نظم: زندگی دھوپ اور تم گھنا سایہ
شاعرہ: تسلیم شہزادی نازؔ
زندگی
دھوپ تھی، تپتی ہوئی، چلچلاتی ہوئی
جب
بھی قدم بڑھاتی تھی، راستے آنکھیں جلاتے تھے
مگر
تم...؟
گھنے
سایے کی طرح میرے سر پر ٹھہر گئے،
ہوا
میں ٹھنڈک گھول دی،
سانسوں
میں سکون اتار دیا...
زندگی
کی تلخیوں نے جب دل کا کنارہ کاٹا،
تم
نے نرمی سے لمسِ امید رکھا،
یوں
لگا جیسے جلتی پیاس کو
بارش
کی پہلی بوند چھو جائے...
ہاں
زندگی دھوپ تھی،
کبھی
ضدی، کبھی کڑوی، کبھی بےرحم,
اور
تم وہ سایہ ہو
کہ
جس
کے نیچے بیٹھ کر
میں
نے خود ہی دوبارہ جینا سیکھا...
تمہارے
ہونے نے ہی
میرے
دنوں سے گرمی کی سختی چُرا لی،
میری
راتوں کو اطمینان کا لمس دیا،
اور
میں نے جانا
کہ
دھوپ
بھی اچھی لگتی ہے
اگر
ساتھ میں تم جیسا سایہ ہو...
تم
میری پناہ ہو اور تم ہی میرا آرام ہو،
میری
تھکن کا آخری پڑاؤ بھی تمہی ہو،
اور
میں...؟
بس
وہ مسافر نازؔ
کہ
جسے دھوپ نے جلایا
اور
تم نے بچا لیا....!!!!!
No comments:
Post a Comment