You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Showing posts with label Pakistani Urdu Poetry. Show all posts
Showing posts with label Pakistani Urdu Poetry. Show all posts
Monday, 30 May 2016
Thursday, 24 March 2016
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا
یوسف مصر تمنا تیرے جلووں کے نثار
میری بیداریوں کو خواب زلیخا نہ بنا
تیری صورت سے نہیں ملتی کسی کی صورت
ہم جہاں میں تصویر لئے پھرتے ہیں تیری
ذوق بربادی دل کو بھی نہ کر تو برباد
دل کی اجڑی ہوئی بگڑی ہوئی دنیا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
تو ملا بھی ہے تو جدا بے ہے تیرا کیا کہنا
تو صنم بے ہے تو خدا بھی ہے تیرا کیا کہنا
یہ تمنا ہے کے آزاد تمنا ہی رہوں
دل مایوس کو مانوس تمنا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
جو بہار ائی مرے گلشن جاں سے ائی
خاک کے ڈھیر میں یہ بات کہاں سے ائی
نگاہ ناز سے پوچھے یہ کسی دن یہ زہیں
تو نے کیا کیا نہ بنایا کوئی کیا کیا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
Saturday, 19 December 2015
ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﻮ.....
ﺗﻢ ﺑﮯ ﺛﻤﺮ ﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﻮ ﺍﻣﯿﺪ
ﺗﻢ ﺭﮨﮕﺬﺍﺭ ﺷﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﮧ ﺟﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺁﺭﺯﻭ ﮨﻮ ﺍﮨﻞ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﯽ ﮨﻮ ﺧﻠﺶ
ﺗﻢ ﺭﺗﺠﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﻟﻤﺤﮧ ﺳﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮨﻮ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ
ﺗﻢ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﯿﻂ ﺣﻮﺍﺱ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺍﮎ ﮐﺮﻥ ﮨﻮ ﻧﻮﺭ ﺍﺯﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ
ﺗﻢ ﺗﺎﺯﮔﯽ ﮨﻮ ﺷﺒﻨﻤﯽ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺱ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﮯ ﻣﻮﺗﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻟﻤﺲ
ﺗﻢ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﺸﺎﻥ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺸﻢ ﻧﻢ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﮩﮑﺸﺎﮞ
ﺗﻢ ﺣﺴﻦ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﻮ, ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﻮ
Monday, 26 October 2015
اے مَحبّت
اے مَحبّت
تُو جنوں خیز اثر سے اپنے
میری ہستی کے بکھرتے ہوئے شِیرازے کو
مسخ ہونے سے بچانے کے لئے پاس نہ آ
تیرے ہم راہ کئی رنگ تو کچھ سنگ بھی ہیں
جن کی بارش سے لرزتے ہیں شکستہ آنگن
بے سکونی کا پتا دیتی ہے تیری قربت
اے مَحبّت !
یہ جنوں خیز اثر کی وَحشت
میری رگ رگ میں اتر آئی ہے
آنکھ چوکھٹ پہ جما بیٹھا ہے لمحہ کوئی
اور اس لمحے کی تعبیر میں رسوائی ہے
اے مَحبّت ! میں ترے درد کی وسعت لے کر
تیرے اَسرار کی چوکھٹ پہ چلی آئی ہوں
دل کی دہلیز پہ قبضہ ہے اسی لمحے کا
میں ترے دردسے رخصت کی تمنّائی ہوں
Monday, 28 September 2015
Khayal
Khayal
Jo Guzron Kabhi Mein Tumhary Khayalon Mein
Tum Mera Hath Tham Lena
Meri Ankhon Mein Apna Chehra Dhondh Lena
Khamoshi Se, Apny Seeny Se Lga Lena
Meri Dharkan Mein Apna Naam Sun Lena
Qareeb Apny Betha Kr
Mera Hal Poch Lena
Apna Haal Suna Dena
