۔۔

سبھی دکھ جھیل جاتے ہیں

۔۔مگر۔۔ایسا بھی ہوتا ہے۔۔
!
کہ جس کو ہمسفر جانیں

ہمارے دل کی باتوں سے

۔۔وہی لاعلم رہتا ہے۔۔!

ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﺐ ﮨﯿﮟ



ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﺐ ﮨﯿﮟ


ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﯿﺪﺍ ﺋﯽ
 
ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ

 
ﺍﻥ ﮐﻮ ﻭﻗﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮ

 
ﮨﻨﺴﺘﺎ ﮨﻮ, ﮨﻨﺴﺎﺗﺎ ﮨﻮ

 
ﺭﻭﭨﮭﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﮨﻮ

 
ﭘﮭﺮ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻣﻨﺎﺗﺎ ﮨﻮ

 
ﭘﻮﺭﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﭘﻞ ﭘﻞ ﮐﯽ

 
ﺩﺍﺳﺘﺎ ﮞ ﺳﻨﺎﺗﺎ ﮨﻮ

 
ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮ

 
ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮ

 
ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﭘﮧ ﺭﮨﺒﺮ ﮨﻮ

 
ﮨﺮ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮ

 
ﺳﺎﺋﺒﺎﻥ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮ

 
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ

 
ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﻣﻞ ﭘﺎﺋﮯ

 
ﺍﯾﮏ ﺑﻮﻝ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﺎ

 
ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﺎ

 
ﺑﮯ ﺗﻮ ﺟﮩﯽ ﭘﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺧﻠﻮﺹ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ

 
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﺳﮯ

 
ﺧﻠﻮﺹ ﺑﺎﻧﭩﺘﺎ ﺟﺎﺋﮯ

 
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﮯ

 
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﺎﮞ ﭼﮭﮍ ﺍﻧﮯ ﮐﻮ

 
ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ

  
ﺗﻢ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺗﻌﻠﻖ ﭘﺮ
 ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ
 
ﻣﯿﺮﮮ ﭼﺎﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ

 
ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﺍ ﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ

 
ﺁﭖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﯿﺠﺌﮯ

 
ﺑﮩﺖ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

 
ﺗﺐ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺎ ﺩﺭﯾﺎ

 
ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﺳﻮﮐﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

 
ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﭘﮭﺮ

 
ﺩﮬﻮﭖ ﺑﻦ ﮐﮯ ﭼﺒﮭﺘﺎ ﮨﮯ

 
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ

 
ﺍﻥ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ

 
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ

 
ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮑﺎﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ

 
ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺰﺩﻭﺭ

 
ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﻣﯿﮟ

 
ﺗﺎ ﻭﻗﺖ ﺍﻓﻄﺎﺭﯼ

 
ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ

 
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ

 
ﺍﻥ ﻣﺼﺮﻭﻑ لوﮔﻮﮞ ﮐﻮ

 
ﺍﭼﺎﻧﮏ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ

 
ﺍﮎ ﺟﻮﮐﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ

 
ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮧ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﮯ

 
ﻋﺮﺽ ﻓﻘﻂ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﮯ

 
ﺩﺭﺩ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

 
ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ

 
ﺟﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﮐﺮﮨﻮ

 
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ

 
ﺟﻮﮌﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﮭﺮ ﮐﻮﺋﯽ

 
ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