affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Badal Poetry
Showing posts with label Badal Poetry. Show all posts
Showing posts with label Badal Poetry. Show all posts

Thursday, 31 March 2016

بے وفا تھا تو نہیں وہ، مگر ایسا بھی ہوا

بے وفا تھا تو نہیں وہ، مگر ایسا بھی ہوا
وہ جو اپنا تھا بہت، اور کسی کا بھی ہوا

تیری خوشبو بھی ترے زخم میں ملفوف ملی
تجھ سے گھائل بھی ہوا اور میں اچھا بھی ہوا

راہ دے دی ترے بادل کو گزرنے کے لئے
ورنہ یہ دل تو تری پیاس میں صحرا بھی ہوا
کاشف رضا

Monday, 21 March 2016

"محبت کر کے دیکهتے ہیں"

"

"محبت کر کے دیکهتے ہیں"
محبت پھر سے کر کے د یکھتے ہیں ہم
جہا ں چھو ڑا تھا تم نے
ر خصتی کے سرد مو سم میں
و ہیں چلتے ہیں پھر ا ک بار
ا و ر عہد و فا کو ہا تھ تھا مے یا د کر تے ہیں
چلو پھر سے
محبت کر کے د و نو ں د یکھتے ہیں ہم
تمہیں خو شبو پسند تھی
میں بہا ر و ں کے سبھی پھو لو ں کو
ا پنے سا تھ لا یا ہو ں
تمہیں با ر ش پسند تھی
با د لو ں کے سا تھ بر کھا لے کے آ یا ہو ں
تمہیں تا ر و ں بھر ی ر ا تو ں میں
د ل کا حا ل کہنے میں مزہ آ تا تھا
میں سا ر ے ستا ر ے
آ سما نو ں سے چُرا کے
بس تمہیں سُننے کو آ یا ہو ں
چلو پھر سے محبت کر کے
د و نو ں د یکھتے ہیں ہم
یہ مُمکن ھے کہ تم بھی
گز ر ے موسم کی طرح و ا پس پلٹ آ و
خز ا ں آ تی ہے
لیکن فصل گُل
پت جھڑ کے گھا و آ کے بھر تی ہے
یہی ہے را ز ہستی
ختم ہو تے ہی ا ند ھیر ے کے
نیا د ن
ا ک نر ا لے با نکپن سے پھر نکلتا ہے
تو کیا مُمکن نہیں
ہم مل سکیں دونوں
چلو ا ک با ر کو شش کر د یکھں ہم
محبت کر کے د یکھں
انور زاہدی

Monday, 26 October 2015

سب کچھ نام تمھارے


آج یہ سب کچھ نام تمھارے
ساحل
ریت
سمندر
لہریں
بستی
دوستی
صحرا
دریا
خوشبو
موسم
پھول
دریچے
بادل
سورج
چاند
ستارے
آج یہ سب کچھ نام تمھارے
خواب کی باتیں
یاد کے قصے
سوچ کے پہلو
نیند کے لمحے
درد کے آنسو
چین کے نغمے
اڑتے وقت کے بہتے دھارے
روح کی آہٹ
جسم کی جنبش
خون کی گردش
سانس کی لرزش
آنکھ کا پانی
چاہت کے یہ عنوان سارے
آج یہ سب کچھ نام تمھارے

Saturday, 3 October 2015

کل ہلکی ہلکی بارش تھی


کل ہلکی ہلکی بارش تھی
  کل تیز ہوا کا رقص بھی تھا
کل پھول بھی نکھرے نکھرے تھے
کل ان پہ آپ کا عکس بھی تھا
کل بادل کالے گہرے تھے
کل چاند پہ لاکھوں پہرے تھے
کچھ ٹکڑے آپ کی یاد کے
بڑی دیر سے دل میں ٹہرے تھے
کل یادیں الجھی الجھی تھیں
اور کل تک یہ نہ سلجھی تھیں
کل یاد بہت تم آئے تھے
کل یاد بہت تم آئے تھے

Friday, 2 October 2015

ﭘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ

ﭘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﮨﺮ ﺍﺗﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ
ﮐﺸﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯿﮟ
ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﺩﮬﻮﭖ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﮐﻮ
ﺩﮬﻮﭖ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﭘﺮ
ﺳﺎﺋﺒﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﮯ
ﺍﺱ ﻋﺠﺐ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﻋﻤﺮﮐﯽ ﺭﯾﺎﺿﺖ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﻨﭽﮭﯽ ﭘﺮ
ﺑﺮﺱ ﮨﺎ ﺑﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﺁﺳﻤﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﮯ
ﺑﺤﺮِ ﺑﯿﮑﺮﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﺑﮭﯿﺪ ﺑﮭﯿﺪ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
ﺭﺍﺯﺩﺍﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﮯ
ﺑﺎﻡ ﻭ ﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ
ﺁﺳﺘﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﮯ
ﮨﺮ ﺍﺗﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ
ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﻣﻞ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ
ﺑﺎﺩﺑﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﮯ
ﭘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