affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Urdu Poetry by Farhat Abbas Shah
Showing posts with label Urdu Poetry by Farhat Abbas Shah. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry by Farhat Abbas Shah. Show all posts

Friday, 28 October 2016

Farz kro


فرض کرو

 تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا
کسی دن فرض کرو
کہ تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے
ایک پل، ایک دن یا ایک مہینہ بھی فرض کیا جا سکتا ہے لیکن احتیاطاً
ایک سال ہی سہی
فرض کر لو تو کسی عام آدمی کا بھیس بدل کر
اپنے گھر یا اپنے شہر جاؤ
اور لوگوں میں بیٹھ کر اپنا ذکر کرو
اور دیکھو
کہ تم جو ایک مشہور آدمی تھے اور کافی لوگوں میں مقبول بھی
تمہاری موت کے بعد
لوگ جو تمہیں بمشکل یاد رکھے ہوئے ہیں
تمہارے بارے میں گفتگو کرنے میں ذرا بھی دلچسپی محسوس نہیں کرتے
جو جو شخص
تم سے پیار کرتا تھا اتنا
کہ پل بھر کی جدائی بھی اسے عذاب لگتی تھی
اور اس وقت تک کھڑا رہتا تھا
جب تک تم اپنی نشست پر بیٹھ نہیں جاتے تھے
اور کبھی تمہاری آواز سے
اپنی آواز بلند نہیں ہونے دیتا تھا
اب اس کے پاس اتنا وقت نہیں
کہ کہیں بیٹھ کے چند گھڑیاں تمہارے ساتھ بیتے ہوئے لمحات یاد کر سکے
پھر وہاں سے آگے چلو
اور کسی ایسے آدمی کو تلاش کرو
جو تمہاری شاعری پہ دل و جان سے فدا ہو
اور تمہارا اتنا معتقد ہو
کہ ہمہ وقت ہاتھوں میں تمہاری کتابیں اٹھائے
اور ہونٹوں پر تمہارے شعر سجائے پھرتا ہو
لوگوں کو
دن رات تمہاری نظمیں سناتا تھکتا نہ ہو
تم اس سے ملو
اور اس سے گزارش کرو
کہ وہ تمہیں تمہاری نظمیں سنائے
اور تمہارے بارے میں اپنے خیالات اور اپنی معلومات کا اظہار کرے
وہ تمہاری بات سنتے ہی تمہیں اپنے پاس بڑے احترام سے بٹھا لے گا
اور بڑی خوشی اور گہری دلچسپی سے تمہیں تمہاری ساری شاعری سنا ڈالے گا
اور کہے گا
"فرحت شاہ ایک عظیم شاعر تھا
اس کی شاعری پڑھ کے ہوں لگتا ہے
جیسے اس نے لوگوں کے دلوں اور روحوں کے اندر اتر کے شاعری کی ہو
مجھے تو اس کی شاعری سے عشق ہے
یوں لگتا ہے جیسے اس نے سارا کچھ خود میرے متعلق ہی لکھ ڈالا ہے
میرے دل کا عالم اور حالات زندگی
بالکل ایسے ہی ہیں جیسے اس نے لکھا ہے
اس کی ایک ایک سطر پڑھتے ہوئے
مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ بات تو میں خود کہنا چاہتا ہوں"
وہ شخص تمہیں بتاتا جائے گا ایسی ہزاروں باتیں
جن میں تمہارا کم اور اس کا اپنا حوالہ زیادہ ہو گا
ہاں صرف ایک سال بعد
تم جس کسی سے بھی ملو گے
جس سے بھی اپنے بارے پوچھو گے
صورت حال مختلف نہیں ہو گی
گویا تمام باتیں کسی زندہ آدمی کے لیے جاننا تقریباً ناممکن ہے
لیکن پھر بھی
کسی دن تم فرض تو کرو
کہ تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے
اے میرے گمنام اور اجنبی فرحت شاہ

