You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Showing posts with label Urdu Poetry by Farhat Abbas Shah. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry by Farhat Abbas Shah. Show all posts
Friday, 28 October 2016
Saturday, 11 June 2016
اے نیل گگن
مت بول پیا کے لہجے میں (مکمل نظم)
-
اے شام
مجھے برباد نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے شام
عجیب سی ویرانی
مرے سینے میں آباد نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے شام
کئی سو صدیوں کے
قیدی بیچارے اشکوں کو
مری آنکھوں سے آزاد نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مت بول پیا کے لہجے میں
اے وقت
تو ایسا کام نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے وقت
پرائی دنیا میں
مرے ہر سُو ہجر کی شام نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے وقت
زمانہ ظالم ہے
تو بیچ ہر اک چوراہے کے
مرے پیا کو یوں بدنام نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مت بول پیا کے لہجے میں
اے رات نگر ویران نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے رات
سکوت ہے پہلے ہی
اس دل۔۔۔ زخموں کے دریا میں
اب اور اسے سنسان نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے رات
میں دکھ کا مارا ہوں
کوئی وصل وصال بشارت دے
یہ ہجر مرا ایمان نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
کوئی نور کرن
کوئی دیپ جلا
مجھے پیا کی اپنی رس کی بھری
میٹھی دلدار آواز سنا
مرا یوں تاریک جہان نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مت بول پیا کے لہجے میں
اے بادِ صبا
خاموش گزر جا باغوں سے
مت بول پیا کے لہجے میں
ہمیں خوف آتا ہے داغوں سے
اے نیل گگن
تری وسعت وصف سہی تیرا
میں پنچھی، بادل، سیّارہ، پورن ماشی
میں بچھڑے یار کا متلاشی
اے نیل گگن
ترے قریہ قریہ اڑنا مرا دیوانہ پن
مت بول پیا کے لہجے میں
اے کہکشاں
تری چمک دمک
مرے پیا کی لانبی پلکوں کی بس ایک جھلک
بس ایک جھلک مرے پیا کے نوری ماتھے کی
مرے دل کو کچھ کچھ ہو جاتا ہے فوراً ہی
مجھے تری صدا ہی کافی ہے
مت بول پیا کے لہجے میں
بے چین ہوا
مت چھُو مجھ کو
مرے زخم نہ کھلنے لگ جائیں
میں جن باتوں کو بھول چکا
اور چھوڑ چکا ہوں مدت سے
آآ کے نہ ملنے لگ جائیں
بے چین ہوا
مت بول پیا کے لہجے میں
مرے کان نہ جلنے لگ جائیں
مرے ہونٹ نہ سلنے لگ جائیں
بے چین ہوا
مت دیکھ مجھے
مت دیکھ مجھے کسی نابینا کی نظروں سے
مرے ہونے پر یوں ظلم نہ ڈھا
بے چین ہوا
بے چین ہوا
اُسے یاد نہ کر
اُسے دھیرے دھیرے یاد نہ کر
وہ یاد آیا
تو آنکھیں اپنی آئی پر آجائیں گی
پھر دریا کے دھاروں کی طرح
جانے کب تک نیر بہائیں گی
بے چین ہوا
نیندیں نہ اُڑا
مرے جیون جوگ کو جوگ سمجھ
بے چین ہوا مرا سوگ منا
مرے دل کے روگ کو روگ سمجھ
میں پہلے ہی بے کل ہوں بہت
پانی سے بھرا بادل ہوں بہت
اور رونے میں جل تھل ہوں بہت
بے چین ہوا
بے چین ہوا
مرے پاس نہ آ
مرا دل نہ جلا
مت بول پیا کے لہجے میں
بے چین ہوا
مت چھیڑ مجھے
مرے ساتھ عجیب فریب نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
میں شہر میں جتنا تنہا ہوں
اتنا ہی رہنے دے مجھ کو
مری غم کے سفر سے جان چھڑا
یہ سفر مری پازیب نہ کر
بے چین ہوا
مجھے چھینٹے مار نہ بارش کے
مجھے اتنا رمز شناس نہ کر
میں ہوں تو مجھ ہی کو رہنے دے
مری آس امید اُداس نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے رُت مستانی
ظلم نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مری روح کا سارا بنجر پن
مری ویرانی
کہاں انجانی ہے پیا کی ہجر کہانی سے
میں کس کے دوارے جا بیٹھوں
میں کس سے پوچھوں اس کا پتہ
اے رُت مستانی
پیا بنا ہے ساری دنیا بیگانی
مت بول پیا کے لہجے میں
مرے جذبوں کو مہمیز نہ کر
احساس کو اور بھی تیز نہ کر
مرے غم کی فصلوں کے کارن
دِل کی مٹی زرخیز نہ کر
مرے پاس نشانی یہی تو ہے
آواز اُداس ہواؤں کی
مری لُوں لُوں نے ہے پہچانی
مت بول پیا کے لہجے میں
-
فرحت عباس شاہ
Thursday, 26 May 2016
Tera Hiojar Bara Badzaat.