Kuch Qadam Mery Sath Chal Lena
Thofay Mein IkMuskan Dey Dena
Rok Lena Es Pal Ko
Ik Lamha Mery Naam Kr Dena
Friday, 4 September 2015
یہ شیشے یہ سپنے یہ رشتے یہ دھاگے
یہ شیشے یہ سپنے یہ رشتے یہ دھاگے
یہ شیشے یہ سپنے یہ رشتے یہ دھاگے
کسے کیا خبر ہے کہاں ٹوٹ جائیں
محبت کے دریا میں تنکے وفا کے
نہ جانے یہ کس موڑ پر ڈوب جائیں
عجب دل کی بستی عجب دل کی وادی
ہر اک موڑ موسم نئی خواہشوں کا
لگائے ہیں ہم نے بھی سپنوں کے پودے
مگر کیا بھروسہ یہاں بارشوں کا
مرادوں کی منزل کے سپنوں میں کھوئے
محبت کی راہوں پہ ہم چل پڑے تھے
ذرا دور چل کے جب آنکھیں کھلیں تو
کڑی دھوپ میں ہم اکیلے کھڑے تھے
جنہیں دل سے چاہا جنہیں دل سے پوجا
نظر آرہے ہیں وہی اجنبی سے
روایت ہے شاید یہ صدیوں پرانی
شکایت نہیں ہے کوئی زندگی سے
یہ شیشے یہ سپنے یہ رشتے یہ دھاگے
کسے کیا خبر ہے کہاں ٹوٹ جائیں
محبت کے دریا میں تنکے وفا کے
نہ جانے یہ کس موڑ پر ڈوب جائیں
عجب دل کی بستی عجب دل کی وادی
ہر اک موڑ موسم نئی خواہشوں کا
لگائے ہیں ہم نے بھی سپنوں کے پودے
مگر کیا بھروسہ یہاں بارشوں کا
مرادوں کی منزل کے سپنوں میں کھوئے
محبت کی راہوں پہ ہم چل پڑے تھے
ذرا دور چل کے جب آنکھیں کھلیں تو
کڑی دھوپ میں ہم اکیلے کھڑے تھے
جنہیں دل سے چاہا جنہیں دل سے پوجا
نظر آرہے ہیں وہی اجنبی سے
روایت ہے شاید یہ صدیوں پرانی
شکایت نہیں ہے کوئی زندگی سے
Monday, 31 August 2015
Itne bejaan saharay to nahi hotay.........
ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﺳﮩﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﺎﮞ
ﺩﺭﺩ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﺎﮞ
ﺭﻧﺠﺸﯿﮟ ﮨﺠﺮ ﮐﺎ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﮔﮭﭩﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﺭﻭﭨﮫ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺍﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﺎﮞ
ﺭﺍﺱ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻋﺮﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﺎﮞ
ﮨﻮﻧﭧ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﺎﺕ ﭼﮭﭙﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ
ﺑﻨﺪ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﺎﮞ
ﮨﺠﺮ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﺏ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﺎﮞ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺘﺎﻉ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﮞ
ﺩﻝ ﻣﯿﮟﺍﺏ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﻧﺎﮞ
Bahot se log kehty hain....
بہت سے لوگ کہتے ہیں
کہ عورت کو سمجھنا ناممکن ہے
عورت اِک پہیلی ہے
جو اکثر حَل نہیں ہوتی
سُنو
تُم نے کبھی ساحل پہ بِکھری ریت دیکھی ہے؟
سمندر ساتھ بہتا ہے مگر
اِسکے مُقدّر میں ہمیشہ پیاس رہتی ہے
سُنو
تُم نے کبھی صحرا میں جلتے پیڑ دیکھے ہیں؟
سبھی کو چھاوٴں دیتے ہیں مگر
اِنکو صِلے میں دُھوپ مِلتی ہے
سُنو
تُم نے کبھی شاخوں سے بِچھڑتے پھول دیکھے ہیں؟
وه خُوشبو بانٹ دیتے ہیں بِکھر جانے تَلک لیکن
ہوا کا ساتھ دیتے ہیں
سُنو
تُم نے کبھی میلے میں بجتے ڈھول دیکھیں ہیں؟
عَجب ہے المیہ اِنکا بہت ہی شور کرتے ہیں
مگر .. اندر سے خالی ہیں
یہی عورت کا قِصّہ ہے
یہی اِسکا فسانہ ہے
بَس اِتنی سی پہیلی ہے
Sunday, 23 August 2015
Saaf Saaf Q Nahi Kehtay Ke Tum Ko Ishq Hai.
