affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Nigahen Poetry
Showing posts with label Nigahen Poetry. Show all posts
Showing posts with label Nigahen Poetry. Show all posts

Friday, 1 April 2016

یاد رکھتا ہوں



میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں
میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں

سر محفل نگاہیں مجھ پے جن لوگوں کی پڑتی ہیں
نگاہوں کے معنی سے وہ چہرے یاد رکھتا ہوں

ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے
کے جن پہ بوجھ میں ڈالوں ، وہ کندھے یاد رکھتا ہوں

میں یوں تو بھول جاتا ہوں ، خراشیں تلخ باتوں کی
مگر جو زخم گہرے دیں ، رویے یاد رکھتا ہوں.

Thursday, 31 March 2016

وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے

وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے
تپش اک بد گمانی کی کہیں پگھلا نہ دے اس کو
میں کہتا ہوں کہ جس دل میں ذرا بھی بدگمانی ہو
وہاں کچھ اور ہو تو ہو محبت ہو نہیں سکتی
وہ کہتی ہے سدا ایسے ہی کیا تم مجھ کو چاہو گے
کہ میں اس میں کمی بالکل گوارا کر نہیں سکتی
میں کہتا ہوں محبت کیا ہے یہ تم نے سکھایا ے
مجھے تم سے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں آتا
وہ کہتی ہے جدائی سے بہت ڈرتا ہے میرا دل
کہ خود کو تم سے ہٹ کر دیکھنا ممکن نہیں ہے اب
میں کہتا ہوں کہ یہی خدشے بہت مجھ کو ستاتے ہیں
مگر سچ ہے محبت میں جدائی ساتھ چلتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ کیا میرے بن جی سکوو گے تم
میری یادیں، میری آنکھیں، میری باتیں بھلا دو گے
میں کہتا ہوں کبھی اس بات پر سوچا نہیں میں نے
اگر اک پل کو بھی سوچوں تو سانسیں رکنے لگتی ہیں
وہ کہتی ہےتمہیں مجھ سے محبت اس قدر کیوں ہے
کہ میں اک عام سی لڑکی ہوں تمہیں کیوں خاص لگتی ہوں
میں کہتا ہوں کبھی خود کو میری آنکھوں سے تم دیکھو
میری دیوانگی کیوں ہے یہ خود ہی جان جاؤ گی
وہ کہتی ہے مجھے وارفتگی سے دیکھتے کیوں ہو
کہ میں خود کو بہت ہیی قیمتی محسوس کرتی ہوں
میں کہتا ہوں متاع جاں بہت انمول ہوتی ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوں زندگی محسوس ہوتی ہے
وہ کہتی ہے بتاؤ نا کسے کھونے سے ڈرتے ہو
بتاؤ کون ہے وہ جسکو یہ موسم بلاتے ہیں
میں کہتا ہوں یہ میری شاعری ہے آئینہ دل کا
ذرا دیکھو بتاؤ کیا تمہیں اس میں نظر آیا
وہ کہتی ہے کہ آتش جی بہت باتیں بناتے ہو
مگر سچ ہے کہ یہ باتیں بہت ہی شاد رکھتی ہیں
میں کہتا ہوں یہ سب باتیں، فسانے اک بہانہ ہیں
کہ پل کچھ زندگانی کے تمہارے ساتھ کٹ جائیں
پھر اس کے بعد خاموشی کا اک دلکش رقص ہوتا ہے
نگاہیں بولتی ہیں اور یہ لب خاموش رہتے ہیں....

عاطف سعید

Sunday, 27 March 2016

محبت کس کو کہتے ہیں


  آؤ ہم تمکو بتائیں
محبت کس کو کہتے ہیں
کسی کو دیکھتے ہی دھڑکنوں میں سر بکھر جائیں
چمک آنکھوں کی بڑھ جائے
کسی کی یاد میں شام و سحر کا فرق مٹ جائے
سلگتے رات کٹ جائے
تصور سے کسی کے چاندنی راتیں مہک اٹھیں
کسی کا ایک جملہ قوت گویائی بن جائے
کسی کی اک نگاہ شوخ ہی بینائی بن جائے
کسی کے بن جب اپنا آپ اور سب کچھ ادھورا ہو
نہ سورج میں تپش باقی رہے نہ چاند پورا ہو
کسی کو دیکھ کے اکثر دھڑکنا بھول جائے دل
ٹھر جائے جو اس رخ پہ پلٹنا بھول جائے دل
کسی کی دید کی خاطر جبیں سجدے میں جھک جائے
نظر وہ آئے تو بے ساختہ کہہ دے زباں
" اے کاش .... مولا وقت رک جائے "
کوئی خوشبو ہو گل ہو یا کوئی رنگ حنا ہو تو
کڑکتی دھوپ میں کوئی ابر یا سایہ گھنا ہو تو
کسی کی آواز میں روح بھی محو دعا ہو تو
کسی کا ساتھ اپنی ابتداء اور انتہا ہو تو
کوئی خود درد ہو ، ہمدرد ہو اور خود دوا بھی ہو
کسی کا ہاتھ جب اپنے لیے دست شفا بھی ہو
پھر ایسے میں
یہ سب احساس ، ساری کیفیتیں اور سلسلے مل کر
انوکھی شے بناتے ہیں
جسے کہتے بھی ہیں
سنتے بھی ہیں
اور سب سناتے ہیں
محبت
جس کو کہتے ہیں