ترا ہجر بڑا بدذات
مرے پیڑ گئے سب جل
مرے سوکھ گئے سب پھل
مرے سپنے ہو گئے شل
کوئی بھیج دکھوں کا حل
مرے اجڑ گئے سب شہر
مری رگ رگ اندر زہر
مرے دل کے اندر تھل
مری آنکھوں میں برسات
ترا ہجر بڑا بدذات
میں پھرا بہت گھر گھر
کوئی کھلا ملا نہ در
ابھی اڑتا اور مگر
مرے زخمی ہو گئے پر
مرے کالے ہوئے نصیب
مرے حصے آئی صلیب
مرے دل سے جائے نہ ڈر
مرے سر سے کٹے نہ رات
ترا ہجر بڑا بدذات
جب بدل گئے حالات
لگی قدم قدم پر گھات
ہر سمت بکھر گئے پات
ہم مَلتے رہ گئے ہاتھ
تری چاہ میں چھوڑا جھنگ
تری خاطر ہوئے ملنگ
تری خاطر بدلی ذات
کیا سورج کو بھی رات
ترا ہجر بڑا بدذات سجن
ترا ہجر بڑا بدذات
Wednesday, 25 May 2016
بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے
بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے
غموں نے چاٹ لیا، غمگسار اب آئے
یہ وقت اس طرح رونے کا تو نہیں، لیکن
میں کیا کروں، کہ مرے سوگوار، اب آئے
وہ دھوپ دھوپ میں ہی ہو گیا بسر، چپ چاپ
شجر شجر پہ مرے _______ برگ و بار اب آئے
وہ جن پہ دھوکہ سا جھیلا تھا، ہم نے منزل کا
وہ قافلے تو __________ سرِ راہ گزار، اب آئے
نہ ڈالیوں پہ کوئی پھول ہے، نہ ہونٹوں پر
مزہ تو جب ہے کہ ______ بادِ بہار، اب آئے
فرحت عباس شاہ
Friday, 13 May 2016
اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا
اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا
اس کی آواز کا منتظر تھا نگر ، چاند خاموش تھا
کون تھا جس کی آہوں کے غم میں ہوا سرد تھی شہر کی
کس کی ویران آنکھوں کا لے کے اثر، چاند خاموش تھا
وہ جو سہتا رہا رت جگوں کی سزا چاند کی چاہ میں
مرگیا تو نوحہ کناں تھے شجر، چاند خاموش تھا
اس سے مل کے میں یوں خامشی اور آواز میں قید تھا
اک صدا تو مرے ساتھ تھی ہم سفر ، چاند خاموش تھا
کل کہیں پھر خدا کی زمیں پر کوئی سانحہ ہوگیا
میں نے کل رات جب بھی اٹھائی نظر ، چاند خاموش تھا
Wednesday, 11 May 2016
لبوں پہ گیت تو آنکھوں میں خواب رکھتے تھے
لبوں پہ گیت تو آنکھوں میں خواب رکھتے تھے
کبھی کتابوں میں ہم بھی گلاب رکھتے تھے
کبھی کسی کا جو ہوتا تھا انتظار ہمیں
بڑا ہی شام وسحر کا حساب رکھتے تھے
فرحت عباس شاہ
Saturday, 16 April 2016
پھر تِرے ہجر میں بہے آنسو
پھر تِرے ہجر میں بہے آنسو
ہائے میرے رہے سہے آنسو
آنکھ میں بھی کبھی نہیں آئے
دل سے جاتے کہاں رہے آنسو
آنکھ اپنی جگہ رہی دکھ میں
دل نے اپنی جگہ سہے آنسو
لاکھ روکوں مگر نہیں رکتے
ہو بہو آپ پر گئے آنسو
اُس نے جب مجھ کو کہہ دیا صحرا
پھر تو ایسے مِرے بہے آنسو
ہم تو چُپ ہو گئے مگر فرحت
دیر تک بولتے رہے آنسو
فرحت عباس شاہ
Wednesday, 13 April 2016
تم جانا چاہتے ہو تو جاؤ
تم جانا چاہتے ہو تو جاؤ
آسمانوں پر تو آؤ گے ہی نا
اماوس کی بیمار راتوں کے علاوہ
رات کے ماتھے کا ٹیکہ بن کے
یا آسمان کے کانوں کا بالا پہن کے
میرے گھر کی دیوار پر سے بھی گزرو گے
جنگل میں بھی جا ٹھہرو گے
جھیل میں اترو گے
دل کی شاخوں سے الجھتے پھرو گے
