affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Saleem Kouser
Showing posts with label Saleem Kouser. Show all posts
Showing posts with label Saleem Kouser. Show all posts

Wednesday, 1 June 2016

چاہا تو بہت کچھ تھا یہاں پر نہیں بدلا​

چاہا تو بہت کچھ تھا یہاں پر نہیں بدلا

تصویر بدلنے سے بھی منظر نہیں بدلا

خوف آتا ہے اُمید ہی رستہ نہ بدل لے

جب اتنی تباہی پہ بھی یہ گھر نہیں بدلا

ممکن ہے کہ منزل کا تعین ہی غلط ہو

اب تک تو مری راہ کا پتھر نہیں بدلا

تاریخ تمھاری بھی گواہی کبھی دیتی

نیزہ ہی بدل جاتا اگر سر نہیں بدلا

پیروں میں زمیں، آسماں سر پر ہے ابھی تک

چادر نہیں بدلی، مرا بستر نہیں بدلا

کیسے ترے کہنے سے بدل جاؤں کہ اب تک

دریاؤں کی خواہش پہ سمندر نہیں بدلا

سلیم کوثر

جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا


جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا
خود کو کبھی خوابوں کے حوالے نہیں کرنا

اِس عمر میں خوش فہمیاں اچھی نہیں ہوتیں
اِس عمر کو وعدوں کے حوالے نہیں کرنا

تم اصل سے بچھڑا ہوا اک خواب ہو شاید
اس خواب کو یادوں کے حوالے نہیں کرنا

اب اپنے ٹھکانے ہی پہ رہتا نہیں کوئی
پیغام پرندوں کے حوالے نہیں کرنا

دنیا بھی تو پاتال سے باہر کا سفر ہے
منزل کبھی رستوں کے حوالے نہیں کرنا 

اب کے جو مسافت ہمیں درپیش ہے اس میں
کچھ بھی تو سرابوں کے حوالے نہیں کرنا

جس آگ سے روشن ہوا احساس کا آنگن
اس آگ کو اشکوں کے حوالے نہیں کرنا

دیکھا نہیں اس فقر نے کیا کر دیا تم کو
اس فقر کو شاہوں کے حوالے نہیں کرنا

اِس معرکۂ عشق میں جو حال ہو میرا
لیکن مجھے لوگوں کے حوالے نہیں کرنا