Thursday, 21 January 2016

نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفوُ کی ہے

نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفوُ کی ہے
نہ کرَم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نِگاہ ہم پہ عدُو کی ہے

صَفِ زاہداں! ہے تو بے یقیں، صَفِ مے کشاں! ہے تو بے طلب
نہ وہ صُبْح، وِرد و وضُو کی ہے، نہ وہ شام، جام و سبُو کی ہے

نہ یہ غم نیا، نہ سِتم نیا، کہ تِری جفا کا گِلہ کریں
یہ نظرتھی پہلے بھی مُضطرب، یہ کسک تو دِل میں کبھو کی ہے

کفِ باغباں پہ بہارِ گُل کا ہے قرض پہلے سے بیشتر
کہ ہر ایک پُھول کے پَیرَہَن میں نمُود میرے لہُو کی ہے

نہیں ‌خوفِ روزِ سِیہ ہمَیں، کہ ہے فیض! ظرفِ نِگاہ میں
ابھی گوشہ گِیر وہ اِک کِرن، جو لگن اُس آئینہ رُو کی ہے

فیض احمد فیض
 

Friday, 8 May 2015

اگر کبھی میری یاد آئے



اگر کبھی میری یاد آئے


تو چاند راتوں کی نرم دل گیر روشنی میں 
کسی ستارے کو دیکھ لینا 
اگر وہ نخلِ فلک سے اُڑ کر تمہارے قدموں میں آگرے تو 
یہ جان لینا، وہ استعارہ تھا میرے دل کا، 
اگر نہ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو 
تو اُس کی دیوارِ جاں نہ ٹوٹے 
وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے 
اگر کبھی میری یاد آئے 
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا 
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا 
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا 
میں اوس قطروں کے آئنوں میں تمہیں ملوں گا 
اگر ستاروں میں،اوس قطروں میں، خوشبوؤں میں نہ پاؤ مجھ کو 
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا 
میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا 
کہیں پہ روشن چراغ دیکھوں تو جان لینا 
کہ ہر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ہوں 
تم اپنے ہاتھوں سے اُن پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا 
میں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا 
کسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہ رُک کے تم کو صدائیں دوں گا 
سمندروں کے سفر پہ نکلو تو اُس جزیرے پہ بھی اُترنا

Wednesday, 6 May 2015

Chehra Mera Tha Nigahen Us Ki....



Chehra Mera Tha Nigahen Us Ki
Kamoshi Mein Bhi Wo Baten Us Ki

Mery Chehre Pe Ghazal Likhte Gaen 
Sher Kahti Hue Ankhen Us Ki

Shokh Lamhon Ka Pta Dene Lagen
Tez Hoti Hue Sansen Us Ki

Aisy Mousam Bhi Guzare Hum Ny
Subhen Jab Apni Thin Shamen Us Ki

Dehayan Mein Us K Ye Aalam Tha Kabhi
Ankh Methab Ki Yaden Us Ki

Faisala Mauj-e-Hawa Ny Likha
Andhiyan Meri Baharen Us Ki

Neend Es Soch Se Tooti Akser
Kis Thra Katati Hain Raten Us Ki

Dur Reh Kr Bhi Sda Rethen Hain 
Mujh Ko Thame Huey Bahen Us Ki









Monday, 4 May 2015

میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں

میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں 
میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں 

سر محفل نگاہیں مجھ پے جن لوگوں کی پڑتی ہیں 
نگاہوں کے حوالے سے وہ چہرے یاد رکھتا ہوں 

ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے 
کے جن پے بوجھ میں ڈالو وہ کندھے یاد رکھتا ہوں