میری بینائیاں تمہیں چھو آئیں گی
پلکیں تمہارے چاروں طرف پھیلے ہوئے نور کو بوسہ دیں گی
میری روح تمہیں اپنی گود میں بھر لے گی
ہوا لوری سنائے گی
تمہیں نیند آجائے گی
اور مجھے قرار آجائے گا
اگرچہ تمہارے بغیر
اور تمہارے بعد
میری زندگی اماوس کی وہ رات بن جاتی ہے
جس میں کوئی شے سانس کو اندر جکڑ لیتی ہے
اور دل کو مسلنا شروع کر دیتی ہے
آنکھوں میں تاریکیاں اتر آئی ہیں
اور روح دھند سے بھر جاتی ہے
لیکن پھر بھی
اگر تم جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ
آسمانوں پر تو آؤ گے ہی نا
-
فرحت عباس شاہ
اماوس کی بیمار راتوں کے علاوہ
رات کے ماتھے کا ٹیکہ بن کے
یا آسمان کے کانوں کا بالا پہن کے
میرے گھر کی دیوار پر سے بھی گزرو گے
جنگل میں بھی جا ٹھہرو گے
جھیل میں اترو گے
دل کی شاخوں سے الجھتے پھرو گے
میری بینائیاں تمہیں چھو آئیں گی
پلکیں تمہارے چاروں طرف پھیلے ہوئے نور کو بوسہ دیں گی
میری روح تمہیں اپنی گود میں بھر لے گی
ہوا لوری سنائے گی
تمہیں نیند آجائے گی
اور مجھے قرار آجائے گا
اگرچہ تمہارے بغیر
اور تمہارے بعد
میری زندگی اماوس کی وہ رات بن جاتی ہے
جس میں کوئی شے سانس کو اندر جکڑ لیتی ہے
اور دل کو مسلنا شروع کر دیتی ہے
آنکھوں میں تاریکیاں اتر آئی ہیں
اور روح دھند سے بھر جاتی ہے
لیکن پھر بھی
اگر تم جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ
آسمانوں پر تو آؤ گے ہی نا
-
فرحت عباس شاہ
میں یہاں اور تو وہاں جاناں
میں یہاں اور تو وہاں جاناں
درمیاں سات آسمان جاناں
ہم نہیں ہوں گے اور دنیا کو
تو سنائے گا داستاں جاناں
دیکھنے میں تو کچھ نہیں لیکن
اک زمانہ ہے درمیاں جاناں
رو رہے پرند شاخوں پر
جل گیا ہو گا آشیاں جاناں
اور اک محبت میرا اثاثہ ہے
اور اک ہجر بہ کراں جاناں
یہ تو سوچا نہ تھا کبھی آنسو
ایسے جائیں گے رائیگاں جاناں
میں تیرے بارے میں کچھ غلط کہہ دوں
کٹ نہ جائے میری زباں جاناں
درمیاں سات آسمان جاناں
ہم نہیں ہوں گے اور دنیا کو
تو سنائے گا داستاں جاناں
دیکھنے میں تو کچھ نہیں لیکن
اک زمانہ ہے درمیاں جاناں
رو رہے پرند شاخوں پر
جل گیا ہو گا آشیاں جاناں
اور اک محبت میرا اثاثہ ہے
اور اک ہجر بہ کراں جاناں
یہ تو سوچا نہ تھا کبھی آنسو
ایسے جائیں گے رائیگاں جاناں
میں تیرے بارے میں کچھ غلط کہہ دوں
کٹ نہ جائے میری زباں جاناں
فرحت عباس شاہ
Sunday, 1 November 2015
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
عمر گزری تجھے دیکھے ہوئے بہلائے ہوئے
یاد ہے؟
ہم تجھے دل مانتے تھے
اپنے سینے میں مچلتا ہوا ضدی بچہ
تیرے ہر ناز کو انگلی سے پکڑ کر اکثر
نت نئے خواب کے بازار میں لے آتے تھے
تیرے ہر نخرے کی فرمائش پر
ایک جیون کہ تمناؤں کی بینائی سے
ھم دیکھتے تھکتے ہی نہ تھے
سوچتے تھے ایک چھوٹا سا نيا گھر
نيا ماحول محبت کی فضا
ھم دونوں
اور کسی بات پر تکیوں سے لڑائی اپنی
پھر لڑائی میں کبھی ہنستے ہوئے رو پڑنا
اور کبھی روتے روتے ہنس پڑنا
اور تھک ہار کے گر پڑنے کا مصوم خوش بخش خیال