فرحت عباس شاہ

Saturday, 11 June 2016

اے نیل گگن

مت بول پیا کے لہجے میں (مکمل نظم)
-
اے شام
مجھے برباد نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے شام
عجیب سی ویرانی
مرے سینے میں آباد نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے شام
کئی سو صدیوں کے
قیدی بیچارے اشکوں کو
مری آنکھوں سے آزاد نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مت بول پیا کے لہجے میں

اے وقت
تو ایسا کام نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
اے وقت
پرائی دنیا میں
مرے ہر سُو ہجر کی شام نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں

اے وقت
زمانہ ظالم ہے
تو بیچ ہر اک چوراہے کے
مرے پیا کو یوں بدنام نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مت بول پیا کے لہجے میں
اے رات نگر ویران نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں

اے رات
سکوت ہے پہلے ہی
اس دل۔۔۔ زخموں کے دریا میں
اب اور اسے سنسان نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں

اے رات
میں دکھ کا مارا ہوں
کوئی وصل وصال بشارت دے
یہ ہجر مرا ایمان نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
کوئی نور کرن
کوئی دیپ جلا
مجھے پیا کی اپنی رس کی بھری
میٹھی دلدار آواز سنا
مرا یوں تاریک جہان نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مت بول پیا کے لہجے میں

اے بادِ صبا
خاموش گزر جا باغوں سے
مت بول پیا کے لہجے میں
ہمیں خوف آتا ہے داغوں سے

اے نیل گگن
تری وسعت وصف سہی تیرا
میں پنچھی، بادل، سیّارہ، پورن ماشی
میں بچھڑے یار کا متلاشی
اے نیل گگن
ترے قریہ قریہ اڑنا مرا دیوانہ پن
مت بول پیا کے لہجے میں
اے کہکشاں
تری چمک دمک
مرے پیا کی لانبی پلکوں کی بس ایک جھلک
بس ایک جھلک مرے پیا کے نوری ماتھے کی
مرے دل کو کچھ کچھ ہو جاتا ہے فوراً ہی
مجھے تری صدا ہی کافی ہے
مت بول پیا کے لہجے میں
بے چین ہوا
مت چھُو مجھ کو
مرے زخم نہ کھلنے لگ جائیں
میں جن باتوں کو بھول چکا
اور چھوڑ چکا ہوں مدت سے
آآ کے نہ ملنے لگ جائیں
بے چین ہوا
مت بول پیا کے لہجے میں
مرے کان نہ جلنے لگ جائیں
مرے ہونٹ نہ سلنے لگ جائیں

بے چین ہوا
مت دیکھ مجھے
مت دیکھ مجھے کسی نابینا کی نظروں سے
مرے ہونے پر یوں ظلم نہ ڈھا
بے چین ہوا

بے چین ہوا
اُسے یاد نہ کر
اُسے دھیرے دھیرے یاد نہ کر
وہ یاد آیا
تو آنکھیں اپنی آئی پر آجائیں گی
پھر دریا کے دھاروں کی طرح
جانے کب تک نیر بہائیں گی
بے چین ہوا
نیندیں نہ اُڑا
مرے جیون جوگ کو جوگ سمجھ
بے چین ہوا مرا سوگ منا
مرے دل کے روگ کو روگ سمجھ
میں پہلے ہی بے کل ہوں بہت
پانی سے بھرا بادل ہوں بہت
اور رونے میں جل تھل ہوں بہت
بے چین ہوا
بے چین ہوا
مرے پاس نہ آ
مرا دل نہ جلا
مت بول پیا کے لہجے میں

بے چین ہوا
مت چھیڑ مجھے
مرے ساتھ عجیب فریب نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
میں شہر میں جتنا تنہا ہوں
اتنا ہی رہنے دے مجھ کو
مری غم کے سفر سے جان چھڑا
یہ سفر مری پازیب نہ کر
بے چین ہوا
مجھے چھینٹے مار نہ بارش کے
مجھے اتنا رمز شناس نہ کر
میں ہوں تو مجھ ہی کو رہنے دے
مری آس امید اُداس نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں

اے رُت مستانی
ظلم نہ کر
مت بول پیا کے لہجے میں
مری روح کا سارا بنجر پن
مری ویرانی
کہاں انجانی ہے پیا کی ہجر کہانی سے
میں کس کے دوارے جا بیٹھوں
میں کس سے پوچھوں اس کا پتہ
اے رُت مستانی
پیا بنا ہے ساری دنیا بیگانی
مت بول پیا کے لہجے میں
مرے جذبوں کو مہمیز نہ کر
احساس کو اور بھی تیز نہ کر
مرے غم کی فصلوں کے کارن
دِل کی مٹی زرخیز نہ کر
مرے پاس نشانی یہی تو ہے
آواز اُداس ہواؤں کی
مری لُوں لُوں نے ہے پہچانی
مت بول پیا کے لہجے میں
-
فرحت عباس شاہ

Thursday, 26 May 2016

Tera Hiojar Bara Badzaat.



ترا ہجر بڑا بدذات


مرے پیڑ گئے سب جل
مرے سوکھ گئے سب پھل
مرے سپنے ہو گئے شل
کوئی بھیج دکھوں کا حل
مرے اجڑ گئے سب شہر
مری رگ رگ اندر زہر
مرے دل کے اندر تھل
مری آنکھوں میں برسات
ترا ہجر بڑا بدذات
میں پھرا بہت گھر گھر
کوئی کھلا ملا نہ در
ابھی اڑتا اور مگر
مرے زخمی ہو گئے پر
مرے کالے ہوئے نصیب
مرے حصے آئی صلیب
مرے دل سے جائے نہ ڈر
مرے سر سے کٹے نہ رات
ترا ہجر بڑا بدذات
جب بدل گئے حالات
لگی قدم قدم پر گھات
ہر سمت بکھر گئے پات
ہم مَلتے رہ گئے ہاتھ
تری چاہ میں چھوڑا جھنگ
تری خاطر ہوئے ملنگ
تری خاطر بدلی ذات
کیا سورج کو بھی رات
ترا ہجر بڑا بدذات سجن
ترا ہجر بڑا بدذات

Wednesday, 25 May 2016

بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے

بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے

غموں نے چاٹ لیا، غمگسار اب آئے


یہ وقت اس طرح رونے کا تو نہیں، لیکن

میں کیا کروں، کہ مرے سوگوار، اب آئے


وہ دھوپ دھوپ میں ہی ہو گیا بسر، چپ چاپ

شجر شجر پہ مرے _______ برگ و بار اب آئے


وہ جن پہ دھوکہ سا جھیلا تھا، ہم نے منزل کا

وہ قافلے تو __________ سرِ راہ گزار، اب آئے


نہ ڈالیوں پہ کوئی پھول ہے، نہ ہونٹوں پر

مزہ تو جب ہے کہ ______ بادِ بہار، اب آئے


فرحت عباس شاہ

Friday, 13 May 2016

اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا

 

 

 اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا

 

اس کی آواز کا منتظر تھا نگر ، چاند خاموش تھا

 