Thursday, 16 July 2015
Tery kehnay par lagai hai mehndi main ne part 2
FuLL GhaZaL PaRt 2
Tery kehne py Hathon Py Lagai Hai Mehndi,
Agar to Eid Py Na Aya To Qayamat HoGi,
Yahi Surkh Hath0n K Lahoo Ban K Barsay Gi,
Dekna Phr Shehr Me Ek Shamat HoGi,
Har Kisi Ko Apn0n Ka HoGa Intzar,
Phr Dekhna Qayamat Me Ek Or Qayamat HoGi,
Na Aao Gaye Ab To Phr Kbi Na Pao Gaye,
Kafan Me Lipty Meri Be-Jaan Jisamat HoGi,
Ye Eid To Jaisy B Gzray Gi Teri,
Phr Har Eid Py Tujy Ek He Nadamat HoGi,
Dil T0or K Mera Kahan Khush Raho Gaye ap,
K0i Eid Na Phr apki Salamat HoGi,
Kitny Tarsay Nain Teri Deed Ko Ye Mat P0uch,
Shayid Kisi Ki Aankh0n Me Aisy Qayamat HoGi,
Bas Tery kehne py Hath0n Py Lagai hai mendi..ii..
Tery kehnay par lagai hai mehndi main ne
MuJhe ZiNdaGi MeIn tuMaHaRi ZaRoRaT Ho Gi
Ye ChaNd LaMho Ki NaHi Umer Ki RaFaQaT Ho Gi
TeRe KhEnE PaR LaGai Hai Ye MehnDi MeIn Ne
Too AgAr EiD PaR Na AaYa To QaYaMaT Ho Gi
SuNo TuM MeRe DiL Se HaRgIz MaT KhelNa WarnA
PhIr KiSi Ko kiSi Se Na KaBhi MoHabbAt Ho Gi
MeIn TeRi YaAdOn Se Jan TaK WaZOO Na KaR LoOn
MuKaMaL Na KaBhi MeRi Bhi IbaDaT Ho Gi
Too Ne Is EiD Par Bhi GaR ApNa WaDa Na kYa pUrA
tuJhe ApNe WaDon PaR BaHoT NadaMat Ho Gi
Wednesday, 13 May 2015
Tuesday, 19 August 2014
Tery pas jitne jawab thay teri ik nigah mein aa gaey تیرے پاس جتنے جواب تھے تیری اک نگاہ میں آ گئے
جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے
وہی جلتے بجھتے چراغ سے میرے بام و در کو سجا گئے
وہی جلتے بجھتے چراغ سے میرے بام و در کو سجا گئے
یہ عجیب کھیل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہ
وہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زبان پر آگئے
وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی تھی داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے
وہ چراغ ِجاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ہوئی
تیری بیوفائی کے وسوسے اسے چپکے چپکے بجھا گئے
وہ تھا چاند شام ِوصال کا کہ تھا روپ تیرے جمال کا
میری روح سے میری آنکھ تک کسی روشنی میں نہا گئے
یہ جو بندگان ِنیاز ہے یہ تمام ہیں وہ لشکری
جنہیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گئے
تیری بے رخی کے دیار میں میں ہوا کے ساتھ ہَوا ہوا
تیرے آئینے کی تلاش میں میرے خواب چہرہ گنوا گئے
تیرے وسوسوں کے فشار میں تیرا شرار ِرنگ اجڑ گیا
میری خواہشوں کے غبار میں میرے ماہ و سال ِوفا گئے
وہ عجیب پھول سے لفظ تھے تیرے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
میرے دشتِ خواب میں دور تک کوئی باغ جیسے لگا گئے
میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھے
تیرے پاس جتنے جواب تھے تیری اک نگاہ میں آ گئے
Ek yaad baki hai ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺩ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ
ﺟﮭﯿﻞ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ
ﺑﮯ ﺩﻟﯽ ﮐﯽ ﺩﻟﺪﻝ ﭘﺮ
ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺳﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﮨﯿﮟ
ﺩﺭﺩ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺩ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ
ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺧﺰﺍﮞ ﺭﺕ ﮨﮯ
ﮔﺮﺩ ﺍﮌﺍﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺍﮎ ﮔﻼﺏ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ
ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺩ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ
ﺑﮯ ﺩﻟﯽ ﮐﯽ ﺩﻟﺪﻝ ﭘﺮ
ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺳﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﮨﯿﮟ
ﺩﺭﺩ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺩ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ
ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺧﺰﺍﮞ ﺭﺕ ﮨﮯ
ﮔﺮﺩ ﺍﮌﺍﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺍﮎ ﮔﻼﺏ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ
ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺩ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ
کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ، کچھ نہ کہو، خاموش رہو
کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ، کچھ نہ کہو، خاموش رہو
اے لوگو خاموش رہو, ہاں اے لوگو، خاموش رہو
سچ اچھا، پر اس کے جلو میں، زہر کا ہے اک پیالا بھی
پاگل ہو؟ کیوں ناحق کو سقراط بنو، خاموش رہو
حق اچھا، پر اس کے لئے کوئی اور مرے تو اور اچھا
تم بھی کوئی منصور ہو جو سُولی پہ چڑھو؟ خاموش رہو
اُن کا یہ کہنا سورج ہی دھرتی کے پھیرے کرتا ہے
سر آنکھوں پر، سورج ہی کو گھومنے دو، خاموش رہو
مجلس میں کچھ حبس ہے اور زنجیر کا آہن چبھتا ہے
پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، خاموش رہو
گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں ، من میں کیا کیا موسم ہیں
اس بگھیا کے بھید نہ کھولو، سیر کرو، خاموش رہو
آنکھیں موند کنارے بیٹھو، من کے رکھو بند کواڑ
انشا جی لو دھاگہ لو اور لب سی لو، خاموش رہو
اے لوگو خاموش رہو, ہاں اے لوگو، خاموش رہو
سچ اچھا، پر اس کے جلو میں، زہر کا ہے اک پیالا بھی
پاگل ہو؟ کیوں ناحق کو سقراط بنو، خاموش رہو
حق اچھا، پر اس کے لئے کوئی اور مرے تو اور اچھا
تم بھی کوئی منصور ہو جو سُولی پہ چڑھو؟ خاموش رہو
اُن کا یہ کہنا سورج ہی دھرتی کے پھیرے کرتا ہے
سر آنکھوں پر، سورج ہی کو گھومنے دو، خاموش رہو
مجلس میں کچھ حبس ہے اور زنجیر کا آہن چبھتا ہے
پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، خاموش رہو
گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں ، من میں کیا کیا موسم ہیں
اس بگھیا کے بھید نہ کھولو، سیر کرو، خاموش رہو
آنکھیں موند کنارے بیٹھو، من کے رکھو بند کواڑ
انشا جی لو دھاگہ لو اور لب سی لو، خاموش رہو
Wohi hua na ... ﻭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﻧﺎ
! ﻭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﻧﺎ
ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻋﮩﺪ ﺍﻟﻔﺖ , ﺳﻤﺠﮫ ﮐﮯ ﺑﺎﻧﺪﮬﻮ
ﻧﺒﮭﺎ ﺳﮑﻮ ﮔﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻤﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﺯﺗﻮﮞ ﺳﮯ
ﺑﭽﺎ ﺳﮑﻮ ﮔﮯ
ﺑﮩﺖ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﺻﺒﺎﺣﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﻞ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﮔﺮﺍ ﮐﮯ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ
ﺑﺪﻟﺘﯽ ﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ
ﺑﮩﺖ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﺑﮩﻞ ﮔﺌﮯ ﻧﺎ
ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ
ﺳﻨﺒﮭﻞ ﮔﺌﮯ ﻧﺎ
ﻭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﻧﺎ
ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ ﻧﺎ
ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻋﮩﺪ ﺍﻟﻔﺖ , ﺳﻤﺠﮫ ﮐﮯ ﺑﺎﻧﺪﮬﻮ
ﻧﺒﮭﺎ ﺳﮑﻮ ﮔﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻤﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﺯﺗﻮﮞ ﺳﮯ
ﺑﭽﺎ ﺳﮑﻮ ﮔﮯ
ﺑﮩﺖ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﺻﺒﺎﺣﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﻞ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﮔﺮﺍ ﮐﮯ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ
ﺑﺪﻟﺘﯽ ﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ
ﺑﮩﺖ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﺑﮩﻞ ﮔﺌﮯ ﻧﺎ
ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ
ﺳﻨﺒﮭﻞ ﮔﺌﮯ ﻧﺎ
ﻭﮨﯽ ﮨﻮﺍ ﻧﺎ
ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ ﻧﺎ
Monday, 11 August 2014
Woh agar ab bhi koi ehad nibhana chahay وہ اگر اب بھی کوئی عہد نبھانا چاہے
وہ اگر اب بھی کوئی عہد نبھانا چاہے
دل کا دروازاہ کھُلا ہے جو وہ آنا چاہے
عین ممکن ہے اسے مجھ سے محبت ہی نہ ہو
دل بہر طور اسے اپنا بنانا چاہے
دن گزر جاتے ہیں قربت کے نئے رنگوں سے
رات پر رات ہے وہ خواب پرانا چاہے
اک نظر دیکھ مجھے !! میری عبادت کو دیکھ
بھول پائے گا اگر مجھ کو بھلانا چاہے؟
وہ خدا ہے تو بھلا اس سے شکایت کیسی؟
مقتدر ہے وہ ستم مجھ پہ جو ڈھانا چاہے
خون امڈ آیا عبارت میں، ورق چیخ اٹھے
میں نے وحشت میں ترے خط جو جلانا چاہے
نوچ ڈالوں گی اسے اب کے یہی سوچا ہے
گر مری آنکھ کوئی خواب سجانا چاہے
دل کا دروازاہ کھُلا ہے جو وہ آنا چاہے
عین ممکن ہے اسے مجھ سے محبت ہی نہ ہو
دل بہر طور اسے اپنا بنانا چاہے
دن گزر جاتے ہیں قربت کے نئے رنگوں سے
رات پر رات ہے وہ خواب پرانا چاہے
اک نظر دیکھ مجھے !! میری عبادت کو دیکھ
بھول پائے گا اگر مجھ کو بھلانا چاہے؟
وہ خدا ہے تو بھلا اس سے شکایت کیسی؟
مقتدر ہے وہ ستم مجھ پہ جو ڈھانا چاہے
خون امڈ آیا عبارت میں، ورق چیخ اٹھے
میں نے وحشت میں ترے خط جو جلانا چاہے
نوچ ڈالوں گی اسے اب کے یہی سوچا ہے
گر مری آنکھ کوئی خواب سجانا چاہے
Tumhen khabar ho gi ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﮨﻮﮔﯽ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﮨﻮﮔﯽ
ﮐﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺱ ﺑﮩﺘﮯ ﮨﻮﮞ
ﺗﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺟﮍﯼ
ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ
ﺭﻭﮒ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﺎ
ﮐﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﻣﯿﮟ
ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﮐﮭﮍ ﮐﺮ
ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺩﯾﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ
ﮐﺘﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ
ﮐﻨﺎﺭﺍ....... ﭘﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ
ﯾﮩﺎﮞ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﮭﮍ ﺟﺎﮰ
ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ..... ﭘﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ
ﮐﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺱ ﺑﮩﺘﮯ ﮨﻮﮞ
ﺗﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺟﮍﯼ
ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ
ﺭﻭﮒ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﺎ
ﮐﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﻣﯿﮟ
ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﮐﮭﮍ ﮐﺮ
ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺩﯾﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ
ﮐﺘﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ
ﮐﻨﺎﺭﺍ....... ﭘﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ
ﯾﮩﺎﮞ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﮭﮍ ﺟﺎﮰ
ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ..... ﭘﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ
Agarchay khoobsoorat hain teri yaaden اگر چہ خوبصورت ہیں تیری یادیں
اگر چہ خوبصورت ہیں تیری یادیں
مگر جاناں بہت تکلیف دیتی ہیں
سنو تم اپنی یادوں سے
ذرا یہ کیوں نہیں کہتے
کسی کی روح کا
آزار بن کے یوں
کسی الفت بھرے دل کو
جلایا تو نہیں کرتے
جو اجڑے لوگ ہوں ان کو..ستایا تو نہیں کرتے
مگر جاناں بہت تکلیف دیتی ہیں
سنو تم اپنی یادوں سے
ذرا یہ کیوں نہیں کہتے
کسی کی روح کا
آزار بن کے یوں
کسی الفت بھرے دل کو
جلایا تو نہیں کرتے
جو اجڑے لوگ ہوں ان کو..ستایا تو نہیں کرتے
Subscribe to:
Posts (Atom)