یاد ہے؟
ہم تجھے سکھ جانتے تھے
رات ہنس پڑتی تھی بےساخته درشن سے تیرے
دن تیری دوری سے رو پڑتا تھا
یاد ہے؟
ہم تجھے جاں کہتے تھے
تیری خاموشی سے ہم مرجاتے
تیری آواز سے جی اٹھتے تھے
تجھ کو چھو لینے سے اک زندگی
آ جاتی تھی شریانوں میں
تھام لینے سے کوئی شہر سا بس جاتا تھا ويرانوں میں
یاد ہے؟
ہم تجھے ملنے کے لیے وقت سے پہلے پہنچ جاتے تھے
اور ملاقات کے بعد ہم بہت دیر سے گھر آتے
تو کہتے کہ ہمیں کچھ نہ کہو ہم بہت دور سے گھر آئے ہیں
اس قدر دور سے آئے ہیں کہ شاید ہی کوئی آ پائے
یاد ہے؟
ہم تجھے بھگوان سمجھتے تھے مگر کفر سے ڈر جاتے تھے
تیرے چھن جانے کا ڈر ٹھیک سے رکھتا تھا مسلمان ہمیں
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
تیرے بھولے ھوئے رستوں پہ
لیے پھرتا ہے ایمان ہمیں
اور کہتا ہے کہ پہچان ہمیں
یاد ہے۔۔۔!
ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے۔۔۔!!
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
فرحت عباس شاہ
Thursday, 29 May 2014
Tum Ne Dekha Hai Mujhe
Tum Ne Murjhaaye Hue Phool Kabhi Dekhe Hain
Dil Ki Qabron Pe Pare......
Hijr Ki Laash Ki Aankhon Pe Dhare
Tum Ne Uktaaye Hue Khuwab Kabhi Dekhe Hain
Dard Ki Palkon Se Lipte Hue
Ghabraaye Hue
Tum Ne Be-Chain Duaaen Kabhi Dekhi Hain
Mohabbat Ke Kinaaron Pe Bhatakti Phirti
Tum Ne Dekha Hai Mujhe
Kiya Kabhi Dekha Hai Mujhe
(Farhat Abbas Shah)
Dil Ki Qabron Pe Pare......
Hijr Ki Laash Ki Aankhon Pe Dhare
Tum Ne Uktaaye Hue Khuwab Kabhi Dekhe Hain
Dard Ki Palkon Se Lipte Hue
Ghabraaye Hue
Tum Ne Be-Chain Duaaen Kabhi Dekhi Hain
Mohabbat Ke Kinaaron Pe Bhatakti Phirti
Tum Ne Dekha Hai Mujhe
Kiya Kabhi Dekha Hai Mujhe
(Farhat Abbas Shah)
Wednesday, 30 January 2013
Dukh boltay hain
Jab seenay ander....
Sanse kay darya dolte hain...
jab mausam sard hawa main...
Aik Gheri chup si gholtey hain....
Jab aansoo........!
Pelkain rolte hain......
Jab sab aawazain.....
Appnay apnay bister per soo jati hain.....
Tab aahista aahista ......
Sanse lay ker aankh kholtey hain........
Aur......!
Dukh boltey hain...........!
Tuesday, 29 January 2013
Mohabbat Chup Nahi Rehti
Woh kehti hai chalo Farhat hawa k sath chaltey hein
Mein khamoshi se us k sath chal deta hon bujhne ko
Woh mujhse puchti hai tum kahan ghaib ho sadion se
Mein kehta hon hazaron waswason k darmian gum hon
Woh mujhse puchti hai raat ki beychainian kia hain
Mein kehta hon jo doorion k dil mein hoti hain
Woh mujhse puchti hai khof ka dorania kia hai
Mein kehta hon jo dil aur gham ka hota hai museebat mein
Woh mujhse puchti hai badlon ki umer kitni hai
Mein kehta hon tamazat k mutabaq panion k waqt jitni hai
Subscribe to:
Posts (Atom)