کون تھا جس کی آہوں کے غم میں ہوا سرد تھی شہر کی

 
کس کی ویران آنکھوں کا لے کے اثر، چاند خاموش تھا

 
وہ جو سہتا رہا رت جگوں کی سزا چاند کی چاہ میں

 
مرگیا تو نوحہ کناں تھے شجر، چاند خاموش تھا

 
اس سے مل کے میں یوں خامشی اور آواز میں قید تھا

 
اک صدا تو مرے ساتھ تھی ہم سفر ، چاند خاموش تھا

 
کل کہیں پھر خدا کی زمیں پر کوئی سانحہ ہوگیا

 
میں نے کل رات جب بھی اٹھائی نظر ، چاند خاموش تھا

Wednesday, 11 May 2016

لبوں پہ گیت تو آنکھوں میں خواب رکھتے تھے


لبوں پہ گیت تو آنکھوں میں خواب رکھتے تھے

کبھی کتابوں میں ہم بھی گلاب رکھتے تھے


کبھی کسی کا جو ہوتا تھا انتظار ہمیں

بڑا ہی شام وسحر کا حساب رکھتے تھے


فرحت عباس شاہ

Saturday, 16 April 2016

پھر تِرے ہجر میں بہے آنسو

پھر تِرے ہجر میں بہے آنسو
ہائے میرے رہے سہے آنسو


آنکھ میں بھی کبھی نہیں آئے
دل سے جاتے کہاں رہے آنسو


آنکھ اپنی جگہ رہی دکھ میں
دل نے اپنی جگہ سہے آنسو


لاکھ روکوں مگر نہیں رکتے
ہو بہو آپ پر گئے آنسو


اُس نے جب مجھ کو کہہ دیا صحرا
پھر تو ایسے مِرے بہے آنسو


ہم تو چُپ ہو گئے مگر فرحت
دیر تک بولتے رہے آنسو


فرحت عباس شاہ

Wednesday, 13 April 2016

تم جانا چاہتے ہو تو جاؤ

 
تم جانا چاہتے ہو تو جاؤ
آسمانوں پر تو آؤ گے ہی نا
اماوس کی بیمار راتوں کے علاوہ

رات کے ماتھے کا ٹیکہ بن کے
یا آسمان کے کانوں کا بالا پہن کے
میرے گھر کی دیوار پر سے بھی گزرو گے
جنگل میں بھی جا ٹھہرو گے
جھیل میں اترو گے
دل کی شاخوں سے الجھتے پھرو گے
میری بینائیاں تمہیں چھو آئیں گی
پلکیں تمہارے چاروں طرف پھیلے ہوئے نور کو بوسہ دیں گی
میری روح تمہیں اپنی گود میں بھر لے گی
ہوا لوری سنائے گی
تمہیں نیند آجائے گی
اور مجھے قرار آجائے گا
اگرچہ تمہارے بغیر
اور تمہارے بعد
میری زندگی اماوس کی وہ رات بن جاتی ہے
جس میں کوئی شے سانس کو اندر جکڑ لیتی ہے
اور دل کو مسلنا شروع کر دیتی ہے
آنکھوں میں تاریکیاں اتر آئی ہیں
اور روح دھند سے بھر جاتی ہے
لیکن پھر بھی
اگر تم جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ
آسمانوں پر تو آؤ گے ہی نا
-
فرحت عباس شاہ

میں یہاں اور تو وہاں جاناں

میں یہاں اور تو وہاں جاناں
درمیاں سات آسمان جاناں
ہم نہیں ہوں گے اور دنیا کو
تو سنائے گا داستاں جاناں
دیکھنے میں تو کچھ نہیں لیکن
اک زمانہ ہے درمیاں جاناں
رو رہے پرند شاخوں پر
جل گیا ہو گا آشیاں جاناں
اور اک محبت میرا اثاثہ ہے
اور اک ہجر بہ کراں جاناں
یہ تو سوچا نہ تھا کبھی آنسو
ایسے جائیں گے رائیگاں جاناں
میں تیرے بارے میں کچھ غلط کہہ دوں
کٹ نہ جائے میری زباں جاناں

فرحت عباس شاہ

Sunday, 1 November 2015

آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ



آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

عمر گزری تجھے دیکھے ہوئے بہلائے ہوئے
یاد ہے؟
ہم تجھے دل مانتے تھے
اپنے سینے میں مچلتا ہوا ضدی بچہ
تیرے ہر ناز کو انگلی سے پکڑ کر اکثر
نت نئے خواب کے بازار میں لے آتے تھے
تیرے ہر نخرے کی فرمائش پر
ایک جیون کہ تمناؤں کی بینائی سے
ھم دیکھتے تھکتے ہی نہ تھے
سوچتے تھے ایک چھوٹا سا نيا گھر
نيا ماحول محبت کی فضا
ھم دونوں
اور کسی بات پر تکیوں سے لڑائی اپنی
پھر لڑائی میں کبھی ہنستے ہوئے رو پڑنا
اور کبھی روتے روتے ہنس پڑنا
اور تھک ہار کے گر پڑنے کا مصوم خوش بخش خیال
یاد ہے؟
ہم تجھے سکھ جانتے تھے
رات ہنس پڑتی تھی بےساخته درشن سے تیرے
دن تیری دوری سے رو پڑتا تھا
یاد ہے؟
ہم تجھے جاں کہتے تھے
تیری خاموشی سے ہم مرجاتے
تیری آواز سے جی اٹھتے تھے
تجھ کو چھو لینے سے اک زندگی
آ جاتی تھی شریانوں میں
تھام لینے سے کوئی شہر سا بس جاتا تھا ويرانوں میں
یاد ہے؟
ہم تجھے ملنے کے لیے وقت سے پہلے پہنچ جاتے تھے
اور ملاقات کے بعد ہم بہت دیر سے گھر آتے
تو کہتے کہ ہمیں کچھ نہ کہو ہم بہت دور سے گھر آئے ہیں
اس قدر دور سے آئے ہیں کہ شاید ہی کوئی آ پائے
یاد ہے؟
ہم تجھے بھگوان سمجھتے تھے مگر کفر سے ڈر جاتے تھے
تیرے چھن جانے کا ڈر ٹھیک سے رکھتا تھا مسلمان ہمیں
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
تیرے بھولے ھوئے رستوں پہ
لیے پھرتا ہے ایمان ہمیں
اور کہتا ہے کہ پہچان ہمیں
یاد ہے۔۔۔!
ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے۔۔۔!!
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
فرحت عباس شاہ

Thursday, 29 May 2014

Tum Ne Dekha Hai Mujhe

Tum Ne Murjhaaye Hue Phool Kabhi Dekhe Hain

Dil Ki Qabron Pe Pare......

Hijr Ki Laash Ki Aankhon Pe Dhare

Tum Ne Uktaaye Hue Khuwab Kabhi Dekhe Hain

Dard Ki Palkon Se Lipte Hue

Ghabraaye Hue

Tum Ne Be-Chain Duaaen Kabhi Dekhi Hain

Mohabbat Ke Kinaaron Pe Bhatakti Phirti

Tum Ne Dekha Hai Mujhe

Kiya Kabhi Dekha Hai Mujhe

(Farhat Abbas Shah)

Wednesday, 30 January 2013

Dukh boltay hain

Dukh boltay hain

Jab seenay ander....
Sanse kay darya dolte hain...
jab mausam sard hawa main...
Aik Gheri chup si gholtey hain....
Jab aansoo........!
Pelkain rolte hain......
Jab sab aawazain.....
Appnay apnay bister per soo jati hain.....
Tab aahista aahista ......
Sanse lay ker aankh kholtey hain........
Aur......!
Dukh boltey hain...........!

Tuesday, 29 January 2013

Mohabbat Chup Nahi Rehti

Mohabbat Chup Nahi Rehti

Mohabbat Chup Nahi Rehti 

Woh kehti hai chalo Farhat hawa k sath chaltey hein 
  Mein khamoshi se us k sath chal deta hon bujhne ko

 Woh mujhse puchti hai tum kahan  ghaib ho sadion se
 Mein kehta hon hazaron waswason k darmian gum hon

Woh mujhse puchti hai raat ki beychainian kia hain
Mein kehta hon jo doorion k dil mein hoti hain 

Woh mujhse puchti hai khof ka dorania kia hai 
Mein kehta hon jo dil aur gham ka hota hai museebat mein

Woh mujhse puchti hai badlon ki umer kitni hai 
Mein kehta hon tamazat k mutabaq panion k waqt jitni hai

Dard gar aadmi hota

Dard gar aadmi hota

Dard gar aadmi hota
To gareban pakar kar kehte
Iss tarha rehtey hain
Be-chain dilon k andar
Iss tarha karte hain Bemaron se
Dil main rehna hy to
Theek se rehna sekho
Hum tumhein sehtey hain
Kuch tum b to sehna sekho
Aik thori si khushi aaiy to Jal jate ho
Dard Gar Aadmi Hota…….